شرمین عبید چنائے کے ٹویٹ کا دوسرا رخ

7,015

کسی خاتون کو مرد کی طرف سے فیس بک پر فرینڈ ریکویسٹ موصول ہونا، کس حد تک ہراساں کرنےکا اقدام ہو سکتا ہے یہ طے کرنا اتنا آسان نہیں ہے۔ تاہم گزشتہ چند روز سے ایک ٹویٹ کرنے پر پاکستان کی دو بار آسکر انعام یافتہ فلم ساز شرمین عبید چنائے پر سوشل میڈیا پر موجود مرد حضرات نے جس طرح تنقید کی ہے، وہ ضرور جنسی ہراسگی کے زمرے میں آتی ہے۔ ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ ہم کسی بھی موضوع کی حمایت اورمخالفت میں شدت کی حد تک چلے جاتے ہیں جبکہ معاملے کی حساسیت کو کسی طور بھی نہیں پرکھتے۔

59f327b0cc681

59f327b11045f

سوشل میڈیا پر اپنے اوپر ہونے والی تنقید سے شرمین اس حد تک متاثر ہوئیں کہ انہوں نے اپنی ٹویٹ کے حق میں ایک اور لمبی چوڑی وضاحتی ٹویٹ کر دی۔ اس ٹویٹ میں انہوں نے لکھا کہ اُس واقعے کے بعد وہ شدید غصے میں تھیں تو اپنی ٹویٹ میں مکمل طور پر بات نہیں سمجھا سکیں۔ ہم میں سے کوئی بھی ان کی جگہ ہوتا تو شاید ایسے ہی ردعمل کااظہار کرتا۔

یہاں پر میرا مقصد ان کے ٹویٹ کو درست ثابت کرنا نہیں ہے بلکہ تمام صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے معاشرے کے اجتماعی طرزِ عمل میں خرابی کی نشاندہی کرنا ہے۔ شرمین عبید چنائے نے بھی یہی غلطی کی جس کا بعد میں انہوں نے اقرار بھی کیا۔

چند روز قبل شرمین عبید چنائے نے ٹوئٹر اور فیس بک پر پوسٹ شیئر کی تھی جہاں انھوں نے اپنی بہن کے ساتھ کراچی کے معروف آغا خان ہسپتال میں ہونے والے واقعے کا ذکر کیا تھا۔ شرمین عبید کے مطابق اُن کی بہن ہسپتال میں اپنے طبی معائنے کیلئے گئی تھیں۔ اُن کی بہن کا معائینہ کرنے والے ڈاکٹر نے بعد میں انھیں فیس بک  پر دوست بننے کی پیشکش بھیج دی۔

ٹوئیٹر پر جاری بیان میں شرمین عبید نے کہا تھا کہ بدقسمتی سے اس موضوع پر بحث خواتین کے تحفظ، غیر اخلاقی اور بے لگام انداز میں ہراساں کرنے کی حرکات سے بہت دور چلی گئی ہے۔ انہوں نے غصے میں جو الفاظ استعمال کئے گئے ان سے کچھ لوگ مایوس ہوئے ہیں اور وہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ غصے اور جوش میں انہوں نے غلط الفاظ چنے تھے۔

DNcewDGW0AAz0zP

انھوں نے اپنے وضاحتی ٹویٹ میں یہ بھی لکھا کہ اُن کے ٹویٹ میں ’غلط فیملی کی غلط خواتین‘ کے الفاظ کا مقصد ہرگز طاقت یا استحقاق کی جانب اشارہ نہیں تھا بلکہ اُن کا اشارہ ایسی خواتین کی طرف تھا جو اپنے حقوق کے بارے میں آگاہی رکھتی ہیں۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ’اس کیس میں ایک اجنبی ڈاکٹر جو کہ ایمرجنسی روم میں کام کر رہا تھا، جس سے طبعی معاملے کے علاوہ کوئی بات چیت نہیں کی گئی، اسے وارڈ میں ایک انتہائی ذاتی طبعی معائنے کی ذمہ داری دی گئی۔ اس معائنے کے بعد اس نے مریض کو سوشل میڈیا پر ڈھونڈا، مریض کی تصاویر پر رائے دی اور فیس بک پر ان سے دوستی کرنے کی کوشش کی۔‘ڈاکٹر کے خلاف کارروائی کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ ڈاکٹر کے خلاف جو کارروائی بھی ہو رہی ہے وہ ہسپتال کی آزادانہ تفتیش کا نتیجہ ہے۔

ان کا کہنا تھا ’ڈاکٹر کی کوشش کو منظرِ عام پر لانے کے میرے طریقے سے آپ اختلاف کر سکتے ہیں۔ شعبہِ طبعیات اور سوشل میڈیا کی حدود پر بحث کر سکتے ہیں۔ میرے انداز اور لہجے پر سوال اٹھا سکتے ہیں مگر حقیقت میں جو ہوا وہ مریض کے ڈاکٹر پر اعتماد کو ٹھیس پہچاتا ہے، اور پیشہ وارانہ ضوابط کی سنگین خلاف ورزی بھی ہے۔ ڈاکٹر کا یہ فعل ہراسگی کے زمرے میں آتا ہے اور اِس پر اپنی آواز بلند کرنا شرمین اپنا حق تصور کرتی ہیں۔

اس ساری بات کا اگر بغور مشاہدہ کیا جائے تو واضح ہوتا ہے کہ شرمین عبید چنائے کا اِس سارے واقعے پر ردعمل فطری تھا۔ اگر انتہائی ذاتی نوعیت کا معائینہ کرنے والا ڈاکٹر دوسرے ہی روز مریض کو فیس بک پر ڈھونڈ کر اُس کی تصاویر پر کمنٹ کرے اور دوستی کرنے کی خواہش کااظہار کرے تو غصہ آنا تو فطری بات ہے۔ تاہم شرمین اپنے غصے کا اظہار زیادہ بہتر طریقے سے کر سکتی تھیں۔ شرمین جیسی خواتین جو معاشرے میں مثبت تبدیلی کا علم بلند کرنے کا دعویٰ کرتی ہیں، انہیں اس طرح کے معاملے میں بہت محتاط ردعمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے کیونکہ وہی معاشرے کو تبدیل کرنے کا ہنر رکھتی ہیں۔

لکھا ری پندرہ سال سے میڈیا سے وابستہ ہے اور روزنامہ جناح ،روزنامہ نئی بات،کیپیٹل ٹی وی سمیت کئی اداروں میں کام کر چکا ہے جبکہ کافی عرصہ سے سوشل میڈیا بلاگ بھی لکھ رہا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. شہر زادہ کہتے ہیں

    واقعی یہ پہلو کافی غور طلب اور معاشرے کی کمزوری کا عکاس ہے۔ معاشرے کی مثبت اصلاح کیلئے ضروری ہے کہ اس پر توجہ دی جائے اور تمام منفی پہلوؤں اور شدت پسندانہ سوچ کو ختم کرنے پر توجہ دی جائے

  2. Aalia Kahn کہتے ہیں

    Writer has pointed out on a very crucial social issue. As a nation we are facing such biased thinking.

  3. سردار زوہیب کہتے ہیں

    الفاظ بارود ہیں۔احتیاط سے استعمال کریں۔
    بہرحال وہ اپنی غلطی مان گئی ہیں مگر انکا کوا ابھی بھی سفید ہی ہے۔

تبصرے بند ہیں.