دیانت داری اور کمٹمنٹ سے حقیقی تبدیلی تک کا سفر

0 2,782

آج مختلف اطراف سے تبدیلی، نیا پاکستان اورنیا نظام کی باتیں اور نعرے سننے کو ملتے ہیں۔ یہ باتیں تو عوام الناس کے لیے پرانی ہوچکی ہیں کیوں کہ قیام پاکستان کے بعد سے آج تک یہ باتیں صرف باتیں ہی ثابت ہوئی ہیں۔عوام کو ماسوائے سبز باغ اور سنہری خواب دکھانے کے علاوہ کچھ نہیں دیا گیا۔ حقیقی تبدیلی کیا ہوتی ہے؟ یہ عوام الناس 68 سال گذرنے کے بعد بھی جاننے سے قاصر ہیں۔

گڈ گورننس، کرپش اوراصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والے عام شخص سے لے کر سرمایہ داروں، سیاست دانوں اور تاجروں سمیت زندگی کے ہر شعبہ سے تعلق رکھنے والوں کے لیے اصول کا ایک ہی ترازو حقیقی تبدیلی کا موجب بنتا ہے۔ ملک بھر میں اسی فارمولے پر عمل کیا جائے تو چند سالوں میں نہیں بلکہ دنوں میں حقیقی تبدیلی نظر آئے گی اور عوام بھی اطمینان محسوس کریں گے۔

بیوروکریسی کسی بھی ادارے کو نکھارنے اور بگاڑنے میں بہت اہم کر دار ادا کرتی ہے۔ یوں تو بیوروکریسی بہت بدنام ہے مگر آج بھی ایسے بہت سے افسران اس کا حصہ ہیں جوافسرِ شاہی کے روائیتی بُت کو پاش پاش کرکے دیانتداری کے ساتھ خدمات سرانجام دیتے ہیں۔ لیکن ایسے افسران کو بہت کم سراہا جاتا ہے۔

راولپنڈی کنٹونمنٹ بورڈ ملک بھر کے 43 کنٹونمٹس میں ہر لحاظ سے سب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے کیونکہ یہاں پر وزارت دفاع، جی ایچ کیو، ڈائریکٹر ملٹی لینڈ اینڈ کنٹونمنٹس ہیڈ کوارٹر، ریجنل ڈائریکٹر، سٹیشن ہیڈ کوارٹر اور دیگر کئی پوشیدہ آنکھیں پورے سسٹم کو مانٹیر کر رہیں ہوتیں ہیں۔ اس ینٹونمنٹ بورڈ میں کئی کینٹ ایگزیکٹو افسران آئے اور چلے گئے۔ ان میں سے اصولوں پر سمجھوتہ نہ کرنے والوں کی فہرست ترتیب دی جائے تو چند ناموں کے بعد فہرست ختم ہوجائے گی۔

کئی سالوں کے بعد راولپنڈی کینٹ بورڈ کے باسیوں کو ایک ایسا افسر ملا جو صبح دفتری اوقات شروع ہونے سے پہلے دفتر میں آتا اور رات کے پچھلے پہر تک پورے دن کے کام نمٹا کر گھر کو واپس لوٹتا تھا۔ اس نے سسٹم کو کیسے تبدیل کیا؟
یہ جاننے کے لیے اس کے دو سالہ دور پر نظر ڈالتے ہیں ۔

کینٹ بورڈ کے اس منفرد ایگزیکٹو آفیسر فہیم ظفر خان نے سی او راولپنڈی کا چارج سنبھالا تو ایسے ملازمین اور افسران جو سرِعام اوپر کی کمائی کو جائز اور لازم سمجھتے تھے، گھبرائے گھبرائے نظر آنے لگے اور اپنے آپ کو بچانے کے لئے اِدھر اُدھر ہاتھ پاﺅں مارنے لگے۔ راولپنڈی کینٹ میں بغیر کسی نقشے کے تعمیرات معمول بن چکی تھیں۔ گراﺅنڈ فلور سے ٹاپ فلور تک نقشے بنوانے کا رواج ختم ہوگیا تھا۔ لینڈ ریونیو شعبہ کے ایسے لوگ جو بلڈنگ چیکر ،سرو ئیر،ڈرافٹ مین،انجنیئرز کے عہدوں پر کام کر رہے تھے ان کے ناجائز کا م کرنے والوں سے اچھے تعلقات استوار تھے۔ اس شعبے کو ٹھیک کرنا سب سے بڑا چیلنج تھا۔ فہیم ظفر خان سب سے پہلے اس شعبے میں تبدیلی لائے۔ لینڈ ریوینیو کے شعبے میں اکھاڑ پچھاڑ کرنے کے ساتھ ساتھ فیڈ بیک سسٹم متعارف کروایا جس میں شکایات بمعہ ثبوت آنے پر بلڈنگ انسپکٹروں اور بلڈنگ چیکرز کے خلاف ریکارڈ کارروائیاں عمل میں لائی گئیں اور بہت سی تقرریاں اور تبادلے کیے گئے۔ اسی شعبے کے ایک بلڈنگ انسپکٹر نے اُس وقت کہا کہ کینٹ بورڈ میں تبدیلی کا عمل شروع ہوچکا ہے۔ ایک اور بلڈنگ انسپکٹر نے ہنستے ہو ئے ایک بات کی کہ جب تک یہ کینٹ ایگزیکٹو آفیسر یہاں تعینات رہیں گے اس وقت تک مجھے معطلی میں بھی سکون ملے گا کیونکہ میں نے تو دیہاڑی لگانی ہے اور سی ای او ایسا کرنے نہیں دیں گے۔ روز روز معطل ہونے سے بہتر ہے کہ ایک مرتبہ ہی معطل رہوں او آرام سے تنخواہ لیتا رہوں۔

سی ای او نے اگلے مرحلے میں شجر کاری مہم کے تحت ایک آنگن ایک پودا مہم کا آغاز کیا اور “ڈور ٹو ڈور” فری پو ے فراہم کیے۔ اس مہم میں ہزاروں پھول دار، پھل دار اور سایہ دار پودے عوام کو فراہم کیے گئے اور ایسے پودے جو بازار میں مہنگے داموں ملتے تھے وہ بلکل فری فرا ہم کیے۔اس کے بعد انہوں نے مال روڈ ، جی ٹی روڈ ور دیگر سڑکوں کے اطراف اڑھائی لاکھ پودے لگائے۔ یہ اڑھائی لاکھ پودے جو ڈیڑھ سال کے عرصہ میں لگائے گئے ہیں وہ پچھلے 10سالوں کے دوران لگائے گئے پودوں کی تعداد سے زیادہ ہیں۔ شجرکاری مہم کے ساتھ ساتھ گرین بیلٹ بنانے کے پروگرام پر جب عمل درآمد شروع کیا گیا تو حیرت انگیز بات یہ دیکھنے کو ملی کہ ایک لائن کھینچی گئی اور اس کی زَد میں آنے والے سرکاری اداروں جن میں سٹی ٹریفک پولیس ہیڈ کوارٹر، آرمی ریس کورس گراﺅنڈ، رومی پارک، ایف ایف سی کمپلیکس، آرمی گالف کلب، ایوب پارک، سٹیٹ لائف بلڈنگ اور دیگر مقامات کی باﺅنڈری وال ہٹوا کر وہا ں پر گرین بیلٹ ڈویلپ کی۔

فہیم ظفر خان نے شجرکاری مہم کی مانیٹیرنگ کے لیے جو حکمت عملی اپنائی وہ بھی معمول سے ہٹ کر ہے۔ وہ حکمت عملی کیا تھی وہ بھی شئیر کر رہا ہوں۔ جب مہم عروج پر تھی وہ ایک دوپہر سخت دھوپ میں ایک موٹر سائیکل پر بیٹھ کر کالے رنگ کا ہیلمٹ پہن کر کینٹ بورڈ کی ایک گاڑی کے پاس پہنچے جو کہ ایک آنگن ایک پودا مہم کے لیے ہوم ڈیلوری کر رہی تھی۔ اس گاڑی میں موجود پودے تقسیم کرنے والے شخص سے انہوں نے پوچھا کہ یہ پودے کیوں مفت بانٹ رہے ہو؟ ایک احسان کرو اور مجھے تھوڑے زیادہ پو دے دے دو۔ بھلے اس کے عوض پیسے لے لو۔ یہ بات سننے کے بعد اس گاڑی میں موجود کینٹ بورڈ کے ملازم نے جو جواب دیا وہ انہیں خوش کرنے کو کافی تھا۔ اُس نے کہا کہ ہمارے نئے سی ای او نے یہ مہم شروع کی ہے اور ریکارڈ میں جو گھر درج ہیں انھیں ہی پودے ملیں گے۔ ہم ایسے پودے کسی کو نہیں دے سکتے۔ یہ با ت سننے کے بعد فہیم ظفر خان کو بھی کافی ہمت اور حوصلہ ملا کہ جو سفر شروع کیا ہے وہ حقیقی معنوں میں دیانت داری سے عوام کی دہلیز تک پہنچ رہا ہے۔ اگلے دن انہوں نے اس ملازم کو دفتر بلوا کر کیش انعام دیا کہ تم ایمانداری کے امتحان میں کامیاب ہو گئے ہو۔

راول پنڈی کینٹ کے صدر مقام “صدر کی املاک” کو خوب صورت بنانے کے لیے پرائیویٹ بلڈنگز، پلازوں اور مارکیٹوں کے مالکا ن کو اس بات پر راضی کیا کہ اپنی ان عمارتوں کا بیرونی کلر، ٹائلنگ اور حلیہ ایسا بنائیں کہ دور سے یہ عمارتیں خوبصورت نظر آئیں۔ اس سے مجموعی طور پر کینٹ کی خوبصورتی میں بھی اضافہ ہوگا۔ صدر ایسا مقام ہے جہاں پر مقامی لوگوں کے علاوہ غیر ملکیوں کی آمدورفت بھی جاری رہتی ہے ایک دن حیدر روڈ پر ریستوران کے ایک مالک کو اپنے دفتر بلو اکر اسے بتاتے یں کہ ریستوران کے فرنٹ پر جو ٹائلیں لگیں ہیں ان میں سے تیسری منزل پر دو سے تین ٹا ئلیں ٹوٹیں ہوئیں ہیں اسے بدل دو۔ ریستوران کا مالک بھی حیران ہوا کہ سی ی او اس حد تک معاملات پر نظر ر کھے ہوئے ہیں۔
اُن کی کوشوں کا ہی نتیجہ تھا کہ صدر میں تمام عمارتوں، پلازو ں، مارکیٹوں کا بیرونی منظر بہت خوبصورت بنا دیا گیا تھا۔ صدر میں سالوں سے لٹکتی تاروں کو بھی انڈر گراﺅنڈ کر دیا گیا۔ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ صدر کو روایتی ریڑھی مافیا سے چھٹکا را دلوا کر صدر کو ریڑھیوں سے پاک کر دیا اور مختلف مقامات پر لگے ہوئے سٹالز بھی ہٹوا دیئے۔ یہ بھی پہلی مرتبہ ہوا کہ انفورسمنٹ شعبہ کے انچارج اور پورے عملے کو صبح 4 بجے ڈیوٹی پر بلوا کر تجاوزات کے خلاف آپریشنز کروائے۔

انہوں نے صدر کی خوبصورتی کو مزید بہتر بنانے کے لیے بے ہنگم اور دیو ہیکل سائن بورڈ اتروا کر ایک سائز کے سائن بورڈ متعارف کروائے۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی لازمی ہے کہ کینٹ بورڈ کے کچھ ملازمین کام ،کام اور بس کام سے بھاگتے تھے تو اُن کی زبان سے یہ بھی سننے کو ملا کہ اس سی ای او کے آنے سے “آرام اور حرام دونوں ختم ” ہوگئے ہیں ۔ یقیناً اسی چیز کو تبدیلی کہتے ہیں۔ اگر ہر سطح پر، ہر ادارے، ہر صوبے میں ایسا ہی ہوجائے تو تبدیلی چند دنوں اور مہینوں میں آجائے گی لیکن اس طرح کے افسران کہاں سے لائے جاسکتے ہیں؟
راولپنڈی کینٹ کی تاریخ کی پہلی ” پیڈسٹرین اینڈ فوڈ سٹریٹ” کے لیے بھی انہوں نے دن رات ایک کر دیا گیا اور چند ماہ کے بعد اڑھائی کروڑ روپے کی لاگت سے صدر کے مرکز میں واکنگ اینڈ فوڈ سٹریٹ بنا دی۔

ایک دن ایک اتفاق ہوا کہ رات کے اوقات میں اچانک فہیم ظفر خان سے واکنگ اینڈ فوڈ سٹریٹ میں ملاقات ہوئی۔ ایک انگریزی اخبار کے صحافی سعید احمد اور ڈپٹی سی ای او عبدالوہاب بھی ان کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں بھی وہیں بیٹھ گیا۔ اتنے میں ایک خاتون اپنے تین بچوں کو لیے کر وہاں آئی اور فہیم ظفر خان سے پوچھا کہ آپ کون ہیں۔ انہوں نے اپنا نام بتانے کی بجائے اپنا عہدہ بتایا تو خاتون نے انتہائی مسرت کا اظہار کر تے ہوئے پوچھا کہ آپ فہیم ظفر خان ہیں؟ جب خان صاحب نے ہاں کہا تو وہ کہنے لگی کہ میں پنجاب یونیورسٹی میں پڑھاتی ہوں۔ میں نے لاہور میں آپ کے کام کے بارے میں بہت سنا ہے۔

فہیم ظفر خان جیسے افسران چراغ لیکر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔ میں دعویٰ تو نہیں کرتا لیکن لگتا ایسا ہے کہ راولپنڈی کے لاکھوں کی آبادی اس سی ای او فہیم ظفر خان کو ہمیشہ یاد رکھے گی اور ان کے لیے ہمیشہ دعا گو رہے گی۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.