حسین حقانی سے شکایت

5 5,083

واشنگٹن میں ہمارے سابق سفیر حسین حقانی آج کل پھر تنقید کی زد میں ہیں۔ ان کے پاکستانی ٹی وی چینلوں پر آنے پر بظاہر ایک غیر اعلانیہ پابندی ہے لیکن سوشل میڈیا میں ان کی ذات کے خلاف ایک بھرپور مہم جا ری ہے، جس میں انہیں دوغلا، غدارِ وطن، بھارتی اور امریکی ایجنٹ وغیرہ پکارا جا رہا ہے۔

ویسے تو ان کے مبینہ ‘جرائم’ کی ایک لمبی فہرست ہے۔ لیکن اس بار ‘محب وطن’ قوتوں کو اعتراض واشنگٹن میں ایک حالیہ سیمینار میں کی گئی کچھ باتوں پر ہے۔

امریکی تھنک ٹینک ہڈسن انسٹیٹوٹ میں منعقدہ اس سیمینار میں سابق امریکی سینیٹر لیری پریسلر نے پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیاروں کو شمالی کوریا سے زیادہ خطرناک قرار دے ڈالا۔ سینیٹر لیری پریسلر ہمارے یہاں ویسے ہی پاکستان دشمن کے طور پر جانے جاتےہیں۔ وہ نوے کی دہائی کے ابتدائی برسوں میں پریسلر ترمیم کے خالق ہیں جس کے تحت امریکہ نے پاکستان کے خفیہ نیوکلئیر پروگرام کو جواز بنا کرہماری فوجی اور معاشی امداد بند کردی۔

مسٹر پریسلر نے جنوبی ایشا میں ایٹمی ہتھیاروں کی روک تھام پراب ایک نئی کتاب لکھی ہے جس پر بات کرنے کے لئے انہیں واشنگٹن کے اس سیمینار میں بلایا گیا۔

سیمنار کی میزبانی ہڈسن انسٹیٹیوٹ سے وابستہ حسین حقانی نے کی۔

اپنی گفتگو میں مسٹر پریسلر نے پاکستان کا نیوکلیئر پروگرام منتخب قیادت کے دائرہ اختیار سے باہر ہونے کی وجہ سے اسے دنیا کے لئے غیر محفوظ قرار دیا۔ حسین حقانی نے جواب میں پاکستانی فوجی حکام کا نقطہ نظر ان کے سامنے رکھا جس کے مطابق پاکستان کے ایٹمی ہتھیاروں کا کمانڈ اور کنٹرول مؤثر ،جامع اور مربوط بتایا جاتا ہے۔

مسٹر پریسلر نےحسین حقانی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ جتنا پاکستان کے مسائل وہ سمجھتے ہیں، دنیا میں شاید ہی کوئی اور جانتا ہو۔ انہوں نے مزید کہا کہ حسین حقانی جس طرح واشنگٹن میں رہ کر جرات سے پاکستان کے بارے میں اپنا مؤقف بدلا ہے، وہ قابل ستائش ہے۔

مسٹر پریسلر کی اس بات پر حسین حقانی نے انہیں فوراً ٹوکا اور کہا کہ میں سمجھتا ہوں کہ میرے نقطہ نظر میں کوئی تبدیلی نہیں آئی اور پاکستان کے لئے ان کی وہی سوچ ہے جو پہلے (بطور سفیر) تھی۔

گفتگوکےدوران حسین حقانی نے ایٹمی ہتھیاروں پر امریکہ کے دوہرے معیار پر بارہا بات کی کہ جس کے باعث پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی تو مخالفت ہوتی رہی، لیکن امریکی حکام بھارت اور اسرائیل کے ایٹمی ہتھاروں سے نظریں چراتے رہے۔

اس مکالمے کو ہمارے نادان ‘محب وطنوں’ نے سیاق و سباق سے ہٹ کر اپنے پروپگینڈے کے لئے استعمال کیا اور الزام تراشی کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا۔

اس بات سے انکار نہیں کہ حسین حقانی ہمارے ملک کی ایک متنازعہ شخصیت رہے ہیں۔ بدلتے وقتوں میں ان کی سوچ اور فکر میں زبردست بدلاؤ آیا۔ نوجوانی کے زمانے میں مولانا مودودی اور جنرل ضیاالحق ان کے آئیڈیل ہوا کرتے تھے۔ اُن دنوں وہ اسلام اور پاک فوج کی سربلندی کے لئے کام کرنے میں یقین رکھتے تھے۔ جنرل ضیا کی موت کے بعد وہ اسی نظریئے کے ساتھ نواز شریف کے کارواں میں شامل ہو گئے اورپیپلز پارٹی کے خلاف بھرپور مہم کا حصہ رہے۔ پھر سن ترانوے میں انہوں نے میاں نواز شریف کو خیر آباد کہا اور بینظیر بھٹو سے جا ملے۔ پارٹی میں ان کے بارے میں تحفظات کے باوجود پیپلز پارٹی کی حکومت نے انہیں ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن کا سربراہ مقرر کیا۔

سن ننانوے میں وہ وقت بھی آیا جب نواز شریف کی ہیوی مینڈیٹ والی حکومت کے دوران سینیٹر سیف الرحمن کو سیاسی مخالفین کے احتساب کا ٹھیکہ دیا گیا، ان دنوں حسین حقانی پاکستانی اخبارات میں حکومت وقت کی پالیسوں پر تنقیدی کالم لکھتے تھے۔ ایک دن انہیں کراچی سے کمبل میں لپیٹ کر اٹھا لیا گیا اور ایک تہہ خانے میں ڈال دیا گیا۔ انہیں اغوا کرنے والے انٹیلیجنس بیورو کے اہلکار نکلے۔ حسین حقانی کا جذبہ حب الوطنی پرکھنے کے لئے انہیں مارا پیٹا گیا اور ان پر تشدد ہوا۔ لیکن نکلا کچھ نہیں اور انہیں کوئی دو ماہ بعد چھوڑ دیا گیا۔

”ساتھ فورم کیا ہے؟

لندن میں ایک حالیہ ملاقات میں حسین حقانی نے بتایا کہ اس تجربے نے ان میں ایک نیا حوصلہ اور خود اعتمادی پیدا کی کہ انہیں اپنی سیاسی رائے اور فکر رکھنے اور اس کا اظہار کرنے کا حق حاصل ہے۔ اس واقعے کے بعد جلد ہی وہ تحقیق، درس و تدریس کا اپنا شوق پورا کرنے کے لئے وہ امریکہ چلے گئے۔ وہاں کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں پڑھایا، تھنک ٹینکس کا حصہ بنے اور امریکی اخبارات میں جنرل مشرف کی امریکہ پالیسی میں تضادات پر تجزیئے لکھتے رہے۔ اس دوران انہوں نے چند کتابیں بھی لکھ ڈالیں جن میں پاکستان میں سول ملٹری کا عدم توازن، انتہا پسندی اور جہادی کلچر پھیلانے میں ریاست کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔

یوں انہوں نے پاکستان میں منصانہ انتخابات اور جمہوریت کی واپسی کے لئے راہ ہموار کرنے میں اپنا کردار ادا کیا۔ بینظیر بھٹو اور بش انتظامیہ کے درمیان فاصلے کم ہوئے اور این آر او کی راہ ہموار ہوئی۔ آصف زرداری کی طرف سے امریکہ میں سفیر متعین کئے جانے کے بعد وہ پاکستان میں سولین قیادت اور پارلیمان کی بالادستی کے لئے اپنے فرائض انجام دیتے رہے، جس کی بڑی مثال کیری لوگر بل کی صورت میں سامنے آئی۔

لیکن ان کی یہ کاوشیں فوجی قیادت کو سخت ناگوار گزریں۔ ایبٹ آباد میں امریکی آپریشن میں اسامہ بن لادن کے ہلاکت کے بعد آئی ایس آئی کے جنرل پاشا میمو سکینڈل لے آئے۔ حکومت کے سیاسی مخالفین، عدالتوں اور میڈیا کو حرکت میں لایا گیا۔ الزامات کی ایسی بوچھاڑ ہوئی کہ حسین حقانی کو اسلام آباد سے جان بچا کر نکلنا پڑا اور یوں ان کا بوریا بستر گول کر دیا گیا۔

ہمارے ملک میں ایسا جب بھی ہوا، نشانے پر ایک شخص کی ذات نظر آئی۔ لیکن اس میں یہ پیغام سب کے لئے ہوتا ہے کہ کچھ مٹھی بھر جنرلوں کی مرضی کے خلاف جانے والوں کے ساتھ کیا ہوتا ہے۔ ریاستی مشینری کی طرف سے کسی کو ناپسندیدہ شخصت بنا دینے اور قومی معاملات پر ان کی رائے پر پابندیاں لگانے کا مقصد یہی بتانا ہوتا ہے کہ سول-ملٹری عدم توازن پر بحث کی کوئی گنجائش نہیں۔

یوں تو میڈیا والوں کو چھوٹ ہے کہ روز عوامی نمائندوں کو کھل کر لتاڑیں۔ لیکن جس طرح جنرل کرنل سیاسی اکھاڑ پچھاڑ میں مصروف رہتے ہیں، اس پر سوال نہیں ہو سکتا۔ آپ فوج کی سیاست میں دخل اندازی پر سوال اٹھائیں، تو یہ کہہ کر خاموش کر دیے جاتے ہیں کہ مہربانی کر کے ‘داروں’ پر تنقید نہ کریں۔ اگر پھر بھی کوئی آئین و پارلیمان کی بالادستی کا پرچار کرنے سے باز نہ آئے، تو نامعلوم افراد سے پٹوایا بھی جا سکتا ہے۔ انسانی حقوق یا بلوچوں کے حقوق کی بات کریں گے، تو لاپتہ بھی کئے جا سکتے ہیں۔ جو زندہ بچ کے واپس آ گئے تو غازی، ورنہ تاریک راہوں میں مارے جانے والوں میں ایک نام اور سہی۔

مصنف صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

5 تبصرے

  1. سجاد کہتے ہیں

    اب اپکی باری ہے مار کھانے کی…. اپکو تو بوری بند کرنا چاہئے….. سیاست دان اپنی جیب بھرنے کےلیے سیاست کرتے ہیں.. انکو کیا لینا دینا پاکستان سے….

    1. Rafique Ahmed کہتے ہیں

      Sajjad this is what people like you in Pakistan would always do. You use force to challenge different point of views. You threat to kill, for something, which doesn’t match your thoughts, you intimidate people for having dissenting opinion. What Pak army has done is to not tolerate any voice(s) which points to its corruption, atrocities, inefficiencies and cowardice. Can you imagine an army claiming to be best army army who has lost one entire part of a country, surrendered to enemy army, couldn’t even dare to resist American when they carried out Abbottabad and Salala attacks, couldn’t secure its own installations including APS, PNS Hafeez and Kamra, even its own GHQ was infiltrated by terrorists, who were a part of Pak army sometimes before. Now they have killed some terrorists who were no match to a well equipped army and are boasting this as their success. Shame on people like you

  2. انیس فاروقی کہتے ہیں

    Excellent eye opener piece with butter reality that bet few will understand.

    Keep it up SHahzeb Saheb. Pakistan needs this type of bold and real journalism.

  3. Shabir Ahmad کہتے ہیں

    The author has conveniently glossed over the fact that Husain Haqqani tried his best to join Musharaf govt but was rebuffed because of his past heavy baggage.

  4. Rafique Ahmed کہتے ہیں

    A balanced point of view by columnist. He did not opt to be imprudent. He did not either take extreme positions in praise or opposition of Mr. Haqqani and Generals of Pak army.
    This may be his writing style and he has right to express the opinion the way he wants, but given a chance I will be overtly with Mr. Haqqani for his dauntless stance against the atrocities of state of Pakistan let them be in background of Afghan war, war on terror, Baluchistan and Karachi issues, Memo Gate scandals or Abbotabad fiasco for Pakistan army, what Mr. Haqqani maintained about all these things can never be termed as anti Pakistan, rather unbiased and unprejudiced thoughts to help a drowning society and country. Pak Army as we all know has been protected by constitution, which is a unique example. An army who lost half of country, stayed as mere spectators at the time of Salala and Abbottabad attacks, couldn’t stop drone attacks, amassed billions of rupees through commercial entities is above all criticism seems a joke.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.