چوتھی سپاری پاکستان کی

3,896

 

وطن عزیز کے معرض وجود میں آتے ہی دشمنوں نے اس کو نقصان پہنچانے اور خدا نخواستہ سرے سے ختم کرنے کے منصبوں پر عملدرآمد شروع کر دیا تھا۔ اعلان قیامِ پاکستان کے ہوتے ہی سب سے پہلے مشرقی پاکستان کو بھارت کے حوالے کرنے کے لئے فوج کے ایک مہم جو افسر کو سپاری دی گئی۔ بروقت بھید کھل جانے سے یہ سازش ناکام ہوئی۔ (پاکستان کی تاریخ سے دلچسپی رکھنے والا ہر شخص اسے جانتا ہے۔ ایک تصویر میں وہ افسر حضرت قائد اعظم رحمۃ اللہ علیہ کے پیچھے ہاتھ باندھے کھڑا ہے۔) منصوبہ یہ تھا کہ پہلے ٹرین کے ذریعے اسلحہ مشرقی پاکستان بھیجا جائے گا، اس کے بعد انڈین فوج کو مشرقی پاکستان میں داخل کر کے اس پر قبضہ کر لیا جائے گا۔ بھارت نے اچانک قبضے کا یہ حربہ حیدرآباد دکن، جونا گڑھ اور کشمیر کے علاوہ اور کئی علاقوں میں کامیابی سے آزمایا تھا۔ مشرقی پاکستان کی سپاری لینے والے کی خلاصی اس بات پر ہوئی کہ اس نے کہا کہ اگر اس کو معاف کر دیا جائے اور سازش کے مطابق اسلحہ لے کر آنے والی ٹرین کو آنے دیا جائے تو وہ اس اسلحہ پر قبضہ کر سکتا ہے جس کی ہماری فوج کو بہت ضرورت ہے۔ قائد اعظم نے اسے معاف کر دیا اور اس نے اپنے منصوبے پر کامیابی سے عمل کر کے اسلحہ سے بھری ٹرین پر قبضہ کر لیا اور مشرقی پاکستان بچ گیا۔ اس دھوکے سے بھارت کو صدمہ پہنچا۔ اس ناکامی کے بعد اس نے پے در پے کئی چھوٹی چھوٹی ریاستوں پر، جو پاکستان سے الحاق کرنا چاہتی تھیں، اچانک حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ اس سے اس کے دماغ میں یہ خناس سما گیا کہ وہ ایک مضبوط جنگی طاقت ہے اور پاکستان پر طاقت کے زور پر قبضہ کرنا اس کے لئے مشکل نہیں۔ اس نے رن آف کچھ سمیت کئی محاذوں پر چھیڑ چھاڑ کی مگر بری طرح شکست کھائی۔ پھر اس نے اسلحہ کے انبار لگائے۔ فوج کی تعداد کئی گنا بڑھائی اور طاقت کے زعم میں ستمبر۵۶ء میں پاکستان پر اچانک حملہ کر دیا جہاں پاک فوج کے جانبازوں نے تعداد اور اسلحہ کے اعتبار سے کئی گنا کم ہونے کے باوجود دشمن کو دندان شکن جواب دیا۔ وہیں چشم فلک نے یہ منظر بھی دیکھا کہ پاکستانی قوم برستی گولیوں میں اپنے سروں پر، کندھوں پر اور پیٹھوں پر خشک راشن کے ڈبے،  تھیلے اور بوریاں اٹھائے مورچوں کی جانب بھاگی جا رہی ہے۔ لوگوں کو اتنی خبر ملی تھی کہ جنگ کے دنوں میں جوانوں کو راشن کی کمی کے سبب بعض اوقات مٹھی بھر چنوں اور چند گھونٹ پانی پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔ بس یہ سننا تھا کہ پورا لاہور کھانے پینے کا سامان لے کر مورچوں کی طرف امڈ پڑا۔ اپنی قوم کا یہ جذبہ اور محبت دیکھ کر جوانوں کے دل اور بڑھ گئے۔ ہمارے جوانوں نے کھلے میدانوں میں، بی آر بی کے اونچے کنارے پر کھڑے ہو کر اور درختوں پر چڑھ کر بے خوف اپنے فرائض انجام دیئے اور دشمن پر ٹھیک ٹھیک نشانے لگوائے۔ دوسری طرف دشمن کی فوج مورچے چھوڑ کر اور عوام اپنے گاؤں خالی کر کے سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ رہے تھے۔ یہ تھا میدان جنگ کا وہ نقشہ جس نے عالمی طاقتوں کو متحیر اور دشمن کے خواب چکنا چور کر دیئے۔ میدان جنگ میں کئی بار پاک فوج سے بری طرح پٹنے کے بعد بھارت نے ایک نئی چال چلی اور ضمیر فروش غداروں کی تلاش شروع ہوئی۔

غدار ملے اور ان کو دوسری سپاری پاکستان کو دو لخت کرنے کے لئے دی گئی۔ مشرقی پاکستان کے عوام کو مغربی پاکستان کے خلاف بھڑکایا گیا اور پاک فوج سے متنفر کیا گیا۔ مکتی باہنی (جو اصل میں انڈین آرمی کے لوگ تھے) کے سارے کالے کرتوت پاک فوج کے نام لگا کر ان کا خوب پروپیگنڈا کیا گیا کہ بنگالیوں کو فوج کے خلاف کرنا سازش کی کامیابی کے لئے لازم تھا۔ روس اور امریکہ نے جنگی حکمت عملی سمیت اسلحہ دے کر بھارت کی مدد کی۔ یہ سازش کامیاب ہوئی اور مشرقی بازو کو کاٹ کر بنگلہ دیش بنا دیا گیا۔ پاکستان کو دولخت کر کے بھارت نے جشن منایا اور اپنی جیت کو طرح طرح کے نام دیئے۔ روس اور امریکہ کی نظریں وسائل سے مالا مال بے دست و پا عالم اسلام پر تھیں۔ مسلمان ریاستوں میں عسکری طاقت کے اعتبار سے لے دے کے ایک پاکستان تھا جو اقتصادی اعتبار سے کمزور تھا۔ وہ کسی صورت ان کا مقابلہ کرنے کی حالت میں نہیں تھا۔ مسلمان حکمرانوں کی آپس کی سر پھٹول نے ان کا کام اور آسان کر دیا تھا۔ اسلامی دنیا ان کے لئے ایک کھلی چراگاہ تھی جہاں انہیں کوئی روکنے والا نہیں تھا۔ روس دس بارہ اسلامی ریاستوں پر بزور قبضہ کرنے کے بعد افغانستان میں آیا تو اس کے گمان میں بھی نہ تھا کہ پاکستان جیسا چھوٹا اور کمزور ملک اس کے راستے کی دیوار بنے گا۔ اس کا اندازہ تھا کہ پاکستان اس سے ٹکرانے کی ہمت نہیں کرے گا۔ جس روس کے سامنے کھل کر آتے امریکہ جیسے ملک کی سٹی گم ہوتی تھی، اس کے سامنے پاکستان کی کیا حیثیت تھی؟ مگر پاکستان کو مجبوراً سامنے آنا پڑا۔ پاکستانی حکمرانوں کو یقین تھا کہ روس کی اگلی منزل پاکستان ہے۔ اس حال میں فیصلہ یہ ہوا کہ اس سے پہلے کہ روس اپنی حکمت عملی کے تحت پاکستان پر حملہ آور ہو، اس سے افغانستان ہی میں دو دو ہاتھ ہو جائیں۔ اس لڑائی میں روس کو نہ صرف افغانستان سے نکلنا پڑا بلکہ وہ ٹوٹ پھوٹ کا شکار بھی ہو گیا۔ افغانستان میں روس کی شکست امریکہ کے لئے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصداق تھی۔ اس نے عالم جوش میں نیو ورلڈ آرڈر کا نقارہ بجا دیا کہ اب راج کرے گا امریکہ۔ اس کی نظر تو پہلے ہی کمزور عالم اسلام پر للچائی ہوئی تھی۔ یہ تو روس کا خوف اور ویت نام میں درگت کا تجربہ تھا کہ وہ اپنے تیز ناخنوں کو بلی کی طرح چھپائے ہوئے تھا۔ اس نے عالم اسلام پر یلغار کا فیصلہ کیا۔ بھارت نے طاقت کا توازن دیکھ کر روس سے آنکھیں پھیر لیں اور امریکہ کی گود میں بیٹھ گیا۔ روس کو شکست دینے والے پاکستان سے ڈرے ہوئے امریکہ نے بچے کھچے پاکستان کے لئے بھارت کو تیار کیا۔ اس کی ہمت بندھانے کے لئے اس سے کئی معاہدے بھی کئے۔ آخر میں دفاعی معاہدہ بھی کیا اور شہ دی کہ پاکستان پر چڑھ دوڑے مگر پاکستان سے کئی محاذوں پر پِٹے ہوئے بھارت کو پاکستان سے ٹکرانے کی ہمت نہ ہوئی۔ اسلامی ملکوں کے بے حساب وسائل پر امریکہ کی رال بے طرح ٹپک رہی تھی۔ اس سے صبر نہیں ہو پا رہا تھا۔ روس کی شکست کے آئینے میں امریکہ نے ایک نئی حکمت عملی سے کام لیا۔ ساری دنیا کے ملکوں کو عراق کے جراثیمی ہتھیاروں سے ڈرایا اوران کی حمایت حاصل کی۔ نیٹو کے ملکوں کو ساتھ ملایا اور عراق کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد کہہ دیا کہ ہمیں غلط خبر ملی تھی اور القاعدہ کے دہشتگردوں کو عالمی امن کے لئے خطرہ ثابت کرنے کے لئے نو گیارہ کا ڈرامہ رچا کر افغانستان پر حملے کی راہ ہموار کی۔ نیٹو کے اتحادی ملک پہلے ہی ساتھ تھے۔ اس لئے شکست کا کوئی خطرہ ہی نہیں تھا۔ رہا پاکستان کا خطرہ تو وہاں وہ اپنے مہربانوں کو پہلے ہی برسر اقتدار لا چکا تھا۔ یہ تیسری سپاری پاکستان کے ایٹمی اسلحہ کے لئے تھی۔ منصوبہ یہ تھا کہ افغانستان میں پاکستان کے سر پر بیٹھ کر ایٹمی ہتھیاروں کی تلاش کر کے انہیں ٹھکانے لگایا جائے۔ پاکستان سے بے فکر ہو کر عالم اسلام کی بے خوف ہو کر خبر لی جائے۔ یہ بے فکری امریکہ نہیں اسرائیل کو مطلوب تھی۔ پاکستان کی آسان شکست کے لئے ضروری تھا کہ اسے تنہاء کیا جائے کہ 65ء کی جنگ میں اسلامی بھائی چارے کے تحت انڈونیشیاء کے صدر سوئیکارنو کی طرف سے پاکستان کو بحری بیڑے کی کھلی آفر اور ایران کی طرف سے ہوائی اڈوں کی سہولت، سعودی عرب اور کویت کی طرف سے امداد کو امریکہ بھولا نہیں تھا۔ صدر سوئیکارنو کو اس کی سزا یہ دی گئی کہ اس کے جرنیل سوہارتو سے اس کی حکومت کا تختہ الٹوا دیا گیا۔ یہ راستے بند کرنے کے لئے پاکستان کو عالم اسلام سے کاٹنا ضروری تھا۔ اس کیلئے ‘سب سے پہلے پاکستان’ کا بظاہر دلکش نعرہ لگوایا گیا۔ اس کا مطلب اب تک بھی لوگ حب الوطنی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس کا مطلب صاف یہ ہے کہ ہم کسی کے ساتھ نہیں، صرف اپنے ساتھ ہیں۔ اس نعرے نے پاکستان کے دوستوں کو مایوس کیا۔ جب آپ کسی کے ساتھ نہیں تو آپ کے ساتھ کون ہو گا؟

تیسری سپاری تھی پاکستان کے ایٹمی اسلحہ کے لئے۔ جس کے لئے اسرائیل بہت بیتاب تھا۔ سارا ملک حوالے کرنے کے بعد بھی دشمن اس کی تلاش میں ناکام رہا۔ تلاش اب تک بھی جاری ہے۔

پاکستان کی آخری اور چوتھی سپاری بھی دی جا چکی ہے۔ یہ راز تب کھلا جب کسی دریدہ دہن نے پیشین گوئی کی کہ 2014ء میں خدا نخواستہ پاکستان دنیا کے نقشے پر موجود نہیں ہو گا۔ جب میں نے یہ خبر اخبار میں پڑھی تو میں نے اس شخص پر لعنت بھیجی۔ یہ مشرف کے دور کی بات ہے۔ تب میں نے کہا کہ یہ پیشین گوئی جو کہ بے وقت کی راگنی اور ایک بھونڈا مذاق لگتی ہے، بے مقصد نہیں ہو سکتی۔ میرے ذہن میں یہ بات کھٹک رہی تھی کہ ایک مضبوط ایٹمی ملک کے بارے میں یہ دعویٰ آخر کس بنیاد پر کیا گیا ہے؟ کیا دشمن کوئی سپاری لے چکا ہے؟ یہ تو پکی بات ہے کہ اس پیشین گوئی سے پہلے پاکستان کے خلاف سازش ہو چکی تھی۔ مگر ایک بات طے ہے کہ یہ لوگ جو بھی ہیں، انہیں لفظوں کی سائنس کا شعور ہے اور پرو پیگنڈے کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔ پاکستان کے لئے یہ سپاری کس کو کس نے کس صورت میں دی، یہ بات آہستہ آہستہ کھل رہی ہے۔ اگر آپ بگڑتے ہوئے حالات پر تھوڑی سی توجہ کریں کہ کون کیا کر رہا ہے تو بات چھپی ہوئی نہیں ہے۔

 

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.