میٹرو فیڈر بس اور خود کار ٹکٹ کا نظام

3 2,466

ٹرانسپورٹ کسی بھی ملک کی ترقی کا آئینہ دار ہوتی ہے۔ آپ کسی بھی ترقی یافتہ ملک کو دیکھ لیں انہوں نے شہر شہر، گائوں گائوں سڑکوں کا جال بچھایا ہوا ہے، سلو ٹرین سے لے کر بلٹ ٹرین تک لوگوں کو مہیا ہے۔ اندرونِ شہرمیں نقل و حمل کے لئے ٹیکسی، بس اور سب وے یا میٹرو چلتی ہے۔ ہمارے ہاں اپنی گاڑٰی میں سفر کرنا زیادہ اچھا سمجھا جاتا ہے وگرنہ ترقی یافتہ معاشروں میں بیشتر لوگ پبلک ٹرانسپورٹ سے سفر کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس کی مختلف وجوہات ہیں۔ ایک وجہ جس کا میں یہاں ذکر کرنا چاہوں گی وہ ان کی وقت کی پابندی کی عادت ہے۔ وہ لوگ سڑک پر ٹریفک کے رش میں پھنس کر تاخیر کا شکار ہونے سے بہتر سب وے یا میٹرو پر سفر کرنا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں جس کا اپنا ایک الگ روٹ ہوتا ہے بالکل ہماری میٹرو بس کی طرح۔

لاہور میں ٹرانسپورٹ کی بات کی جائے تو آج سے پندرہ سال پہلےیہاں کی سڑکوں پر ویگن اور مزدا بسوں کا راج تھا۔ پھراے سی بسیں چلنا شروع ہوئیں، پھر میٹرو کا دورآیا اور آج لاہور کی سڑکوں پر میٹرو فیڈر بسیں چل رہی ہیں۔ یہ بسیں اصل میں میٹرو لائن کو شہر کے دیگر حصوں سے ملاتی ہیں۔اس پراجیکٹ کے پہلے مرحلے میں 200 اے سی والی بسیں متعارفکروائی گئی ہیں جو کہ چودہ روٹس پر چلتی ہیں۔ اٹھائیس نشستوں پر مشتمل یہ بسیں صاف ستھری ہیں اور ان میں کیمرے لگے ہوئے ہیں۔پاکستان آنے کے بعد اکثر جگہ میں نے یہ بسیں دیکھیں لیکن کبھی ان میں سفر کا اتفاق نہیں ہوا۔ایک دن آخر یہ موقع بھی مل گیا۔

اس دن مجھے ایک کام سے مال روڈ جانا پڑا۔ واپسی کے وقت گاڑی میسر نہ تھی تو پبلک ٹرانسپورٹ ہی میرا واحد سہارہ ٹھہری۔ میں چئیرنگ کراس پر موجود تھی اور نہر کے پل پر جانا تھا۔ بس سٹاپ پر آٹو رکشے کا انتظار کرنے لگی۔ وہ تو نہ آیا، میٹرو فیڈر بس آگئی۔ میں نے اس موقع کو مناسب سمجھا اور خوشی خوشی سٹاپ پر موجود دوسرے لوگوں کے ہمراہ بس میں سوار ہو گئی۔ میرے ساتھسوار ہونے والے لوگوں کے پاس ایک بس کارڈ تھا جسے وہ بس میں لگی سکینر مشین سے سکین کر رہے تھے۔ یہ ٹکٹنگ کا نظام میرے لئے نیا نہیں تھا۔ چائنہ میں اپنے دو سالہ قیام کے دوران میں نے بہت بار سب وے اور بسوں میں سفر کیا ہے اور وہاں ہر بس میں ٹکٹ کا یہی نظام ہوتا ہے۔ آپ بس میں داخل ہوں، دروازے کے دونوں اطراف میں سکینر مشین لگی ہوتی ہے، آپ اپنا بس کارڑ سکین کریں اور نشست سنبھال لیں، بس سے اترنے سے پہلے دوبارہ کارڈ سکین کریں اور خود کار طریقے سے آپ کے سفر کے مطابق آپ کے کارڈ سے کرایہ منفی ہو جائے گا۔ جن کے پاس کارڈ نہیں ہوتا ان کے لئے بس کے اگلے حصے میں ایک لاکڈ باکس رکھا ہوتا ہے جس میں وہ دو یوآن ڈال کر جہاں تک چاہیں سفر کر سکتے ہیں۔

وہاں میں نے ایک خاص بات بھی نوٹ کی کہ کئی بسوں میں کنڈکٹر نہیں ہوتا تھا۔ ایسی بسوں میں بھی چینی مسافر پوری ایمانداری سے کرایہ ادا کرتے تھے جیسے کنڈکٹر کے ہونے نہ ہونے سے ان پر کوئی فرق ہی نہیں پڑتا۔ ہر فرد ریاست سے مخلص ہے۔جس بس میں کنڈکٹر ہوتا تھا اس کے پاس ٹکٹ بھی موجود ہوتی تھی۔ جن مسافروں کے پاس بس کارڈ نہیں ہوتا تھا اور کھلے پیسے بھی نہیں ہوتے تھے وہ کنڈکٹر کو پیسے دے کر ٹکٹ حاصل کر سکتے ہیں۔غرض انہوں نے ہر قسم کے مسافر کی سہولت کا دھیان رکھا ہوا ہے۔

خیر میں نے میٹرو فییڈر بس کی ایک نشست سنبھالی اور کنڈکٹر کی طرف ٹکٹ لینے کے لئے سو روپے کا نوٹ بڑھایا۔ اس نے آگے سے جو کہا وہ مجھے حیران کرنے کو کافی تھا۔ اس نے بتایا کہ ان بسوں میں خود کار ٹکٹ کے نظام کےعلاوہ ٹکٹ کے اجراٗ کا کوئی سسٹم نہیں ہے۔ اگر مجھے اس بس پر سفر کرنا ہے تو مجھے دو سو روپے کاکارڈ لینا ہوگا جس میں ستر روپے کا بیلنس موجود ہوگا اور میں اس بیلنس سے اپنے کرائے کی رقم ادا کر سکتی ہوں۔ میں نے اسے بتایا کہ میں نے تو صرف نہر کے پل تک جانا ہے۔ اس کے لئے میں کارڈ کیوں لوں جبکہ میں عام حالات میں بس پر سفر بھی نہیں کرتی۔ اس نے کہا کہ اس کے علاوہ کوئی حل نہیں۔چونکہ کارڈ میرے کسی کام کا نہیں تھا تو مجھے مجبوراً اگلے بس سٹاپ پر اترنا پڑا۔ کنڈکٹر کے ساتھ سر کھپائی کا کوئی فائدہ نہیں تھا۔ وہ تو ایک ملازم ہے جو اپنی نوکری کر رہا ہے۔ اسے جتنی ہدایات دی گئی ہیں اس نے تو اتنا ہی کام کرنا ہے۔ یہ تو ان لوگوں کا کام ہے جو نظام بناتے ہیں۔ انہیں سوچنا چاہئے کہ ان کے اس نظام میں کوئی کمی تو نہیں ہے؟ مگر ہمارے ہاں اتنا سوچنا اچھا نہیں سمجھا جاتا۔

کہتے ہیں کہ نقل کے لئے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہم ٹیکنالوجی ترقی یافتہ ممالک سے لے تو رہے ہیں مگر اس کا مکمل یا ویسا ہی استعمال نہیں کر رہے۔ٹکٹ کا خود کار نظام متعارف کروانا لیکن پرانے طریقے کو بالکل ترک کر دینا، یہ عقلمندانہ قدم نہیں ہے۔بس کارڈ کی وجہ سے لوگوں کو روز روز کے ٹکٹ لینے کے جھنجھٹ سے نجات تو مل گئی ہے لیکن ایسے لوگ جن کے پاس کارڈ نہ ہو انہیں بہت پریشانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی کارڈ گھر بھول گیا ہو یا کوئی میری طرح ایسی بس میں پہلی بار سفر کر رہا ہو، ایسے لوگوں کے لئے بس میں ہی ٹکٹ مہیا ہونی چاہئے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی یہی طریقہ رائج ہے۔ وہاں خود کار ٹکٹ کے نظام کے ساتھ ساتھ ٹکٹ کا پرانا نظام بھی چل رہا ہے۔  ایک اچھی حکومت کا کام ایسی پالیسی بنانا ہے جس سے عوام کی زندگی آسان اور بہتر ہو نہ کہ ایسے نظام متعارف کروانا جس سے انہیں پریشانی کا سامنا کرنا پڑے۔

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں۔ انہوں نے انٹرنیشنل جرنلزم میں ایم فِل کیا ہوا ہے اور دنیا نیوز کے ساتھ منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. farooq کہتے ہیں

    metro feder bus ka to mojay nhi pta , islamabad ke metro may mi daily safr krta ho, waha aap 130 rupees ka card b lay sktya hi and khe b janay k leiay 20 rupees ka ticket b lay sktay hi, meray pass card hi, jb kbe card gar bhool jata ho to 20 rupees ka ticket lay leta ho. farooq

  2. Aledg کہتے ہیں

    This is a good system. No cash option is to avoid corruption. Same is followed in Dubai.

  3. Saeed babu کہتے ہیں

    میرے ساتھ خود ایسا ہوچکا ہے حیرانگی کی بات یہ ہے کنڈیکٹر رکھا ہوا ہے مگر ٹکٹ نہیں صرف کارڈ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.