مانکیالہ اسٹوپا، گندھارا تہذیب کی ایک یادگار

0 2,529

عالی دماغ چانکیا نے چندرا کو تلوار تھمائی تو اس کی تراش دیکھنے سے تعلق رکھتی تھی۔ پوتا دادا سے دو قدم آگے تھا۔ کلنگ میں اتنا خون بہایا کہ دل خونریزی سے ہمیشہ کے لیے بھر گیا۔ بادشاہ بھکشو بن گیا۔ پاٹلی پتر سے قندھار تک بدھا کے تبرکات دفن کرائے اور ان پر عالی شان اسٹوپے تعمیر کرائے۔ کشانوں نے بھی یہ سلسلہ جاری رکھا۔ جس کی جھلکیاں کابل سے کشمیر تک دیکھی جا سکتی ہیں۔ انہی میں سے ایک مانکیالہ اسٹوپا ہے۔

وقت کے ساتھ ساتھ حقیقت خرافات میں کھونے لگی۔ عقیدت آشنا ذہن عظیم مہاتما کے لیے افسانے تراش کر شانتی محسوس کرنے لگا۔ انہی میں سے ایک مہاتما بدھ کا مانکیالہ میں شیر کے سات بلکتے بالکوں کو اپنے جسم کے ٹکڑے پیش کرنا ہے۔

جو کام مہاتما کرسکتا ہے وہ راجہ رسالو کیوں نہیں کر سکتا؟ جب بڑھیا نے بتایا کہ وہ ہنس اس لیے رہی ہے کہ آج بیٹے کی شادی ہے اور رو اس لیے رہی ہے کہ آج ظالم راکھشس اس کے بیٹے کو لے جائیں گے تو رسالو قربانی کے لیے خود پہنچ  جاتا ہے اورظالم دیوؤں سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے علاقے کو نجات دیتا ہے۔

مانکیالہ میں بیماریوں اور مصیبتوں سے نجات کا سلسلہ صدیوں جاری رہا۔ فاہیان تیسری صدی میں چین سے ‘چو چا چلو’ یعنی مانکیالہ آیا  تو اس نے دیکھا کہ نجات کے طالبوں کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ تین سو سال بعد ایک اور سرشار بھکشو ہیون تسانگ دیدار سے کلیجہ ٹھنڈا کرنے کے لیے یہاں پہنچا اور مٹی کے دیوزاد کی معجزانہ کشش میں کھو گیا۔ اس کی مشتاق آنکھوں نے دیکھا کہ گنبد سے نور کا دھارا پھوٹ رہا ہے۔ اسے مانکیالہ کا موسم سدا بہار لگا۔ جہاں کئی چھوٹے اسٹوپے، سینکڑوں زیارتیں، زائرین کا ہجوم اور بھکشوؤں کی کہکشاں تھی۔

stopa mankialaآندھی ضروری نہیں کالی ہو۔ گندھارا کو سفید آندھی نے آ لیا۔ وحشی ہنوں نے تہذیب کی ہر علامت راکھ کر دی۔ رہی سہی کسر بعد کے حملہ آوروں نے نکال دی۔ مغلوں کی حالت قدرے بہتر تھی لیکن ان کی کسی تزک، آئین اور نامے میں کسی ٹیکسلا یا منکیالہ کا ذکر نہیں ملتا۔

1808 میں انگریزوں نے افغانستان کے لیے اپنا پہلا سفارت کار کابل روانہ کیا۔ سفر سے واپسی پر الفنسٹن کی دوربین نگاہوں نے ٹیکسلا کی طرح کا ایک شہر دیکھا۔ اس نے اپنے ہرکارے چاروں طرف دوڑائے کہ شہر کی باقیات تلاش کریں لیکن مانکیالہ کے گنبد کے علاوہ کچھ نہیں ملا۔ الفنسٹن نے اپنے قدموں سے اس کی مختلف پیمائشیں کیں۔ مضبوط سلوں، آرائشی پتھروں، دیواری ستونوں، کنگروں اور منقش پرنالوں تک کی جزئیات لکھ ڈالیں۔ عمارت کا خاکہ تیار کروایا۔ لیکن ہم سفروں نے جب اسے یونانی شاہکار قرار دیا تو عمارت کا سارا حسن گہنا گیا۔ الفنسٹن گویا ہوا کہ اس سے بہتر ڈھانچہ تو یورپ کے کسی دور افتادہ علاقے کا اناڑی مستری کھڑا کر سکتا ہے۔ مانکیالوی سمجھاتے ہی رہ گئے کہ یہ مستریوں کا نہیں جنات کا کام ہے۔

رنجیت سنگھ کی نیم وا آنکھ نے اطالوی فوجی ‘ونچورا’ میں ہزار گن تلاش کر لیے۔ اس یہودی کو لاہور کا قاضی، گورنر اور فوجِ خاص کا جنرل بنا دیا۔ ونچورا سپہ گر آثار شناس نکلا۔ گنبد کی تہہ میں تہتر فٹ تک اتر گیا اور سونے، چاندی اور تانبے کے سلنڈروں اور ڈبیوں میں بند زون دیوتا کی انگوٹھیاں، کشانوں کے سکے اور امویوں کی اشرفیاں نکال لایا۔ تبرکات کے طلائی صندوقچوں میں یاقوت و امبر کے نگینے بھی جھلملا رہے تھے۔ اس کے ہاتھ میں ایک لوح تھی جس پر خروستی رسم الخط میں لکھا تھا۔۔۔ سچا دھرما پاداسا!

رنجیت سنگھ کے ایک انجینئر جنرل کورٹ کو اٹھارہ سو چونتیس میں پتھر میں بند تین تکونی تابوت ملا جس میں کشان عہد کے سونے، چاندی اور کانسی کے سکے تھے۔ انہوں نے مانکیالہ کے چودہ ٹیلوں کی کھدائی کی۔ ایک ٹیلے سے ملنے والی تختی پر دو مرتبہ لکھا تھا ‘ہوتا مرتا’ (جسم دان کیا)۔

کورٹ کا خیال تھا کہ مانکیالہ ہی قدیم  ٹیکسلا ہے اور یہ گنبد زیادہ سے زیادہ کسی قدیم بادشاہ کی یادگار یا کسی فاتح  کی نشانی ہے۔ علاقے کے مسلمان اسے راجہ مان اور افغان جنگ کی یادگار بتاتے ہیں۔ جب کہ ہندو تبرک کے طور پر اپنے بالکوں کے بالوں کی پہلی کٹائی یہاں کراتے ہیں۔

AN1613029310_lجنرل کننگھم نے 1862، 1863 اور 1878 میں تین مرتبہ چھ مربع میل پر پھیلی باقیات کو چھانا۔ ان کے بقول اسٹوپے کے دیواری ستون اور مسالہ کارنتھس، یونان سے لایا گیا۔ اسے 73 فٹ کی گہرائی سے ایک کانسی کی ڈبیا ملی جس کے اندر طلائی ڈبیا میں کشان عہد کے پانچ کانسی کے سکے تھے۔ انہیں اسٹوپے کا ایک سنگی ماڈل بھی ملا۔ دیگر سنگی تحریروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ کنشک کے اٹھارویں سال جنرل لالہ نے بدھا کی باقیات پر کئی عمارتیں بنوائیں اور ایک ماہر تعمیر ‘بنٹا’ یا ‘بریٹا’ نے اس اسٹوپا کی مرمت کا کام کیا۔ آخری مرتبہ بحالی کا کام 1891 میں ہوا۔

مانکیالہ اسٹوپا سے ملنے والے زیادہ تر سکے جیمز پرنسپ کو بھیجے گئے جو نہ صرف ایک دانشور آثار شناس تھے بلکہ رائل ایشیاٹک جرنل کے بانی ایڈیٹر بھی تھے۔ ایک مدت ان جرنلز میں مانکیالہ اسٹوپا کے سکے کھنکتے رہے۔ ایک بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ مانکیالہ اسٹوپا  کشان حکمرانوں کا مقدس مقام تھا۔ بادشاہ زیارت  کے وقت جو رقم دان کرتے اسے ان کی مرتبت کے مطابق باوقار انداز میں رکھا جاتا۔ جیمز پرنسپ نے بعد میں یہ سکے اور دیگر اشیاء برٹش میوزیم  کے حوالے کر دیں۔

راولپنڈی گزئٹئیر 1893 میں بغیر کسی حوالے کے لکھا ہے کہ راجہ مان نے یہاں عظیم اسٹوپا تیار کروایا۔ گزئٹئیر میں ایبٹ اور کننگھم کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مانکیالہ سے پتھروں کی جس مہنگی عمارت کے آثار ملے ہیں وہ ٹیکسلا کے گورنر کی ہو سکتی ہے جو زیارت کے لیے یہاں آتا ہو گا۔

کننگھم کے بعد کسی کو مانکیالہ میں پڑاؤ کی ہمت نہیں ہوئی۔ 1968 میں سیف الرحمن ڈار نے بڑے اسٹوپا کی مانکیالہ کے دیگر آثاریاتی ٖٹیلوں کے ساتھ تعلق جاننے کے لیے کمرِ ہمت باندھی۔ لیکن ہر طرف قبضہ ہو چکا تھا۔ ہٹیاں کی ٹیکری قبرستان بن چکی تھی۔ بڑے اسٹوپے سے دو سو گز کے فاصلے پر قدیم کنویں کی جگہ ایک ‘توپ والا پیر’ قابض تھا۔

گکھڑوں کے گھوڑے صدیوں اس توپ کے گِرد گَرد اڑاتے رہے۔ یہیں سلطان سارنگ خان کے سولہ بیٹوں کو سلیم شاہ سوری نے مار دیا۔ لیکن اس عمارت کے بارے میں جاننے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ سلطان مقرب خان گکھڑ کی فرمائش پر لکھی گئی ‘وجہ تسمیہ دیہات پوٹھوہار’ میں درج ہے کہ اس عمارت کے حالات کسی تاریخ میں درج نہیں ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ دورِ آتش پرستاں میں کسی ہندو راجہ کی ارتھی جلائی گئی تھی۔ یہ اسی کی یادگار ہے۔

AN1613033715_lقریبی گاؤں ساگری کے مورخ راجہ محمد عارف منہاس نے اپنے ایک مضمون ‘توپ مانکیالہ’ میں ‘مہاری باشا’ کے حوالے سے لکھا ہے کہ کنشک نے 142 عیسوی میں آگی سالا نامی ایک یونانی معمار سے اسٹوپا کی ابتدا کرائی اور یہ 144 عیسوی میں ہوشنگ کے عہد میں مکمل ہوا۔ ‘شاتواین’ قبیلہ کے راجہ ہل کی کتاب سپت ستی کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مانکیالہ اسٹوپا بدھ بھکشو اپا گپت کی یاد میں تعمیر کیا گیا تھا جو اشوکا کا دستِ راست تھا اور اسی کے مشورے سے 243 ق م میں پاٹلی پتر میں گروہی اختلاف کے خاتمے کے لیے تیسری بدھ مجلس کا اہتمام کیا گیا تھا۔ جس سے واپسی پر وہ مانکیالہ کہ مقام پر چل بسا۔ اس کی ہڈیاں یہیں دفن کر دی گئیں۔ جن پر کنشک نے شایانِ شان اسٹوپا بنوایا۔

الفنسٹن کی کنگڈم آف کابل سے لے کر سیف الرحمن ڈار کی ایکسکیویشن آف مانکیالہ تک کسی نے بھی اسٹوپے کے گنبد پر سات چھتریوں کے بارے میں کچھ نہیں لکھا۔ نہ ہی بنیاد کے پتھروں پر منقوش کنول کے پھولوں کا ذکر کیا ہے۔ بھکشو اور زائر چکر کاٹتے ہوئے جب سفید کنول دیکھتے ہوں گے تو ان کے دل کے کنول کھِل جاتے ہوں گے۔ کنول تو اب بھی نقش ہیں۔ لیکن انہیں دیکھنے کے لیے بھکشوؤں کی پرشوق نگاہیں ہم بے یقین لوگ کہاں سے لائیں؟

مانکیالہ کے مقدر پر رشک آتا ہے کہ اس اسٹوپے کے باعث اس کا چرچا صدیوں سے دنیا میں ہو رہا ہے۔ پاکستان میں کتنے ایسے قصبے ہیں جہیں دیکھ کر مہاتما بدھ، کپل وستا، اشوک، جولیاں، نالندہ اور گندھارا یاد آتے ہیں۔ لیکن مقامِ افسوس ہے کہ جہاں کبھی بھکشوؤں اور زائروں کا ہجوم ہوا کرتا تھا وہاں اب کھلاڑیوں اور تماشائیوں کا میلہ لگا رہتا ہے۔ والی بال اور کرکٹ کھیلنے والوں کی شاید یہ چوتھی نسل ہے۔ انہیں متبادل جگہ فراہم کرنے اور یہ سمجھانے کی ضرورت ہے کہ عبادت گاہیں کھیل تماشے کے لیے نہیں ہوتیں۔

آخر میں حکام سے اپیل ہے کہ یا تو اس اسٹوپے کی حالت بہتر بنائی جائے۔ یا اس دریدہ یادگار تک غیر ملکیوں کی رسائی روکی جائے کیوں کہ اسے دیکھ کر لگتا ہے کہ یہ کسی تہذیب باختہ قوم کے نرغے میں ہے۔

مصنف اردو گورنمنٹ ڈگری کالج کہوٹہ میں لیکچرار ہیں۔ اس کے علاوہ صدر کہوٹہ لٹریری سوسائٹی بھی ہیں۔ سابق مدیر کالج میگزین امکان۔ ادب، سیاحت اور تاریخ سے خصوصی لگاؤ ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.