اس ملک کو بھی سرطان لاحق ہو چکا ہے

3 5,862

کسی معاشرے میں وسائل کی غیر مساوی تقسیم، مذہب کے نام پر ذاتی مفادات کی خاطر گھٹن، صنفی تقسیم کی بنیاد پر معیارِ زندگی، کام کرنے کی جگہ کا ماحول وغیرہ انسانی سوچ پر اثرت مرتب کرتے ہیں۔ لیکن ان سب عناصر میں خطرناک پہلو کسی بھی ریاست میں زندگی کو لاحق غیر محفوظ اور غیر یقینی صورتحال ہوا کرتی ہے۔ ہر برس 10 اکتوبر کو ذہنی صحت سے آگہی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں تقریباً 50 ملین افراد کسی نہ کسی ذہنی مسئلے کا شکار ہیں۔ گزشتہ برس کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کی بالغ آبادی کا 20 فیصد شدید ذہنی تناؤ یا بیماری کا شکار ہے۔ اس سال یہ دن ہمارے ہاں کیپٹن (ر) صفدر نامی ایک ایم۔این۔اے لے اڑے جنہوں نے قوم کو بتایا کہ ذہنی مسائل کا شکار لوگ عوامی نمائندے بن کر ایوانوں میں پہنچ جائیں تو صورتحال کیسی بن جاتی ہے۔

کچھ عرصہ قبل ڈی۔چوک میں چپل میزائل کی تقریبِ رونمائی کے وقت خادم حسین رضوی نے ریاستی نمائندوں اور عہدیداروں کو تنبیہہ کی تھی کہ اس کے لوگ ایوانوں میں جائیں گے۔ کوئی انہیں خبر تو کر دے کہ ان کے ترجمان و نمائندگان پہلے ہی وہاں موجود ہیں۔ اگر نہیں یقین تو دس اکتوبر کے روز قومی اسمبلی میں کیپٹن (ر) صفدر کی تقریر دوبارہ دیکھیے، سنیے۔ اور حساب لگا کر بتائیے کہ کتنے اراکینِ اسمبلی نے احتجاجاً بائیکاٹ یا واک آوٹ کیا۔ حتیٰ کہ کسی نے کیپٹن صاحب کو ان کی غلط معلومات اور تاریخ و سیاست پر اس قدر نالائق یا بھلکڑ اپروچ تک پر ٹوک کر درستگی کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہاں آپ کو کچھ ڈیسک بجتے سنائی دیں گے اور چند ایک تو تھمبز اَپ بھی کررہے تھے۔ لگے ہاتھوں آئینہ دیکھ لیجیے جناب۔ اپنے دِل ٹٹولیے اور بتائیے کہ ان گم صُم اراکینِ اسمبلی کی طرح ہم میں سے کتنے ہی بیمار اذہان کی سوچ کو زبان مِل گئی۔ کنڈلی مارے سر نیہواڑے منافقت کو صفدر صاحب کی پھنکار میسر آ گئی۔ شیخ رشید ہوں، علی محمد خان، خورشید شاہ یا پھر سراج الحق سب ہی تو کیپٹن (ر) صفدر کے مشکور ہوں گے کہ جس نے ان کے جذبہ ایمانی کو جلا بخشی، وہی ایمان جو کہ چندروز قبل اس وقت انگڑائی لے کر جاگ اٹھا جب انتخابی اصلاحات بِل 2017 سینیٹ سے منظور ہو کر قومی اسمبلی میں پہنچا تھا۔ اقرار نامہ اور حلف نامہ کے فرق کی باریکیاں سمجھتے سمجھاتے ہمارے قانون سازوں کو دانتوں پسینہ آ گیا تھا۔ بالآخر 5 اکتوبر کی مبارک صبح جناب خورشید شاہ صاحب نے قوم کو بتایا کہ اپوزیشن نے ختم نبوت کا پرانا حلف نامہ بحال کرایا ہے۔ اور کسی نے سوال نہیں کیا کہ سینیٹ میں اکثریت رکھنے والی یہ “اپوزیشن” کیسے اس حلف نامہ کی زبان سادہ کرنے کو برداشت اور پاس کر گئی۔ میں اسلامی جمہوریہ پاکستان میں بسنے والے ہر “آئینی وقانونی غیرمسلم” کی مشکور ہوں کہ جن کی وجہ سے ایک دوسرے کے خون کے پیاسے سیاستدان مشہورِ زمانہ نادیدہ “ایک پیج” تلاش کر لیتے ہیں۔

دُکھ ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں ہر طاقتور اور با اختیار طبقہ پاکستان کے ہر اس نحیف طبقے کو استعمال کرتا ہے جو “اقلیت” کے درجے میں ڈال کر ریاست نے ان کی زندگیوں کو مسلسل غیر محفوظ کر رکھا ہے۔ قتل جب مسلک کی بنیاد پر ہو تو مخالف کو ذمہ دار یا نیچا دِکھانے واسطے ہمدردیاں سکرینوں کی زینت بنائی جاتی ہیں یا حریف سے پہلے متاثرین کو کندھا دے کر جتلایا جاتا ہے کہ “ہمیں دُکھ اور نقصان کا احساس زیادہ ہے”۔ اس ملک میں سب سیاستدان مسلک و مذہب کارڈ استعمال کرتے ہیں۔ جب اور جیسی ضرورت ہو اور جو ماسک آپ کو زیادہ فائدہ دے کر سامنے والے کی پوزیشن کمزور کر سکے۔

اب نو اکتوبر کی وہ فوٹیج دیکھیے جب قومی اسمبلی میں قائداعظم یونیورسٹی سے شعبہ طبیعات سے ڈاکٹر عبداسلام کا منسوب نام واپس لینے پر یہ کیپٹن صاحب مجاہد بننے کے بعد ایوان کی سیڑھیوں میں چیلے چانٹوں کے ساتھ ایک گورنر کے قاتل کو ہیرو مانتے ہوئے نعرے بازی کر رہے تھے۔ یہ سفاکیت اور بے حسی سے کہیں زیادہ اس یقین کا غماز ہے کہ کوئی تادیبی کاروائی نہیں ہوگی۔ آپ کو سینیٹر ساجد میر تو یاد ہوں گے۔ انہوں نے جس طرح سے ایک متوقع آرمی چیف کے عقیدے کو لے کر پراپگینڈا کیا تھا ان کے خلاف “شرانگیزی اور نفرت انگیز گفتگو” پر کوئی قانونی کاروائی کسی ادارے نے عمل میں نہیں لائی۔ آگے بھی یہی پریکٹس جاری رہے گی۔ جب تک کہ کچھ احمدی پاکستانیوں سے زندگی کا حق نہ چھین لیا جائے گا۔

ایوانوں میں شرانگیزی پھیلانے پر خاموشی اختیار کرنے والے فزکس، کیمسٹری اور سائنس تو کیا ادب کی دنیا میں ہی کوئی نوبل انعام لے آئیں۔ بیمار ہوتے ہیں تو بیرون ملک علاج کی سہولیات بہتر سمجھتے ہیں۔ وہاں کون سے راسخ العقیدہ کو تلاش کر کے شفایابی مانگی جاتی ہے؟ آپ کو ڈاکٹر عبداسلام سے مسئلہ ہے، ملالہ ایجنٹ ہے، عاصمہ جہانگیر اور شرمین چنائے بیرونی ایجنڈوں پر کام کرتی ہیں۔ جبکہ ایدھی  صاحب بھی اس ملک میں ایک طبقے کی غلیظ سوچ سے محفوظ نہیں رہے۔ غرض جو بھی اپنے بوتے پر نام بنا لے وہ کافر ہے۔ جو تنقید کرے وہ غدار اور جس نے انتظامیہ کی بےقاعدگیوں پر آواز اٹھائی وہ مشال خان کے انجام کو پہنچے گا۔ اگلی دفعہ بھارت آپ کو دہشتگرد پیدا کرنے والا ملک کہے تو جھٹ سے اسی عبدالسلام اور دیگر کی خدمات اور کارکردگی کی وڈیو بنا کر بھارت کا منہ توڑنے کی بجائے سشما دیدی اور دنیا کو بتائیے گا کہ ہمارا ہیرو ممتاز قادری ہے اور پشاور میں اہلِ تشیع کا قتلِ عام کرنے والے راہِ حق پارٹی کی طرز پر کالعدم جماعتوں اور شرانگیزی پھیلاتے عناصر کو قومی دھارے میں لا رہے ہیں۔ ہزارہ کمیونٹی اور پشاور میں سِکھوں کے ساتھ سلوک کے علاوہ سندھ میں ہندو بچیوں کا قبولِ اسلام کے بعد نکاح بھی بتائیے گا۔ اور دنیا کو بتائیے گا کہ ہمارے پاس شیخ رشید بھی ہے جو کہتا ہے کہ ایک قاتل ایسی سیاسی قوت ہے جس کا فائدہ اس کی سیاست کو ہوگا۔ دنیا کو شوکت صدیقی جیسے ناموں سے بھی آگاہ کرنا چاہیے۔

عوامی نمائندوں کی معلومات نسیم حجازی کے اوراق سے باہر نہیں نکلتیں۔ یہ ملک ستر برسوں میں غیر مسلم پاکستانیوں کی برابر قربانیوں اور کاوشوں سے کھڑا ہوا ہے۔ فوج سے تعلق رکھنے والے ایم۔این۔اے صفدر صاحب کو اپنے ہی سابقہ ادارے کی تاریخ کا بھی علم نہیں ہے؟ فاتحِ چونڈہ میجر جنرل عبدالعلی ملک اور فاتحِ چھمب جوڑیاں میجر جنرل افتخار جنجوعہ سے کسی نے ان کے عقیدے کی بنیاد پر حب الوطنی کا سرٹفکیٹ کیوں نہ مانگا؟ ہم لوگ لیفٹیننٹ جنرل اختر حسین، جنرل اختر ملک، سکواڈرن لیڈرخلیفہ منیرالدین کی جنگی خدمات فراموش کر دیں تو بھی تاریخ تبدیل نہیں ہو پائے گی۔ لیفٹننٹ کرنل میک پسٹن جی سپاری والا، فلائٹ لیفٹننٹ سیسل چوہدری، غازی نذیرلطیف، ائروائس مارشل ایرک گورڈن، ونگ کمانڈر میروِن لیزلی ۔۔۔ جنرل میسروی اور جنرل گریسی کے نام بھی مِٹا دیجیے اس ادارے کی تاریخ سے۔ ایک طویل فہرست ہے جِس کو ایک قاتل ممتاز قادری کے نام پر بھلایا نہیں جا سکتا۔
روتھ فاؤ اس ملک میں جذام کے مریضوں کے لیے شفایابی بانٹتی رہیں۔ کیا ان کو کسی سرٹفکیٹ کی ضرورت ہے؟ رہی بات سر ظفراللہ خان کی تو ان جیسا کوئی ایک آپ کی گزشتہ نسلوں میں نہ گزرا ہے اور نہ ہی اگلی تین نسلوں میں دکھائی دیتا ہے۔ زہر اگلنے اور اس کو چپ چاپ سننے والے یہی یاد رکھ لیا کریں کہ جب دستور ساز اسمبلی کے اجلاس میں محمد علی جناح کو قائدِ اعظم کا لقب دینے کی قرارداد پیش کی گئی، تو جوگندر ناتھ منڈل نامی “دلِت” نے اس کی حمایت کی۔ وہی منڈل صاحب جنہیں تقسیمِ سے قبل بھی مسلم لیگ کی جانب سے جناح نے وزیر منتخب کیا اور جو مشترکہ ہندوستان کے صوبہ بنگال میں وزیرِ قانون تھے۔ پہلی آئین ساز اسمبلی کے اس اجلاس کی صدارت بھی اسی “اچھوت” نے کی تھی اور وہی اس ملک کا پہلا وزیرِ قانون بھی تھا۔ اور انہیں اسی جناح نے اس قابل سمجھا جنہیں علامہ شبیر عثمانی “فاسق” قرار دیتے ہیں۔

بات 1998ء میں میاں محمد نواز شریف کے شریعہ بِل سے پیچھے 1974 میں بھٹو صاحب کی بھڑکائی آگ سے بھی پہلے ایوب سے شروع کر لیجیے (کہ لیاقت علی خان تک جانے کی میری اوقات نہیں)۔ غداری اور کفر کے لیبل بانٹتے ہمارے حکمرانوں اور منبر پر بیٹھنے والوں کو نفرت، خون اور آگ کا کھیل ہمیشہ سے مرغوب رہا ہے۔ فیلڈ مارشل ایوب خان نے وزیرِ اعظم حسین شہید سہروردی کو شرپسند اور بیرونی گماشتہ قرار دیا۔ بین الاقوامی جریدے کو انٹرویو میں بانی پاکستان کی بہن فاطمہ جناح کو بھارت کے زیرِ اثر بتاتے بھی اس شخص کو شرم وغیرہ کا احساس نہ ہو سکا۔

ریاست کے سب ستون حصہ بقدر جثہ کے مصداق انسانی زندگیوں کو عقائد اور لسانی و جغرافیائی تقسیم میں جھونکتے چلے جا رہے ہیں۔ کوئی اپنے کولیگ بھگوان داس کو بھلائے کسی اقلیت کا “نام تک نہیں لینا چاہتا” تو کسی کو انتخابی اصلاحات کے بِل میں ایک ترمیم کے حوالے سے ادارے کی پوزیشن بتانا یاد آ جاتا ہے۔ الیکٹرانک میڈیا ایسے میں پیچھے کیوں رہے، وہ حب الوطنی اور ایمان کا ٹھیکےدار بنا ہوا ہے۔ اوریا مقبول جان جیسے تو گردنیں اڑانے کو جائز قرار دے چکے ہیں۔

لطف تو یہ ہے کہ وہ سیاسی جماعت جو کچھ عرصہ قبل تک سوشل میڈیا پر ایک خاتون صحافی کے خلاف شرانگیز مہم چلا کر اس کے شوہر کو غیرمسلم اور خاتون کو مرتد ثابت کرنے کی کوشش کرتی رہی، اور مریم نواز کے ایمان و عقیدے پر سوال اٹھاتے دیندار بنی ہوئی تھی وہ آج کیپٹن (ر) صفدر پر تبرہ کر رہی ہے۔ دوسری جماعت جو ہر برس 7 ستمبر کو سینہ پھلا کر اپنا کارنامہ گنواتی ہے وہ بھی میدانِ اخلاقیات میں کود چکی ہے۔ منافقتوں کے عجب بھید ہیں جو ذاتی مفادات کے چکر میں بےنقاب ہوتے چلے جا رہے ہیں۔ جو لوگ پہلے انتخابی اصلاحات کے بِل میں ایک شق کی ترمیم پر منہ سے آگ اگل رہے تھے وہ آج کیپٹن (ر) صفدر کے نام پر خود کو روشن خیال اور سیکولر ظاہر کر رہے ہیں۔ لفظ ‘مہاجر’ کو سیاسی مقصد کے لیے استعمال کرتے ہوئے خورشید شاہ صاحب کو گستاخِ رسول ﷺ قرار دیتے کراچی کی دیواریں کالی کر دینے والی جماعت بھی روشن خیالی کا مینار بنی ہوئی ہے۔ غور کیجیے جناب کہ آپ سب ہی ایک جیسے ہیں۔

ریاست ماں کو بالکل ادراک نہیں کہ عام شہری کِس ذہنی کرب اور ہیجان کا شکار ہو چکا ہے۔ قانون سازوں نے موقع ملنے پر اپنی گنجائش کے مطابق ایوانوں کو فضولیات سے لتھیڑنے کا ٹھیکہ لے رکھا ہے۔ علاقائی، لسانی، مسلکی اور عقائد کی بنیاد پر زہر بیچنے واسطے قومی اسمبلی کو ٹرین کی اکانومی کلاس مت بنائیں۔ میں ایک گهریلو بندی نام نہاد ‘اکثریت’ کاحصہ ہوتے ہوئے اس قسم کی ریاستی پالیسیز پر کڑهتی ہوں تو جِس ‘اقلیت’ کو مکمل برابر شہری حقوق سے محروم کیا جاتا ہے وہ کیا محسوس کرتے ہوں گے۔ آپ کی پیدا کردہ معاشرتی تقسیم اور صنفی دباؤ آنے والی نسلوں کی ذہنی صحت تباہ کرتے ہیں۔ معاشرے کے کمزور طبقے کو مزید دبا کر نتائج بھیانک ہوا کرتے ہیں۔ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ جو سلوک ہو رہا ہے اس پر کچھ کہنے سے قبل پاکستان میں اقلیتوں کیا، عام پاکستانیوں کے حالات کا جائزہ لے لیجیے۔ بلاسفیمی کا کند ہتھیار استعال کروا کر کوئی بھی کسی کی بھی زندگی چھین سکتا ہے۔ کینیڈا اور دنیا بھر میں کہیں ‘پاکستانی نژاد’ یا مسلمان کوئی مقام حاصل کرتا ہے تو بھاگ کر ہم سب کریدٹ بٹورنے کو رال ٹپکاتے پہنچ جاتے ہیں۔ کبھی سوچیے گا کہ اگر ان کے قانون ساز بھی حد لگا دیں کہ پاکستانی یا اقلیت (مسلم) کو کسی قومی ادارے یا درسگاہ میں نہیں گھسنے دینا تو کیا کیجیے گا؟

کچھ روز قبل وزیرِ خارجہ اور وزیرِ داخلہ نے کہا “گهر کی صفائی” ہونی چاہیے۔ ہم ان کے ساتھ ہیں لیکن حکمران جماعت کو بسم اللہ اپنی ہی صفوں سے کر لینی چاہیے۔ “ہیٹ سپیچ” کر کے کچھ ہوتا ہے شاید، نیشل ایکشن پلان نامی ایک قانون آیا تھا۔ اس کا اطلاق کسی سیاستدان پر بھی کر گزریے۔ دوسری جانب احسن اقبال یا رانا ثناء اللہ پر فتوے لگواتے میڈیا ہاؤسز سے بھی پوچھ لینا چاہیے کہ وہ کِس کے اشاروں پر ناچ رہے ہیں۔ کیونکہ ان دونوں نے “خاموشی” کو اظہار کی زبان سمجھنے کی بجائے غلط کو غلط کہنے کی جرات کر لی ہے۔

این۔اے 120 میں انتخابی مہم کے دوران محترمہ مریم نواز مزار بی۔بی پاکدامن حاضری اور دعا کے لیے گئیں۔ مجھے اس وقت ان کی معصوم آنکھیں بہت اچھی لگیں جب وہ بتا رہی تھیں کہ مزار پر کسی نے کربلا سے لائی تسبیح انہیں ہدیہ کی ہے اور اس کو کلائی میں لپیٹے رہیں گی۔ آپ والدہ کی صحت کی دعا کے لیے چرچ بھی گئیں۔ میاں صاحب کی سرجری ہو تو ملک بھر سے سکھ، ہندو اور مسیحی کمیونٹی کی دعائیہ تقاریب کی تصاویر شئیر کی گئیں۔ گزشتہ چار برسوں میں ہمیں ایک نیا نواز شریف دیکھنے کو ملا جو کسی ایک عقیدے یا رنگ نسل کا نہیں بلکہ پورے ملک کا وزیرِاعظم بن کر ان کے ساتھ خوشیاں مناتے اور غم بانٹتے ہوئے سب عقائد کا احترام کرتے نیا امیج بنانے میں کامیاب دکھائی دیتا تھا۔ عرض صرف اتنی ہے کہ اس ملک کو بھی سرطان لاحق ہو چکا ہے۔ اس کو بھی دعا سے پہلے دوا کی ضرورت ہے۔ سرطان کو پھیلانے میں حصہ دار مت بنیں۔ خدارا صفدر صاحب کو سمجھائیے کہ ہماری نسلوں کو آگ میں جھونکتے ہوئے اتنا سوچ لیں کہ ہم عام شہریوں نے اپنے والدین کی طرح یہیں جینا مرنا ہے اور ہمارے بچوں نے بھی یہیں پل بڑھ کر ملک میں کام کرنا ہے۔ سرطان کی سرجری اور کیموتھراپی سے لے کر دواؤں تک کے علاج میں کسی قسم کی ملاوٹ اور لاپرواہی سب کچھ ختم کر دیا کرتی ہے۔ پاکستانیوں کو آپس میں جُڑنے دیں تاکہ اس مرض کا مقابلہ مِل کر کرتے انتہاءپسندی کے کینسر کو شکست دی جا سکے۔ ورنہ ہر کوئی انفرادی جنگ میں تنہا کر کے مشال خان بنا دیا جائے گا۔ جس کا باپ ہری پور سینٹرل جیل میں کیس کی سماعت واسطے بھیگی آنکھوں اور جھکے کندھوں کے ساتھ خوار ہو رہا ہے۔

آخری پیراگراف میں مجھے اقرار کرنا ہے کہ میں ایمانِ مفصل اور ایمانِ مجمل ترجمے کے ساتھ بچپن سے دہراتی آ رہی ہوں۔ میرا ایمان جو کہ میرا ذاتی معاملہ ہونا چاہیے تھا اس کا حلف اس خوف کے تحت ضروری ہو چکا ہے جس کی وجہ سے پرویز رشید صاحب کو ایک ٹی۔وی شو میں بتانا پڑا، بالکل جیسے ہمارے آرمی چیف کو محفلِ میلاد کی تصاویر پبلک کروانا پڑیں اور کرکٹ ٹیم کو عمرے کی ٹکٹس کا اعلان کیا گیا اور معاشرے میں زندگیوں کے ارزاں کیے جانے کا وہ خوف ہے جس کا سوچ کر ہی ہمارے وزیرِ خارجہ کو ایک تصویر پر معذرت خواہانہ لہجہ اپناتے اپنا عقیدہ بہانے سے جتلانا پڑا۔ ایسے میں ہمارے ہاں “روشن خیالی” کی جگالی کرنے والے ایک طبقے کو اعتراض کرنے سے قبل ایک لمحے کو سوچ لینا چاہیے کہ کہیں وہ بھی ججمینٹل ہو کر دوسری انتہا کی شاخ پر تو نہیں جھول رہے۔ انسان خود سے وابستہ رشتوں اور جُڑی امیدوں کا سوچ کر ہی کمزو ہو جاتا ہے کہ یہاں ممتاز قادریوں کی کھیپ تیار کرنے والے ہر پلیٹ فورم پر زیادہ تعداد میں ہیں۔

بنا ہوا ہے مرا شہر قتل گاہ کوئی
پلٹ کے ماؤں کے لخت جگر نہیں آتے

افشاں مصعب زندگی پر لکھنا پسندکرتی ہیں – سیاست ، سماجیات اور نفسیات ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں – متعدد بلاگ پیجز پر ان کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں – افشاں اسلام آباد میں مقیم ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. لیاقت حسین کہتے ہیں

    اللہ آپ جیسے لوگوں کو محفوظ رکھے تاکہ پاکستان سانس لیتا رہے،

  2. Tanvir کہتے ہیں

    اللہ کرے یہ ملک سلامت رہے۔
    آپ جیسے لوگ موجود رہیں تو پھر یقین بڑھ جاتا ھے۔

  3. نعیم رضوان کہتے ہیں

    اب تو کسی موضوع پر بھی بات کرتے ہوئے ڈر لگتا ھے ۔ ۔ اللہ آپ کو سلامت رکھے ۔ بہت عمدہ حالات کا تجزیہ ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.