لڑکیوں کا عالمی دن اور پاکستانی لڑکیوں کے مسائل

0 1,848

ہر سال 11 اکتوبر کو دنیا بھر میں لڑکیوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس سال کے لڑکیوں کے عالمی دن کا تھیم کسی بھی بحران سے پہلے، اس کے دوران اور اس کے بعد لڑکیوں کو بااختیار بنانا ہے۔ دیکھا جائے تو آج کی لڑکیاں پچھلی کئی نسلوں کے مقابلے میں بہتر زندگی گزار رہی ہیں۔ انہیں تعلیم کے بہتر مواقع میسر ہیں، یہ نوکری اور کاروبار بھی کرتی ہیں، یہ گھر بھی سنبھالتی ہیں اور یہ اپنے فیصلے بھی خود کرتی ہیں لیکن ابھی بھی دنیا کے کئی ممالک میں لڑکیاں بااختیار نہں ہیں۔ بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ایسے ہی ممالک میں ہوتا ہے۔

لڑکوں کے پیدا ہونے پر خوب مبارک سلامت ہوتی ہے جبکہ لڑکی کے پیدا ہونے پر تقریباً افسوس کا اظہار ہی کیا جاتا ہے۔ اکیسویں صدی میں بھی ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو ایک بوجھ ہی تصور کیا جاتا ہے۔ اکثر گھروں میں بیٹوں کو اچھے اور مہنگے سکول میں داخل کروایا جاتا ہے جبکہ بیٹیوں کو کسی کم درجے کے سکول میں بھیج دیا جاتا ہے۔ لڑکوں کے لئے کھانے کا بہترین حصہ رکھا جاتا ہے جبکہ لڑکیوں کو نسبتاً کم درجہ خوراک دی جاتی ہے۔ یہی حال علاج معالجے کے معاملے میں بھی ہے۔

ورلڈ اکنامک فورم کی 2016 کی رپورٹ کے مطابق صنفی امتیاز میں پاکستان کا نمبر ایک سوچوالیس میں سے ایک سو ترتالیس ہے۔ 2006 میں جب یہ رپورٹ پہلی بار منظرِ عام پر آئی تو پاکستان کی رینکنگ ایک سو بارہویں نمبر پر تھی جو کہ ہر سال گھٹتے گھٹتے ایک سو تینتالیس پر پہنچ گئی ہے۔ پاکستان میں لڑکے اور لڑکی کے درمیان یہ صنفی امتیاز بچے کی پیدائش سے پہلے ہی شروع ہو جاتا ہے۔ المیہ تو یہ ہے کہ اس ظلم کے پیچھے اکثر خواتین ہی ہوتی ہیں۔ بیٹے کا نکاح ہوتے ہی ماں بہو سے پوتے کی فرمائش کرنا شروع کر دیتی ہے۔ اولادِ نرینہ حاصل کرنے کے لئے وظائف بھی پڑھے جاتے ہیں اور بہو کو پتہ نہیں کن کن حکیموں کی تیار کردہ دوائیاں کھلائی جاتی ہیں۔ اگر لڑکی پیدا ہو جائے تو بہو کو کئی طرح کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ چند دن پہلے کراچی میں ایک شخص نے اپنی بیوی کو بیٹی پیدا کرنے کے جرم میں زندہ جلا دیا۔ خاتون کو بر وقت ہسپتال لے جایا گیا۔ ان کی حالت ابھی تک تشویشناک ہے۔

ہمارے معاشرے میں کئی لڑکیاں غیرت کے نام پر بھی قتل کر دی جاتی ہیں۔ غیرت کے نام پر ہونے والے قتلوں کی کوئی حتمی تعداد معلوم نہیں ہو سکی۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایسے بہت سے قتل رپورٹ ہی نہیں کئے جاتے۔ خاندان کی عزت بچانے کے لئے معاملے کو جلد از جلد دبانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ کئی علاقوں میں جائیداد بچانے کے لئے لڑکیوں کے نکاح قرآن سے کر دیئے جاتے ہیں۔ کوہستان کے کئی علاقوں میں جہاں پانی کی قلت ہے وہاں روزانہ دور دراز سے پانی لانا خواتین کی ذمہ داری ہے۔ وہ یہ کام دن میں کئی بار سر انجام دیتی ہیں۔ مقامی لوگوں کے مطابق آٹھ سال کی عمر سے لڑکیاں پانی لانے کا کام شروع کر دیتی ہیں۔ یہ لڑکیاں اپنے مٹکوں یا کین میں 15 سے 20 لیٹر پانی بھر کر لاتی ہیں جسے اٹھاتے اٹھاتے ان کی ریڑھ کی ہڈی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔

کئی لوگ یہ بحث کرتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان میں لڑکیوں کو بہت سے حقوق حاصل ہیں۔ وہ پڑھ رہی ہیں، نوکری کر رہی ہیں، بڑے بڑے ادارے چلا رہی ہیں اور کیا چاہئے؟ ایسے لوگوں کے لئے عرض ہے کہ لڑکیوں کے بااختیار ہونے کا مطلب ان کا اپنے فیصلے خود کرنا اور معاشی و سماجی طور پر مستحکم ہونا ہے۔ پاکستان میں لڑکیوں کی بہت کم تعداد ایسی ہے جسے اپنی زندگی اپنی مرضی سے جینے کی آزادی دی جاتی ہو۔ ہمارے معاشرے میں ایک عام سوچ ہے کہ اگر لڑکی کو آزادی دی جائے گی تو وہ خاندان کی عزت اچھال دے گی۔ یہ سوچ تبدیل ہو رہی ہے مگر اسے مکمل طور پر ختم ہونے میں کئی سال لگیں گے۔

ماضی کے مقابلے میں آج لڑکیوں کی بڑی تعداد نوکری کرتی ہے لیکن یہاں بھی ایک لڑکی کو ڈگری مکمل ہونے بعد نوکری کی اجازت اپنے گھر سے لینی پڑتی ہے۔ لڑکی کی تعلیم کو بس ایک اچھے رشتے کی ضمانت سمجھا جاتا ہے۔ اگر کوئی لڑکی اس ڈگری کو استعمال کرتے ہوئے اپنا کرئیر بنانا چاہے تو اسے بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جن میں گھر والوں سے نوکری کی اجازت لینے کے ساتھ ساتھ دفاتر میں جنسی طور پر ہراساں کرنے کے واقعات بھی شامل ہیں۔ شادی کی صورت میں لڑکی کو اپنے خوابوں اور مرضی سے دستبردار ہونا پڑتا ہے۔ وہ تعلیم کا سلسلہ آگے بڑھا پائے گی یا نہیں، نوکری کر سکے گی یا نہیں، اپنے رشتے داروں سے مل سکے گی یا نہیں، یہ سب اس کا شوہر اور سسرال والے طے کرتے ہیں۔ نکاح کے ساتھ ہی اس سے ایسے سب فیصلے کرنے کا اختیار اس سے لے لیا جاتا ہے۔ اب اس کا نقصان کیا ہوتا ہے؟ اپنے اردگرد دیکھیں۔ آپ کو بہت سی ایسی خواتین مل جائیں گی جن کے خاوند ان کے حق میں اچھے ثابت نہ ہوئے، کچھ کے شوہر شادی کے کچھ عرصے کے بعد انتقال کر گئے تو کچھ کو طلاق مل گئی۔ ایسی تمام عورتیں اپنے سسرال والوں کے رحم و کرم پر آ جاتی ہیں۔ مائیکے آئیں تو وہاں بھی انہیں ایک بوجھ ہی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس اتنی تعلیم یا تجربہ بھی نہیں ہوتا کہ وہ کوئی اچھی نوکری کر سکیں۔ اس لئے ہمیں آج ہی اپنی بیٹیوں کو بااختیار بنانے کا کام شروع کرنا ہوگا۔

لڑکیوں کو ان کا جائز مقام دلانے کے لئے ضروری ہے کہ انہیں اپنے فیصلے خود کرنے کا حق دیا جائے۔ ان کو اپنے پیروں پر کھڑا ہونے میں مدد دی جائے نہ کہ ان کی حوصلہ شکنی کی جائے۔ یہ سب کام تب ہی ممکن ہیں جب ہمارے مردوں کی سوچ بدلے گی۔ ہمیں مردوں کو بتانا ہوگا کہ لڑکیاں بھی انسان ہیں۔ وہ بھی اس دنیا پر اتنا ہی حق رکھتی ہیں جتنا مرد۔ لڑکیوں کی زندگی کسی مرد کی اجازت کے تائب نہیں ہے بلکہ اس کو اپنے لئے خود سوچنے کا مکمل حق حاصل ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.