سانجھا شہید

1 1,901

13 اپریل 1919 کا ہندوستان۔ جگہ ہے جلیانوالہ باغ،  امرتسر۔ جہاں پر ہندو مسلمان سکھ اس تاریخی باغ میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ مقصد انگریز سرکار کی جانب سے دو مقامی لیڈروں ستے پال اور ڈاکٹر سیف الدین کچوال کی گرفتاری اور ان کے صوبہ بدر کرنے کی صورتحال پر غور و خوض کرنا ہے۔ اسی دن سکھ مذہب کا مذہبی تہوار وساکھی بھی ہے اور گولڈن ٹیمپل قریب ہی ہونے کی وجہ سے سکھوں کی پہت بڑی تعداد بھی باغ میں موجود ہے جو وہاں اپنی مذہبی رسموات ادا کرنے کے بعد باغ میں آئے ہوئے ہیں۔ بڑی تعداد عورتوں اور بچوں کی بھی موجود ہے۔ امرتسر پچھلے کچھ دنوں سے دنگے فساد کی زد میں ہے جو ایک ‘کالے قانون’ رولٹ ایکٹ 1919 جس میں کسی بھی ہندوستانی کو بغیر کسی وجہ کے حراست میں رکھنے اور دو سال تک بغیر کسی ٹرائل کے جیل میں بند کرنے کا پولیس کو اختیار دے دیا گیا تھا کے خلاف احتجاج کی وجہ سے پھوٹ پڑے ہیں اور ان میں انگریزافسران، جن کی تعداد دو تین سے زیادہ نہیں تھی، مارے گئے ہیں جبکہ کئی ہندو، سکھ اور مسلمان کو گولیوں سے بھون ڈالا گیا ہے۔ انگریز سرکار نے امرتسر میں کرفیو اور مارشل لاء کا فرمان بھی جاری کیا ہے جس کا علم اس اجتماع میں شریک لوگوں کو نہیں۔ اس وقت انڈین برٹش آرمی کی کمان کرنل ریجنالڈ ایڈورڈ ہیری ڈائر کر رہا ہے جسے عارضی طور پر بریگیڈیئر کے اختیارات بھی سونپ دیئے گئے ہیں۔ اس نے ہی امرتسر میں کرفیو اور مارشل لاء کا حکم دیا تھا۔ اس نے یہ بھی حکم دیا کہ کسی بھی احتجاج کرنے والے کوگولی مار دی جائے لیکن اس کرفیو اور مارشل لاء کی کھل کر تشہیر نہیں کی گئی تھی جس کے پیچھے اصل مقصد یہ تھا کہ کوئی بہانہ تلاش کر کے انگریز افسروں کے قتل کا بدلہ لیا جائے۔ ڈائر کے متعلق ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ 9 اکتوبر 1884 کو مری موجودہ پاکستان میں پیدا ہو وہ گھوڑا گلی کالج مری کا تعلیم یافتہ تھا۔ اس کا باپ ایک شراب کشید کرنے والا تھا جس نے مشہور مری بیوری کمپنی قائم کی جو کہ آج بھی پاکستان میں شراب کشید کرنے والی چند فیکڑیوں میں شامل ہے۔

جلیانوالہ باغ تقریباً آٹھ ایکڑ پر مبنی باغ ہے جس کے تمام راستے داخلی اور خارجی نہایت ہی تنگ ہیں۔ اس کی شکل گول پیالے سی ہے جس کے اردگرد  اونچی اونچی دیواریں ہیں۔ بریگیڈیئرڈائرنے انگریزوں کے قتل کا بدلہ لینے کے لئے اپنی گورکھا ریجمنٹ کے دستوں کے ساتھ جلیانوالہ باغ پہنچا۔ سب سے پہلےاس نے باغ کے داخلی دروازے پر ٹینک کھڑا کر کے اسے بند کر دیا اور پھر خارجی راستوں کو تالے لگوا کر نہتے اور پرامن شہریوں پر فائرنگ کا حکم دے دیا اور دس منٹ تک مسلسل فائرنگ کراتا رہا۔ بریگیڈیئر ڈائر سپاہیوں کو حکم دیتا رہا کہ وہ باغ کے خارجی دروازے جو کہ پانچ تھے کی جانب خاص طور پر گولیاں برسائیں تاکہ بھاگنے والوں کو نشابہ بنایا جا سکے۔ لوگ اپنی جانیں بچا کر بھاگ رہے ہیں اور جس طرف جاتے ہیں اسی طرف گولیاں برسانے کا حکم دے دیا جاتا ہے۔ وہیں ایک کنواں بھی ہے۔ جب اور کوئی جائے پنا ہ نہ ملی تو لوگوں نے کنواں میں چھلانگیں لگانا شروع کر دیں۔ کنواں بھی لاشوں سے پر ہو گیا۔ کئی اس میں دم گھٹنے اور ڈوب کر مر گئے۔ ڈائر مسلسل فائرنگ کا حکم دیتا رہا۔ یہاں تک کہ فوجی دستوں کے پاس ایمونیشن ختم ہوگیا۔

بعد ازاں جاری اعداد و شمار کے مطابق جو کہ برٹش گورنمنٹ نے جاری کیا اس دن سولہ سو پچاس راوئنڈ فائر کئے گئے جس سے 379 افراد جاں بحق اور 800 کے قریب زخمی ہوئے۔ انڈین نیشنل کانگرس کے مطابق اصل تعداد مرنے والوں کی 1000 سے بھی زیادہ تھی اور 1500 افراد زخمی ہوئے جبکہ کچھ اور تاریخ دانوں کا خیال ہے کہ مرنے والوں کی تعداد 2000 کے لگ بھگ تھی۔ تعداد خواہ کچھ بھی ہو، بریگیڈیئر ڈائر ظلم و بربریت اور سفاکیت کا وہ باب رقم کر چکا تھا جس کا بدلہ لینا پانچ دریاؤں کی اس سرزمین کے رہنے والوں پر بہت بڑا قرض تھا۔

خونِ ناحق جب اپنی ہی دھرتی پر گرتا ہے تواسی دھرتی کے خمیر سے ہی کوئی نہ کوئی اس کا بدلہ لینے بھی اٹھ کھڑا ہوتا ہے۔ جلیانوالہ باغ میں جب یہ خون کی ہولی کھیلی جا رہی تھی تو ایک بیس سال کا جوان بھی اس مجمع میں شامل تھا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے مرد، عورتیں، بچے گولیاں کھا کر گر رہے  تھے، درد تکلیف سے چلا رہے تھے، کئی جان بچانے کے لئے کنوئیں میں چھلانگیں لگا رہے تھے، کئی باغ کی اونچی دیواروں پر چڑھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ نشانہ  باز تاک تاک کر ایسے لوگوں پر گولیاں چلاتے اور وہ کسی شکار کئے ہوئے پرندے کی طرح نیچے گرتے۔ پورا باغ خون سے سرخ ہو چکا تھا۔ ہر طرف ایک بھگدڑ مچی ہوئی تھی۔ اس بیس سال کے نوجوان کے بھی دائیں بایئں اوپر نیچے سے گولیاں نکل رہی تھیں لیکن اس کو ایک بھی گولی نے نہیں چھوا۔ ایسا کیوں ہوا؟ کیونکہ یہی وہ مٹی کا خمیر اور بیٹا تھا جس کے ہاتھوں قدرت کو اس قتل عام کا بدلہ لینا مقصود تھا۔ اس کا نام اُودھم سنگھ تھا۔

اُودھم سنگھ 26 دسمبر 1899 کو سنگرور ضلع میں ایک غریب ریلوے ملازم تلہ سنگھ کے گھر پیدا ہوا۔ پیدائش کے کچھ ہی عرصہ کے بعد وہ ماں باپ کے سایہ سے محروم ہو گیا۔ اسے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ خالصہ آشرم امرتسر میں داخل کروا دیا گیا جہاں کچھ عرصے بعد ہی اس کا بڑا بھائی بھی ایک بیماری کے باعث انتقال کر گیا۔ اُودھم سنگھ جلیانوالہ باغ کے بے گناہ ہم وطنوں کے قتل عام کا بدلہ لینے کے لئے بے قرار تھا۔ اس نے قسم کھائی کہ مٹی کا جو قرض اس کے سر ہے، وہ بریگیڈیئر ڈائر کے خون سے چکائے گا۔ آشرم سے نکلنے کے بعد اس نے بڑھئی کا کام سیکھا اور کئی سال دن رات اس نے محنت کر کے جو پیسے کمائے، ان سے وہ امریکہ چلا گیا اور ایک ہوٹل میں کام کرتا رہا جہاں وہ تقریباً پانچ سال رہا۔ وہ چاہتا تو اس واقعے کو بھول کر مستقل وہاں رہائش اختیار کر سکتا تھا لیکن بدلہ لینے کی دھن اس پر سوار تھی لہٰذا وہ دوبارہ ہندوستان آ گیا اور آزادی کی کئی خفیہ تنظمیوں کے ساتھ مل کر کام کرتا رہا۔ لیکن اس کا اصل مقصد پنجاب کے مشہور انقلابی لیڈر بھگت سنگھ کو ملنا اور اس کی تنظیم کے ساتھ کام کرنا تھا۔

بھگت سنگھ کے ساتھ کام کرتے ہوئے وہ ایک دفعہ گرفتار ہوا اور پانچ سال کیلئے جیل چلا گیا۔ اسی اسیری کے دوران اسے پتہ چلا کہ بریگیڈیئر ڈائر فالج کے مرض میں مبتلا ہو کر مر گیا ہے۔ یہ علم ہونے پر اسے افسوس تو تھا کہ وہ اسے اپنے ہاتھوں سے کیوں نہیں مار سکا لیکن جلیانوالہ باغ کے قتل عام کا ایک کردار ابھی زندہ تھا اور وہ تھا پنجاب کا اس وقت کا گورنر لیفٹینٹ جنرل مائیکل ڈائر۔ اس نے ہی ایڈورڈ ہیری ڈائر کو خاص اختیارات دے کر امرتسر بیجھا تھا۔ جیل سے رہا ہونے کے بعد وہ کسی نہ کسی طرح لندن پہنچا اور 31 مارچ 1940 کوجب  جنرل مائیکل ڈائر لندن کے کنگسٹن ہال میں ایک تقریب میں تقریر کر رہا تھا، اُس نے ریوالور کی چھ کی چھ گولیاں اس کے سینے کے آر پار کر دیں اور اپنے آپ کو پولیس کے حوالے کر دیا۔ اس موقع پر اس کے چہرے پر ایک اطمینان اور سکون تھا کیونکہ بالآخر بیس سال بعد اس نے اپنے ہم وطنوں کے خون کا بدلہ لے لیا تھا۔ وہ بے گناہ انسان جو کہ ہندو تھے سکھ تھے یا مسلمان۔ اُودھم سنگھ کسی ایک مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا ہیرو نہیں تھا بلکہ وہ ان سب مذاہب کے ماننے والوں کا مشترکہ ہیرو تھا۔

مہاتما گاندھی نے ڈائر کے قتل کی پرزور مذمت کی کیونکہ اس کے خیال میں یہ اقدام اسکے فلسفہ عدم تشدد کے منافی تھا۔ اس نے باقاعدہ برطانوی حکومت کو خط لکھ کر اپنے افسوس کا اظہار کیا جبکہ قائداعظم محمد علی جناح نے اُودھم سنگھ کا کیس لڑنے کی آفر کی لیکن اُودھم سنگھ اپنے جرم کا اقرار کرچکا تھا اپنے بیان میں اس نے صاف کہا کہ یہ جلیانوالہ باغ کے قتل عام کا بدلہ تھا، لہٰذا اسے سزائے موت کا حکم سنایا گیا اور 31 جولائی 1940 کو اسے لندن کی ایچ۔ایم پرزن پینٹاویل میں پھانسی دے دی گئی۔ ہندوستان کے تین بڑے مذاہب مسلم، ہندو اور سکھ ازم کی لغت میں اپنی قوم و ملک پر جان قربان کرنے والے کیلئے ایک ہی لفظ استعمال کیا جاتا ہے اور وہ لفظ ہے شہید۔ اُودھم سنگھ کسی ایک مذہب سے تعلق رکھنے والوں کا نہیں بلکہ ان تین مذاہب کے ماننے والوں کا سانجھا شہید ہے جس کی قربانی کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مصنف ایک سیاسی و سماجی ورکر ہیں اور ماضی میں صحافت کے پیشے سے منسلک رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Ahmadd کہتے ہیں

    Really hero of independence irrespective of religion. salute to Shaheed UDHAM Singh

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.