چاند اور چندا، طیب اردوان اور نواز شریف

0 3,935

رشید اور نظیر بچپن کے دوست تھے۔ رشید نکمہ تھا۔ کچھ نہ بنا۔ نظیر قابل اور محنتی تھا۔ ڈاکٹر بن گیا۔ سارا شہر نظیر سے علاج کراتا۔ اس کی تعریفیں کرتا۔ نظیر پرائیویٹ پریکٹس بھی کرنے لگا۔ چند ہی سالوں میں بہت امیر ہو گیا۔ رشید کی جلن انتہا پر پہنچ گئی۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ بھی ڈاکٹری کرے گا اور نظیر جتنی بڑی کوٹھی اور گاڑی خریدے گا اور اسی ٹھاٹھ باٹھ سے زندگی گزارے گا۔ گندے نالے کے کنارے ایک سستا کھوکھا کرائے پر لیا اور اتائی بن بیٹھا۔ ہائی بلڈ پریشر کے ایک مریض سے کہا خوب کھاؤ پیو، کمزوری کی وجہ سے چکر آ رہے ہیں، دو انڈے، دو گلاس دودھ اور آدھ کلو قیمہ روزانہ کھایا کرو۔ پیچش کے مریض کو صبح شام یخنی پینے کی تجویز دی۔ ٹوٹے بازو والے کی ہڈی سیدھی کئے بغیر پلستر چڑھا دیا۔ پچیسویں روز پولیس آئی اور اسے تھانے لے جا کر حوالات میں بند کر دیا۔

کامران کو اپنے ابا کی موٹر سائیکل سے پیار ہو گیا، بولا میں بھی چلاؤں گا۔ ابا نے کہا، بیٹا! ابھی تم بہت چھوٹے ہو، بائیک پر بیٹھ کر تمہارے پاؤں بھی ٹھیک طرح زمین پر نہیں لگتے، چند برس ٹھہر جاؤ، پھر میں تمہیں سکھا دوں گا۔ محبت اندھی ہوتی ہے۔ کامران نہ مانا۔ ایک روز ابا کے سوتے ہی خاموشی سے ان کے کمرے میں آیا۔ بائیک کی چابی سنبھالی اور باہر نکل گیا۔ بائیک لے کر گلی میں آیا۔ کک ماری اور گیئر ڈال دیا۔ بائیک اچھلی اور گولی کی طرح ہوا کو چیرنے لگی۔ گلی کی نکڑ پر پہنچتے ہی کامران نے موڑنے کی کوشش کی مگر ناکام رہا اور بائیک دائیں اور کامران بائیں دیوار سے جا ٹکرایا۔ محلے والے باہر نکلے اور ہسپتال پہنچا دیا۔ سر پھٹنے اور بہت زیادہ بلیڈنگ ہونے کے باعث بیچارے کو ہفتوں بعد ہوش آیا۔ جسم کے دیگر اعضا کی ٹوٹ پھوٹ بھی بہت زیادہ ہوئی۔ بس خدا کا شکر ہے بچے کی جان بچ گئی۔

main pic part 1چاند اور چندا محبت میں مبتلا ہو گئے۔ ساتھ جینے مرنے کی قسمیں کھا لیں۔ محبت نور بن کر ان کی آنکھوں سے جھانکنے لگی۔ بجلی بن کر ان کے بدن میں دوڑنے لگی۔ ان کے پیر زمین پر ٹکنا بند ہو گئے۔ وہ پوری کلاس بلکہ پورے کالج کیلئے قابل رشک جوڑا بن گئے۔ ہر وقت اکٹھے رہتے۔ اکٹھے پڑھتے۔ اکٹھے کھاتے۔ اکٹھے گھومتے۔ شاپنگ کرتے اور خوب مزے کرتے۔ شیدا اس محبت سے اس قدر جلنے لگا کہ گھل گھل کر آدھا رہ گیا۔ اس نے بھی فیصلہ کر لیا کہ وہ چندا سے بھی زیادہ خوبصورت لڑکی سے پیار کرے گا اور چاند کو اسی طرح جلائے گا جیسے آج وہ اسے جلا رہا تھا۔ شہلا سے جا کر بولا، آئی لو یو۔ شہلا بولی، شٹ اپ یو ایڈیٹ اور جا کر ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے شکایت کر دی۔ شیدے کو وارننگ مل گئی۔ مگر شیدا پُرعزم تھا۔ پنکی کی جانب بڑھا اور کہا، آئی لو یو۔ اس نے اپنے بوائے فرینڈ کو بتا دیا۔ وہ چار لڑکوں کے ساتھ آیا۔ سب نے پہلے تو شیدے کو حسب توفیق دو دو چار چار تھپڑ رسید کئے۔ پھر گھونسوں اور لاتوں کا دور چلا۔ دشنام طرازی ساتھ ساتھ چلتی رہی۔ پھر زمین پر چت پڑے شیدے کا سب نے خوب ٹھٹہ اڑایا۔ زخم مندمل ہونے میں مہینہ لگ گیا۔ اکتیسویں روز شیدے نے نیا جوڑا پہنا۔ ڈھیروں ڈھیر پرفیوم لگایا اور لیلیٰ سے جا کر حال دل کہہ دیا۔ لیلیٰ نے اپنے بھائیوں سے کہہ دیا۔ انہوں نے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ سے کہہ دیا۔ شیدے کو کالج سے نکال دیا گیا۔ اب شیدا کپڑوں کی ایک دکان پر روزانہ لڑکیوں کے سامنے تھانوں کے تھان کھول کر رکھتا ہے۔ اگر کوئی من چلی اپنے ساتھ کپڑا لگا کر اس سے پوچھ لے، ‘کیسی لگ رہی ہوں میں؟’ تو شیدا نظر جھکا کر کہتا ہے، ‘ماشاء اللہ باجی! اللہ پہننا نصیب کرے!’

نوے کی دہائی کے نصف اوّل میں طیب اردوان استنبول کے میئر بنے اور چند ہی سال میں اپنے کُوڑے، لٹیروں اور کرپشن کے سبب معروف یہ شہر ان تینوں شناختوں سے محروم ہو گیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے شہر دنیا کے بڑے سیاحتی مقامات میں سے ایک بن گیا۔ ترکی بھر میں اردوان کی دھوم مچ گئی۔ لوگوں نے پہلے انہیں اپنا وزیر اعظم اور پھر صدر بنا لیا۔ اردوان نے ترکی پر واجب الادا آئی ایم ایف کا تیئس اعشاریہ پانچ ارب ڈالر کا قرض زیرو کر کے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کو قرضہ دینے کی پیشکش کر دی۔ تعلیمی نظام میں اصلاحات کیں۔ سکولوں میں طالب علموں کی تعداد 65 ہزار سے بڑھ کر 8 لاکھ تک پہنچ گئی۔ ملکی یونیورسٹیوں کی تعداد 98 سے بڑھ کر 190 پر پہنچ گئی۔ اردوان نے ساری قوم کیلئے گرین کارڈ کا اجرا کیا جس کے تحت ہرشہری کو ملک کے ہر ہسپتال میں ہر وقت مفت علاج کی سہولت میسر آ گئی۔ 12 برس میں ہوائی اڈّوں کی تعداد 26 سے بڑھ کر 50 ہو گئی۔ ترکی کو صرف سیاحت سے حاصل ہونے والی سالانہ آمدن 20 ارب ڈالر پر پہنچ گئی۔ ان سب کے علاوہ اردوان کے عہد حکومت میں ملک بھر میں تعمیر کی جانے والی سڑکوں، نالیوں، پلوں اور دیگر عمارتوں وغیرہ کا حساب بھی بلاشبہ بہت طویل اور قابل قدر ہے۔ جولائی دو ہزار سولہ میں فوج نے طیب اردوان کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کی لیکن عوام نے از خود نوٹس لیتے ہوئے گھروں سے باہر نکل کر ٹینکوں کا راستہ روک دیا اور ان کا رخ موڑ دیا۔ اس سے پہلے کہ کوئی اردوان کو نکالتا اور انہیں نکالنے والوں سے استفسار کرنا پڑتا کہ ‘مجھے کیوں نکالا؟’ لوگوں نے آگے بڑھ کر نکالنے والوں کو نکال باہر کیا۔

مشرف ایک غاصب اور آمر تھا۔ بی بی، اکبر بگٹی اور شہدائے لال مسجد کے خون کا حساب ابھی اس کی طرف واجب الادا ہے۔ مگر اس کے دور میں جتنی یونیورسٹیاں بنیں اور جتنی یونیورسٹیوں کے نئے کیمپس بنے اور ہائر ایجوکیشن کے شعبے میں جتنی بہتری آئی، اتنی نواز شریف کے تمام ادوار میں ملا کر بھی نہیں آئی۔ پاکستان بھر کے سرکاری ہسپتالوں اور وہاں تڑپنے والے مریضوں کا حال بھی کسی سے پوشیدہ نہیں۔ گیارہ کروڑ کے پنجاب کیلئے امراض قلب کے تین اور نیورو سرجری کا صرف ایک سرکاری ہسپتال ہے۔ طب کے دیگر شعبوں میں بھی سرکاری ہسپتالوں کی حالت ناگفتہ بہ ہے۔ جاگیرداروں کے جبر تلے دبے بچوں، عورتوں اور مردوں، بے روزگار گھومتے نوجوانوں اور فاقوں سے مرتے بچوں اور علاج کے بغیر جوان اولاد کے ہاتھوں میں دم توڑتے والدین اور تھانے، کچہری اور بااثر افراد کی وحشت کا شکار ہوتے بے بسوں، مجبوروں اور لاچاروں اور لوگوں کے گھروں میں کام کرنے والی خواتین، نشہ کرنے والے مردوں اور سگنل سگنل بھیک مانگتے بے سمت فقیروں کوکئی دہائیوں سے نون لیگ کے زیرسایہ بسنے والے پنجاب کا اصل چہرہ دکھانے کی چند امثال کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ ورنہ سچ تو یہ ہے کہ ایک بدیسی مصنف کے بقول، ’تمام امیر گھروں کی کہانیاں ایک سی ہوتی ہیں مگر ہر غریب گھر کی کہانی مختلف ہوتی ہے’۔

بہرنوع نواز شریف سے لے کر احسن اقبال تک اسٹیبلشمنٹ کو آنکھیں دکھانے والے ہر مرد حُر سے التماس ہے کہ بھولی اور مجبور عوام آپ کی گاڑی کو چوم رہی ہے، اسے غنیمت سمجھیں۔ مگر یہ گمان ہرگز نہ کریں کہ وہ آپ کی خاطر ٹینکوں کے آگے لیٹنا بھی گوارا کر لے گی کیونکہ عمل اور ردعمل سمت میں مخالف مگر مقدار میں برابر ہوتے ہیں۔ آپ نے عوام کا جتنا خیال رکھا ہے، عوام بھی آپ کا اتناہی خیال رکھے گی۔ یا شاید اس سے کچھ زیادہ لیکن ایسا نہیں ہو سکتا کہ عوام آپ کی سردمہری کا جواب والہانہ محبت اور عقیدت سے دے۔ اس لئے گزارش ہے کہ بڑھکیں ضرور ماریں مگر للہ زمینی حقائق کا ادراک کریں اور عدالت اور اسٹیبلشمنٹ کو ضد مت دلائیں کیونکہ آپ کا رویہ شاید آپ کا اور آپ کے جانشینوں کا راستہ مزید لمبا اور مزید مشکل کر دے گا۔

حمزہ کے خواب آپ نے خود توڑ دیئے۔ اب مریم کے خواب وہ راستہ توڑ رہا ہے جس پر آپ نے اسے ڈال دیا ہے۔ اور پھر اس سے بھی زیادہ گھمبیر اور تشویشناک بات یہ ہے کہ جب آپ مشرف سے ڈیل کر کے سعودی عرب سدھارے تھے تو نون لیگ کی باگیں جاوید ہاشمی، چودھری نثار، خواجہ آصف، خواجہ سعد اور بیگم کلثوم نواز کے ہاتھوں میں تھیں لیکن کل جب اٹنشن کا کاشن مریم اور حمزہ کو وطن بدری کا حکم دے گا تو پھر نون لیگ کی قیادت کون سنبھالے گا؟ موٹو گینگ! غلطی ہو رہی ہے، میاں صاحب! غلطی پر غلطی ہو رہی ہے۔ شہباز شریف کی بات مان لیں، ‘غلط کام کرنے والے وزارت اور گاڑی کے لالچ والے وزیروں اور مشیروں’ سے ابھی بھی گلوخلاصی کروا لیں تو سکھی رہیں گے۔ ابھی صرف بیر گرے ہیں۔ خدانخواستہ دودھ گر گیا تو پھر کیا ہو گا؟ تھوڑے کو بہت جانیں اور تار کو خط سمجھیں۔

سلمان نثار شیخ لکھاری، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.