کراچی کے چاقو بردار کو بھی مین سٹریم کیا جائے

4 4,384

ان دنوں “مین سٹریمنگ” کی اصطلاح ہمارے بہاں بہت ریٹنگ کما رہی ہے۔ “بیانیہ” کی طرح اس لفظ کی بھی گردان کیے جانا سب میڈیئمز اور پلیٹ فارمز نے فرض ٹھہرا لیا ہے۔ بنیادی نکات اور مفہوم کی ضروریات سے فکری بددیانتی برتتے ہوئے نوکر کی تے نخرہ کی۔

اسلام آباد کے ڈی۔چوک میں نت نئی مغلظات کے ہمراہ اینٹی ائیرکرافٹ چپل میزائل کے شہرت یافتہ موجد ایک بلیک میلر جتھے کو کرین کا نشان الاٹ ہوا اور وہ نفرت انگیزی کو ہوا دیتے چھ فیصد ووٹ لے کر این۔اے 120 میں تیسرے نمبر کی “بڑی” قوت بن گیا۔ دوسری جانب “ملی مسلم لیگ” جس کے حوالے سے الیکشن کمیشن نے رجسٹریشن نہ ہونے کا عندیہ دیا تھا پانچ فیصد ووٹ لے کر چوتھے نمبر پر آنے والی جماعت بن گئی۔

میں این۔اے 120 میں تین ہفتے جو مشاہدہ کرتی رہی اس حوالے سے بیان کرنے کو بہت سے پہلو ہیں جن میں سے ایک ملی مسلم لیگ  اور تحریک لبیک پاکستان ہیں۔ لاہور کے اس ضمنی انتخاب کے نتائج ان حلقوں کے لیے حیران کُن ہیں جو زمینی حقائق سے دور رہ کر “تجزیہ کاری” کے پھنے خان کہلوانا پسند کرتے ہیں جبکہ یہی نتائج ان کے لیے ہیجان خیز ہیں جو گزشتہ سال ڈیڑھ سے مخصوص سمت میں ہوتی ہوئی ڈویلپمنٹ کو غیر اہم گردانتے صرف پانامہ پیپرز میں احتساب تلاش کرنے میں مصروف کر دیے گئے۔ لیکن پریشانی ہے تو ان حلقوں میں جو اس ملک کو ایک نئی انتہاپسندی کی جانب تیزی سے دھکیلے جانے کا واویلا کرنے پر مغلظات اور کفر کے فتووں سے نوازے جا رہے ہیں۔ بات لیکن مجھے ماضی بعید نہ سہی تو قریب سے شروع کرنا پڑے گی۔

مختلف ادوار میں کالعدم ہو کر پرانی بوتل پر نئے نام کا لیبل لگائے جہاد کے نام پر اس ملک کی نسلیں برباد کرنے والے ہمیشہ ہی دندناتے رہے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر پاکستان کی “نیک نامی” میں اپنا حصہ بھرپور انداز میں ڈالتے رہے ہیں۔ کون سا لشکر کِس سپاہ کی کوکھ سے نکلا اور کِس سپلنٹر گروپ کی جڑیں کہاں تک پھلی ہیں یہ کوئی ایسا قومی راز نہیں جس کے افشا ہونے کی گنجائش کہیں باقی بچی ہو۔ سوال تو یہ ہے کہ کچھ عرصہ قبل جو شخص جمہوریت کو اسلام کے منافی مانتا تھا اس کی نظربندی میں ایسا کیا فکری انقلاب برپا ہوگیا کہ این۔اے 120 میں سب سے زیادہ بینرز اور پینا فلیکسز پر وہی شخص ایک “آزاد امیدوار” کے لیے ووٹ کھینچنے کا مقناطیس بن گیا۔

ہمارے میڈیا نےاس ضمنی انتخاب کو صرف دو جماعتوں کا یُدھ بنا لیا اور سب سے بڑی اور مہنگی انتخابی مہم چلانے والوں کے منظم طریقہ کار کو مانیٹر کرنے کی فرصت کسی کے پاس نہ تھی۔ ان کے انتخابی خرچ، مہنگی گاڑیاں اور بینرز کی تعداد و لمبائیاں ماپنے کے کیلکولیٹرز کی بیٹریاں ختم ہو چکی تھیں۔ نسبت روڈ ہو، ابدالی چوک، پرانی انارکلی، اردو بازار یا بیڈن روڈ ہر گلی میں جماعت الدعوۃ کے کارکن مخصوص پیلی جیکٹیں پہنے اپنا انتخابی منشور تقسیم کرتے دکھائی دیتے رہے۔ این۔اے 120 میں گھومتے تیسرا روز تھا جب مجھے احساس ہوا کہ ن۔لیگ کا ووٹ مسلک کی بنیاد پر تقسیم کر دیا گیا ہے۔ نسبت روڈ کی وارڈ نمبر دو میں یہ شاید ساتواں گھر تھا جس کے رہائشی بتا رہے تھے کہ وہ کتنے کٹر پیروکار ہیں اور حافظ صاحب کا چہرہ دیکھتے ہی ووٹ کا فیصلہ کر چکے ہیں۔ سردار دیال سنگھ کی آباد کردہ اس سوسائٹی کے ہر گھر میں درجنوں مکین آباد ہیں۔ مشترکہ خاندانی نظام آج بھی یہاں اپنے رنگ سے آباد ہے جہاں ایک جانب تو گھر کے بزرگوں کی مانی جاتی ہے تو دوسری جانب ایسے گھر بھی ہیں کہ بزرگوں نے ووٹ کے معاملے میں کوئی قید نئی نسل کو نہیں دی۔

ٹیمپل روڈ پر غیر رجسٹرڈ ملی مسلم لیگ ریلی نکال کر نیلا گنبد کی جانب جلسے کی تیاری کر رہی تھی جب میں یہاں پہنچی۔ ایک دو تصاویر بنانے کی دیر تھی کہ اس کاروان کے منتظم خوشی سے سرشار پارٹی جھنڈے اٹھائے، پیلی جیکٹوں میں دمکتے چہروں کے ساتھ لپکے۔

ان لوگوں کا ماننا تھا کہ گلی محلے نے قاری یعقوب کا شعور اپنانا شروع کردیا ہے۔ یہ سن کر بہرحال ایک لمحے کو روح ضرور کانپی۔ اگرچہ اس روز تک اندازہ ہو چکا تھا کہ چار سے پانچ ہزار ووٹ یہ لوگ باآسانی نکال لیں گے۔

FIF

MML

این۔اے 120 کی انتخابی مہم کو قریب سے جانچنے پر اندازہ ہوا کہ ہمارے یہاں ہر سیاسی جماعت کِس طرح مسلکی گروہوں کو ساتھ لے کر چلنے کی ہر ممکن کوشش میں لگی رہتی ہے۔ یہاں ایک جانب تحریکِ انصاف نے کسی کو ساتھ مِلایا اور مذہب کیا ہسپتال کے نام پر بھی ووٹ مانگا۔

PTI SKMH

دوسری جانب پاکستان مسلم لیگ (نواز) بھی پیچھے نہیں رہی۔ کہیں ان کی ایک ریلی میں کچھ پلے کارڈز اٹھائے آٹھ دس لوگ گھمائے گئے تو کبھی ساجد میر جیسوں کے ذریعے وفود سے ملاقات کی گئی۔ جی، وہی ساجد میر جنہوں نے آرمی چیف کے عقیدے بارے نفرت انگیز مواد کی اشاعت کے باوجود کسی قسم کی تادیبی کاروائی نہیں دیکھی۔

Nawaz-AhleHadith

تحریکِ لبیک پاکستان اچانک سیاسی افق پر طلوع نہیں ہو گئی۔ قسط وار مختلف مرحلوں میں لانچ ہوئی ہے۔ گزشتہ برس لاہور شہر میں مقتول گورنر پنجاب سلمان تاثیر کی برسی کے روز ریاستی رِٹ چیلنج ہوئی۔ مارچ 2016 میں شہرِ اقتدار کے ڈی۔چوک نے چار روزہ تماشہ دیکھا جس میں اس وقت کے آرمی چیف اور وزیرِاعظم کو موت کی دھمکیاں دی گئیں۔ منبر پر بیٹھے ملا کو غلیظ ترین زبان کے ساتھ “ناموسِ رسالت” کی حفاظت کرتے دیکھا گیا۔ ایک قاتل کی گلوریفیکیشن کرتے اس جیسے مزید نمونے تیار کرنے کی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا گیا۔ بدلے میں “بےبس و لاچار ریاست” نے بظاہر کاغذی معاہدے کا لالی پاپ تھمائے واپسی کا پرامن راستہ دے دیا۔ یوں پنجابی والا جھاکا اترنے کی رسم ادا ہوئی۔ جس کے بعد سوشل میڈیا پر اسی ٹولے کے بڑوں کی زبانیں زہر اگلتی رہیں۔ وزارتِ داخلہ خاموش تماشائی بنی رہی۔ اور یوں ایک قاتل کو خراج تحسین پیش کرتی جماعت کا سیاسی استعمال شروع ہوا۔ میں نے اس کا باقاعدہ بینر زدہ کام اگست میں کالج روڈ اور یتیم خانہ چوک میں دیکھا۔ جو کہ واضح نشانی تھی کہ این۔اے 120 سے کام کی تیاری شروع ہو چکی ہے۔

Khadim-Hussain

ووٹ مانگنے کا ایسا طریقہ ہماری ریاست نے روکا نہیں۔ بلکہ عوام کے دِلوں میں قتل کو جسٹیفائے کرنے کے دَر کھول دینے پر خاموشی اختیار کی گئی۔ کہاں کی مین سٹریمنگ؟

Tehree-e-Labbaik-Ya-Rasool-Allah

Labbaik-Ya-Rasool-Allah

مجھے مریم نواز کی ایک ریلی میں حواس باختہ نوجوان ملا جو کہہ رہا تھا ” انہوں نے قادری کو مارا ہے۔۔۔” جب اس کے سامنے اپنا سیل فون کیا کہ تاثرات ریکارڈ کرواؤ تو بھاگ گیا۔ ایسا تجربہ ہر دفعہ ہوا جب بھی اس جماعت کا سپورٹر “قتال و جہاد” پر لیکچر دیتے ملا۔ آپ مین سٹریمنگ کِس کو کہتے ہیں، مجھے یہ جاننے میں اب دلچسپی ہی نہیں رہی کیونکہ تین ہفتے لاہور کی گلیوں بازاروں میں بڑی سکرینوں اور لاؤڈ سپیکرز پر شرانگیز پیغامات چلائے جاتے رہے اور اس حوالے سے ہوئی قانون سازی کا منہ چڑھایا جاتا رہا۔ کفر کے فتوے تو کیا 21 اپریل کی چھٹی ختم ہونے تک پر حرام اور جہنم کے فیصلے صادر ہوتے رہے۔

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ گورنر پنجاب کے قاتل کو مِلی آئینی و قانونی سزا کا سارا “ملبہ” حکومتِ وقت پر ڈالتے ہوئے اپوزیشن جماعت بھی شرانگیزی میں پیچھے نہیں رہی۔ این۔اے 120 میں ایسے بینرز بھی دکھائی دیے جو نیشنل ایکشن پلان کے منتظر لٹکے ہی رہ گئے۔

PTI-MumtazQadri

مین سٹریم کرنے سے قبل منیر کمیشن رپورٹ کا جائزہ ہی لے لیا جاتا۔ صحت مند سوچ اور معاشرے میں برداشت کے فروغ پر ذہن سازی کون کرے گا؟ ان لوگوں کے سوشل میڈیا پیجز کا ہی ایک چکر لگا لیجیے تو طبیعت نکھر جائے گی۔ جب کوئی اپنی غلطی تسلیم ہی نہیں کررہا اور “زندگی کا نیا رُخ” بھی انتہاء پسندی پر ہی قائم کرنے میں لگے ہوں تو کیسی مین سٹریمنگ؟ ایک جانب ہمارا وزیرِ خارجہ دنیا میں انہیں بوجھ مان رہا ہے اور وقت مانگ رہا ہے جبکہ دوسری جانب تشدد یا نفرت انگیزی میں ملوث عناصر کو بغیر کسی ٹرائل، بِنا ٹیکنیکل ٹریننگ یا متبادل روزگار براہِ راست بیلٹ پیپر تک پہنچا دینا کینسر کا علاج بخار کی دوا سے کرنے والا حساب ہے۔ گزشتہ برس اپریل میں “دارالقضاء شریعہ” کی خبر سامنے آئی تو بہت سوں کو پہلی بار علم ہوا کہ اس قسم کی “متوازی عدالت” نوے کی دہائی سے موجود ہے لیکن ریاست اس کو پنچائیت یا ثالثی کا نام دے کر نیواں داؤ لگا گئی۔ کہنے والے مجبور ہیں کہ یہ تو سیدھا معاملہ ہے اثاثوں کے پرتشدد نظریے کی مین سٹریمنگ اور انہیں عوامی قبولیت کی راہ سجھانے کا۔ ریاستی آئین اور اس کے جمہوری نظام میں رچ بسنے کے واسطے ایک مکمل پراسیس ہے جس کو یکسر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ ہم تو یہ بھی یاد نہیں کرنا چاہتے کہ وزیرستان میں ہوئے “امن معاہدوں” اور ان کے توڑے جانے کی بلیک میلنگ کب اور کتنی دفعہ ہوئی۔

وزارتِ داخلہ و خارجہ کے واضح مؤقف کا منہ چڑھانے کو این۔اے 4 کے ضمنی انتخاب کے لیے بھی کالعدم جماعت کے انتخابی دفتر کا افتتاح ہو چکا ہے۔ اب تو فضل الرحمان خلیل نے بھی اعلان کر دیا ہے سیاسی میدان میں گھسنے کا۔۔ ہمارے ایک دوست کی رائے ہے کہ کراچی میں “چھرا مار گروپ” کو جلد منظرِعام پر لا کر ان کی بھی سیاسی جماعت بنوا کر مین سٹریمنگ کر دی جائے تو کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ مین سٹریمنگ ‘across the board’ نہیں ہوئی۔

افشاں مصعب زندگی پر لکھنا پسندکرتی ہیں – سیاست ، سماجیات اور نفسیات ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں – متعدد بلاگ پیجز پر ان کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں – افشاں اسلام آباد میں مقیم ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. Husain کہتے ہیں

    یہ گروپس کچھ نہیں کریں گے. نہ الیکشن میں ان کو چند ایک سے زیادہ ووٹ ملیں گے. لیکن شاید یہ مین سٹریم جماتوں کا ووٹ اس حد تک متاثر کریں کہ یہ جمہوری نظام میں ایک اسٹیک ہولڈر بن جائیں. جس کی بھی حکومت ہوگی اس کو ان کو خوش رکھنا پڑے گا. یہ سیاسی طور پر طاقتور ہوتے جائیں گے اور ایک دن وہ دن آے گا جب ضیاء سے زیادہ راحیل اور قمر کو بد دعائیں دی جارہی ہونگی

  2. Sanaullah Zaheer کہتے ہیں

    یہ کہ اس تحریر کے مطالعہ سے یوں لگا جیسے ان کا نام مصعب غلط ٹائپ ہو گیا ہے۔ یہ تو کسی متعصب شخص کی تحریر ہے۔ جسے حالات کا منصفانہ جائزہ لینے کی توفیق نہیں یا اس میں یہ صلاحیت ہی نہیں

  3. Sharey کہتے ہیں

    There should be freedom in country write any thing against anyone, drink freely, rape the women, bribery should be allowed, corruption and making big Villas any where, kill any body, all these are ok, as its freedom. But when u abuse some one due to religious issue that is the biggest SIN.

    I think we should salute you for such openness.

    1. ذیشان ککے زئی کہتے ہیں

      یاد نہیں آ رہا آخری دفعہ اتنا بکواس کمنٹ کب پڑھا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.