کہیں کوئی حادثہ نہ ہو جائے

0 6,365

میرا اندازہ یہی تھا کہ برکس اعلامیہ پاکستان مخالفوں کیلئے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا کے مصداق ہے۔ خاص کر ہمارا ہمسایہ بھارت اور امریکی تن خفتہ میں رینگنے والی شیطانی روحیں اب پاکستان کے خلاف جارحانہ قدم اٹھانے میں دیر نہیں کریں گی۔ اس لئے کہ چین پہلی بار پاکستان کے خلاف بھارت کا ہمنوا ہوا ہے۔

بھارت ستر سال سے پاکستان کے خلاف جو نہ کروا سکا وہ ہماری بے باک خواہشوں نے ایک جھٹکے میں کروا دیا۔ لطف یہ ہے کہ ہم اس حقیقت کو ماننے کے بجائے اس کی اور اور تاویلیں کر رہے ہیں۔ ایسے ہی جیسے ہم کہتے تھے کہ چین پاکستان میں سرمایہ کاری نہیں کر رہا۔ یہ نعرہ لگا کر ہم نے چھ ماہ تک اس سرمایہ کاری کی راہ روکے رکھی جو پاکستان کی خوشحالی اور استحکام کی ایسی ضمانت تھی جس نے دشمنوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں اور اب ان کی سرتوڑ کوشش ہے کہ یہ منصوبے تکمیل آشنا نہ ہوں۔ اگر دشمن کو اس مقصد کے لئے جنگ کرنا پڑی تو وہ گریز نہیں کرے گا۔ دشمن کو اس کے اس حق سے کوئی نہیں روک سکتا کہ وہ اپنے دشمن کو نقصان پہنچائے اور بات جب پاکستان کے خلاف ہو تو بہت سے ممالک اس میں مذہبی فریضہ سمجھ کر شامل ہوں گے۔ دکھ اس بات کا نہیں کہ دشمن نے پاکستان کو مشکلات میں گھرے دیکھ کر پرانے دکھ نکالنے کا فیصلہ کیا۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کے داخلی حالات بھی ان کی منشاء کے عین مطابق بنا دیئے ہیں کہ وہ تالیاں بجا رہے ہیں کہ پاکستان پر یلغار کا وقت آ گیا۔

اوپر نیچے رونما ہونے والے واقعات کو اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہئے۔ ویسے کہاوت یہ ہے کہ ہنود اور یہود آنے والے واقعات کا ادراک کر کے بہت پہلے پیش بندی کر لیتے ہیں۔ مسلمان کے سر پر پڑتی ہے تو ردعمل ظاہر کرتا ہے اور سکھ سر پر پڑنے کے بعد پوچھتا ہے کہ کیا ہوا؟ مگر اب تو ہمارا بھی یہ حال ہے کہ سر پر دھڑا دھڑ پڑ رہی ہیں۔ اب ہمیں دشمن کو ‘بھرپور جواب’ دینے سے آگے سوچنا ہو گا کہ دشمن ہم سے بار بار چھیڑ چھاڑ کیوں کر رہا ہے اور اس کو اس حرکت سے کیسے باز رکھا جائے؟ خیال ہے کہ اگر ہم نے سختی سے جواب دیا تو بھارت جو جنگ کا بہانہ ڈھونڈ رہا ہے جنگ چھیڑ دے گا۔ یہ خام خیالی ہے کہ بھارت یا امریکہ کو جنگ چھیڑنے کے لئے کسی ٹھوس بہانے کی ضرورت ہے۔ ہمارے دشمنوں کو مصنوعی بہانے پیدا کرنے میں مہارت حاصل ہے۔ جب بھی انہوں نے حملے کا فیصلہ کر لیا، وہ کوئی نامعقول بہانہ گھڑ کر دنیا کو شور مچا مچا کر یقین دلانا خوب جانتے ہیں۔ کشمیریوں کا شکار کھیلنے کی تو سات لاکھ بھارتی فوجیوں کو کھلی چھٹی ہے۔ مگر کیا آزاد پاکستان کے شہریوں کی زندگیاں بھی اتنی کم قیمت ہیں کہ دشمن جب چاہے انہیں نشانہ بنا دے؟ روز کہیں حملہ اور فائرنگ، روز کہیں گولہ باری۔

بھارت نے رخ چکری اور راولا کوٹ میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا جس سے ایک خاتون سمیت دو شہری شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔ شہریوں کو انخلاء میں مدد دینے کے دوران آرمی پٹرولنگ ٹیم کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں نائب صوبیدار ندیم شہید ہو گیا اور تین فوجی زخمی ہوئے۔ پچھلے تین ہفتوں سے بھارت کی طرف سے پاکستان کی شہری آبادیوں پر مسلسل گولہ باری میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ اس کے ساتھ اس نے ایک قدم اور آگے بڑھایا ہے۔ وہ یہ کہ بھارت نے ایٹمی ہتھیار چلانے کی صلاحیت رکھنے والے فوجی ڈویژن کو پہلی بار کنٹرول لائن پر بجھوا دیا ہے۔ یہ لڑائی کے ارادے سے ہے یا محض دھمکی ہے، لڑائی ہے تو کس کے بل بوتے پر؟ اور دھمکی ہے تو کس پس منظر میں؟ کیا پاکستان کے اندرونی حالات دشمن کو جارحیت کے لئے سازگار دکھائی دے رہے ہیں؟ اس بات کا اندازہ اس خبر سے لگائیے:

‘امریکہ کی بھارت اور افغانستان سے پاکستان کو چھیڑ چھاڑ کرانے کی سازش نا کام’، امریکہ پاکستان کے ۵۳ مقامات پر بھارت سے سرجیکل سٹرائیک کرانا چاہتا تھا۔ سرجیکل سٹرائیک کے ساتھ یہ تاثر دیا جانا تھا کہ پاکستان کے ایٹمی اثاثے محفوظ نہیں۔ اس کے بعد ایک منصوبے کے تحت چار ہزار امریکی کمانڈوز کے ذریعے ایکشن کرایا جانا تھا جن کو پاکستان کی ایٹمی تنصیبات پر قبضہ کرنے کے لئے تیار کیا گیا ہے۔ امریکی تجزیہ کار جیمز سٹیورٹس نے تجویز دی تھی کہ پاکستان کے خلاف ان چار ہزار امریکی کمانڈوز کو حرکت میں لانے کا وقت آ گیا ہے۔ ایک دوسری سازش بھی کی جا رہی تھی کہ پاکستان اور ایران کے تعلقات اس قدر خراب کرا دیئے جائیں کہ ایران پاکستان کے خلاف وہی سب کچھ کرنا شروع کر دے جو افغانستان طورخم سرحد پر کر رہا ہے۔ (روز نامہ ۲۹ نیوز لاہور)

ان الفاظ میں چھپی سازش پر غور کریں۔’پاکستان کے خلاف ان چار ہزار امریکی کمانڈوز کو حرکت میں لانے کا وقت آ گیا ہے’۔ گویا تیاری بہت پہلے کی ہے، بس وقت کا انتظار تھا۔ کیا ہم ایک زندہ و متحد قوم کی طرح یہ سوچیں گے کہ آخر ایسا ہم سے کیا ہو گیا جو ہمارا دشمن آج ہمیں اتنا آسان لے رہا ہے؟ ہماری بہادر فوج آج بھی دفاع وطن کے لئے سر بکف تیار ہے، اپنے جانبازوں سپاہیوں سے بے حساب محبت کرنے والے عوام آج بھی وہی ہیں جو پینسٹھ کی جنگ میں دشمن کی طرف سے برستی گولیوں کی پروا کئے بغیر اپنے سروں اور پیٹھوں پر بسکٹ، چنے، خشک دودھ اور چائے کے پیکٹ اٹھائے مورچوں کی طرف بھاگ نکلے تھے۔ ان کے کان میں اتنی سی بھنک پڑی تھی کہ جنگ کے دوران سپاہیوں کو راشن کی کمی کے سبب چنوں اور بسکٹ پر گزارا کرنا پڑتا ہے۔ پھر کیا تھا، لاہور سے خشک راشن سروں پر لادے انسانوں کا سیلاب تھا جو مورچوں کی طرف ٹھاٹھیں مارتا جا رہا تھا۔

میرے خیال میں اس وقت دشمن جس بنیاد پر پنکھ پسار رہا ہے، اس میں ایک تو یہ ہے کہ کچھ خواہش پرستوں نے اپنے مفاد کے لئے ملک کے اہم اداروں فوج اور عدلیہ کو حکومت اور عوام کے مقابل لا کھڑاکیا ہے۔ دوسرے ہمارے مخلص اور آزمودہ دوست چین نے برکس اعلامیہ میں پاکستان کے خلاف بھارت کی ہاں میں ہاں ملائی ہے۔ یہ بات ہم ہی نہیں پوری دنیا جانتی ہے کہ افغانستان کا میلہ پاکستان کا ایٹمی کمبل چرانے کے لئے لگایا گیا ہے۔ اس حقیقت کو لمحہ بھر کے لئے بھی نظرانداز کرنا وطن دشمنی کے مترادف ہو گا۔ پاکستان سے محبت کرنے والوں پر لازم ہے کہ چین کے دل کی بات معلوم کریں۔ جو لوگ اس کا سبب ہوئے ہیں، ان کو سمجھائیں کہ اس ملک پر رحم کرو۔ اداروں کا حکومت اور عوام سے ٹکراؤ کرانے والوں سے گزارش کریں کہ اس ملک پر رحم کریں۔ سقوط ڈھاکہ کے وقت کسی نے کہا تھا کہ پاکستان ہم پر عظیم قائد کا عظیم احسان ہے تو ایک دل جلے نے جواب دیا کہ آدھا تو اتار دیا ہے، باقی آدھا بھی (خدا نہ کرے) اتار دیں گے۔ کیا خدانخواستہ ہم یہ باقی آدھا قرض بھی۔۔۔؟ کسی کو یقین نہیں تھا کہ دشمن مشرقی بازو کو کاٹ کر الگ کر دے گا۔ جب مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج نے عوامی لیگ کے خلاف ایکشن لیا تو جلی سرخیوں سے ایک خبر چھپی، ‘شکر ہے پاکستان بچ گیا’۔ آج بھی کچھ لوگ قوم کو بیرونی دشمن کے بارے میں سوچنے کی فرصت دینے کے بجائے اندرونی معاملات میں الجھائے ہوئے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم ملک کو کرپشن سے پاک کر کے چھوڑیں گے۔

مشرف دور میں کسی بدزبان نے ایک پیشین گوئی کی تھی کہ 2014ء تک پاکستان دنیا کے نقشے پر نہیں ہو گا۔ شاید کچھ لوگ اس پیشین گوئی کو مذاق سمجھ کر بھول گئے ہوں مگر اسے بہت سنجیدہ لینے کی ضرورت ہے۔ یہ ایسی ہی پیشین گوئی ہے جیسی شیخ رشید نے اس حکومت کے خلاف کی تھی کہ عید سے پہلے حکومت کی قر بانی ہو جائیگی۔ ایسی پیشین گوئیاں سازشوں کی کوکھ سے جنم لیتی ہیں اور وہ قومیں ہماری طرح نہیں کہ آنے والی حکومت چھ لین کی موٹر وے کو چار لین کر دے یا ایک ڈکٹیٹر ہماری طاقت اور عظمت کے نشان چاغی پہاڑ کے ماڈل اور شاہین اور غوری میزائلوں کے ماڈلوں کو اس لئے اکھاڑ کر پھینک دے کہ وہ قوم کو نواز شریف کی یاد دلاتے ہیں۔

اس وقت قوم مضطرب بھی ہے اور بے یقینی کا شکار بھی۔ دشمن کے لئے کسی قوم کی یہ کیفیت سنہری موقع کی طرح ہوتی ہے۔ جس ملک کے وزیر داخلہ کو اس کا ماتحت ایک سپاہی نیب کی عدالت میں جانے سے روک دے، اس قوم کے ایک عام آدمی کے اعتماد کی حالت کیا ہو گی؟ کیا کچھ لوگ دانستہ یا نادانستہ ملک میں خانہ جنگی کی صورتحال پیدا کرنے کے لئے سر توڑ کوشش نہیں کر رہے؟ کیا ان سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ یہ دشمن کو خوش کرنے والی حرکت وہ کیوں کر رہے ہیں؟ یہ قوم کو متحد کرنے کا وقت ہے، انتشار پیدا کرنے کا نہیں۔

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.