ختم نبوت کا معاملہ اور گیدڑ کی شہر کی طرف دوڑ

2 3,670

کہتے ہیں “جب گیدڑ کی موت آتی ہے تو وہ شہر کی طرف بھاگتا ہے”

انتخابی اصلاحات بِل پر ختمِ نبوت کے اقرار نامے میں ختمِ نبوت کے قانون پر جس طرح شب خون مارنے کے کوشش کی گئی یہ اس کی واضح مثال ہے۔

جب گیدڑ کے دن پورے ہو جاتے ہیں تو وہ شہر کی جانب اس لیے دوڑتا ہے کہ موت برحق ہے اور موت خود اسے بہانے سے جنگل سے شہر کی جانب گھسیٹ کے لاتی ہے، جہاں لوگ اسے اینٹیں، ڈنڈے اور پتھر مار مار کر کتے کی موت مار دیتے ہیں جبکہ اس معاملے میں تو گیدڑ بمعہ اہل و عیال، عزیز و اقارب شہر میں منتقل ہو گیا ہے۔

مجھے دُکھ اپنے پارلیمنٹیرینز یا سینیٹرز پر نہیں بلکہ اپنی سادہ لوح عوام پر ہوتا ہے کہ جب وہ کسی قانون یا بِل کے پاس ہونے یا پاس نہ ہونے پر اپنا غصہ ان بے چاروں پر نکال رہی ہوتی ہے جن کا خاندانی طور پر بھی مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔

پاکستان میں سب سے مضبوط کاروبار سیاست ہے اور کسی بھی کاروبار کا مقصد صرف پیسہ بنانا ہوتا ہے نہ کہ خدمت، اور سیاسی کاروباری حضرات کا دین، ایمان اور خدا صرف پیسہ ہوتا ہے، جس میں ان کے لیے نبی ﷺ کی ذات بہت پیچھے رہ جاتی ہے (نعوذبااللہ)۔ جب ہم کوئی غیر ملکی ایجنٹ یا جاسوس پکڑتے ہیں تو سب سے پہلے اس سے کلمہ، نبی ﷺ کا نام، احادیث، نمازوں کے نام اور قرآنی آیات یا سورتیں سنتے ہیں (ہمارے چینلز کی آرکائیوز میں اس کے درجنوں ثبوت موجود ہیں) لیکن ہمارے ہی پارلیمینٹ میں، ہمارا ہی کوئی نجات دہندہ وہی غلطی دہراتا ہے جو غیر ملکی پکڑا جانے والا جاسوس سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کرتا ہے تو آپ کیا کہیں گے اور اس کی غلطی کو کس کھاتے میں ڈالیں گے؟ (یہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں)

جو پارلیمینٹیرینز کلمہ اور سورت اخلاص ٹھیک نہ سنا سکیں، ان سے اس بات کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ اقرارِ ختم نبوت کو اپنا ایمان سمجھ لیں؟ سنتے ہیں کہ ایک سینیٹر ملک کا دماغ ہوتا ہے، زمانے کی نبض پر اس کی گہری اور بڑی مضبوط پکڑ ہوتی ہے، جو ایک ہی وقت میں مختلف شعبوں میں مشاورت کے ساتھ ساتھ اپنے کسی ایک شعبہ میں ماہر ترین ہوتا ہے۔ اگر وہی سینیٹر صرف اتنی سی بات کو سمجھنے سے قاصر ہو کہ نبی اکرم حضرت محمد ﷺ کو اگر اللہ کا آخری نبی نہ مانا جائے تو ایک مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، مسلمان ہونے کی انتہائی بنیادی عقائد میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ نبی پاک حضرت محمد ﷺ کو اللہ کا آخری رسول مانا جائے یعنی آپ ﷺ کے بعد نہ کوئی نبی آیا تھا اور نہ ہی قیامت تک کوئی نبی یا رسول آئے گا، تو وہ سینیٹر باقی مشکل معاملات کی پیچیدہ گتھیوں کو کیسے سلجھائے گا جس میں ملک و قوم کا حقیقی مستقبل پنہاں ہو؟

یہ معاملہ اتنا آسان اور سادہ نہیں تھا جتنا پیش کیا گیا۔ گزشتہ دنوں سپیکر قومی اسمبلی اس کو کتابت کی غلطی کہہ کر سائیڈ پر ہو گئے۔ عقیدہ ختم نبوت کے حلف نامہ کو اقرار نامہ میں بڑی سادگی سے تبدیل کیا گیا۔ اس کی حساسیت کو ایک چھوٹا سا قانون کا طالب علم بھی جانتا ہے کہ عدالتی معاملات میں مسلمان حلف نامہ جبکہ غیر مسلم اقرار نامہ دیتے ہیں۔ بالفرض حلف نامہ اور اقرار نامہ ایک ہی ہیں، تو پھر پہلے سے موجود حلف نامہ کو اقرار نامہ یعنی ‘میں قسم کھاتا ہوں’ کو ‘میں اقرار کرتا ہوں’ میں کیوں تبدیل کیا گیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ قسمیہ اقرار کے بعد اگر کوئی امیدوار ختم نبوت ﷺ کا انکار کرتا ہے تو اسے 62 اور 63 کے قانون کے تحت نا اہل کیا جا سکتا تھا، جبکہ اب قسمیہ اقرار کے الفاظ ختم ہونے سے اگر کوئی ختم نبوت کے قانون سے مُکر بھی جائے تو اس کے خلاف کوئی قانونی کاروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی۔

وزیر قانون زاہد حامد صاحب فرماتے ہیں “یہ حکومتی نہیں بلکہ پارلمیانی کمیٹی کی رپورٹ پر مبنی بل تھا۔ تمام جماعتوں نے اس مسئلے کو محسوس کیا کہ ہمیں اس نکتے کو چھیڑنا ہی نہیں چاہیے تھا”۔ سوال یہ ہے کہ وہ کلمہ جِس کی بنیاد پر ہجوم ایک قوم بن جائے اور جس کی بنیاد پر علیحدہ وطن حاصل کیا جائے، اُس ایمان و عقیدے میں خلل ڈالنے کا سوچا بھی کیسے جا سکتا ہے؟

اگر یہ اقرارِ ختم نبوت ﷺ کا حلف نامہ اپنی جگہ پر واپس برقرار نہ کیا جاتا تو چند دنوں میں دنیا دیکھ لیتی کہ کیسے وزاتوں پر وزیر اور سفارتوں پر سفیر قائم رہتے اور کیسے پارلیمینٹ اور سینیٹ میں معززین کی عزت سلامت رہتی ہے۔ جو قوم حکومتِ وقت کے آگے اپنا سب کچھ گنوا چکی ہو اور جس قوم کی عزت نفس بھی سلامت نہ رہی ہو پھر وہی حکومت عوام سے ان کی آخری چیز ایمان بھی چھیننا چاہے تو عوام اپنا حق چھیننا بھی جانتی ہے اور بدلہ لینا بھی۔ ایک بات تو روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی کہ آنے والی قومیں تاریخ کی کتابوں میں پڑھیں گی کہ ایک ملک ایسا بھی ہے جس کے دماغوں نے پارلیمینٹ میں بیٹھ کر اسی قانون میں رخنہ ڈالنے کی کوشش کی جس کی بنیاد پر وہ ملک معرضِ وجود میں آیا تھا۔

بات صرف اتنی سی ہے کہ سات لاکھ چھیانوے ہزار چھیانوے مربع کلومیٹر کے اندر سوئی قوم کے ایمان کا درجہ حرارت انتخابی اصلاحات بِل کا تھرمامیٹر لگا کر چیک کیا گیا، لیکن وہ سمجھداراور زمانہ شناس لوگ شاید یہ بات نہیں جانتے تھے کہ یہ سوئی ہوئی قوم شاید اللہ کے نام پر تو کبھی اکٹھی نہ ہو پر نبی ﷺ کے نام، حرمت اور ناموس کے لیے ایک نچلے درجے کا ادنیٰ مسلمان بھی گردن کٹانے کے جذبے سے سرشار رہتا ہے۔ (الحمد للہ)

نوٹ: پاکستان کے فیصلہ سازوں اور قانون سازوں میں کون کون سا گھرانہ اور کس کس کے گھر والے منکر عقیدہ ختمِ نبوت ہیں، آئندہ تحریر میں۔

کامران خان انسان دوست تحریک کا نام۔ لکھنے لکھانے کا شوق انہیں ہجوم میں نمایاں کرتا ہے۔ کچھ کر گزرنے کی جستجو یہ اپنے چارسو دیکھنا چاہتے ہیں۔ جامعہ پنجاب کے شعبہ ابلاغیات اور تعلقات عامہ کے گریجویٹ۔ منصوبہ سازی ان کا طرہ امتیاز اور تحریروں میں نفسیات کے مختلف پہلو نظر آتے ہیں۔ ۔صحافت کی نسبت سے ایک بڑے ادارے سے منسلک ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. محمد آصف کہتے ہیں

    انتہائی احمقانہ دلیلیں دی ہیں۔ مذہب کی بنیادپر نہیں بلکہ اسمبلی کا رکن پاکستانی شہری ہونے کی بنیاد پر بنتا ہے۔ وہ ہندو سکھ عیسائی احمدی کوئی بھی ہوسکتا ہے۔ اس کی رکنیت کیوں خارج کی جائے؟ مسلمان ممبر اسمبلی خواہ حلف اٹھائے یا اقرار کرے اس سے کیا فرق پڑتا ہے۔پتہ نہیں آپ کس جامعہ کے پڑھے ہیں لوگوں کو خون خرابے پر اکسا رہے ہیں ۔ بقول شخصے کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے

  2. Anonymous کہتے ہیں

    Agree with the earlier comment

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.