سیاستدانوں کے کچھ مضحکہ خیز بیانات

16,645

ہمارے سیاستدان سیاست کو بیان بازی ہی سمجھ بیٹھے ہیں۔ روز ہی اخبارات اور ٹی وی چینلز ان کے مختلف قسم کے بیانات سے بھرے ہوتے ہیں۔ کبھی کبھی ان کے منہ سے ایسے بیان بھی نکل جاتے ہیں جن پر عوام ہنس ہنس کر لوٹ پوٹ ہو جاتی ہے۔ آئیے ایسے ہی کچھ بیانات آپ بھی پڑھیں۔

مجھے کیوں نکالا؟ نواز شریف

اگر سیاستدانوں کے مضحکہ خیز بیانات کی فہرست بنائی جائے تو سابق وزیرِ اعظم میاں نواز شریف کا یہ جملہ سرِ فہرست ہوگا۔ جولائی 2017 میں نواز شریف کو پاناما کیس کے فیصلے کے بعد وزارتِ عظمیٰ کے منصب سے ہٹا دیا گیا تھا۔ اس کے بعد نواز شریف نے مری سے لاہور اپنے گھر واپس جاتے ہوئے مختلف شہروں میں جلسے کئے۔ ہر جلسے میں وہ یہ سوال بار بار پوچھتے رہے۔ مجھے کیوں نکالا؟ مجھے کیوں نکالا؟ ان کا یہ سوال سوشل میڈیا پر وائرل ہو گیا اور اس پر کئی مضحکہ خیز تصاویر اور ویڈیوز بنیں۔

جعلی ہو یا اصلی، ڈگری ڈگری ہوتی ہے: وزیرِ اعلیٰ بلوچستان اسلم رئیسانی

ایک اصلی ڈگری حاصل کرنے کے لئے کتنی محنت کرنی پڑتی ہے یہ تو کسی بھی یونیورسٹٰی کے طالب علم سے پوچھا جا سکتا ہے مگر ایک جعلی ڈگری حاصل کرنے کے لئے کیا کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں یہ ہمارے سیاستدانوں سے بہتر کون بتا سکتا ہے؟

ہمارے امیدواروں کے مقابلے میں امیدوار کھڑے کرنا گناہ ہوگا: مولانا فضل الرحمٰن

جے یو آئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن نے لکی مروت میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے یہ فتویٰ جاری کیا تھا۔ مولانا بہت خوب۔ سیاست میں اپنا فائدہ کیسے اٹھانا ہے یہ توکوئی آپ سے سیکھے۔

Fazl

ہر ایک کو کرپشن کرنے کا برابر کا حق ہے: عبد القیوم جتوئی

گو عبد القیوم جتوئی کے اس بیان کو کافی سال گزر چکے ہیں مگر اسے بھلانا زیادتی ہوگا۔ 2010 میں کوئٹہ میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے یہ مضحکہ خیز مگر حقیقت کے قریب ترین بیان دیا تھا۔ شائد اسی بیان کو دھیان میں رکھتے ہوئے ہر بندہ اپنے اپنے دائرے میں خوب کرپشن کرتا ہے۔

پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر پلے بوائے ٹائپ انسان ہے: فرید پراچہ

اسلامی جمعیت کے نائب امیر فرید پراچہ نے پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر مجاہد کامران کے لبرل خیالات سے متعلق یہ جملہ کہا تھا۔ اب پتہ نہیں فرید پراچہ کا اس بیان کے پیچھے کیا مقصد تھا مگر اس کی وجہ سے ان پر بہت تنقید کی گئی تھی۔

کل جب میں نےخواجہ عمران نذیر سے لفٹ مانگی تو وہ اپنی گاڑی میں ایک انڈین گانا “منی بدنام” سن رہے تھے: حسن مرتضیٰ

منی تو پتہ نہیں کیوں بدنام ہوئی تھی مگر حسن مرتضیٰ نے پنجاب اسمبلی کے ایک اجلاس میں خواجہ عمران نذیر کو ایک انڈین گانا سننے کی پاداش میں بدنام کر ڈالا تھا۔ اس الزام کے جواب میں خواجہ صاحب نے حسن مرتضیٰ کوجھوٹا کہتے ہوئے اس الزام کی تردید کی تھی۔

تبدیلی آ نہیں رہی، تبدیلی آ گئی ہے: عمران خان

عمران خان نے الیکشن 2013 میں ہوئی دھاندھلی کے خلاف دھرنے میں یہ جملہ کئی بار بولا۔ اس کے بعد اس جملے کو ہر جگہ استعمال کیا گیا۔ مشہور سوشل میڈیا ایپ ڈبسمیش پر لوگوں نے اس جملے کو استعمال کرتے ہوئے خوب ویڈیوز بنائیں۔ آج بھی اکثر ہی سوشل میڈیا پراس بیان سے متعلقہ مزاحیہ مواد دکھائی دیتا ہے۔

ایان علی کو گرفتار نہ کیا جاتا تو وہ فریال تالپور کی بھابھی بن جاتی: ذوالفقار مرزا

ذوالفقار مرزا نے یہ بیان ایک نجی ٹیلی وژن چینل کے ایک ٹاک شو میں اینکر پرسن کے کسی سوال کا جواب دیتے ہوئے دیا۔ ایان علی فریال تاپور کی بھابھی؟ مگر کیسے۔ مرزا صاحب کا اشارہ سابق صدر آصف علی ذرداری کی طرف تھا۔

کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے: خواجہ آصف

شائد ہی ہم میں سے کوئی اس جملے کو بھول پایا ہو۔ خواجہ آصف نے یہ جملہ پارلیمنٹ کے ایک مشترکہ اجلاس میں پاکستان تحریکِ انصاف پر برستے ہوئے بولا تھا۔ ان کے اس جملے کو بولنے کی دیر تھی کہ یہ ہر زبان پر چڑھ گیا۔ اس جملے کو سوشل میڈیا، ٹیکسٹ میسجز کے علاوہ صحافی برادری نے بھی اپنے کالموں میں خوب استعمال کیا۔

وہ ابھی بھی مجھے گھور رہے ہیں: اعتزاز احسن

وہ ابھی بھی مجھے گھور رہے ہیں۔ یہ کسی اردو فلم کی خوف کے مارے کانپتی ہوئی ہیروئین کا ڈائیلاگ نہیں ہے بلکہ یہ جملہ سینیٹر اعتزاز احسن نے پارلیمنٹ کے ایک مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ داخلہ چوہدری نثار کے حوالے سے بولا تھا۔

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.