معلومات تک رسائی کا عالمی دن اور پاکستان کا قانون

3,396

ہر سال 28 ستمبر کو یونیسکو کی طرف سے معلومات تک عالمی رسائی کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس سال یہ دوسری بار منایا جا رہا ہے۔ دنیا کے 100 سے زیادہ ممالک معلومات تک رسائی کا قانون رائج ہے۔ سوڈان وہ ملک ہے جہاں یہ قانون سب سے پہلے نافذ کیا گیا تھا۔

پاکستان کے 1973 کے آئین کے آرٹیکل 19 میں ریاست شہریوں کو معلومات تک رسائی کا حق دیتی ہے مگر یہ قانون صرف کاغذوں میں مقید ہو کر رہ گیا تھا۔ 2002 میں سابق صدر جنرل پرویز مشرف نے فریڈم آف انفارمیشن آرڈیننس نافذ کیا تھا گو یہ بھی ایشیائی ترقیاتی بنک کے قرض دینے کی ایک شرط کی وجہ سے کیا گیا تھا لیکن اس ایک قدم سے پاکستان جنوبی ایشیا میں معلومات تک رسائی کا قانون نافذ کرنے والا پہلا ملک بن گیا تھا۔

صوبائی سطح پر بلوچستان کی حکومت نے 2005 میں رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون نافذ کیا مگرعام شہری اور صحافی اس قانون سے مستفید نہیں ہو سکتے۔ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی حکومت نے 2013 میں بالترتیب پنجاب ٹرانسپیرنسی اور رائٹ ٹو انفارمیشن ایکٹ 2013 نافذ کیے۔ جبکہ سندھ اسمبلی نے سندھ ٹرانپیرنسی اور رائٹ ٹو انفارمیشن بل 2016 مارچ میں منظور کیا ہے۔ وفاقی سطح پر معلومات تک رسائی کے حق کے قانون کا بل 2017 سینیٹ میں اگست کے مہینے میں منظور کیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی سے اس کی منظوری ابھی باقی ہے۔

معلومات تک رسائی کے قانون کی رو سے تمام سرکاری محکمے عام آدمی تک معلومات فراہم کرنے کے پابند ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے ہرسرکاری محکمے کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ ایک انفارمیشن افسر تعینات کرے جو کہ درخواست گزار کو اس کی پوچھی گئی تمام معلومات فراہم کرے گا۔ اگر درخواست گزار کو اپنی پوچھی گئی معلومات مقررہ مدت کے اندر اندر نہ ملیں تو وہ متعلقہ افسران کے خلاف ایک آزاد کمیشن میں درخواست بھی دائر کر سکتا ہے۔

معلومات تک رسائی کے قانون سے متعلق عوام میں بہت کم آگاہی پائی جاتی ہے۔ جو لوگ اس قانون کو جانتے ہیں وہ بھی اس کا کچھ خاص فائدہ نہیں اٹھاتے۔ اگر صرف پنجاب حکومت کی بات کی جائے تو 2013-2014 کے دوران پنجاب کے سرکاری اداروں کو اس قانون کے تحت صرف 70 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 27 کو جواب دیا گیا اور 43 ابھی بھی پراسس میں موجود ہیں جبکہ خیبر پختونخوا میں اب تک 9986 درخواستیں موصول ہوئیں جن میں سے 6499 حل ہو چکی ہیں۔

پاکستان میں اس قانون کے حوالے سے بہت سے شکوک و شبہات کا بھی اظہار کیا جاتا ہے۔ اکثر درخواستوں میں مانگی گئی معلومات کو حساس قرار دے کر درخواست ریجیکٹ کر دی جاتی ہے۔ ایسی ہی ایک درخواست محمد وسیم عباسی کی ہے جنہوں نے 18 ستمبر 2014 کو گورنر پنجاب کے پرنسپل سیکریٹری کو معلومات تک رسائی کے قانون کے تحت ایک درخواست دائر کی۔ اس درخواست میں انہوں نے گورنر ہاؤس کے یکم اگست 2013 سے 31 اگست 2014 تک کے ماہانہ اخراجات کی تفصیل طلب کی۔ جب انہیں مقررہ مدت کے اندر کوئی بھی جواب موصول نہ ہوا تو انہوں نے کمیشن کو اپنی درخواست جمع کروا دی۔ کمیشن نے جب متعلقہ افسر سے اس کے متعلق استفسار کیا تو اس نے کمیشن کے نام خط میں لکھا کہ آئین کے آرٹیکل 121 کے تحت گورنر ہاؤس کے اخراجات کے متعلق معلومات نہیں دی جا سکتیں۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا کہ آرٹیکل 121 میں یہ کہیں بھی نہیں لکھا کہ ایسے تمام اخراجات کی معلومات حساس ہیں اور وہ عوام کو نہیں بتائی جا سکتیں۔ کمیشن نے متعلقہ افسر کو حکم دیا کہ وہ درخواست گزار کی پوچھی گئی تمام معلومات اسے 20 فروری 2015 تک فراہم کرے۔

بھارت میں رائٹ ٹو انفارمیشن کا قانون 2005 میں متعارف کروایا گیا تھا۔ بھارتی اخبار کے مطابق اس قانون کے اطلاق سے لے کر اب تک تقریباً پونے دو کروڑ درخواستیں معلومات کے حصول کے لئے حکومتی اداروں کو موصول ہو چکی ہیں۔ یہاں سے ہم اندازہ لگا سکتے ہیں کہ بھارتی شہری اپنے حقوق کے لحاظ سے پاکستانی شہریوں سے زیادہ باخبر ہیں۔

بھارت میں ایک این جی او نے 2008 میں اس حق کا استعمال کرتے ہوئے یہ معلومات حاصل کیں کہ جو بیوروکریٹس انڈین کراس سوسائٹی کی مقامی شاخوں کے سربراہ تھے وہ کارگل کی جنگ اور دوسری قدرتی آفات کے متاثرین کی مد میں اکٹھے کئے جانے والے چندے کو ذاتی اخراجات کے لئے استعمال کر رہے تھے۔ یہ معاملہ عدالت تک لے جایا گیا۔ وہاں ان تمام افسران پرفراڈ کامقدمہ چلا۔

ایک اور بھارتی شہری نے اپنی پاسپورٹ کی درخواست پر تاخیر کا سامنا کرتے ہوئے متعلقہ ادارے میں اس قانون کے تحت درخواست جمع کروائی۔ اس درخواست میں اس نے پاسپورٹ کے لئے موصول ہونے والی درخواستوں کی تعداد، التوا کا شکار پاسپورٹ کی تعداد اور کچھ دیگر معلومات مانگیں۔ اس درخواست کا کیا بنا یہ تو بعد کی بات ہے لیکن اس کا اثر یہ ہوا کہ متعلقہ عملے نے بہت تیزی سے پاسپورٹ کی اجرا کا کام شروع کر دیا۔

اگر پاکستان میں لوگوں کو اس قانون کے متعلق مکمل آگاہی ہو تو وہ بھی حکومتی اداروں کو اسی طرح متحرک کر سکتے ہیں۔ لوگوں میں اس قانون نے متعلق آگاہی پھیلانے کے لئے کافی این جی اوز اور سماجی کارکنان کام کر رہے ہیں۔ حکومت کو بھی چاہئے کہ بڑے پیمانے پر لوگوں مں اس قانون سے متعلق آگاہی پھیلائے۔ اس کے لئے صرف ٹی وی، ریڈیو یا اخبارات ہی کافی نہیں ہیں بلکہ اس قانون کو درسی کتابوں کا حصہ بنانا چاہئے۔ اس کے علاوہ سوشل میڈیا پر بھی اس کی مکمل تشہیر ہونی چاہئے تاکہ ایک شہری کو پتہ ہو کہ وہ حکومتی اداروں سے جواب طلبی کا حق رکھتا ہے۔

تحریم عظیم ایک ڈیجیٹل میڈیا صحافی ہیں اور دنیا گروپ سے منسلک ہیں۔ تحریم ٹویٹر پر اس آئی ڈی پر ٹویٹس کرتی ہیں۔
@tehreemazeem

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

تبصرے بند ہیں.