جامعہ فیس بکیا و گوگلیہ العالمیہ

0 406

ہم مسلمانوں کی ہمیشہ سے ہی بد قسمتی رہی کہ ہمارے اسلامی مباحثے اس قدر جامعات و مدارس میں نہ ہوتے ہوں گے جس قدر فیس بک یا گوگل پر شائع کئے جاتے ہیں۔ فیس بک ہمیشہ سے نہیں ہے، مگر میں نے شروع میں جو لفظ “ہمیشہ” استعمال کیا وہ اس لئے کیا کہ اس سے پہلے یہ فلسفیانہ و علمی کارنامے گلی کے چبوتروں پر بیٹھ کر سامنے سے گزرتی عورتوں کا الٹرا ساؤنڈ کرتی نگاہوں، پان گٹکے کی پیک منہ میں بھر کے انجام دئیے جاتے تھے۔ سونے پہ سہاگہ اس موقع پر مفت الٹرا ساؤنڈ کی رپورٹ کسی بھی خاتون کے لئے مثبت نہیں آتی تھی۔

کسی کے کافر، مسلمان، یہودیوں کا ایجنٹ ہونے یا واجب القتل ہونے کے فیصلے انہیں چبوتروں سے صادر کئے جاتے تھے۔ اس چبوترا سائنس نے اس قدر ترقی کی کہ وہ خواتین و حضرات جو ان چبوترا مدارس یا چبوترا عدالتوں سے بہرہ مند نہ ہو پاتے تھے، ان کی مشکل فیس بک نے حل کر دی۔

اب نہ استاد، نہ کتاب اور نہ ہی زیادہ محنت و مشقت کی ضرورت رہی۔

تاریخ کی کتب، علم القرآن، علم حدیث، علم فقہ، فلسفہ، قوانین شریعت سے ناواقف فیس بکیا عالم اپنے ذاتی خیالات کو اسلام و دین کے نام سے باآسانی شائع کرنے پر قادر ہو گیا۔ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے محروم ایسے عالم و مفکر حضرات کی سہولت کے لئے جامعہ گوگلیہ العالمیہ اپنی خدمات انجام دیتا ہے۔ اگر اس عالم و مفکر کو اپنے مطلوبہ مواد کی تلاش کے لئے کچھ الفاظ ( کی ورڈز ) معلوم ہوں تو کیا ہی کہنا! پھر تو یہ حضرات گوگل سے جبری مفتی ہونے کی سند بھی حاصل کر لیتے ہیں اور پھر یہ خود پسند افراد اپنی پوسٹس پر آئے ہوئے تعارفی کومنٹس کی تصاویر اسناد کے طور پر اپنے البم میں لگا کر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ دین کی خدمت کر رہے ہیں۔ اب یہ گوگلیہ مفتی کسی کے متعلق بھی مسلم یا کفر کا فتویٰ صادر کرنے پر قادر ہوتے ہیں۔
ان فیس بکی علماء کو صرف چند ایک مضامین سے ہی دل چسپی ہے۔ ان کی ساری کی ساری گوگلیا جہد و جہد صرف انہی موضوعات کے گرد گھومتی ہے جن میں 12 ربیع الاول کے جلسوں، جلوسوں، مزارات پر جانے، نذر و نیاز کرنے، محرم میں مجالس و ماتم پر اعتراضات کئے جاتے ہیں۔

ایسے علماء کا فیس بک پر سوال پوچھنے کا انداز بھی بہت دلچسپ ہوتا ہے، حالانکہ ایسے سوالات میں پہلے سے ہی ان کا نظریاتی فیصلہ چھپا ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر جامعہ فیس بکیا سے تعلق رکھنے والے ہمارے فاضل دوست نے سوال داغ دیا کہ مزارات پر جانا شرک ہے لہٰذا آپ یہ مشرکانہ فعل کیوں انجام دیتے ہیں؟ جس کے جواب میں ہم صرف یہی عرض کر سکے کہ جب آپ پہلے ہی طے کر چکے کہ یہ مشرکانہ فعل ہے اور ہم شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں تو اب ہم یہ بتائیں کہ ہم مزارات پر کیوں جاتے ہیں یا پہلے اپنے آپ کو دائرہ شرک سے خارج ثابت کریں؟

اب ان کو کون بتائے کہ بھائی مجھے مشرک یا اس مشرکانہ فعل کا فیصلہ کرنے سے پہلے مجھ سے دریافت تو کر لیتے، اس کے بعد فیصلہ صادر کرتے، (گو کہ پھر بھی ان کو فیصلے کا کوئی حق نہیں ہے)۔

اب اگر کسی نے اپنی صفائی میں کوئی دلیل پیش کی تو فوراً ایک اور سوال فائر ہوتا ہے جناب قرآن سے ثابت کریں اب جواب دینے والا بھی علم القرآان سے بے بہرا اور سوال پوچھنے والا بھی لاتعلق، اسی اثناء میں فرینڈز لسٹ میں شامل ایک اور مفتی صاحب فوراً کسی ایک فریق کے کافر ہونے کا نعرہ بلند کرتے ہیں۔ اب مفتیوں کے اس جنگل میں کوئی اکیلا تو ہوتا نہیں، لہٰذا اس کافر فریق کا کوئی چاہنے والا کفر کا فتویٰ دینے والے کی ماں بہن کی شان میں گستاخی کر دیتا ہے، پھر تو سب ہی بہتی گنگا میں ہاتھ دھوتے ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے بھری بس میں کوئی بد قسمت جیب کترا لوگوں کے ہتھے چڑھ جائے تو بس میں سوار ہر چور،شرابی، رشوت خور، بجلی چور، بغیر ٹکٹ سفر کرنے والا، جورو کا غلام، غرض ہر سطح کا چور اس بے چارے جیب کرتے کی پٹائی کرنے کا ثواب حاصل کرتا ہے۔ اسی طرح فیس بک میں بھی ہر سطح کا عالم فاضل ماں بہن ایک کر رہا ہوتا ہے۔

ایک اور کارنامہ جو صدیوں سے حل نہ ہو پایا تھا وہ ان مفتیان گوگل نے اتحاد بین المسلمین کے نام پر باآسانی حل کر لیا۔ یہ حضرات اپنا فلسفہ اتحاد بین المسلمین کچھ یوں بیان کرتے ہیں، “جو ہمارے ہم خیال ہیں وہ مسلمان ہیں لہٰذا ان کا آپس میں اتحاد ہونا ضروری ہے۔”

ان گوگلیان علماء میں ایک طبقہ ایسا بھی ہے جن پر یہ شعر صادق آتا ہے کہ

عجیب تیری سیاست عجیب تیرا نظام
یزید سے بھی مراسم حسینؑ کو بھی سلام

جس کا نظریہ ہے کہ بھائی کسی کو بُرا نہ کہو مانا کہ یزید شرابی، فاسق، زانی و ظالم تھا مگر ہم کون ہوتے ہیں کسی کو برا کہنے والے؟ ان سے کوئی پوچھے کہ پھر لاکھوں کروڑوں سالوں کے عابد ابلیس کا کیا قصور کہ اس کے لئے معافی کی کوئی گنجائش نہیں۔ مت کہو برا ! اللہ تعالی قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا، ہم کون ہوتے ہیں کسی کو برا بھلا کہنے والے؟

اللہ کے بنائے ہوئے پہلے خلیفہ و نبی حضرت آدم علیہ السلام کے دو شہزادوں ہابیل و قابیل کی لڑائی میں ببانگ دہل نبی کے بیٹے کو ظالم و قاتل تو کہہ دیتے ہیں، حضرت اماں حوا کا شیطان کے بہکاوے میں آ جانے کا برملا اظہار کر دیتے ہیں۔ اللہ کے نبی حضرت نوح علیہ السلام کے شہزادے کے نافرمانی کے جرم میں طوفان میں غرق ہو جانے کا ذکر تو کر دیتے ہیں، نبی حضرت یعقوب علیہ السلام کے تمام شہزادوں میں صرف حضرت یوسف علیہ السلام کے مقابلے میں دیگر سگے بھائیوں کو برا تو کہہ دیتے ہیں، حضرت لوط علیہ السلام کی زوجہ پر سزا کے طور پر پتھروں کی بارش کا ذکر بھی کر دیتے ہیں مگر تاریخ کی اس ہائی وے پر چند کلو میٹر ایسے بھی ہیں جہاں کے کاروباری، رہائشی، ظالم و مظلوم سب کے سب اچھے ہیں، یہاں ایک الگ ریاست ہے، ایک الگ قانون۔ یہاں کسی ظالم کو ظالم کہنا کفر ہے ۔ یہاں ظالم بھی اللہ کا نیک بندہ اور مظلوم بھی اللہ کا نیک بندہ!

مصنف پیشہ کے اعتبار سے فوٹو جرنلسٹ ہیں اور روزنامہ دنیا کراچی میں بطور چیف فوٹو گرافر خدمات انجام دے رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.