ماہرہ خان کی تصاویر: اصل رولا ہے کیا؟

12 22,751

حقہ ہمارے ہاں آج بھی بڑی بوڑھیاں گُڑگُڑاتی ہیں لیکن مجھے سمجھ نہیں آ سکی کہ سگریٹ پیتی عورت کو ہمارے ہاں ‘آوارہ’ کیوں سمجھا اور پکارا جاتا ہے جبکہ پکے سگریٹ کے سُوٹے لگاتے لڑکے آنکھوں کا تارا ہی رہتے ہیں۔ اداکارہ ماہرہ خان نے ملکی وقار پر پہلا سگریٹ نہیں اچھالا، بس ہماری یادداشت تھوڑی کمزور ہے۔ شاید ضیاء الحقی دینی و اخلاقی ٹیکوں کے بعد سے یہ چلن جڑ پکڑتا گیا ہے کہ کسی خاتون کی تذلیل کرنی ہو یا شرمندگی کا احساس اجاگر کرنا ہو تو اس کی ایسی تصویر پھیلا دو جس میں وہ سگریٹ سلگائے بیٹھی ہو۔ بس جی اس کے بعد ساری قومی غیرت سُلگ کر راکھ کا ڈھیر ہو جاتی ہے۔ اداکارہ ہما نواب ہوں یا ساحرہ کاظمی، کبھی عاصمہ جہانگیر تو کبھی شیری رحمان  یا ڈاکٹر شیریں مزاری۔۔۔ بچپن سے دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ کسی خود مختار یا مضبوط خاتون کے سگریٹ کا دھواں کِس طرح حیا کے جھوٹے پیمانوں کی ترویج میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔ اب فراغت والی جنریشن کے ہاتھوں میں سمارٹ فونز ہیں جہاں پورنوگرافی سے  لے کر بیسیوں سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر مغلظات، پارٹ ٹائم اخلاقی چیمپیئن تو کیا نام نہاد جہاد تک میں نام کمانے کی سستی راہ تلاش کر چکے ہیں۔ وقت بھی اچھا گزر جاتا ہے۔

ماہرہ خان کے جرائم کی فہرست کافی طویل ہے۔ ڈرامہ سیریل “ہمسفر” کی خِرد کیسے نیویارک کی سڑکوں پر سَن ڈریس پہنے سگریٹ ہونٹوں میں دبائے کسی نامحرم، اور وہ بھی ‘ازلی دشمن’ ملک کے فلمی ہیرو، کے ساتھ گپ شپ لگا سکتی ہے۔ اس کو گھر بیٹھ کر محلے کے بچوں کو ٹیوشن اور بچیوں کو سلائی کڑھائی سکھانی چاہیے تاکہ اپنا اور اپنے بیٹے کا پیٹ پال سکے۔ تصاویر میں سگرٹ تو رنبیر کپور کے ہاتھ میں بھی ہے لیکن ماہرہ کی سگریٹ پر شاید کوئی ایٹمی کوڈ سُلگ رہا ہے جو کہ ہمارے قومی اثاثوں کے لیے خطرہ بن چکا ہے۔ اور اٹھتا دھواں اداکارہ کی پاکستانیت کو دھندلا رہا ہے۔ اور تو اور، دوستوں کے ساتھ  عجیب و غریب فلیورز میں شیشہ پینے والوں کو بھی ماہرہ کے سگریٹ سے چھینکیں آ رہی ہیں۔ ہمیں ‘بیڑی جلائی لے’ آئٹم سانگ بہت پسند ہے کیونکہ اس میں ‘جگر کی آگ’ کا سامان پڑوسی ملک کی خاتون کر رہی ہے۔

راج کمار ہیرانی ان دنوں فلمسٹار سنجے دَت کی آپ بیتی پر فلم بنا رہے ہیں۔ وہی سنجے دَت جن کی جیل سے آئی ان تصاویر پر پاکستانی صدقے واری ہوا کرتے تھے جن میں ان کی داڑھی بڑھی ہوئی تھی اور گلے یا کلائی میں تسبیح (مالا) ڈال رکھی ہوتی۔ رنبیر اور ماہرہ اسی بائیوپِک کا حصہ بتائے جا رہے ہیں۔ یہ تصاویر جولائی کی ہیں یا ستمبر کی مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ ایک ساتھ کام کرنے والے افراد اگر اپنی ذاتی زندگی میں کہیں بیٹھے گپ شپ لگا رہے ہیں تو اس میں ان کے ممالک کے عوام کو کون سا دھواں ہے جو دماغ کو چڑھ گیا ہے۔ پاکستانیوں کو سگریٹ اور لباس سے مسئلہ ہے تو بھارتیوں کو جلن میں دبلی پتلی خوبصورت ماہرہ خان کی صحت کھٹک رہی ہے۔

میں سگریٹ نہیں پیتی اور پی بھی نہیں سکتی۔ سگریٹ کا دھواں خدانخواستہ انہیلر نہ ہونے کے باعث مجھے ہسپتال پہنچانے کے لیے کافی ہے۔ ہمارے گھر میں سگریٹ نوشی ممنوع ہے۔ دھوئیں سے نفرت ہے لیکن (سگریٹ کا) دھواں اڑانے والوں سے میری کوئی ایسی دشمنی نہیں کہ کردار بارے فتوے بانٹتی پھروں بلکہ مجھے اس وقت شرمندگی ہوتی ہے جب کوئی بھی عزیز میرا خیال کرتے ہوئے سگریٹ کی ڈبیا کو ہاتھ لگانے سے اجتناب برتے۔

ماہرہ کی تصاویر پر غیرت برگیڈ کے شور کے جواب میں کچھ خواتین نے یکجہتی کا اظہار کرتے سلگتا سگریٹ انگلیوں میں دبا کر دھواں اڑاتی تصاویر سے دیا۔ جس پر اخلاقیات کے چیمیئنز کو نیا موضوع مِل گیا کہ سلیبریٹیز کو دیکھ کر نئی نسل راغب ہوتی ہے۔ یہ لوگ سوچنا اور سمجھنا بھی نہیں چاہتے کہ پاپارازی کی اس حرکت میں اداکار کسی فعل کی توثیق پبلک کے لیے نہیں کر رہے۔ یہ کہنا کہ عاقل بالغ افراد دیکھ کر راغب ہوتے ہیں تو مجھے بھئی نصرت جاوید صاحب کی نقالی میں ہی سگریٹ نوشی شروع کر دینی چاہیے۔ شاید ان کی طرح کی کلاس آ ہی جائے سگریٹ تھامنے میں۔

اب بات کر لیں لباس کی۔ کسی کے لباس میں کردار تلاش کرنا ہمارا پسندیدہ اجتماعی مشغلہ ہے۔ ہم  کسی خاتون کو عزت دینے کا معیار ماں، بہن اور بیٹی ٹھہراتے ہیں۔ دوپٹے کا طول و عرض عزت اور عصمت کی عمومی مقدار کا تعین کرتا ہے۔ عورت کا انفرادی وجود تسلیم کرنے سے انکاری یہ پدر شاہی معاشرہ اپنے معیاروں کو چیلنج کرنے والی خود مختار عورت پر کیچڑ اچھالنا اپنا فرض سمجھتا ہے۔ اداکارہ کے لباس سے مسئلہ ہے؟ جناب آپ دیدے پھاڑ کر کبھی ملکی و غیر ملکی فیشن شوز نہیں دیکھتے یا ایوارڈ شوز، ریڈ کارپٹ اور برائڈل ویک سے دل نہیں بہلاتے؟ آپ ٹی۔وی پر آنکھیں سینک لیں گے، سوشل میڈیا پر خواتین کی پروفائل فوٹو زوم کر کے دیکھتے رہیں گے، شاپنگ مالز میں ہر دوسری بندی کو منہ کھولے گھورتے رہیں گے، آئٹم سانگز پر تھرک بھی لیں گے اور سوئمنگ پول مناظر فلم بند کروا کر عائشہ عمر پر تنقید جبکہ ذاتی دوستی کی بنیاد پر ماہرہ کے وکیل بھی بن جائیں گے۔ دوہرے معیاروں اور منافقتوں کی کوئی تو حد مقرر کر لیجیے۔

سارا وقت سوشل میڈیا پر خواتین بارے غلیظ ذومعنی فقرے کَسنے والوں کو آج ‘غیرت’ کے ہجے بھی یاد آ گئے ہیں اور مذہب کے ساتھ ثقافتی وقار بھی سکھایا جا رہا ہے۔ کترینہ کیف ہوں یا زرین خان بلکہ عالیہ بھٹ بھی۔ آپ صابن، شیمپو اور چند ہزار کے سیل فون سے لے کر گورے پن کی دو نمبر کریموں تک سب انہی بھارتی اداکاراؤں کے چہروں کے ساتھ  بیچ رہے ہیں۔ ہر شہر میں قد آور ہورڈنگز پر ‘مغربی لباس’ پہنے بھارتی ناریاں جَچ رہی ہیں اور راہگیروں کو پراڈکٹ کا صارف بننے پر مجبور بھی کر رہی ہیں۔ اگرچہ بعض اوقات ان ہورڈنگز کا چہرہ بھی دلیر غیرت برگیڈ کالا کر کے جہاد کر جاتی ہے۔

ہمارے میڈیا نے آیان علی کے ساتھ کیا کچھ نہیں کیا؟ ان کی عدالتی پیشیوں پر پس پردہ موسیقی کے ساتھ  لباس، گیسو اور میک اپ بارے مکمل تفصیلی بلیٹن چلائے جاتے۔ قندیل بلوچ کے خون کے چھینٹے کبھی کسی نے اپنے چہرے پر محسوس بھی کیے ہیں؟ آپ اس کی اصل شناخت منظرعام پر لا کر کیا ثواب کما گئے؟ دو نمبر مفتی کے ساتھ بٹھا کر چسکا فروش بنے رہے۔ وہی قندیل جس کے لیے فضولیات بکنے والوں کو آج ماہرہ کے لیے سلیکٹو اور موسمی زکام جیسی روشن خیالی سوجھ رہی ہے۔

غیرت کا عالم یہ ہے کہ کسی خاتون کو بیہودہ ٹیکسٹ میسجز کی بات منظرِ عام پر آ جائے تو بدلے میں اس کی بہن کے لیے غلیظ مہم شروع کر دی جائے۔ ماریہ طور ہماری سکواش سٹار ہے؛ یہ بچی اپنی قبائیلی روایات سے بغاوت کرتے اور طالبان سے زندگی بچاتے والد کی مدد سے آج کسی مقام پر پہنچ گئی تو بَک بَک ہوتی ہے کہ “اس عورت کی بہن تو نیکر پہن کر کھیلتی ہے۔۔” سکواش کورٹ میں کھیلتی ماریہ کی تصاویر مخصوص زاویے سے وائرل کروائی جاتی ہیں۔ کیونکہ مرد کے دامن پر چھینٹوں سے توجہ ہٹانی تھی۔

ماہرہ کے لباس سے قومی غیرت کو پہنچنے والے ‘نقصان’ کی بات کرنے والوں سے سوال تو یہ ہے کہ تیزاب گردی اور عصمت دری کا شکار ہوتی خواتین کے لباس میں ایسا کیا ہوتا ہے؟ مختاراں مائی کا قصور کیا تھا؟ چلیے تانیہ خاصخیلی کا ہی جرم سمجھا دیجیے۔

ہمیں یوں بھی ہر دوسری کامیاب بیٹی سے مسئلہ ہے۔ پھر چاہے وہ شرمین چنائے ہو یا ملالہ یوسفزئی۔ لیکن ہمیں نورین لغاری سے کوئی مسئلہ نہیں۔ وہ خود کش حملے میں ہمارے بچے مار دیتی تو۔۔۔۔ لیکن وہ تو اب قوم کی بیٹی ہے الحمدللہ کیونکہ ‘بازیاب’ کروایا گیا۔

سگریٹ اور لباس کے علاوہ آفرین ہے ان باریک بین نگاہوں پر جنہوں نے زوم اِن کر کے ماہرہ کی پشت پر ایک نشان تلاش کر لیا ہے (جو اس سے قبل بھی کئی دفعہ اسی جگہ موجود دکھائی دیا گیا)۔ دنیا ایڈز کا علاج تلاش کر رہی ہے اور ہم اداکاراؤں کے جسم پر نشان ٹٹول کر مزے  لے رہے ہیں کیونکہ ہم نے دوسروں کے ایمان، کردار اور حب الوطنی جانچنے کا ٹھیکہ اٹھا رکھا ہے۔

صحتمند تفریح کے مواقع اور کھیل کے میدان نہ ہوں تو سوچ کے دائروں کا قطر بتدریج چھوٹا ہوتا چلا جاتا ہے۔ جس طرح ماہرہ خان کو ہمارے سوشل میڈیا اخلاقنچیوں نے نشانہ بنایا ہے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے جیسے گلی محلے کے چھچھورے اور بےروزگار لڑکے اس بات پر تَپ کھا بیٹھے ہوں کہ ان کے محلے کی لڑکی دوسری گلی کے خوبرو نوجوان کے ساتھ دکھائی دے گئی یا یونیورسٹی کے ایک ڈیپارٹمنٹ کی بندی دوسرے شعبے کے لڑکے کے ساتھ کیفے ٹیریا میں بیٹھی ناک کیوں کٹوا رہی ہے۔ سارا جھگڑا ہی اندر کھاتے اس بات کا ہے کہ “یار کاش میں رنبیر کی جگہ ہوتا۔۔”

افشاں مصعب زندگی پر لکھنا پسندکرتی ہیں – سیاست ، سماجیات اور نفسیات ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں – متعدد بلاگ پیجز پر ان کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں – افشاں اسلام آباد میں مقیم ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

12 تبصرے

  1. M. Ali کہتے ہیں

    The things looking strange, because the membership of the lady trace back to Muslims, Pathans, and Pakistan. Unfortunately, the style is totally different. 1) What she doing with non-mohrim in the Hotel is obvious. Smoking and nakedness in public are two other bonuses. All these three things are not Pakistani values.

  2. hamza کہتے ہیں

    its not about her sutta. she is a pakistani clebrity and representing pakistan on international forum. her dressing and acts represents pakistan. but people like you always try to catch sympathy for women.

  3. Kamran Khan کہتے ہیں

    Gatya Taraf Dari hai actress ke.

  4. Hammad Ahmad کہتے ہیں

    lafzo ko salaam
    kisi ki himayat o mukhalfat sy kata nazar

  5. کامران ملک کہتے ہیں

    بہت اچھا لکھا ہے لیکن تھوڑا عروہ والی جیلیسی کا ذکر ہونا چاہئیے تھا ہو سکتا ہے وہ بھی کہیں اپنا حصہ ڈال رہی ہو

  6. huma کہتے ہیں

    In her pics with Indian artist,she does not look like a Muslim artist.she must restores her Muslim identity in front of all the world.after all she is a Muslim woman and she has Muslim social norms.

  7. ammar کہتے ہیں

    lakh di laanat ……is writer pea
    islami culture ka mazaq uaraya
    dunya news b aqal k nakhun lea aisi jahil ko saza a moat honi chahia

  8. Naseer Shahid کہتے ہیں

    She ist an actress and doing her Job What is wrong.

  9. ahmad کہتے ہیں

    اج کی مرد عورت کی نیجے ہوتے ہے اگر مرد اوپر ہو جاے تو ی بے باگی نھی ہوگی..

  10. GHULAM MUSTAFA کہتے ہیں

    Tu aap b aise hi kapre pehn ke phira karo agar is main koi mazaiqa nahi hai tu. She represent Pakistan she should respecr the values of Pakistan.
    Baqi jaye bhar main.

  11. حکیم خان یوسفزئی کہتے ہیں

    آپ کا تبصرہ میرے ملک کو ایسی کسی شہرت کی کوئی ضرورت نہیں جس کیلئے میری کوئی بہن اپنی جسم کی نمائش کریں.

  12. subhan khan کہتے ہیں

    بات سگریت کی نهی بات هی ننگی پن کی اوو بهی نا محرم کی ساتهـ مسلمان هو تو مسلمان هی رهو ….

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.