ورلڈ الیون کی پاکستان آمد اور لاہوریوں کا دل خوش کر دینے والا جذبہ اور ڈسپلن

0 988

شدید گرمی ہے، میچ سات بجے شروع ہونا ہے اور آپ سب تین بجے ہی لبرٹی پہنچ گئے ہیں؟ جواب ملا رپورٹر بھائی گرمی تو روز ہی پڑتی ہے، مگر یہ میچ روز روز نہیں ملے گا۔ بڑا انتظار کیا ہے اس مرحلے کا اور اب ایک ایک اوور کو پوری طرح انجوائے کریں گے۔ یہ جواب دے کر ایک کرکٹ شائق مجھ سے ہاتھ ملا کر شٹل سروس کی ائیر کنڈیشنر بس میں سوار ہو کر قذافی سٹیڈیم میں چل دیا۔

پاکستان کے خلاف ورلڈ الیون کے دوسرے ٹی ٹونٹی میچ سے قبل جب میں لبرٹی چوک پہنچا تو تین بجے تیز دھوپ میں بھی شائقین کرکٹ کا جوش دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ لاہور والے انجوائے کرنا اچھی طرح جانتے ہیں۔ 2015 میں شدید گرمی اور حبس کے باوجود لاہور والوں نے زمبابوے کے خلاف سیریز کو کامیاب بنایا تھا، تو اب ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان پر بھی وہ پیچھے نہ رہے۔ میں نے زمبابوے کا دورہ پاکستان بھی کراچی سے لاہور آ کر کور کیا تھا اور اب ورلڈ الیون کے دورہ پاکستان پر بھی مجھ سے کراچی نہ بیٹھا جا سکا۔ ورلڈ الیون کی سیریز کی کوریج کے دوران مجھے شائقین کرکٹ اور انتظامیہ کی کارکردگی اور انتظامات نے متاثر کیا۔ گرمی اور پھر سیکیورٹی کی وجہ سے قذافی سٹیڈیم سے کافی دور ہی گاڑیاں پارک کرنے کی وجہ بھی لاہوریوں کا جذبہ ماند نہ پڑا۔

جناب میں کراچی سے میچ کی کوریج کے لیے آیا ہوں، کیا مجھے میری گاڑی تھوڑا آّگے ڈراپ کر سکتی ہے؟ سیکیورٹی اہلکار نے جواب دیا کہ سر ہر جگہ کیمرے لگے ہیں، ایک ایک منظر دیکھا جا رہا ہے، آپ تو کیا میں خود بھی مقرر کردہ حد سے آگے گاڑی نہیں لے جا سکتا۔ انتظامیہ نے لبرٹی سے قذافی سٹیڈیم تک لے جانے کے لیے ائیر کنڈیشن شٹل سروس شروع کر رکھی تھی۔ تیسرے ٹی ٹونٹی میں مجھے اس وقت خوشگوار سرپرائز ملا، جب شٹل سروس میں پنجاب پولیس کی ایک افسر ہاتھوں میں پھول اور ٹافیوں کا پیکٹ تھامے بس کے دروازے پر آئیں اور مسکراتے ہوئے شائقین کرکٹ میں تقسیم کرنا شروع کر دیں۔ پولیس کا یہ رویہ اور سلوک سراہے جانے کے قابل ہے۔ لاہور کے شائقین کرکٹ کا رویہ بھی آزادی کپ کے دوران مثالی رہا۔ کہیں کوئی بد نظمی دیکھنے میں نہیں آئی۔ لوگ سکون سے لبرٹی کے پاس اتر کر، قطار بنا کر شٹل سروس اور پھر سٹیڈیم کی حدود میں داخل ہونے کے بعد ڈپسلن سے لائن بنا کر اپنے انکلوژرز میں داخل ہوتے دکھائی دیے۔

چار سے پانچ جگہ ہر شائقین کرکٹ اور سامان کو مکمل چیکنگ کے بعد ہی سٹیڈیم میں جانے کی اجازت دی گئی۔ میچ ٹکٹ کے ساتھ شناختی کارڈ بھی طلب کیا جاتا رہا۔ گرمی میں بھی ہزاروں کی تعداد میں قذافی پہنچنے والے زندہ دلانِ لاہور کا رویہ اور ڈسپلن یقینی طور پر مثالی تھا جس کی مستقبل میں کراچی اور دیگر شہروں کے شائقین کرکٹ کو تقلید کرنی چاہیے۔

شائقین کرکٹ کے بعد کچھ بات ہو جائے ورلڈ الیون کے سپر سٹارز کی، جنہوں نے پاکستان آ کر کرکٹ کی رونقیں بحال کیں۔ دو مرتبہ پرل کانٹی ٹینٹل ہوٹل اور دو آخری ٹی ٹونٹی میچز کے دوران ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔

اندار سیکیورٹی انتظامات کے باعث کھلاڑی مکمل پرسکون دکھائی دیے۔ ہوٹل میں بھی کھلاڑیوں کو مکمل پروٹوکول دیا گیا۔ لفٹ سے باہر آنے کے بعد کھلاڑیوں کو ہوٹل ریسٹورنٹ جاتے ہوئے بھی سیکیورٹی اہلکار اپنی نگرانی میں پہنچاتے اور وہاں بھی کسی کو ان کے قریب آنے کی اجازت نہیں تھی۔ پی سی بی ایوارڈز کے دوران غیر ملکی کھلاڑی پہنچے تو تمام سابق کرکٹرز اور عوام نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ اس دوران غیر ملکی کھلاڑی ہنستے مسکراتے دکھائی دیے۔

کرکٹ ساؤتھ افریقا کی ٹی ٹونٹی لیگ کے ڈرافٹس میں مجھے فاف ڈوپلیسی اور ہاشم آملہ وغیرہ سے انٹرویو کا موقع ضرور ملا لیکن ان دونوں کے علاوہ ڈیرن سیمی، اینڈی فلاور، پال کالنگ ووڈ اور پوری ورلڈ الیون ٹیم کو پاکستان سر زمین پر چلتے پھرتے، ہسنتے مسکراتے اور سب سے بڑھ کر کھیلتے دیکھ کر جو خوشی کا احساس ہوا وہ بیان سے باہر ہے۔ زمبابوے کرکٹ ٹیم کے دورے کے بعد اگلے دو سال تک مزید کوئی انٹرنیشنل ٹیم پاکستان نہ آ سکی لیکن پی ایس ایل فائنل کے چند ماہ بعد ورلڈ الیون کا دورہ پاکستان ملک میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی جانب بڑا قدم ہے۔

اس موقع پر مشکل حالات میں پی ایس ایل فائنل لاہور میں کرانے والے نجم سیٹھی، ان کی ٹیم، سب سے بڑھ کر پشاور زلمی کے تمام غیر ملکی کھلاڑیوں اور ان کے چیئرمین جاوید آفریدی کو سراہا جانا بھی ضروری ہے کیونکہ اگر ڈیرن سیمی، کرس جارڑن، مارلن سمیولز اور ڈیوڈ ملان جیسے بہترین اور جانے مانے کرکٹرز پاکستان نہ آتے اور پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی اور شاہد آفریدی انہیں قائل نہ کرتے تو شاید ورلڈ الیون کے کے سپر سٹارز بھی پاکستان آنے سے قبل ہچکچا سکتے تھے۔ چیئرمین پی سی بی نجم سیٹھی کے اس دور کی شروعات شاندار رہی اور پی ایس ایل فائنل کے بعد جتنا ضروری ورلڈ الیون کا دورہ پاکستان تھا، اس سے بھی زیادہ ضروری اب سری لنکن ٹیم کا دورہ پاکستان ہے۔

اس کےعلاوہ لاہور کے علاوہ کراچی، پشاور، فیصل آباد، ملتان اور دیگر شہروں میں بھی پی ایس ایل اور پھر انٹرنیشنل میچز کا انعقاد ان شہروں کی عوام کا بھرپور حق ہے۔ نجم سیٹھی کی اس بات میں وزن ہے کہ پی ایس ایل فائنل کے بعد ورلڈ الیون کے کرکٹرز کو قائل کرنے میں کامیابی ہوئی لہذا امید کی جا سکتی ہے کہ پی ایس ایل تھری کے میچز لاہور کے ساتھ کراچی اور دیگر شہروں میں بھی منعقد ہونے چاہیں، خصوصاً چیمین پشاور زلمی کو کم از اکم ایک میچ اپنے شہر میں کھیلنے کا موقع بھی ضرور ملنا چاہیے تا کہ وہ فخر سے اپنے ہوم کراؤڈ کے سامنے کھیل سکیں۔ اس سے پی ایس ایل کی ہر ٹیم کو مستقبل میں مرچنڈائز اور ٹکٹس کی مد میں اچھی آمدنی بھی میسر آئے گی اور اس کی مقبولیت بھی مزید بڑھے گی۔

آخر میں انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا ذکر اور شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے، جنہوں نے ورلڈ الیون کے پاکستان آنے اور پھر اس کے بعد سیریز کی انٹرنیٹ دنیا پر دھوم مچانے میں اہم کردار ادا کیا۔ آئی سی سی کی ڈیجیٹل نیٹ ورکس نے آزادی کپ کی زبردست انداز میں کوریج کی اور اس پر پی سی بی اور پاکستان کو ورلڈ الیون کے ساتھ آئی سی سی کا بھی احسان مند ہونا چاہیے۔

مصنف ڈان نیوز ٹی وی کراچی میں ہیڈ آف سپورٹس ڈیسک کے منصب پر فائز ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.