‘پنجاب نہیں جاؤں گی’:‌ آپ ثابت کیا کرنا چاہ رہے ہیں؟

4 11,327

پاکستان فلم انڈسٹری جب اپنا عروج دیکھ رہی تھی، سنا ہے ان دنوں کچھ شہروں میں فلم بین سینما گھر سے باہر نکلتے عموماً ایک جملہ کہتے ہیں “کہانی خاص نہیں تھی لیکن سٹوری اچھی تھی۔” ۔۔۔ اس کا مطلب صرف کہنے اور سننے والے ہی سمجھتے تھے۔ مجھے اس کی سمجھ “پنجاب نہیں جاؤں گی” دیکھتے ہوئے آئی۔

گزشتہ دنوں ایک دوست کے اصرار پر فلم دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ اور چند ہی منٹ بعد یہ سوچنے پر مجبور ہوچکی تھی کہ پاکستانی فلم کو اپنا کھویا ہوا مقام دِلوانے میں اس قسم کی فلمیں کہاں مارک کی جاسکیں گی جس کی سٹوری میں بارہ مصالحے تو چوکھے ہیں لیکن پیشکش اور عکاسی؟ آگے بڑھنے سے قبل یہ بتانا ضروری ہے کہ مجھے اچھی طرح ادراک ہے اس وقت سلور سکرین اپنے وجود کی جنگ لڑ رہی ہے اور ہر بڑا پروڈکشن ہاؤس اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ ان سب کاوشوں کی دل سے قدر بھی ہے اور سراہا جانا سب کا حق بھی۔

مختصر کہانی یہ ہے کہ فواد کھگا (ہمایوں سعید) سیاسیات میں ماسٹرز کرکے گھر لوٹ کر آتا ہے جہاں بھرپور جشن منایا جا رہا ہے (جو کہ صرف فلموں میں ہی بطور پنجاب کی ثقافت دکھایا جاسکتا ہے، حقیقت میں ایسا ہوتے دیکھا نہیں)۔ فواد کی کزن دردانہ (عروا حسین) اس سے محبت میں تقریباً شوہدی دکھائی گئی ہیں جبکہ امل (مہوش حیات) لندن سے تعلیم مکمل کر کے کراچی واپس آئی ہیں۔ فواد اور امل کے گھرانوں میں سو سال پرانی دوستی ہے اور اس میں ان گھرانوں کی زبان حائل نہیں ہوئی (ایسا فلم بین کو بارہا باور کروانے کی کوشش کی گئی ہے)۔ فواد کو کسی ہیر کی تلاش ہے۔ جو کہ امل کی تصویر دیکھنے پر مکمل ہوجاتی ہے۔ فلم میں ایک مقام پر ہیرو صاحب اپنے رقیب (اظفر رحمان) کو چیلنج کرتے ہیں کہ وہ ستر مربعے، بارہ سو بھینسیں اور اپنی حویلی امل کے نام کر کے پیار کے سچے ہونے کا ثبوت دے سکتےہیں جس پر ہیروئن کو احساس ہوتا ہے کہ وہ جس کلاس فیلو سے شادی کرنا چاہتی تھی وہ تو اپنا ایک فلیٹ اس کے نام نہیں کر سکتا (کمال منطق ہے بھئی۔۔ شاید اسی کو سوشل سیکیورٹی کہتے ہیں شادی میں)۔

فلم آگے بڑھتی ہے اور کھگا گھرانے کی بہو ان کے تبیلے کو ڈیری فارم میں تبدیل کرنے کے مشن پر لگ جاتی ہے۔ یہاں بہرحال ایک پدر شاہی نظام کو چیلنج کرتی لڑکی دکھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ جس پر دادا سسر (سہیل احمد) اعتماد اور بھروپور مالی تعاون کرتا ہے جبکہ بدلے میں اس کے شوہر کا کردار ویسی ہی حرکات کرتے دکھایا گیا ہے جیسا کہ عموماً معاشرے میں ایسے چیلنجز کا سامنا کرتی خواتین کے شوہر کرتے ہیں۔ یہاں ایک ڈائیلاگ “پلیز ہیلپ می دردانہ۔۔” کو جس طرح بار بار فِٹ کر کے بےوفائی کرتے فواد کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے وہ دیکھنے والوں کو مسکرانے پر مجبور کر دیتا ہے۔ احمد بٹ نے ہمیشہ کی طرح ہیرو کے دوست نما اسسٹنٹ کا کردار اپنے مخصوص کامیڈی انداز میں نبھایا ہے۔ جو بعض جگہوں پر ماحول کا تناؤ کم کرنے میں اہم رہا۔ دردانہ کو ایک لائلپوری لڑکی دکھانے کی ناکام کوشش کی گئی ہے لیکن یہ کردار بھی خلاء کے ساتھ پیش کیا گیا جس پر بہت کام ہوسکتا تھا۔

Mehwish Hayatفلم کی موسیقی اچھی ہے۔ ایک گانے “مجھے رانجھا بنا دو ہیر جی” میں تو ہمایوں سعید نے فلم مجاجن  کی یاد میں کلائی میں گھنگھرو بھی باندھ لیے۔۔ لیکن کیا صرف گانوں پر فلمیں چلائی جا سکتی ہیں؟ جبکہ صورتحال یہ بنے کہ گانے نکال لیں تو ایک ٹیلی فلم یا عید پلے سے زیادہ کچھ معلوم نہ ہو (ظاہر ہے جب ڈرامہ آرٹسٹس ہی، خاص کر “ہیرو” وہ جس کو دیکھتے ہم بوڑھے ہو چلے، فلموں میں گُھسے ہوں گے تو عید پلے والی فیلنگ ہی آئے گی بھیا)۔ فلم میں مار کٹائی والے سین کافی “مزاحیہ” ہیں۔ انسٹرکٹر نے شاید ہمایوں سعید سے ہی ہدایات لے رکھی تھیں۔

اصل افسوس تو یہ ہے کہ ہمیں ڈرامہ سیریلز  “لنڈا بازار” اور “بوٹا فرام ٹوبہ ٹیک سنگھ” جیسے شاہکار دینے والے لکھاری خلیل الرحمٰن قمر صاحب نے اپنے مداحوں کے لیے سِکس سگما اور ندیم بیگ کے ہاتھوں سکرپٹ کا کچومر نکلوا لیا۔ جنہوں نے پنجاب اور خاص کر میرے لائلپور (فیصل آباد) کے نام پر وہی حشر نشر کرڈالا جو ندیم بیگ  فلاں کی آئے گی بارات اور ڈھمکاں کی آئے گی ڈولی  جیسے ڈراموں میں کرچکے تھے۔ اوور ایکٹنگ کی اوور ڈوز۔

Suhail Ahmad and Naveed Shahzadہم اس معاشرے میں اپنی ثقافت اور پہچان کے رنگوں کی عزت کروانے میں کوشاں ہیں جہاں رنگ، زبان، علاقے اور نسل کی بنیاد پر تقسیم گہری ہوتی چلی جا رہی ہے۔ ایسے میں آپ ٹوٹی پھوٹی انگریزی اور بناوٹی پنجابی لہجے کی اردو سے کسی کو پنجابی دکھا کر سینما میں “پینڈو ای اوئے” کی آوازیں لگواتے ٹھٹھا اُڑوا رہے ہیں اور ساتھ میں اس علاقے کی ثقافت کے نام پر وہی گھٹیا سوچ کی ترویج کر رہے ہیں کہ “پنجاب میں گھر گھر مجرے ہوتے ہیں”۔ جناب آپ کو تحقیق کرنے کی اشد ضرورت ہے کہ یہاں خوشیاں کیسے منائی اور غم کس طرح سہے جاتے ہیں۔ زندگی کا بڑا وقت لائلپور گزارنے والی بندی اب “پنجاب نہیں جاؤں گی” میں اپنے شہر سے منسوب ایسی لڑکیاں دیکھے جنہوں نے مینی کیور تو کیا نیل ایکسٹینشنز اور ہیر ڈو  کے ساتھ بھرپور میک اپ تھوپ رکھا ہو تو ہنسی ہی آئے گی۔ ہیر کا مزار کہاں ہے اور اس علاقے کا پہناوا کیسا ہے اگر علم نہ ہو تو ایک خوبصورت فلمی گیت کی پکچرائزیشن کا کچرا ہونا لازمی ہے۔ فیصل آباد کے کون سے گاؤں میں خواتین گھاگھرے پہن کر گھونگھٹ نکالے کنویں سے پانی بھرنے جاتی ہیں یہ معلوم کرنا بھی اب میری ہی ذمہ داری ہے۔ میک اپ سے لے کر لباس کے انتخاب تک میں آپ کو صرف  دو سے تین کردار ہی درست رنگ میں دکھائی دیں گے۔ نوید شہزاد (بی۔بو جی) اور سہیل احمد (دادا مہتاب کھگا) کی اداکاری ہمیشہ کی طرح اپنا رنگ جماتی دکھائی دیتی ہے۔

دوسری جانب “کراچی کی لڑکیاں ۔۔۔ محدود دماغ، تعلیم زیادہ” یا “دو نمبر عورتوں سے فون پر چیٹ” جیسے ڈائلاگز، خواجہ سرا کمیونٹی پر ستے جملے اور ان پر قہقہے لگاتے میرے ارد گرد بیٹھے فلم بین۔ رہی سہی کسر سارے سسرال کا خاموش بیٹھے رہنا جبکہ ہیرو رنگے ہاتھوں پکڑے جانے کے بعد بیوی کو تھپڑ رسید کر کے اپنی مونچھ کی شان میں گستاخانہ فقرے کا بدلہ لے۔۔۔ آپ ثابت کیا کرنا چاہ رہے ہیں؟ مردانگی کے جھوٹے پیمانے، بےحسی اور گھٹیا پن کو ہنسی میں اُڑا دینے کی روایت مزید پختہ کرنے میں حصہ دار بن رہے ہیں۔

cinepax“پنجاب نہیں جاؤں گی” ٹائٹل کو لے کر بھی اچھی خاصی بحث پڑھنے کو ملتی رہی جو کہ صرف اس لیے نظرانداز کرتی رہی کہ فلم دیکھے بغیر فیصلہ دینا مناسب معلوم نہیں ہوتا۔ اگرچہ تقسیم در تقسیم کے ماحول میں اس قسم کے عنوان تجویز کرنے والوں کو دو بار سوچنا چاہیے۔ آپ بزنس کر رہے ہیں اور کسی حوالے سے متنازعہ عنصر جو صارف کی دل آزاری یا خفگی کا باعث ہو کاروباری افراد کے مستقبل کے لیے اچھا نہیں ہوتا۔

فلم کے کچھ پہلو، معاون اداکاروں کے چند ڈائلاگز اور جھومتی موسیقی مجھے اس فلم کو پانچ میں سے تین سٹارز دینے پر مجبور کرتے ہیں۔ جبکہ ڈی۔ایچ۔اے کا Cinepax  سینما اپنے  بہترین ماحول  کے باعث ساڑھے چار سٹارز کا مستحق ہے۔

افشاں مصعب زندگی پر لکھنا پسندکرتی ہیں – سیاست ، سماجیات اور نفسیات ان کے پسندیدہ موضوعات ہیں – متعدد بلاگ پیجز پر ان کی تحاریر شائع ہو چکی ہیں – افشاں اسلام آباد میں مقیم ہیں

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. نجیب فیض کہتے ہیں

    انتہائی فضول تبصرے اور تجزیہ ایک انتہائی اچھی فلم پر۔ لگتا ہے یہ بلاگ کسی ذاتیات کی بنیاد پر لکھا گیا۔

  2. Reviewer کہتے ہیں

    You should only watch and review social films, actually you can dig something negative out of that as well I think…

  3. اسد جمیل کہتے ہیں

    میں نے دبئی میں فلم دیکھی افشاں نے جو جو باتیں لکھیں ہیں وہ اپنی جگہ ٹھیک ہیں لیکن مجھے انڈیا کی مسالا موویز سے کافی بہتر لگی اگر چہ اور بہتر بن سکتی تھی ہمیں اپنی فلم انڈسٹری کو وقت دینا ہو گا پھر ہی بہتری اے گی فل وقت مجھے پاکستان کی اس فلم انڈسٹری سے بہتر لگی جو بالی جٹی جیسی فلمیں بناتی تھی

  4. hamza کہتے ہیں

    we should not compare our movies with indian movies. one thing i want to say is that punjabi culture or culture in faisalabad is totly different from movie. “aye gi barat” is one of the same which wrongly spread pendu type image of faisalabad. i am from fsd and i really felt that

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.