گھڑیوں والی نہر

0 1,288

گھڑیوں والی نہر شہر اور مختلف قصبوں کو ملانے والی سڑک سے ملحقہ نہر ہے جس پر یہ چائے کا ڈھابہ ہے۔ شہر آنے جانے والے لوگ یہاں سے چائے پیتے اور نہر کا نظارہ کرتے ہیں جن میں بندہ سر فہرست ہے۔ چائے کا کپ اٹھائے میں نہر کے کنارے کی طرف جا ہی رہا تھا کہ میری نظر ایک نوجوان پر پڑی جو پانی کی طرف منہ کیے بیٹھا اپنی کلائی سے گھڑی اتار رہا تھا۔ شکل سے پڑھا لکھا لگ رہا تھا۔ اس کے لباس اور ساتھ پڑی فائلز سے ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے انٹرویو دے کر آیا ہو۔ جیسے ہی میں اس کے پاس پہنچا وہ گھڑی اتار کر نہر کی طرف لہرا رہا تھا۔ بنا سلام دعا کے میں اچانک بول بیٹھا کہ، گھڑی نہر میں پھینکنے لگے ہو کیا؟ اس نے میری طرف نہیں دیکھا بلکہ گھڑی کو گھورتے ہووئے کہنا لگا

“یہ سب وقت کی شرارت ہے۔ اگر یہ صحیح چل رہا ہو تو سب کچھ اپنے حق میں لگتا ہے اور اگر خراب ہے تو کچھ بھی ٹھیک نھیں۔ کیا تم نے سنا نہیں کہ فلاں کا وقت بہت اچھا چل رجا ہے اور وہ بہت عیش میں ہے؟ اور جب کسی پر سانحہ گزر جائے تو یہی سننے میں آتا ہے کہ بس وقت ہی خراب تھا”۔ اس نے لمحہ بھر میری طرف دیکھا اور گھڑی کو دیکھتے ہوئے بات جاری رکھی۔ “پارلیمنٹ میں بیٹھے ہوے اکثر ارکان کو جمہوریت کے concept کا پتہ بھی نہیں ہوگا کہ یہ آیا کہاں سے پر وہ بڑے دھڑلے سے سیاست کر رہے ہیں، کیونکہ ان کا وقت اچھا ہے۔ اور جو ان کے مقرر کردہ لوگ مختلف محکموں میں لگے ہوئے ہیں ان کا وقت بھی اچھا ہے چاہے انہوں نے کچھ بھی پڑھا ہواور جیسا بھی پڑھا ہو۔ بس وہ لگے ہوئے ہیں کیونکہ ان کے پاس ایک بڑی سفارش تھی۔ کیونکہ وقت ان کے حق میں ہے”۔ اس نے گھڑی انگلی پر رکھی اور نہر کے قریب کر دی، پانی اور گھڑی دونوں کو ایک ساتھ تکتے ہوے وہ بولتا چلا گیا۔

اس نے مجھ سے کہا، “کیا تم جانتے ہو نوکری کے لیے پیسہ، سفارش اور جان پہچان کے ساتھ وقت کا اچھا ہونا بھی لازمی ہے کیونکہ کئی سالوں میں ایک دفعہ کسی غریب نوجوان کو بنا کسی سفارش و زر کے نوکری مل جائے تو وہ اگلے کئی سالوں کے لیے ہم جیسے پڑھے لکھے نوجوانوں کے لئے ایک امید بن جاتا ہے کہ شاید ہمارابھی اچھا وقت آجائے”۔

اس نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا “جب ہم تعلیم حاصل کر لیتے ہیں تو ہمیں شعور آ جاتا ہے۔ پھر کسی برے کام کے لیے ضمیر نہیں مانتا ورنہ کچھ بھی الٹا سیدھا کر کے ہم اپنی مفلسی سے جان چھڑوا لیتے، ہماری تعلیم اور ہمارا شعور ہمیں کرپشن اور بدعنوانی کی اجازت نہیں دیتا، ہم اقبال کے شاہین ہیں ناامید نہیں ہو سکتے، ان وڈیروں جاگیرداروں کے اس ملک میں ہم جیسا متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والا اس سسٹم کو نہیں بدل سکتا”۔

اس نے ایک طرف سے گھڑی کو مضبوطی سے پکڑا اور قدرے سختی سے بولا “وقت دکھانے والی اس گھڑی کو ڈبو کر برے وقت کو مارنا چاہتا ہوں کہ شاید اگلی بار اچھا ہو کر آئے”۔ یہ کہتے ہوئے اس نے گھڑی کو زور سے نہر کی چھوٹی چھوٹی لہروں کے سپرد کر دیا۔ اس نے بنا میری طرف دیکھے فائلز اٹھائیں اور تیزی سے نکل گیا۔ میں اپنی ٹھنڈی چائے کو دیکھتا ہوا یہی سوچ رہا تھا کہ اس نہر کا نام گھڑیوں والی نہر ہونا چاہئے تھا۔

مصنف نے نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹر کی ڈگری حاصل کی ہے اور مختلف بلاگنگ سائٹس کے لئے بلاگز لکھتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.