نئی جنگی سائنس

0 3,537

چاروں طرف میدان مارنے والے بیرم خاں کی معزولی اور نئے حکمران اکبر کی اوائل عمری اور ناتجربہ کاری بھی مقامی حکمرانوں کے دل میں امید کی کوئی جوت نہ جگا سکی۔ اس لئے کہ میوات کے سوا سب رجواڑے ذہنی طور پر مغلوں کی برتری کو تسلیم کر چکے تھے۔ رانا سانگا اور حسن خاں میواتی کے بعد اب کسی کے پاس اتنی فوجی طاقت تھی، نہ ایسا اتحاد ممکن تھا۔ ایک لاکھ بیس ہزار کا لشکر لے کر بابر کے مقابل آنے والا رانا سانگا اپنے وارثوں کے لئے دربدری چھوڑ گیا تھا۔ اس کا بیٹا اودے سنگھ میواڑ میں اپنی طاقت جمع کرنے کی کو شش کر رہا تھا مگر اس کے پاس راجپوتوں کے غرور اور سرفروشانہ جذبے سے زیادہ کچھ اور نہیں تھا۔ اب تو جو جہاں سر پہ کلغی سجائے بیٹھا تھا، اپنی باری کے انتظار میں تھا۔ وہ چھوٹی چھوٹی ریاستیں جو دلی اور آگرہ کے زیادہ نزدیک تھیں، زیادہ پریشان تھیں۔ انہیں ہر وقت دھڑکا لگا رہتا۔

دشمن کی طاقت سے زیادہ آپس میں اقتدار کی کھینچا تانی ان کی اصل کمزوری تھی۔ آمیر کی ریاست میں بھارا مل کچھواہا حکمران تھا۔ اس کا بھتیجا سجاکی اکبر کے گورنر شرف الدین کی مدد سے اس کو اقتدار سے محروم کر کے اس کے خاندا ن کو برباد کر دینا چاہتا تھا۔ مارواڑ کا راجہ الگ جان کا دشمن تھا۔ کچھواہا کی چھوٹی سی ریاست میں چھوٹے چھوٹے شہزادے حکمران تھے۔ جن کی حالت عام جاگیرداروں سے بہتر نہ تھی۔ یہ حالات حکمران خاندان کے لئے گہری تشویش کا باعث تھے۔ ادھر اکبر کی حالت بھی زیادہ بہتر نہ تھی۔ اس کے دربار میں ترک، ازبک، مغل، پٹھان،ایرانی، شیعہ اور سنی ایک دوسرے پر بازی لے جانے کے شوق میں بادشاہی کے خواب دیکھ رہے تھے۔ بیرم سے چھٹکارے کے بعد کئی بغاوتیں ہو چکی تھیں۔ بادشاہ کی جان لینے کی کوشش بھی کی گئی۔ اکبر کی آیا ماہم انگا کا بیٹا ادھم انگا بھی بادشاہی کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اس کی ماں کا اکبر پر کافی اثر تھا بلکہ بیرم کے بعد وہی اکبر کی مشیر تھی۔ اکبر اپنی ماں حمیدہ بیگم سے زیادہ ماہم انگا کا احترام کرتا تھا اور ماہم آہستہ آہستہ اپنے پسندیدہ لوگوں کو اہم عہدوں پر لا رہی تھی۔ وہ اپنے بیٹے کو سب سے اونچا دیکھنا چاہتی تھی۔ اکبر نے بیرم سے نجات کے لئے جن لوگوں کی مدد لی تھی وہ اکبر کو کچھ اہمیت نہیں دیتے تھے۔ ان کو جس مہم پر بھیجا جاتا وہ فتح کے بعد وہاں خود مختار بن کے بیٹھ جاتے۔ نہ تو بادشاہ کو مال غنیمت بھیجتے اور نہ حالات کی پوری خبر دیتے۔ ادھم انگا اور اس کے نائب پیر محمد خاں نے جب مالوہ کے سوری حکمران باز بہادر کو شکست دے کر مالوہ کو فتح کیا تو اکبر کو مال غنیمت میں سے کچھ نہ بھیجا۔ اس کی بجائے ادھم انگا وہاں خود مختار بن کر بیٹھ گیا اور محل کو چکلہ بنا دیا۔ رانیوں اور خوبصورت عورتوں کو بے آبرو کرتا رہا۔ لوگوں پر ظلم کی انتہاء کر دی۔ فتح کے دن ادھم انگا اور پیر محمد خاں دونوں اپنے خیمے میں تھے۔ قیدی ان کے سامنے لا لا کر اس طور قتل کئے گئے کہ ان کا خون بہہ کر دریا کے پانی میں مل رہا تھا۔ مہر علی بیگ نے پیر محمد سے درخواست کی کہ باغیوں کے ساتھ جو مرضی سلوک کیجئے لیکن ان کے بیوی بچوں کو قتل کرنا عدل کے خلاف ہے مگر پیر محمد نہ مانا۔ سید اور دوسرے مذہبی بزرگ قرآن ہاتھوں میں لئے فاتحین کے استقبال کے لئے آئے تو ان کو قتل کر کے آگ میں جلوا دیا گیا اور ان کی اور دوسرے مسلمانوں کی بیگمات کو صندوقوں میں بند کر کے اجین اور دوسرے مقامات پر پہنچا دیا گیا۔ ادھم انگا نے باز بہادر کی محبوبہ روپ متی کی آبرو لوٹنا چاہی تو اس غیرت مند عورت نے اپنی زندگی ختم کر لی۔ اکبر کے بار بار کے احکامات کے باوجود وہ حاضر نہ ہوا اور مالوہ میں داد عیش دیتا رہا۔ باز بہادر کے حرم کی خواتین اور گویوں پر خود قبضہ جما کر بیٹھ گیا اور اکبر کے پاس صرف چند ہاتھی بھیجے۔ اکبر نے اچانک مالوہ پہنچ کر اسے سزا دینا چاہی مگر ماہم انگا کے کہنے پر چھوڑ دیا۔ ادھم نے اکبر کو باز بہادر کے حرم کی خوبصورت عورتیں پیش کیں۔ بادشاہ کو جو پسند آیا لے لیا اور واپس ہوا لیکن ادھم نے دو عورتوں کو چھپا لیا تھا۔ جب اکبر کو معلوم ہوا تو اس نے حکم دیا کہ ان عورتوں کو پیش کیا جائے۔ ادھم کی والدہ ماہم جو خیمے میں پہنچ چکی تھی، اسے خوف ہوا کہ اگر یہ عورتیں پیش کی گئیں تو دونوں اس کے بیٹے کی تمام برائیاں اکبر کو بتا دیں گی۔ لہٰذا اس نے انہیں چپکے سے قتل کرا دیا۔ اکبر نے وقتی طور پر اس ظلم سے چشم پوشی اختیار کی۔ وہ چھ جون 1651ء کو اڑتیس دن بعد آگرہ پہنچا۔ اکبر کو اپنے امراء پر بھروسہ نہیں تھا۔ اپنے وطن سے وہ مزید لوگ منگوا نہیں سکتا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک خیال آیا کہ ہندوستان میں راجپوت ہی وہ بہادر لڑاکا قوم ہے جس کے بل پر ہندو مقابل آتے ہیں۔ اگر کسی طرح انہیں ساتھ ملا لیا جائے تو محلاتی سازشوں سے بھی نجات مل سکتی ہے اور فتوحات کا سلسلہ بھی جاری رکھا جا سکتا ہے۔ وہ راجپوتوں کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھانا چاہتا تھا۔

ادھر ادھم انگا جیسے سالاروں کے کارنامے سن کر خاص کر دہلی اور آگرہ کے قریب واقع ریاستیں زیادہ پریشان تھیں۔ راجپوت ہی زیادہ تر حکمران تھے مگر ان میں اب بھی اکثر بے خوف تھے۔ جان پر کھیل جانا ان کے لئے کوئی مسئلہ نہ تھا اور عورتیں آبرو بچانے کے لئے رسم جوہر (آگ میں جل کر مر جانا) ادا کرتے ذرا نہ گھبراتی تھیں۔ دہلی اور آگرہ کے پڑوس میں آمیر کی ریاست پر ایک مدت سے کچھواہا راجپوت حکمران تھے مگر ان کی حالت کبھی اتنی خراب نہ تھی جتنی اب تھی۔ یہی وجہ تھی کہ جب اکبر اجمیر کے خواجہ معین الدین چشتی کے مزار کی زیارت کے لئے روانہ ہوا تو قرب و جوار کے رجواڑوں کے راجے مہاراجے یہ سمجھے کہ زیارت کا یہ بہانہ اس علاقے کی صورت حال کا جائزہ لینے کے لئے ہے اور اگلا شکار ان کی ریاستیں ہوں گی۔ آمیر کا راجپوت راجہ بھارا مل ایک غیرت مند بہادر حکمران تھا مگر اپنوں سا دوست نہیں تو اپنوں سا دشمن بھی نہیں ہوتا۔ اس کے اپنوں کی نگاہیں اس کی راجدھانی پر تھیں۔ دوسرے آمیر کی ریاست دہلی اور آگرہ کے قریب اور چٹیل میدان میں واقع تھی۔

لوگوں کی یہ رائے غلط نہ تھی کہ زیارت کے بہانے اکبر کا دورہ میوات کے علاقے کا جنگی نقطہ نگاہ سے جائزہ لینے کے لئے تھا۔ رانا سانگا کا بیٹا رانا اودے سنگھ میواڑ پر حکمران تھا۔ چتوڑ اس کی راجدھانی تھی۔ ایک بڑے حریف کے بیٹے کو اکبر کیسے نظرانداز کر سکتا تھا۔ محلاتی سازشوں کے باوجود مغل فوجیں ہر محاذ پر کامیابی حاصل کر رہی تھیں۔ بھارا مل نے سوچا کہ اگر میوات پر حملہ ہو گیا تو بہت دیر ہو جائے گی کیونکہ اس کے بعد اس کی حیثیت مفتوح کی ہو گی۔ ان تمام باتوں کے پیش نظر راجہ بھارا مل نے اس زیارت کے دوران ہی اکبر سے ملاقات کا فیصلہ کیا۔ اکبر نے گرم جوشی سے اس کا استقبال کیا۔ راجہ بھارا مل نے اپنی وفاداری کا یقین دلایا اور اکبر نے اس کے بیٹے جگن ناتھ اور اس کے دو بھتیجوں کو جو شرف الدین کے پاس بطور یرغمال تھے رہا کرنے کا حکم دیا اور انہیں آزاد کر کے بھارا مل کے حوالے کر دیا۔ یہ خیرسگالی بھارا مل کے دوستی کا ہاتھ بڑھانے کے جواب میں تھی۔

بھارامل خوش تھا کہ اس نے ایک جھٹکے میں سارے حریفوں کو چت کر دیا۔ کچھ دن ہی گذرے تھے کہ ایک دن اچانک اکبر کی طرف سے ہیرے جواہرات اور قیمتی تحائف کے ساتھ بھارا مل کی بیٹی راجکماری جودھابائی کے لئے رشتے کا پیغام آ گیا۔ پھر کیا تھا! راجپوت غیرت تمام خوف اور اندیشوں پر غالب آ گئی۔ بھارا مل نے تلوار کھینچ کر کہا، شادی کا پیغام لانے والے کی گردن کاٹ کر تحفوں کے ساتھ واپس بھیج دی جائے۔ بھارا مل کا بیٹا بھگوان داس اور پوتا مان سنگھ بھی غصے میں تھے مگر ان کے ذہن میں اس کے بعد بھی کچھ تھا۔ بھگوان داس نے اپنے بیٹے مان سنگھ کے مشورے پر ہاتھ جوڑ کر مہاراج سے بنتی کی کہ اس وقت سفیر کو واپس بھیج دیا جائے کہ ہم مشورہ کر کے جواب دیں گے تاکہ اس عرصے میں آنے والے حالات کے مطابق کچھ بند و بست کیا جا سکے۔ بہت سوچ بچار کے بعد بات یہاں پہنچی کہ حکومت جائے جان جائے مگر راجپوت کی آن نہ جائے۔ اکبر کے سفیر کو ناکام لوٹانے کے بعد اب مغل فوجوں کی آمد ہی گفتگو کا موضوع ہوتی۔ بھارا مل خاموش رہتا مگر مان سنگھ کا دماغ کوئی مناسب راہ کی ٹوہ میں تھا۔ وہ راہ اسے مل گئی۔ اس نے کہا، مغلوں کے راج محل میں ایک راجپوت عورت کی گود میں پلنے والا بچہ جب بادشاہ بنے گا تو راج محل کس کا ہو گا؟ راجپوتوں کے بھانجے کا یعنی راجپوتوں کا۔ بے تلوار چلائے اور بے خون بہائے تمام ہندوستان کی حکومت! بھگوان داس کو مان سنگھ کی یہ بات سمجھ آ گئی۔ بھارا مل اور راج کماری جودھا بائی نہ چاہنے کے باوجود ان کی بات مان گئے۔ راج کماری نے کچھ شرائط رکھیں جن میں محل میں ایک مندر اور پوجا پاٹ کی آزادی بھی شامل تھی۔ اکبر نے سب کچھ مان لیا۔ اسے گدی کے وارث کے لئے ایک بہادر قوم کی بیٹی کی آغوش مل گئی۔ فتوحات کے لئے بہادر راجپوتوں کی تلوار مل گئی اور محلاتی سازشوں سے نجات مل گئی۔ رانا سانگا کے وارث رانا اودے سنگھ کے بیٹے رانا پرتاب سنگھ کو جس لشکر نے شکست دی اس کی کمان مان سنگھ کے ہاتھ میں تھی۔ بہادر ہاڑاﺅں کو انہی راجپوتوں کے ہاتھوں شکست ہوئی۔ کچھواہا راجپوتوں کو مغل لشکر میں پنج ہزاری اور ہفت ہزاری کے بڑے مناسب مل گئے۔

ہندوﺅں بالخصوص راجپوتوں سے اکبر کے نرم سلوک کی ایک وجہ یہ تھی کہ اس کے حرم میں بہت سی ہندو راجکماریاں تھیں جن کو اجازت تھی کہ وہ محل کے اندر برملا اپنے مذہب کی پیروی کریں یہی رواداری کی پالیسی پورے ملک کے لئے اپنا لی گئی۔ اکبر نے یاترا ٹیکس اور جزیہ لینا بند کر دیا۔ اس نے ہر شخص کو اپنے عقیدے کے مطابق عبادت کرنے اور تبلیغ کرنے کی اجازت دی۔ اس نے ہندوﺅں کے مندروں، تعلیم اور ثقافتی اداروں کی تعمیر و قیام کے لئے مالی امداد دی۔ ہندو عبادت گاہوں سے ہر قسم کی پابندی ہٹا لی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہندوﺅں نے جا بجا مندر بنا لئے۔ ہندوﺅں کو اتنی مذہبی سہولتیں ہندو حکمرانوں کے دور میں بھی نہیں ملی تھیں۔ اکبر نے راجپوتوں کو اعلیٰ عہدوں پر فائض کیا اور ہندوﺅں کی طرح لباس پہننا اور تلک لگانا شروع کر دیا۔ وہ ہندوﺅں کے تہواروں میں شریک ہونے لگا۔ راجپوت شہزادیوں سے شادی کرنے کی وجہ سے اکبر کے محلات میں ہندوانہ رسوم و روج جاری ہو گئے۔ اس سلسلہ میں اکبر نے مسلمانوں پر بہت زیادتیاں کیں۔ ان کے تہواروں کو درخور اعتنا نہ سمجھا۔ اس کے برعکس ہندوﺅں کے تہواروں مثلاً راکھی، دیوالی، ہولی اور شیوراتری میں شرکت کر کے اور انہیں شاہی سرپرستی بخش کر مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی۔ ہندوﺅں کو اٹھایا۔ مسلمانوں کو گرایا۔ ہندو گائے کو مقدس جانور سمجھتے ہیں۔ اس نے ہندوﺅں کو خوش کرنے کے لئے نہ صرف گؤ کشی بلکہ بھینس کو بھی ذبح کرنا ممنوع قرار دے دیا اور وہ دن جن کو ہندو متبرک سمجھتے ہیں ان دنوں میں ہر قسم کے جانور کو ذبح کرنے پر پابندی لگا دی۔

اکبر کو اپنی حمایت میں بہادر راجپوتوں کی وہ تلوار مل گئی جس کی اسے خواہش تھی۔ 1567ء میں ہلدی گھاٹ کے قریب رانا پرتاب سنگھ جب مغل لشکر سے شکست کھا کر بھاگا تو مان سنگھ نے اس کا تعاقب نہیں کیا۔ اکبر اس بات سے مان سنگھ سے خفا ہوا اور اسے ہفتوں کے لئے دربار سے نکال دیا گیا۔ اکبر کو گمان تھا کہ مان سنگھ نے راجپوت ہونے کے ناطے ایک راجپوت سے رعایت کی ہے۔ مغلوں کے نام پر ہندوستان پر اصل حکومت راجپوتوں کی تھی۔

مان سنگھ کے رسا ذہن کی یہ چال انگریزوں کو بہت بھائی۔ انہوں نے اس میں تھوڑی سی تبدیلی یہ کی کہ وہ ہندوستان کے جن وطن پرستوں کو پھانسی دیتے ان کے بچوں کو تعلیم و تربیت کے لئے انگلینڈ بھیج دیتے۔ اس طرح انہوں نے دہرا فائدہ حاصل کیا۔ وہ بچے جب جوان ہو کر اپنے وطن واپس پہنچے تو ان کے دل میں انگریز دشمنی کے بجائے انگریز تہذیب کی محبت تھی۔ دوسرے آج وہ لوگ ہندوستان اور پاکستان میں مغرب کے نمائندوں کی طرح ہیں۔

انگریزوں کے بعد اس کلیے میں تھوڑی سی ترمیم کرکے یہودیوں نے اسے بڑے بھرپور طریقے سے استعمال کیا۔ کہتے ہیں 76ء کی عرب اسرائیل جنگ میں مصر کے ہر بڑے افیسر کے گھر میں ایک یہودی بیوی ضرور تھی جو ہر منصوبے اور ہر پلان کی خبر اسرائیلیوں کو پہنچا رہی تھی۔ اس کے بعد اس میں اور ترمیم کی گئی۔ وہ یہ کہ ایک یہودی لڑکی کی شادی کسی مسلمان لڑکے سے کر کے بیٹے پیدا کرو اور ان کی پرورش اپنے ماحول میں کرو اور ان کو اس ملک میں سپورٹ کر کے اعلیٰ عہدوں پر پہنچاﺅ۔ اس ملک پر بے لڑے قبضہ کرو۔ مرسی کی جمہوری حکومت کا بستر گول کرنے والا ایسا ہی ایک بچہ تھا۔ اس فارمولے کو اسلامی ملکوں میں بہت کامیابی سے استعمال کیا جا رہا ہے۔

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.