نجم سیٹھی بمقابلہ سنی لیون

26 9,519

جو شخص اپنی بساط اور ہمت سے بڑھ کر بڑا بول بولے تو پنجابی میں اسے کہا جاتا ہے کہ ‘بوہتا شوخا نہ ہو’۔ پڑوسی ملک کا ایک ٹی وی اشتہار ہے تمباکو نوشی کے خلاف، جس میں ایک بستر مرگ پر پڑے شخص کو دکھایا جاتا ہے۔ اس کی جان لبوں پر ہوتی ہے۔ اس سے آخری خواہش پوچھی جاتی ہے تو وہ اداکارہ سنی لیون سے بیاہ رچانے کی خواہش ظاہر کرتا ہے۔ جیسے تیسے تمام تر تدابیر کر کے بالآخر سنی لیون اس کی دلہن بن جاتی ہے۔ ڈرپ لگے دلہا کے پاس جونہی دلہن آتی ہے تو اسکی روح پرواز کر جاتی ہے۔ اور تمام تر بندوبست کے باوجود اس کی آخری خواہش بس ‘رسمی’ سی ہی پوری ہو پاتی ہے۔

2008 میں سری لنکن ٹیم پر حملہ ہوا تو پاکستان پر عالمی کرکٹ کے دروازے بند ہو گئے۔ پی سی بی کی جانب سے اعلانات کیے گئے کہ بند دروازے کھلیں گے۔ جیسے تیسے سات سال گزرے۔ 2015 میں زمبابوے نے دورہ پاکستان کیا۔ پھر 2017 میں پی ایس ایل فائنل لاہور میں ہوا۔ اور اب ورلڈ الیون دورہ لاہور پر ہے۔ بطور پاکستانی، راقم کو بھی خوشی ہے کہ عالمی کھلاڑی ہمارے میدانوں کی رونقیں دوبالا کر رہے ہیں۔ لیکن کچھ سوالات ہیں جو بلاوجہ ذہن میں گردش کر رہے ہیں۔ مجھے بچپن سے ہی کھیلوں میں بہت دلچسپی رہی ہے۔ مقامی اور سکول کالجز کی سطح پر کرکٹ ٹیم کا کپتان بھی رہا۔ بطور فاسٹ باؤلر بہت تیز رفتار تھا۔ جنون تھا۔ مئی جون کی گرمی میں دوپہر کو کرکٹ چل رہی ہوتی تھی۔ زمانہ طالب علمی میں قذافی سٹیڈیم میں درجنوں میچ  دیکھے۔ اور کئی مرتبہ ‘مفت ‘ میں بھی  میچ دیکھا۔ دس بارہ دوست موٹر سائیکلوں پر سوار ہوتے کبھی لوکل ٹرانسپورٹ کے ذریعے  گانے گاتے شور مچاتے سٹیڈیم پہنچ جاتے۔ ٹکٹ دکھا کر سٹیڈیم داخل ہوتے اور میچ انجوائے کرتے۔ جب ٹکٹ حاصل نہ کر پاتے تو گیٹ پر کھڑے سنتری بادشاہ کی منتیں کرتے کہ چچا  پیسے نہیں لیٹ ہو گئے ٹکٹ بھی نہیں۔ مہربانی سٹیڈیم میں جانے دو۔ ڈھیٹ بن کر کھڑے رہتے اور بالآخر سٹیڈیم میں داخل ہو ہی جاتے اور خوب نعرے لگاتے۔ میچ ختم ہوتا تو اسی طرح ہلہ گلہ کرتے واپس گھروں کو پہنچ جاتے۔

جس روز میچ ہوتا، لاہور میں میلے کا سا سماں ہوتا۔ ٹریفک رواں دواں ہوتی۔ سٹیڈیم کے گرد کھانے پینے کے ٹھیلے سجے ہوتے۔ اس روز لاہور میں عام دنوں سے زیادہ کاروبار ہوتا۔ اپنے اس ذاتی تجربے کو بتانے کا مقصد موجودہ ہونے والے میچز ہیں۔

پہلے زمبابوے آئی، پھر پی ایس ایل فائنل ہوا، اور اب ورلڈ الیون کے خلاف سیریز۔ اس قدر سکیورٹی کہ تفریح بھی اذیت بن گئی۔ لاہور کی آبادی تقریباً ڈیڑھ کروڑ ہے۔ یہاں آبادی کا اتنا رش ہے کہ سڑکیں 24 گھنٹے بھی ٹریفک سے بھری رہتی ہیں۔ 5 منٹ کے لیے ٹریفک جام ہو جائے تو کئی کلومیٹر لائن لگ جاتی ہے۔ مجھے ایک ضروری کام تھا، داتا دربار جانا پڑا۔ واپسی ڈیفنس کے قریب ہونا تھی۔ روٹ بند، ٹریفک جام، شہری اذیت سے دو چار۔ زمانہ طالب علمی کی آوارہ گردی کام آئی اور پتہ نہیں شہر کے کن کن علاقوں کی کون کون سی گلیوں اور چھوٹے راستوں سے ہوتا ہوا 4 گھنٹے میں منزل پر پہنچا۔ والدین کی فلائیٹ تھی۔ ان کو لینے کیلئے دوبارہ گھر سے نکلنا پڑا۔ ائیرپورٹ میرے گھر سے 10 منٹ کی ڈرائیو پر ہے۔ لیکن مجھے وہاں پہنچنے میں تقریباً 50 منٹ لگے۔

اس تمام دن میرا جتنا بھی سفر رہا، داتا دربار سے ڈیفنس کیلئے ملتان روڈ، اقبال ٹاؤن، گارڈن ٹاؤن، ماڈل ٹاؤن، مسلم ٹاؤن سے سمیت بہت سے علاقوں سے گزر کر جانا پڑا۔ راستے میں ہزاروں پیدل لوگ دیکھے، سینکڑوں ضعیف پیدل چلتے افراد دیکھے جو اپنے کام کاج سے فارغ ہو کر گھروں کو جا رہے تھے۔ میٹرو بس سروس بند کر دی گئی۔ عام ٹریفک کا حال برا تھا۔ کئی ایمبولینسز پھنسی ہوئی تھیں۔ اس سب صورتحال کو دیکھ کر صرف اور صرف نجم سیٹھی کا خیال آیا۔ اور ساتھ ہی ایک محاورہ ‘گناہ بے لذت’ بھی سمجھ میں آیا۔ ایک ایسی تفریح جس کیلئے ڈیڑھ کروڑ آبادی کو مشکل میں ڈال دیا گیا۔ نجم سیٹھی کہتے نہیں تھکتے کہ وہ عالمی کرکٹ پاکستان لے آئے ہیں۔ اگر اتنی ہی سکیورٹی دینی ہے اور شہریوں کو اذیت میں مبتلا کرنا ہے تو میں بھی کھلا چیلنج کرتا ہوں کہ میں دنیا کی کسی بھی ٹیم کو پاکستان لا سکتا ہوں۔ یہ کونسی بڑی بات ہے؟ ایک مخصوص علاقے کو سیل کر کے دنیا کو پیغام دے رہے ہو کہ دیکھو ہم کتنے پرامن ہیں۔ سب اچھا ہی اچھا ہے۔ اتنی زیادہ سکیورٹی تو خود اس بات کا ثبوت ہے کہ یہاں حالات خراب ہیں۔ دس سال سے باہر کھیل رہے ہو ٹی 20 چیمپئن بنے، ٹیسٹ ورلڈ نمبر ایک بنے، چیمپئنز ٹرافی کے چیمپئن بنے۔ سب باہر ہی کھیل کر حاصل کیا تو ایسی کون سی قیامت ٹوٹ پڑی ہے کہ اتنے غیر معمولی حالات میں مہمانوں کو پاکستان بلایا جائے؟ اگر بلا ہی لیا ہے تو کم از کم لاہور میں تعطیل کا اعلان ہی کر دیتے۔ سکول، کالج، بازار دفاتر بند ہوتے تو سڑکوں کی آدھی سے زائد ٹریفک کم ہو جاتی۔ پتہ نہیں کتنی ایمبولینسز میں کتنے مریضوں نے دم توڑا ہوگا، کون سا بوڑھا پانچ سے چھ گھنٹے پیدل چل کر گھر پہنچا ہوگا تو اگلے روز اس میں دیہاڑی کی ہمت ہوگی بھی یا نہیں۔

اللہ کرے پوری سیریز خیر و عافیت سے مکمل ہو۔ لیکن خدا نہ کرے اگر کوئی دہشتگردی کا واقعہ ہو جائے تو رہی سہی عزت بھی خاک میں مل جائے گی۔ جب ہم کو پتہ ہے کہ ہمارے حالات ٹھیک نہیں، ہماری فورسز دہشتگردوں کو انجام تک پہنچا رہی ہیں، اب تو گنتی کے دہشتگرد رہ گئے ہیں تو کیوں نہ ان کے بھی خاتمے کا انتظار کر لیا جائے؟ کیوں نہ ایک بار پھر وہی ہو کہ جس روز میچ ہو ایسے ہی طالب علم موٹرسائیکلوں اور لوکل ٹرانسپورٹ میں سوار ہو کر سٹیڈیم پہنچیں۔ ویسے ہی سٹیڈیم کے باہر ٹھیلوں سے چیزیں کھائیں۔ ویسے ہی اسٹیڈیم میں بلا خوف و خطر نعرے بازی کریں۔ اور سب سے بڑھ کر جب قذافی سٹیڈیم کے اندر میچ کھیلا جا رہا ہو تو کچھ قدم دور مین روڈ پر ویسے ہی ٹریفک رواں دواں ہو۔ شہریوں کو کسی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

نجم سیٹھی کو ایک سیریز کے لیے ملک کے ہر ادارے نے ہر سہولت دی۔ مگر اس کے باوجود وہ کریڈٹ اکیلے لیتے ہیں۔ اتنی سہولیات دو تو گلی کی نکڑ میں کھڑا نکما شخص بھی عالمی کرکٹ پاکستان میں بحال کرا سکتا ہے۔ نجم سیٹھی کو اتنی سہولیات ملیں مگرمقصد پھر بھی پورا نہ ہو سکا۔ تفریح اتنے حصاروں اور قیود میں نہیں ہوتی۔ اتنی سہولیات کے باوجود عین ٹائم پر داغ مفارقت۔ میرے ذہن میں اداکارہ سنی لیون کا اشتہار گھوم رہا ہے اور ساتھ ساتھ نجم سیٹھی کی تصویر بھی۔ خوشی تو ہے کہ میدان پھر سے آباد ہیں۔ لیکن سوالات بھی اپنی جگہ۔

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

26 تبصرے

  1. ma chaudhary کہتے ہیں

    Bohat khob kaha. Tmasha bannain aur bananain se achh ha cricket jahan ho sakti hay wahen karai jai na k lgon ko aziyat aur pakistan ki izat ko dao per lagaya jai.

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      چودھری صاحب شکریہ

  2. سجیل کہتے ہیں

    انتہائی گھٹیا تجزیہ۔ پتہ نہیں اتنا برا اخبار اور ایسی چھوٹی سوچ پر مبنی تحریرکیسے چھاپ دیتا ہے۔ افسوس

  3. سجیل کہتے ہیں

    اس بندے کو اتنا نہیں پتہ کہ فرانس اور انگلینڈ میں کلب لیول فٹبال کی سیکورٹی کتنی ہوتی ہے۔ فرانس میں فٹبال میچ کے دوران دھماکہ ہوا اور اگلا میچ فوج کی سیکورٹی میں ہوا ۔ بھائی تھوڑا جنرل نالج ہی بڑھا لو اگر بلاگ ہی لکنے ہیں تو۔

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      سجیل صاحب میں آپ کی طرح کی زبان استعمال نہیں کرنا چاہتا ۔ دنیا نیوز ایک بڑا ادارہ ہے اسی لیے اس نے آپ کا تبصرہ بھی شائع کر دیا ہے ۔ اور میری درخواست ہے آپ کالم کو دوبارہ پڑھیں ،۔ جس چیز کو آپ نے اجاگر کیا ہے ۔وہ میرے کالم میں دور دور تک نہیں ہے ۔ کرکٹ سمیت کوئی بھی مقابلہ ہو یا کوئی بھی عالمی شخصیت ہماری مہمان بنے تو اس کوناصرف سکیورٹی بلکہ اچھی سکیورٹی فراہم کرنا ہمارا فرض ہے ۔ لیکن اس سے کاروبار زندگی کو مفلوج نہں ہونا چاہیئے ۔ آپ یورپی کلب میچز کی مثال دے رہے ہیں ۔ میں نے دنیا کے متعدد ممالک گھومے ہیں اور خوش قسمتی سے ٹینس ، فٹبال سمیت کئی مقابلے بھی اسٹیڈیم میں دیکھے ہیں ۔ وہاں بھی سکیورٹی ہوتی ہے ۔لیکن اندر میچ چل رہا ہوتا ہے اسی اسٹیڈیم کے باہر زندگی اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ جاری رہتی ہے ۔ اس میچ سے باقی شہریوں کی زندگی متاثر نہیں ہوتی ۔ دوسرے کے کہنے سے سوچ چھوٹی بڑی نہیں ہوتی ۔الفاط اور لہجہ بتا دیتا ہے کہ چھوٹی شخصیت کون ہے اور بڑا کون ۔ امید ہے آپ دوبارہ کالم پڑھیں گے اور اس کے مرکزی خیال کو جان پائیں گے ،شکریہ

  4. Mansoor کہتے ہیں

    Responsibility of the Najam Sethi is to ensure the security of international teams on the behalf of Police/Army. If ISPR is saying that we are in the position to conduct Match in Karachi, Peshawar, even in FATA. Then there is no need to blame Najam Sethi. At least we have to have believe on security agencies.

    HAFEEZ (ALLAH) kee zath hay. Hope for a best, say Ameen, and please avoid to relate with these kind of personalities (Sunny Leon), because if anything happens blame goes to ……………………

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      منصور صاحب آپ درست فرما رہے ہیں کہ سکیورٹی فراہم کرنا نجم سیٹھی کی ذمہ دار ی نہیں ۔اس کا کام تو صرف ٹیم پاکستان میں لانا ہے ۔ سکیورٹی کی ذمہ داری تو حکومت کی ہوتی ہے ۔ لیکن اسی طرح ہے ایک آدمی کے گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو اور وہ مہمان کو گھر دعوت پر بلا لے ۔ کچن میں کچھ نہیں ہو گا تو بیوی یا اہل خانہ کیا پکائیں گے ۔ اس پر بھی کہنا پڑے گا کہ کھانا پکانا تو بیوی کی ذمہ داری ہے شوہر تو مہمان بلائے گا ہی ،۔ حالانکہ پہلے کچن میں چیزیں فراہم کرنا شوہر کی ذمہ داری ہے ۔جناب نجم سیٹھی کو بھی اسی طرح گھر کے حالات معلوم ہونے چاہییں ۔ کہ پہلے سکیورٹی صورتحال بہتر ہو جائے تب ٹیم بھی بلا لیں ۔

  5. ذیشان ککے زئی کہتے ہیں

    ‘گلی کی نکڑ میں کھڑا نکما شخص’ میں کھڑا شخص تجزیہ کرے تو ایسی ہی بے پر کی ہانکتا ہے۔ خود آپ جیسے لوگوں سے ایک دوستوں کا بار بی کیو ارینج نہیں ہوتا، باتیں کروا لو ورلڈ الیون کی۔ اگر واقعی پانی ہے آپ میں تو نجم سیٹھی کو نہیں، ان کا موازنہ کریں سنی لیون سے جو پورا لاہور بند کروا کے کہتے ہیں ہم نے سکیورٹی دی۔ سستے لکھاری، جہانگیر ترین کے پالتو۔

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      ذیشان صاحب آپ پٹھان ہیں اس لیے کہہ رہا ہوں کالم دوبارہ پڑھیں ۔میرا خیال ہے کہ آپ کو کالم سمجھ نہیں آیا کہ اس میں لکھا کیا ہے ۔اور دوسری بات یہ کہ میرا جہانگیر ترین سے یا کسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ۔آپ دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ بے پر کی ہانکتا ہے ۔اور جہانگیر ترین کا حوالہ آپ اس طرح دے رہے ہیں جیسے میری اور جہانگیر ترین کی ملاقاتوں کی تصاویر آپ کے پاس محفوظ ہیں ۔ بہرحال کالم پڑھنے کا شکریہ ،۔مجھے زیادہ خوشی ہوتی اگر آپ کالم سمجھ کر پڑھتے

      1. ذیشان ککے زئی کہتے ہیں

        اب آپ نے racist بات کر دی۔ میرے بھائی، کوئی پڑھ لکھ لو تھوڑا بہت، اس میں کچھ نقصان نہیں ہے۔ آپ بے پر کی ہانکو تو دنیا نیوز نوکری پر رکھ لیتا ہے۔ ہم آپ کی بونگیوں پر آپ کو بے نقط سنا دیں تو پٹھان۔ آپ کے پاس کیا ثبوت ہے کہ گلی کی نکر پر کھڑا آدمی یہ ٹورنامنٹ کروا سکتا ہے؟ تعلیم تو آپ نے حاصل کر لی کہ وہ فیس دو تو مل جاتی ہے۔ کہیں سے کوشش کر کے عقل کی جگاڑ بھی لگا لیں تو شاید قارئین کو آئندہ ایسی واہیات تحاریر پڑھنے کو نہ ملیں۔

  6. گلاب دین کہتے ہیں

    !تو تم کروا لیتے نا ٹورنامنٹ
    دو ٹکے کی قابلیت اور اہلیت نہیں ہے تمہاری اور چلے ہو سیٹھی پہ تنقید کرنے

  7. Muhammad Aaqil کہتے ہیں

    No my friend. It’s big achievement. No one was ready to come. His cradet is to convince players to come Pakistan which is not easy in present circumstances.

    1. Guddu کہتے ہیں

      Great slap

  8. NAJEEB کہتے ہیں

    IN PUNJABI IT IS CALLED..KHHUCH MARNA…IS BANDAY NA TAJZIAY MA BAHUT BARRI KHUUUCHHAIN MAARI HAIN OR AJEEB BAAT HAY IS KO DUNYA NEWS NA SPACE DI..SARA COUNTRY 1 TARAF HAY R YE SAHAB -VE APPROACH K SATH 1 TARAF….AJJJJEEEEBBB

  9. Sharif Chaudhry کہتے ہیں

    You are more stupid than my imagination. Try to understand the fruits of these matches. These are connection to outside world.

    You need to tell people around the world that Pakistan is safe-at any cost.
    There is no foreign investment.
    There is no travel industry left.
    Businessman is scared to come to Pakistan.

    These matches give Pakistan an exposure. Teams will start coming. Ordinary people will start coming too.
    I have so many friends who don’t go to Pakistan and even if they go, they go on v small trips.

  10. Guddu کہتے ہیں

    Yaar jab cricket nayhi hoti to aap loog kehta ho hakoumet ki nakami or jab hoti ha tab aap ko takleef hoti ha hum pakistani koom kasi koom hein ager eak din zara takleef ho hi gai ha to kon sa asmaan tout parra ha na shukra ba sharam na bano wasa aap loog india or Bangladesh dubai jatay ho hazaro ki taddad ma or siwa dubai ka india or Bangladesh ma wo humare kuttay jasi halat kertay hein or hum boal bhi nayhi sakta q ka wo humare country nayhi or jab humare country ma eata hein tab aap jasa 2 takkay ka loog hum logo ko phir bherkata ho ka hum hamasha na shukra hi rahein jec na ya kalim likha ha oc ka liya bus itna hi kahoun ga ager zindage ma kamiyaab nayhi ho sakta to ec ka matlab ya nayhi apni nakami ka badla Pakistan ka logo mein fitna bana ker na lo you should shame on yourself

  11. Mirza Jutt کہتے ہیں

    فٹے منہ چاچا تیرا جیسا تیرا اندر سڑیا ہویا انج دا گھٹیا تجزیہ دیتا

  12. Aitezaz Shah کہتے ہیں

    INTERNATIONAL CRICKET ka wapis ana hamarey liye bohat bari kamiyabi hai…….magar mere khayal se logon ko aziyat di gayi hai transportation band kr ke…..app match krwao full security mein magar aik metro bus jo ke aik route ke andar hi chal rhi hai bhala uske chalne se match mein kya effect ho jana usko band krna aik bewakoofi hai……..har jagan traffic block har jagan GAJJUMATA SE LE KR QADAFFI TAK traffic ka rush……. agar is tarah hone lga to jab yahan test match ho gaa 5 days kaa to kya har waqt aise hi logon ko aziyat pohanchayi jaye gi…..najam sethi aur armed forces credit ke haqdaar hain magar meri nazar mein agar najam sethi 100 ache kaam bhi kr leee magar wo merit pr nhi hai ……jab tak is PAKISTAN mein merit ka nizaam nhi aye gaa tab tak logon ka haq marta rhe gaa…….anyway PAKISTAN mein cricket wapis ayi achi baat hai magar itni hype create kr dena metro bus band krna traffic wardens ki shortage hona aik boohraan ki nishandehi hai…

  13. talha کہتے ہیں

    This is unblievable that dunya news let’s these idiots write columns. PTI followers just make sure to damn everything government does. Najam sethi might not be a perfect person but his few achievements are to make Pakistan # 1 team in test, host psl final here, winninig icc champion trophy and now this. This unbelievably shallow minded person is damning this. You are nothing but sick minded anti government so called pseudo intellectual. Jissay ghar main koi doosri baar saalan nahi poochta.

  14. Muhammad Sohail کہتے ہیں

    Asslam-o-alaikum
    Main is wqt Paris main hn or merey ghar ki khirki se Stad De france(international Football Stadium) nzr aata h, yahan ab jb b match ho wahan stadium k pas se kch b ni guzar skta Police hoti h or bus Car sb band. ye itni jahalat ki misal di is admi ne k mn cmnt likhny pe majboor ho gya, bhai jb France jesay mulk mn security itni sakht h to hum q ni kr skty ?
    hmaian khushi h najam sethi shb ki wjha se unho ne bt mehnt ki, political issues ko side pe rkh k ye unka sb se bra kam h.
    Pakistanio ko khush kiya is se ba kya kaam. jin ko thori c takleef hoi unko mn sorry kehta hn lkin ye kalam nigar bht gatiya soch ka malik h.

  15. pakistan کہتے ہیں

    totally wrong and fazool column, credit should be given to any person if he do some good job. not every time criticism without any reason,
    shame on you………….

  16. Pakistan کہتے ہیں

    this fazool columnist should be removed from dunya news,

    Dunya news please take notice of this………..

  17. arshad javaid کہتے ہیں

    Good column, jo log column par criticize kar rahe he agar ye log match walay din traffic jam me phanse ho to enhe pata chalta.

    1. محمد علی میو کہتے ہیں

      السلام علیکم ! کالم پر تفریف اور تنقید ہر شخص کا حق ہے ۔تنقید کرنے والے دوست شاید کالم کے مرکزی خیال کو نہیں سمجھ سکے ۔ اور غالبا جو بھی تنقید کر رہے ہیں ان میں سے کسی کا تعلق لاہور سے نہیں ۔اسی وجہ سے وہ حقائق سے آگاہ نہیں ۔ میچ کرانا بری بات نہیں ، اس کے درست انتظامات نہ کرنا بری بات ہے ۔ تین روز لاہور میں نظام زندگی مفلوج رہا ۔ ٹریفک کے پلان پر عمل درآمد نہ ہوسکا ۔ میچ کرایا جائے ہر روز کرایا جائے مگر سکیورٹی کے نام پر لوگوں کا استحصال نہ کیا جائے ۔ اور صرف ٹریفک ہی نہیں ۔کاروبار بھی بری طرح متاثر ہوا ۔ فی میچ صرف گلبرگ میں 10ارب روپے کا تجارتی نقصان ہوا ۔ اب پورے لاہور میں اندازہ کر لیں کس قدر تجارتی نقصان ہوا ہو گا ۔ تنقید کرنے والے دوست جذباتی ہو رہے ہیں ۔ اگر آپ گوگل کر لیں گے تو اندازہ ہو جائے گا ۔ میچز کی وجہ سے لاہور میں کون کونسی سرگرمیاں متاثر ہوئیں ۔ لبرٹی کے بڑے تاجر سے لیکر بس سٹاپ پر کھڑے دیہاڑی دار تک ہر شخص متاثر ہوا تھا ۔ اور کالم کا بنیادی مقصد یہ نہیں تھا کہ میچز کیوں کرائے گئے ۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ آئندہ میچز کرائے جائیں تو اب ہونے والی غلطیوں ، کمی ، اور کوتاہیوں پر قابو پایا جائے ۔

  18. امن نعمان کہتے ہیں

    بات کسی حد تک درست ہے،،لیکن ہم لوگ نہ جانے کیوں تنقیدی ہوجاتے ہیں،،کسی بھی معاملے کا دوسرا رُخ دیکھنا قبول نہیں،،دوسرے کی رائے کو بھی مقدم سمجھنا چاہیئے،،،امن نعمان

  19. امن نعمان کہتے ہیں

    علی میو نے نجم سیٹھی کی “میں ” کو اچھے انداز میں پیش کیا،،وہ صرف اپنے آپ اور اپنے اردگرد والوں پر ہی زور دیتے ہیں،،سب کو معلوم ہے وہ کس نظریئے کے پروردہ ہیں،،کرکٹ کیلئے کچھ کرتے ہیں،،تو تاثر یہی ہوتا ہے ان سے زیادہ کوئی اس کھیل کا خیر خواہ نہیں،،ایسا نہیں ہے،،
    امن نعمان

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.