پسنی فش ہاربر کی عدم بحالی

0 1,771

پسنی ماہی گیروں کی ایک قدیم بستی ہے، جو ماضی میں مکران کا تجارتی گیٹ وے تھا۔ یہاں بحری جہازوں کے ذریعے سے ایکسپورٹ اور امپورٹ کا کاروبار ہوا کرتا تھا۔ ساحل کنارے آباد یہ بستی اب ایک شہر بن چکی ہے۔ پسنی میں 90 فیصد افراد کا روزگار سمندر سے منسلک ہے۔

ماہی گیروں کی سہولت کے لئے پی پی پی کے دور حکومت میں فش ہاربر بنایا گیا تھا۔ 56 کروڑ کی لاگت سے تعمیر ہونے والا پسنی فش ہاربر جس کا افتتاح اس وقت کی وزیرِ اعظم شہید بے نظیر بھٹو نے 4 اپریل 1989ء کو کیا تھا۔ مقامی لوگوں کے روزگار کے تحفظ کی ضمانت کے لئے بنائے گئے اس فش ہاربر کی تعمیر ایک جرمن کمپنی نے کی تھی۔ تعمیر کے بعد اس کے انتظامی اور مالی اختیار پسنی فشریز ہاربر اتھارٹی کے نام پر ایک صوبائی اتھارٹی بنا کر اس کے سپرد کر دیے گئے۔ پسنی فش ہاربر ماضی میں ایک منافع بخش ادارہ تھا، جہاں وہ ریونیو اور ٹیکس کی مد میں ماہانہ لاکھوں روپیے کماتا تھا کیونکہ مچھیلوں کو اتارنے کے بعد مول میں مچھلیوں کی نیلامی ہوتی تھی جہاں دو فیصد ٹیکس ہاربر اتھارٹی کو ملتا تھا۔

اب پسنی فش ہاربر کی بندش سے یہاں مچھلیوں کی لینڈنگ نہ ہونے سے اتھارٹی کو ماہانہ لاکھوں کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ پسنی فش ہاربر کی تعمیر کے بعد یہاں آئس فیکٹریوں کے ساتھ ساتھ فش کمپنیوں کا قیام عمل میں لایا گیا، جس سے روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوئے۔ مکران اور اندورن سندھ سے سینکڑوں افراد حصول روزگار کیلئے پسنی آئے۔ خوشحالی اور ترقی کا یہ سلسلہ اس وقت ماند پڑ گیا جب 2006ء میں پسنی فش ہاربر عدم ڈریجنگ کی وجہ سے کھنڈرات میں تبدیل ہوتا گیا ہے اور یہاں سے ماہی گیروں کی مشکلات کا آغاز شروع ہوا۔

پسنی فش ہاربر کی بحالی کے حوالے سے مختلف ادوار کے حکمرانوں نے دعوے تو کئے، مگر ہاربر کی مکمل بحالی اب تک سوالیہ نشان بنی ہوئی ہے۔ مختلف ادوار میں پسنی فش ہاربر کی بحالی کے لئے کروڑوں روپیے خرچ تو ہوئے، مگر اس کے ثمرات یہاں کے ماہی گیروں اور سرمایہ کاروں تک نہ پہنچ سکے۔ حالیہ دور حکومت میں پسنی فش ہاربر کی بحالی پر کافی کام ہوا۔ ماہی گیروں کے مطابق صرف چند ماہ کے لئے پسنی فش ہاربر بڑی کشتیوں کے لئے بحال ہو گیا تھا لیکن کام کو پایہ تکمیل تک نہ پہنچانے کی وجہ سے اب پھر بڑے کشتیوں کا یہاں لنگر انداز ہونا ناممکن ہو گیا ہے جبکہ بریک واٹر کا کام بھی تاخیر کا شکار ہو کر ابھی تک شروع نہیں ہوسکا ہے۔ پسنی فش ہاربر سے اس وقت چار سے پانچ لاکھ افراد براہ راست یا بالواستہ روزی روٹی کما رہے ہیں  لیکن ہاربر کی بندش سے پسنی کے کشتی مالکان عارضی طور پر “پسنی ھور”میں لینڈنگ کرتے ہیں جو کہ ایک ماہی گیر فضل کے مطابق لینڈنگ کے لئے کافی غیر محفوظ ایریا ہے کیونکہ ھور میں لینڈنگ سے کئی کشتیاں ٹوٹنے سے ان کے مالکان لاکھوں کا نقصان اٹھا چکے۔ اس صورتحال کی وجہ سے اب لانچ مالکان پسنی میں لینڈنگ کے بجائے کراچی اور گوادر بندرگاہوں کا رخ کرتے ہیں۔

مقامی آئس فیکٹری مالک اور سی فوڈ کے بزنس سے منسلک شربت گل نے اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہا کہ پسنی فش ہاربر کی عدم بحالی سے علاقے کی معاشی سرگرمیاں ماند پڑ چکی ہیں، جس سے مقامی سرمایہ کاروں کو سالانہ لاکھوں روپے کے منافع سے محروم ہونا پڑ رہا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پہلے کشتی مالکان یہاں مچھلیوں کی لینڈنگ کرتے تھے جس سے بیوپاریوں کو فائدہ ہوتا تھا لیکن اب چونکہ لانچ اور کشتیاں گوادر اور کراچی میں لینڈنگ اور لوڈنگ کرتی ہیں اس لیے پسنی کے برف کارخانوں، فش بزنس مینوں اور دکانداروں کو نقصان کا سامنا ہے۔ شربت گل کا کہنا کہ یومیہ اجرت سے کام کرنے والے مزدور بھی ہاربر کی عدم بحالی سے معاشی حوالے سے پریشان ہیں۔

ایک مقامی ماہی گیر رہنما کا کہنا ہے کہ پسنی کے لوگوں کا واحد ذریعہ معاش فش ہاربر ہے جس کی عدم بحالی سے شہر کے ماہی گیروں سمیت دیگر لوگ بھی متاثر ہیں۔ ان کا کہنا کہ ہاربر کی دوبارہ بحالی اشد ضروری ہے۔ بلوچستان کی موجودہ مخلوط صوبائی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد پسنی فش ہاربر کی مکمل بحالی کے اعلان کے ساتھ ایک ڈریجر مشین بھی خریدنے کے دعوے کئے تھے، مگر اب تک یہ وعدے وفا نہیں ہو سکے۔ مقامی ماہی گیر گلہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ موجودہ حکومت نے صرف عارضی طور پر چند ماہ کے لئے پسنی فش ہاربر کو بحال کیا، مگر اب دوبارہ ہاربر مٹی میں دھنس جانے کی وجہ سے جے ٹی کے چینلز بڑے کشتیوں اور لانچوں کے لئے پھر بند ہو چکے ہیں۔

مقامی ماہی گیر اسے غلط پلاننگ کی وجہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ بریک واٹر کی کام کو مکمل کر کے ہاربر کی ڈریجنگ کے لئے مستقل ڈریجر مشین لائی جائے جو کہ وقتاً فوقتاً ڈریجنگ کرتا رہے۔ چھوٹی کشتیاں پسنی ھور میں مچھیلوں کی لینڈنگ کرتی ہیں، اس کے بعد انھیں دوبارہ سمندر میں جانے کے لئے برف، راشن اور ڈیزل کی لوڈنگ سے اضافی اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں۔ کشتی مالک عبدالحکیم کا کہنا ہے کہ پسنی فش ہاربر کی عدم بحالی کی وجہ سے ہم گوادر بندرگاہ میں مچھلیوں کی لینڈنگ کرتے ہیں کیونکہ پسنی ھور چونکہ محفوظ ایریا نہیں، یہاں پانی کے کم دباؤ سے کشتیاں پھنس جاتی ہیں۔ مقامی ماہی گیروں کا کہنا ہے کہ پسنی فش ہاربر کی بحالی کا کام دوبارہ شروع کیا جائے اور ایک ڈریجر مشین خرید کر اسے ہاربر کی صفائی کے لئے مخصوص کیا جائے جو ہر وقت ہاربر کی صفائی کے عمل کو جاری رکھے تا کہ ماضی کا یہ منافع بخش ادارہ پھر بحال ہو سکے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.