ایچ ای سی کے پندرہویں یوم تشکیل اور اس کی ناکامیوں کا ڈھیر قوم کو مبارک ہو

0 2,213

سب سے پہلے تو اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روز گار لاکھوں نوجوانوں اور بالخصوص وہ پی ایچ ڈی ڈاکٹرز جو گزشتہ کئی روز سے نوکریوں کے لئے سراپا احتجاج ہیں، ان کو آج 11 ستمبر کو ہائر ایجو کیشن کمیشن کے پندرہ سال مکمل ہونے پر بہت بہت مبارکباد پیش کرنا چاہوں گا اور خیالی طور پر پندرہ پاؤنڈ کا کیک پندرہ موم بتیوں کو بجھاتے ہوئے کاٹ کر ان تمام حضرات میں تقسیم کرنا چاہوں گا جو ہائر ایجو کیشن کمیشن سے مستفید ہوئے کیونکہ ان کا اس ادارے سے استفادہ ایسے ہی ہے جیسے کسی نے شیر کے منہ سے شکار چھین لیا ہو اور ایسا میں اس لئے کہہ رہا ہوں کہ آڈیٹر جنرل پاکستان کی ایک رپورٹ کے مطابق کوئی ٹھوس حکمت عملی نہ ہونے کے باعث ایچ ای سی ترقیاتی کاموں کے لئے مختص شدہ وہ فنڈ بھی صرف اکیس فیصد ہی خرچ کر سکی جو اس کے اپنے خزانوں میں پڑا تھا، لہٰذاٰ وہ ادارہ جو اپنا ہی فنڈ استعمال نہ کر سکے اس سے خیر کی کیا امید؟

ایچ ای سی کی تشکیل کو پندرہ سال تو ہو گئے ہیں لیکن ایچ ای سی تاحال ان تمام منصوبہ جات پر مکمل عمل در آمد میں ناکام ہے جن کے نام پر ہر سال اربوں روپے کے فنڈز جاری ہوتے ہیں۔ آپ سب سے پہلے جامعات کی رینکنگ کو ہی لے لیجئے۔ ابھی کچھ روز پہلے ہی برطانیہ کے ایک ادارے ٹائمز ہائر ایجوکیشن کی جانب سے جاری رینکنگ کے مطابق پاکستان کی صرف 3 جامعات دنیا کی بہترین 1000 جامعات میں جگہ بنا سکی ہیں جبکہ پہلی 500 میں صرف ایک قائد اعظم یونیورسٹی شامل ہے اور یہ بات بھی ہم سب جانتے ہیں کہ قائد اعظم یونیورسٹی نے یہ مقام اپنے دم پر حاصل کیا ہے۔ ہائر ایجوکیشن کمیشن کو اعلیٰ تعلیم کی اس تنزلی کا ذمہ دار ہم اس لئے بھی کہہ سکتے ہیں کہ اس ادارے کی تشکیل کا بنیادی مقصد ہی اعلیٰ تعلیمی اداروں کی معاونت تھاجس میں یہ ادارہ گزشتہ کئی سال سے مسلسل ناکام ہو رہا ہے۔

ایچ ای سی کے پندرہویں یوم تشکیل کے حوالے سے روزنامہ دنیا میں ایک خبر شائع ہوئی ہے جس میں ایچ ای سی کی ناکامیوں اور اسے درپیش مسائل کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ایچ ای سی کی پالیسیاں اور انتظامی امور کے لئے ایک 18 رکنی گورننگ بورڈ بنایا جاتا ہے جس کی تشکیل کا عمل گزشتہ چار سال یعنی جب سے موجودہ چیئرمین ڈاکٹر مختار نے اس منصب پر فائز ہیں تب سے رکا ہوا ہے، اور وہ تمام فیصلے جو 18رکنی گورننگ بورڈ نے کرنے ہوتے ہیں آج کل انفرادیت کا شکار ہیں جو ایچ ای سی کی بربادی کا ایک بڑا سبب ہے۔

ماہرین تعلیم نے ہائر ایجو کیشن کمیشن کی ان مسلسل ناکامیوں اور پاکستان کے اعلیٰ تعلیمی میدان میں تنزلی کا ایک سبب یہ بھی بتایا ہے کہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اگر صرف تعلیمی اداروں کی معاونت تک محدود رہتا تو بہت مناسب تھا اور اعلیٰ تعلیمی میدان میں کافی بہتری بھی ہو سکتی تھی مگر ایچ ای سی نے اپنا اصل کام چھوڑ کر دیگر کئی غیر ضروری کاموں میں مداخلت شروع کر دی ہے جس کی ایک بڑی مثال ہمارے پاس ایچ ای سی کا کامسیٹس یونیورسٹی کے ساتھ دوہری ڈگری تنازعہ ہے، اور اس کیس پر موجودہ چیئرمین ایچ ای سی نے کئی ماہ ضائع کئے۔

اسی طرح ایچ ای سی کی جانب سے غیر ضروری کاموں میں وقت ضائع کرنے کی ایک بڑی مثال این ٹی ایس کی طرز پر مفت ٹیسٹنگ کونسل کا قیام ہے۔ اس کونسل کا قیام بے شک ایک خوش آئند عمل تھا لیکن اسے بھی ماہرین تعلیم نے جامعات کی خود مختاری پر حملہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ایچ ای سی جامعات میں داخلوں کے لئے کسی قسم کا ٹیسٹ لینے کا مجاز ہی نہیں۔

ماہرین تعلیم کے مطابق ایچ ای سی کی ناکامیوں کا ایک بڑا سبب وفاقی ایچ ای سی کا صوبائی ایچ ای سی کے ساتھ کسی قسم کا کوئی رابط نہ ہونا بھی ہے کیونکہ اس وقت پاکستان میں پرائیویٹ اور سرکاری 186 یونیورسٹیز اور 100 سے زائد سب کیمپسز ہیں جنکی ڈویلپمنٹ اور معاونت کے لئے یقیناً ایچ ای سی کو اٹھارہویں آئینی ترمیم کے تحت بننے والی صوبائی جامعات کے ساتھ مسلسل کوآرڈینیشن کی اشد ضرورت ہے اور ایک مشترکہ ٹھوس لائحہ عمل بنانے کی بھی ضرورت ہے جو تمام صوبائی اور وفاقی ایچ ای سی پالیسیز پر عمل در آمد کروانے میں معاون ثابت ہو۔

اس وقت اعلیٰ تعلیمی حلقوں میں ہائر ایجو کیشن کمیشن کی مسلسل ناکامیوں کو لے کر انتہائی تشویش پائی جارہی ہے۔ جامعات کی عالمی رینکنگ، آڈیٹر جنرل کی رپورٹ اور بالخصوص جامعات سے فارغ التحصیل نوجوانوں کی بے روزگاری کے اسباب کے حوالے سے جاری ہونے والی رپورٹس نے پوری قوم کو مایوسی کا شکار کر رکھا ہے۔ ایسے میں ہائر ایجو کیشن کمیشن کو چاہئے کے فی الفور تمام غیر ضروری کاموں سے جان چھڑوا کر صرف اور صرف ایک معاون ادارے کا کردار ادا کرے۔ جامعات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کے لئے انہیں مطلوبہ فنڈز فراہم کئے جائیں۔ تعلیمی نصاب کو ملازمت فراہم کرنے والے اداروں کی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے اور وہ تمام منصوبہ جات جن کے نام پر ہر سال اربوں کا فنڈ جاری ہوتا ہے ان کی تکمیل کے لئے صوبائی ہائر ایجو کیشن کمیشن اور باقی تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ مل کر ٹھوس حکمت عملی بنائی جائے۔

مصنف دنیا ٹی وی میں رپورٹر اور یوتھ کونسل پاکستان کے صدر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.