مسلم دنیا کی خاموشی اور میانمار کے مسلمانوں کا المیہ

0 1,168

شامی مہاجرین کی حالت زار اور برما کے روہنگیا مسلمانوں کی قابل رحم حالت کا تذکرہ کسی فورم پر سننے کو نہیں مل رہا۔ برما کے مسلمانوں کے خلاف میانمار کی حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو بہت سے انسانی حقوق کے ادارے انسانیت کے خلاف جرم قرار دے رہے ہیں مگر اقوام متحدہ اور مسلم دنیا مجرمانہ غفلت کے ارتکاب کی روایت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یہ ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ ایک انسانی المیہ بن چکا ہے مگر مسلم دنیا عرب و فارس کے جھگڑے سے باہر نکلے تو شائد کچھ اس ضمن میں سوچ سکے۔ ترکی واحد مسلم ریاست ہے جس کی آواز اس المیے کے حوالے سے سنائی دی۔ پاکستان کے حوالے سے بات کریں تو ہم ماضی قریب میں باقاعدہ وزیر خارجہ سے محروم رہے اور اب بھی یہ وزارت اس قدر بالغ نظر نہیں آتی کہ اس مسئلے کے حوالے سے کوئی اچھا بیان ہی جاری کر دے۔ او آئی سی پر تو تقریباً فاتخہ پڑھ لینی چاہئے کیونکہ دنیا کو اس کے وجود تک کا احساس نہیں ہو رہا۔

میانمار جس کا پرانا نام برما ہے، 1935 کے انڈین کونسل ایکٹ کے نفاذ تک برٹش انڈیا کا حصہ رہا اور بعد میں اسے جداگانہ حیثیت سے برطانوی کالونی قرار دیدیا گیا۔ اول اول مقامی آبادی نے ہندوستانیوں کی آمد کے خلاف ردعمل بھی ظاہر کیا مگر یہ سلسلہ بعد ازاں تھم سا گیا۔ 1948 میں برما کو آزادی ملی مگر یہاں کے لوگوں کو نسلی تعصب سے آزادی آج تک نہیں مل سکی۔

جنوب مشرق میں ساحلی پٹی کا علاقہ جسے اراکان اور اب راکھن سٹیٹ کہا جاتا ہے، روہنگیا مسلمانوں کا مسکن تھا۔ یہ لوگ سیاسی طور پر تقسیم ہند کے وقت سے مشرقی پاکستان کا حصہ بننا چاہتے تھے کیونکہ انکی ملحقہ سرحد بھی اسی علاقے کے ساتھ متصل تھی تاہم بوجوہ ان کے مؤقف کو تائید حاصل نہ ہو سکی مگر اس مؤقف کی سزا انہیں تاحال دی جا رہی ہے۔ 1962 میں برما سوشلسٹ فوجی اقتدار کے شکنجے میں جکڑا گیا جس کی قدرے کمزور گرفت آج بھی جاری ہے۔ 1982 میں حکومت نے روہنگیا مسلمانوں کو قانوناً غیرملکی مہاجر قرار دے کر ووٹ اور مستقل شہریت کے حق سے محروم کر دیا۔ آج پانچ کروڑ سے زائد آبادی والے اس ملک کے ایک مخصوص علاقے، راکھن سٹیٹ میں اس وقت بارہ سے چودہ لاکھ روہنگیا مسلمان موجود ہیں جبکہ اس سٹیٹ کی مجموعی آبادی تیس لاکھ سے زائد ہے۔ یہاں متعدد فوجی آپریشنز کئے جا چکے ہیں جن کا ہدف یہی طبقہ بنتا رہا ہے۔

1982 میں سیاسی حقوق سے محروم کر دئیے جانے والے یہ لوگ ہجرت کی جانب مائل ہو گئے جن کی عمومی منزل بنگلہ دیش، ملائشیا اور پاکستان ہوتی ہے۔ اکتوبر 2016 میں جب بارڈر پر میانمار کے کچھ فوخی ایک حملے میں مارے گئے تو علاقے میں فسادات پھوٹ پڑے مگر ریاست نے اس مرتبہ ایک نیا اور دہشتناک حل نکالا۔ فوج کی کارروائی کے ساتھ شدت پسند بدھ بھکشؤوں کا سہارا لیا گیا جس سے نسلی منافرت میں مذہبی شدت پسندی کا رنگ بھی شامل ہو گیا۔ 969 موومنٹ، جو انتہاء پسند بدھمتوں پر مشتمل ہے، کے لیڈر ایشن ورتھو کو ٹائمز میگزین تک نے ایک دہشت گرد قرار دیا ہے مگر باقی دنیا میں اس مسئلے کیلئے کوئی سنجیدہ آواز نہیں اٹھائی گئی۔

آج میڈیا تک کو اس علاقے تک رسائی نہیں۔ قابل افسوس بات یہ ہے کہ میانمار کی موجودہ کونسلر آنگ سان سوچی جو سیاسی جدوجہد کے حوالے سے قید و بند کی صعوبتیں اٹھانے کے بعد نوبل پرائز بھی حاصل کر چکی ہیں، اس مسئلے پر خاموش ہیں۔

اس وقت حالات یہ ہیں کہ 3 لاکھ روہنگیا مسلمان بنگلہ دیش کے مہاجر کیمپوں میں ہیں اور کئی ہزار بے یار و مددگار خلیج بنگال میں کشتیوں پر سوار پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا اور بعض مغربی ٹی وی چینلز کی ڈاکیومنٹریز کو ہی مد نظر رکھیں تو روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام کے واضح ثبوت مل جائیں گے۔ سوائے ترکی کے سب زبانیں گنگ ہیں۔

حالانکہ پاکستان کا روہنگیا مسلمانوں سے ایک تعلق بھی ہے۔ 1971 کی جنگ کے دوران پاکستانی افواج کو برما کے سرحدی علاقوں میں انہی لوگوں نے پناہ فراہم کی تھی۔ ایک اندازے کے مطابق کراچی میں اس کمیونٹی کے تین لاکھ سے زائد لوگ موجود ہیں۔ میانمار پر چین اور روس کے ذریعے بھی دباؤ ڈلوایا جا سکتا ہے کیونکہ یہ دونوں ملک برما کو امداد فراہم کرتے ہیں۔ بنگلہ دیش واحد ریاست ہے جو ان متاثرین کو براہ راست مدد فراہم کر سکتا ہے۔ لہٰذا یہاں بنگلہ دیش کے ذریعے پناہ اور امداد تقسیم ہو سکتی ہے۔ اجتماعی طور پر، بلاتخصیص اخلاقی حمایت کے ذریعے اس کمیونٹی کی دادرسی کی جا سکتی ہے اور ایسٹ تیمور طرز کا حل بھی راکھن کے مسلمانوں کیلئے تجویز کیا جا سکتا ہے۔

دنیا کو یہ بات باور کروانے کی ضرورت ہے کہ مذہبی بنیادوں پر ظلم شدت پسندی کو دعوت دیگا۔ اگر انتہاء پسند تنظیموں کو یہاں موقع ملا تو برسوں لگ جائیں گے، حالات کو معمول پر لانے میں۔ لہٰذا دنیا کے مفاد میں یہی ہے کہ اس مسئلے کو انسانی اور سیاسی بنیادوں پر حل کرے۔ بصورت دیگر اس المیے کا ردعمل ایک اور المیہ ہو سکتا ہے۔ اس کی مثال سری لنکا کے تامل علاقے کے حالات سے بھی لی جا سکتی ہے مگر بدقسمتی سے ان مصیبت کے مارے لوگوں کے پاس اپنی حالت زار کو بیان کرنے کیلئے کوئی فورم ہی نہیں ہے۔ اس خلاء کو پُر کرنا بحیثیت انسان اور قوم ہماری ذمہ داری ہے۔

مصنف پیشے کے اعتبار سے کیمیادان ہیں، کتاببیں پڑھنا پسند کرتے ہیں اور تاریخ، فلسفہ، حالات حاضرہ اور اردو شاعری پسندیدہ موضوعات ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.