کیا نجی چینلوں کو کھلی اجازت ہے کہ جس کی چاہیں پگڑی اچھالیں؟

0 1,074

بعض پاکستانی سیاست دانوں اور اخباری و نشریاتی اداروں کا دوسروں پر بے بنیاد الزامات لگانا آجکل ایک رواج سا بن گیا ہے اور جب تک ان بہتان بازیوں کی حقیقت آشکار ہوتی ہے تو الزام تراش شخص، گروپ یا ادارہ ایسی چپ سادھ لیتا ہے جیسے کبھی کچھ تھا ہی نہیں۔

لیکن المیہ یہ ہے کہ ایسے لوگوں کے خلاف عدالتی کارروائی بھی اکثر بے سود جاتی ہے کیونکہ ہمارا عدالتی نظام اس قدر سست روی کا شکار ہے کہ ایسے انسان یا ایسی  تنظیم کو سبق ملنے تک وہ ایسے چار اور ہتھکنڈے آزما چکا ہوتا ہے۔ درحقیقت یہ ملک دشمن عناصر اپنے ناپاک عزائم کے لئے ایسی شخصیات کا انتخاب کرتے ہیں جن کی قابلیت کا اپنے اور ہمسایہ ممالک تو کیا دشمن بھی اعتراف کرتے ہوں۔ لہٰذا یہ شر پسند عناصر بیرونی دشمن طاقتوں کے ایجنڈا پر چلتے ہوئے ملک کو غیر مستحکم کرنے کے لئے ایسے لوگوں کو ان کے عوام اور ملک دوست مشن سے ہٹانے کے لیے یہ اوچھے الزامات گھڑ کر سامنے آتے ہیں تاکہ ان افراد کی ملک کی ساکھ دنیا کے سامنے خراب کی جا سکے۔

ایسا ہی الزام تراشی کا ایک سلسلہ حالیہ دنوں میں اخبارات اور ٹی وی کا مرکز بنا رہا اور گذشتہ ملک دشمن حملوں کی طرح اس بار بھی شریف فیملی کا ہی انتخاب کیا گیا۔ عوام کی خدمت میں مصروفِ عمل شخص کو نشانہ بنایا گیا اور سراسر بے بنیاد الزامات سے پاکستانی غیور عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کی گئی۔ قصہ مختصر کہ ایک نجی ٹی وی چینل پر ایک رپورٹ پیش کی گئی جس میں وزیر اعلیٰ شہباز شریف پر ایک چینی کمپنی سے کام کے عوض 1.8 بلین کے کرپشن کے الزامات لگائے گئے۔

ان الزامات کی تحقیقات کے بعد چینی تحقیقاتی اور مقامی اداروں کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق یہ الزامات سراسر بے بنیاد نکلے جن کا مقصد وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی کردار کشی کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔

پاکستان اس معاملے میں اس وقت شامل ہوا جب چینی کمپنی نے بیجنگ اتھارٹیز کو اپنے بینک اکاؤنٹ میں موجود رقم کے حوالے سے باور کروایا کہ یہ مالیاتی لین دین کا منافع ہے جو درحقیقت میٹرو بس پراجیکٹ ملتان کے ذریعے سے کمایا گیا ہے۔

جو کہ ایک پاکستانی پارٹنر کمپنی، کیپیٹل انجنیئرنگ اینڈ کنسڑکشنز کمپنی پرائیویٹ لمیٹڈ کے باہمی اشتراک کے ذریعے ہے۔

لیکن پاکستانی اداروں PEC، FBR، SPP، SECP کی تحقیقات کے مطابق یہ ایک من گھڑت کہانی تھی کیونکہ یہ کمپنی اور اس کا CEO کسی بھی پاکستانی معاہدے سے کوئی تعلق ہی نہیں رکھتا تھا۔

تحقیقات سے یہ بات بھی ثابت ہوئی کہ Yabaite نام کی کسی بھی کمپنی کا تعلق ملتان میٹرو پراجیکٹ سے ہرگز نہیں اور نہ ہی اس کا کوئی بھی بینک اکاؤنٹ پاکستانی کسی بھی بینک میں موجود ہے۔ SECP نے FBR کو یہ بھی بتایا کہ اس کمپنی کی جانب سے کوئی بھی ٹیکس ریٹرن فائل سرے سے موجود نہیں۔

یہ بات حیران کن ہے کہ Yabaite کمپنی کہ خطوط 24 اور 25 مئی 2017 کو SCRC میں جمع کروائے گئے جو کہ اس پراجیکٹ کی بندش کے کافی عرصہ بعد کی تاریخیں ہیں۔

شہباز شریف اور سینیٹر مشاہد حسین کی  جانب سے ارسال کی گئی تعریفی اسناد بھی جھوٹ کا پلندہ نکلیں جس کی پنجاب حکومت نے سختی سے تردید کی کہ یہ اسناد وزیر اعلیٰ کی جانب سے ارسال ہی نہیں کی گئیں۔ تحقیقات کے دوران Yabaite نے SCRC کو یہ معلومات فراہم کیں کہ انہیں یہ پیسہ ملتان میٹرو بس پراجیکٹ  فیز 111 سے حاصل ہوا جس میں انکا حبیب رفیق پرائیویٹ کے زیر نگرانی کیپیٹل انجنئیرنگ اینڈ کنسٹرکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ کے ساتھ باہمی اشتراک تھا۔ یہ من گھڑت الزامات اپنی جان بچانے اور کسی دوسرے کی کردار کشی کے علاوہ اور کچھ بھی نہ تھے۔

حیران کن  بات یہ ہے کہ SECP کو تعریفی اسناد توفراہم کر دی گئیں لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ Yabaite کے پاس کوئی معاہداتی یادداشتیں موجود تھیں؟

دوسرا سوال یہ  بنتا ہے کہ Yabaite کمپنی نے کوئی تعمیراتی ٹیکنیکل منصوبے کی کاپی جمع کروائی، خصوصاً Yabaite نے کیپیٹل انجنیئرنگ اینڈ کنسٹرکشنز پرائیویٹ لمیٹڈ یا حبیب رفیق پرائیویٹ کو میٹرو بس معاہدے سے جڑے کوئی بھی دستاویز فراہم کئے تھے یا نہیں؟

چین میں ہونے والی تحقیقات سے یہ ثابت ہوا کہ یہ سب الزامات جھوٹ کا پلندہ تھے اور چینی حکام کے مطابق اس کمپنی کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا جا چکا ہے اور جلد ہی اسے ان الزامات اور اداروں کو گمراہ کرنے کی قرار واقعی سزا بھی ملے گی۔

سوال یہ اُٹھتا ہے کہ ایک نیوز چینل کا کام عوام تک اصل حقائق کو پہنچانا ہے اور بنا تصدیق کے کسی کے بے بنیاد الزامات اپنے مذموم عزائم کیلئے استعمال کرنا نہیں۔ اس چینل کی جانب سے وزیر اعلیٰ شہباز شریف کی کردار کشی کرنا ایک نہایت افسوسناک امر ہے کیونکہ کسی بھی ٹی وی چینل کو عدالت بننے کا حق نہیں کہ جو کسی کے خلاف بھی بنا تصدیق کوئی بھی فیصلہ سنا سکے۔

ان الزامات کے بعد وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے ان کی سختی سے تردید کی اور دو دن کے اندر ان کے ثبوت پیش کرنے کا مطابہ کیا اور اعلان کیا کہ بصورت دیگر چینل کے خلاف عدالتی کارروائی کا  فیصلہ کیا گیا ہے۔

وہ دن اور آج کا دن۔ نہ کوئی ثبوت آیا اور نہ ہی جواب۔ کیونکہ در اصل ان بے بنیاد الزامات کا مقصد محض وزیراعلیٰ  شہباز شریف کی کردار کشی کرنا تھا جس سے اس چینل کو اپنی پسندیدہ سیاسی پارٹی کی خوشنودی حاصل ہو سکے۔

وزیر اعلیٰ شہباز شریف ان الزامات پر قانونی کارروائی کا آغاز کر چکے ہیں لیکن عدالتی نظام کی سست روی بھی ایسے لوگوں کی ہمت کو بڑھاوا دیتی ہے۔ اگر ہماری عدالتیں ان معاملات میں فوری اور غیرجانبدار فیصلے کریں تو یقیناً ایسے لوگوں اور ان کے پیچھے کارفرما عناصر کو سبق سکھایا جا سکتا ہے۔ اور یہ وقت حاضر کی ضرورت بھی ہے کیونکہ اپنے ملک میں نہ صرف ان لوگوں کو چن کر ان کے بارے دروغ گوئی کے کام لینا جو عوام کی فلاح و بہبود میں ہر پل کوشاں ہیں بلکہ ہمسایہ دوست ممالک کو بھی اپنی جھوٹی سیاست کی بھینٹ چڑھانا اس ملک کی معاشی اور معاشرتی حالت کی تباہی کا باعث بن سکتا ہے۔ خدا ہمیں اپنے ملک و قوم اور اس کے محسنوں کی عزت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.