برکس اعلامیہ: مجھے ذرا حیرت نہیں

3 4,473

گذشتہ روز چین کے دار الحکومت  بیجنگ میں ہونے والی پانچ ملکی برکس کانفرنس میں ہمارے مخلص اور بے لوث دوست چین کی جانب سے جس طرح کالعدم تنظیموں لشکر طیبہ اورجیش محمد کی مذمت کی گئی ہے یہ نہ صرف دہشت گردی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا اعلان ہے بلکہ امریکہ کی طرف سے تھوپی گئی اس جنگ میں پاکستان کے کردار پر شکوک و شبہات کے مترادف بھی ہے۔ بلکہ دہشت گردی کی اس جنگ میں سب سے زیادہ متاثر فریق پاکستان کی قربانیوں سے کھلا انحراف ہے۔ اسی الزام کی گردان بھارت اورامریکہ لگاتار ایک مدت سے کر رہے ہیں۔ اس اعلان میں اس امر کا تقاضا بھی کیا گیا ہے کہ دہشت گردی میں ملوث اور ان کا انتظام یا حمایت کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے۔ 40 صفحات پر مشتمل مشترکہ اعلامیہ میں  دہشت گردی کے حوالے سے پاکستان ہی کو فوکس کیا گیا ہے اور عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ ایک وسیع البنیاد بین الاقوامی اانسداد دہشت گردی اتحاد قائم کیا جائے۔

امریکہ اور بھارت تو بہت دیر سے ایسے پاکستان مخالف اتحاد کی کوشش میں ہیں۔ چین کا اس کی حمایت کرنا بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا والا معاملہ ہے۔

اس سے پہلے چین مذکورہ تنظیموں کا ذکر برکس کے اجلاسوں اور اعلامیوں میں نہیں ہونے دے رہا تھا۔ 2014 میں برکس کا اجلاس  بھارت  کے شہر گوامیں ہوا تھا۔ ان دو تنظیموں کا ذکر چلا تو چینی صدر نے واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ اس خِطے میں کچھ hot points ہیں اور وہاں کے مسائل حل کئے بغیر ہم ان سے تعلق رکھنے کی دعوےدار تنظیموں کی مذمت نہیں کر سکتے۔ یہ بات عیاں تھی کہ hot points کا ذکر کرتے ہوئے چینی صدر مسئلہ کشمیر کی اہمیت کو اجاگر کرنا چاہ رہے تھے۔

اب ایسا کیا ہوا کہ یکدم  معاملہ بالکل الٹ ہو گیا؟

چین کے اس بدلاؤ کو بھارت سرکار اپنی کامیاب خارجہ پالیسی کے کھاتے میں ڈال رہی ہے۔ پاکستان میں اپوزیشن اسے حکومت کی ناکام خارجہ پالیسی کا ثمر بتا رہی ہے۔ محب وطن لوگ پریشان ہیں کہ ٹرمپ مودی گٹھ جوڑ پاکستان کی سلامتی کے خلاف پہلے ہی خطرے کی گھنٹی بجا چکا ہے، اب چین نے بھی ان کی ہاں میں ملا دی ہے۔ اس کارنامے کا سہرا ان کے سر ہے جنہوں نے دھرنوں سے لے کر اب تک قدم قدم چائنا کو یہ احساس دلایا کہ ہم جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ ہمارے نزدیک ہماری خواہشوں سے زیادہ کوئی شے اہم نہیں۔ مجھے چین کے اس فیصلے پر قطعاً حیرانی نہیں۔ البتہ اس بات پر ضرور حیرت تھی کہ کئی سو ارب ڈالر کی سرما یہ کاری کرنے والا چین پاکستان میں اس اکھاڑ پچھاڑ پر کوئی رد عمل کیوں نہیں دے رہا۔ آخر کئی سو ارب ڈالر کی رقم اتنی بھی کم نہیں۔

سکندر سہراب میو درجنوں کتب کے مصنف ہیں۔ کئی ملکی جریدوں میں کئی سال سے قلم اٹھاتے رہتے ہیں۔ مصنف دو ماہانہ رسالوں کے ایڈیٹر بھی ہیں۔ آپ کو علم و ادب کی خدامات پر متعدد ایوارڈ سے نوازا جا چکا ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

3 تبصرے

  1. اکبر علی کہتے ہیں

    میرے بھائی یہ سیاست چمکانے کا وقت نہیں ہے۔ چین پاکستان میں اربوں ڈالر کی انویسٹمنٹ کر رہا ہے ٓپ سمجھتے ہیں کہ یہ شائد دھرنوں کی وجہ سے ہوا کہ چین کا صبر جواب دے گیا اور اس نے پاکستان حکومت کو یا سیاست دانوں کو جھٹکا دینے کی کوشش کی ہے۔ مگر۰۰۰۰
    میری نظر میں صرف دو عوامل ہیں جن کی وجہ سے چین نے برکس علامیے کی مخالفت نہیں کی۔
    ۱: ڈوکلام بارڈر پر چین اور بھارت ک درمیان کشیدگی ختم ہو گئی۔ بھارت نے ہار مان لی اور اپنی فوج کو واپس پرانی پوزیشن پہ لے گئے برکس علامیے سے پہلے ہر کوئی یہی سمجھ رہا تھا بھارت نع ہار مان لی۔ مگر برکس علامیہ اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کی بات کچھ اور ہوئی بھارت کافی عرصہ سے کوشش کر رہا تھا کی جیش محمد اور حافظ سعید کے خلاف عالمی سطح پر ایکشن لیا جائے اور چین ہر بار ئس کی مخالفت میں ووٹ کرتا تھا۔ مگر اس بار بھارت جیت گیا ڈوکلام تنازعہ پر بات چیت کے بہانے بھارت اور چین کے درمیان ڈیل ہو گئی۔ بھارت اپنی فوجیں واپس لے گیا اور چین نے بھارت کو برکس علامیہ اس کی مرضی کا دیا۔ بھارت جیت گیا۔ چین نے بھی اپنے مطلب ک لیئے پاکستان کو جھنڈی کرا دی ۔
    ۲: پاکستان کی اس خطے میں کیا اہمیت ہے سب جانتے ہیں۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان بھی کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔ چین جانتا ہے پا کستان اس وقت بیچ منجدھار ہے اسے سہارا چاہئے اس لئے چین چاہتا ہے پاکستان امریکہ سے بلکل ٹوٹ جائے اور چین کی گود میں جا بیٹھے۔ چین اتنی انویسٹمنٹ کر رہا ہے اس کا فائدہ پاکستان سے زیادہ چین کو ہے پاکستان امریکہ سے زیادہ اسلحہ چین اور روس سے خریدے گا اس کا فائدہ بھی کسی نہ کسی کو ہو گا۔ چین کی انویسٹمنٹ کو کوئی نقصان نہیں بلکہ وہ اپنے لئے اور راستے بنا رہا ہے۔ چین نے ڈوکلام بچایا اور اپنے فائدہ کے لئے بلوچستان اور کشمیر میں بھارت کی دہشت گردی سے آنکھیں بند کر لیں۔ چین نے پاکستان کو عشارہ دیا ہے ہے بیٹا جی ہم اتنی انویسٹمنٹ کر رہے ہیں اپنے فائدہ کے لئے ہم تو پوری دنیا میں انویسٹمنٹ کر رہے ہیں تو کیا سب کے لئے خود کو جنگ میں جھونک لیں چین اپنی ترقی کی راہ میں ابھی کوئی رکاوٹ نہیں چاہتا۔
    محترم آپ سارا الزام دھرنوں پر نہ ڈالیں کچھ نظر اپنی خارجہ پالیسی پر بھی ہو۔ آخر ایسا کیوں ہوا کی پاکستان کہ بدلتے حالات کی خبر نہیں امریکہ ہم سے ناراض ہے چین اپنے مطلب تک ہے پوری دنیا میں سب کی نظر میں ہم چور ہیں اور کہتے ہیں چین نے یہ سب دھرنوں کی وجہ سے کیا ہے۔ خارجہ پالیسی خود بنائو گے تو سب سمجھ آ جائے گا۔ ہمیں یہ تو پتہ نہیں کی ہم دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور ہمیں کیا کرنا ہے ہم کبھی امریکہ کابھی چین کابھی سعودی عرب تو کابھی ایران کی طرف دیکھتے ہیں۔ ہمارے حکمرانوں کو اپنے بینک بیلنس بڑھانے سے آگے سوچنے کی فرصت نہیں۔ اور ہم عوام کو اپنی جھوٹی انا کے آگے پاکستان بھی نظر نہیں آتا۔ اتنا سب ہونے کے باوجود بھی کہتے ہیں ووٹ نواز شریف کو دینا ہے۔ خدا کے بندو ووٹ جس کو بھی دو مگر اتنا دھیان تو رکھو پاکستان کو یہاں تک لانے والے کون ہیں ووٹ جسے بھی دو اپنے اندراتنی ہمت بھی پیدا کرو کہ ان سے سوال پوچھ سکو حالات یہاں تک کیسے آئے۔ ہم ۷۰۰۰۰ جانیں دے کر بھی دیا کی نظر میں چور کیوں ٹھہرے۔ دنیا کو کیوں نہیں بتا سکے کہ ہم لڑ رہے اس خطرناک دشمن کے خلاف جس نے نے ۱۵ سال میں نیٹو اور امریکہ کو نہیں جیتنے دیا مگر ہم نے ۵ سال میں ان کی کمر توڑ دی ہے ہم نے افغانستان کی جنگ افغانستان تک محدود کر دی ہے آپ وہاں کیا کر رہے ہیں اب آپ یسے ختم کرو اور امن آنے دو ان دونوں ملکوں میں۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

    1. سکندر سہراب میو کہتے ہیں

      ڈوکلام تنازعہ پر بات چیت کے بہانے بھارت اور چین کے درمیان ڈیل ہو گئی۔ بھارت اپنی فوجیں واپس لے گیا اور چین نے بھارت کو برکس علامیہ اس کی مرضی کا دیا۔ بھارت جیت گیا۔ چین نے بھی اپنے مطلب ک لیئے پاکستان کو جھنڈی کرا دی
      آپ نے کہا بھارت سے ڈیل ہونے کے بعد چین نے پاکستان کو جھنڈی کرا دیا ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چین اپنے مفاد کی خاطر پاکستان کے دشمنوں کی حمایت کر سکتا ہے یہ پاکستانی قوم کو اس کے آزمودہ اور مخلص دوست چین سے بد گمان کرنے والی بات ہےکیا یہ آپ کے زہن رسا کی اپج ہے یا آپ نے پی-ٹی-آئی کے منشورکی تر جمانی کی ہے۔

  2. faroq کہتے ہیں

    خود ہی کہ رہے ہیں کہ یہ سیاست چمکانے کا وقت نہیں۔ اور حقیقت سے نظریں چرا رہے ہیں۔ برادرم پاکستان کو اپنی بقا کی جنگ جیتنے کے لیے اپنے دشمن سے مظبوط سہارا درکار ہے۔ اب آپ بتائیے کہ کون سا ملک یا اس کے لوگ پاکستان کے ساتھ دشمنی نبھانے کے لیے نہیں تلے ہوئے۔ لے دے صرف ایک طالبان افغانستان ہی ہیں جن کے دور حکومت مین پاکستان کی ڈھائی ہزار کلو میٹر کی سرحد پر ایک بھی فوجی نہیں تھا۔ ان کی کمر میں چھرا گھونپ کر آپ یہ اعتماد کھوچکے۔ سو باتوں کی ایک بات پاکستان ایک مسلمانوں کے ہجوم کا ملک ہے مسلمان ایک اللہ پر یقین رکھتے ہیں۔ ایک رسول کو اس کا نمائندہ مانتے ہیں۔ ایک کتاب کو اس کی طرف سے حتمی قانون مانتے ہیں۔ چاہے جیسا بھی مانتے ہیں۔ اس اسلامیت کی طرف پیش قدمی ہمارے ہجوم کو ایک قوم کی شکل دے سکتی ہے۔ پھر بھی اگر ہم مارے جاتے ہیں تو دنیا چاہے چلی جائے آخرت تو بچ جائے گی۔ ورنہ ان حالات میں اللہ ہی اللہ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ برا نہ مانیے جتنا مرضی بھاگ لیں بالاخر مسلمانان پاکستان کو خالی نامی گرامی مسلمان ہونے کی بھی دشمنان اسلام کی طرف سے سزا ملک ہی رہے گی۔ تو کیوں نہ سچے اور کھرے مسلمان بن کر دیکھ لیں۔ شاید کہ ترے دل میں اتر جائے مری بات۔
    وہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے ۔ ۔ ۔ ہزار سجدوں سے دیتا ہے آدمی کو نجات

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.