سو صدیوں کی سائنسی پیشگوئی

2 11,238

نسل انسانی ہزاروں سال کے ارتقائی عمل کے بعد اگر ایک جانب تہذیب و تمدن کی انتہائی بلندیوں پر براجمان ہے تو دوسری جانب سائنسی ترقی سے کشش ثقل کی طنابیں توڑنے سے لیکر چاند اور مریخ پر کامیاب مشن بھیجنے کے بعد اب اس کی نظریں اپنے نظام شمسی سے بھی آگے ایسے ستاروں اور سیاروں کو تلاش کر رہی ہیں کہ جہاں زندگی کے امکانات موجود ہوں۔

وائجر ٹو خلائی سٹیشن بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انسانی ہاتھوں سے تشکیل پانے والا یہ خلائی سٹیشن ہمارے نظام شمسی کو عبور کر چکا ہے۔ عین ممکن ہے کہ کسی دن اس کے سگنل ہمیں ہمارے علاوہ اس کائنات میں کسی دوسری ذی حیات کا پتہ دے دیں۔ لیکن اس میں کئی ہزار یا لاکھ سال بھی لگ سکتے ہیں اور ایسا بھی عین ممکن ہے کہ اس سے پہلے ہی نسل انسانی صفحۂ کائنات سے معدوم ہو جائے۔ میرے اس بلاگ کا موضوع یہی ہے جس کو ہم آگے جا کر زیربحث لائیں گے لیکن اس سے پہلے وائجر ٹو کے متعلق کچھ اہم اور دلچسپ معلومات سے آپ کو آگاہی فراہم کر دیں۔

اگست 1977 میں چھوڑا جانے والا یہ خلائی سٹیش اس وقت زمین سے ایک کروڑ ساٹھ لاکھ کلو میٹر دور ہماری گلیکسی کے سب سے چمکدار سیارے سائرس کی جانب رواں دواں ہے۔ یہ اگلے دس سال تک زمین پر سگنل بھیجتا رہے گا۔ کوئی کمانڈ جو امریکی ادارے ناسا کی جانب سے بھیجی جاتی ہے یا وائجر بھیجتا ہے، وہ چودہ گھنٹے بعد اس تک پہنچتی یا ناسا کو موصول ہوتی ہے۔ امریکی سائنسدانوں کا وائجر ٹو کو بھیجنے کا مقصد کائنات میں کسی دوسری زندگی کا کھوج لگانا یا کسی ذی شعور مخلوق کی کہیں اور ممکنہ موجودگی کا پتہ دینا تھا۔

لیکن کائنات کے کسی ایسے راز سے پردہ ابھی اٹھا بھی نہیں اور نسلِ انسانی کو پہلے ہی ایک بڑے خطرے کا احساس ہو گیا ہے کیونکہ سائنسدانوں نے یہ انکشاف کیا ہے کہ ہمارا یہ سیارہ جس پر ہم کروڑوں سال سے رہ رہے ہیں، تباہ ہو جائے گا۔ اس کی وجوہات میں ماحولیاتی تبدیلیاں، کان کنی، بہت بڑے پیمانے پر زلزلوں کا ایک سلسلہ شروع ہو جانا، کوئی خوفناک ایٹمی جنگ یا خلاء سے گرنے والے شہاب ہائے ثاقب کی بارش بھی ہو سکتی ہے۔

اس صدی کے سب سے ذہین دماغ اور سائنسدان سٹیفن ہاکنگز نے اس تباہی کے آنے کے وقت تک کا تعین کر دیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ دنیا اگلے ایک ہزار سال تک ختم ہو جائے گی۔ اس سے پہلے پہلے اگر نسل انسانی نے اپنا کوئی نیا مسکن تلاش نہ کیا تو وہ اس کائنات سے ہمشہ کیلئے ختم ہو جائے گی۔ اشرف المخلوقات انسان سائنس کے ان انکشافات کو نظرانداز نہیں کر رہا۔ خاص طور پر ترقی یافتہ قوموں نے اپنی آنے والی نسلوں کو اس خطرے سے بچانے کے لئے خفیہ اور ظاہرہ طور پر کام شروع کر دیا ہے خواہ اس میں کئی صدیاں ہی کیوں ناں لگ جائیں لیکن امریکہ، کینیڈا، ناروے اور آسٹریلیا جیسے ممالک تو بہت پہلے سے کروڑوں ڈالر اس ریسرچ پر خرچ کر رہے ہیں کہ ایسی تباہی کی صورت میں کیسے اپنی نسلوں کو بچایا جا سکے گا؟

امریکی ادارے ناسا نے چاند پر انسان کو اتارنے کے بعد بغیر انسان کے اپنی خلائی مشین مریخ پر بھیج دی ہے جہاں سے چوبیس گھنٹے اس سیارے کی معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔ امریکی سائنسدان خلاء میں اپنے اگلے سفر پر روانہ ہونے کے لئے مریخ کو اپنا پہلا قدم قرار دیتے ہیں۔ سب سے پہلے یہاں انسان کے رہنے کے قابل سٹیشن بنانے پر کام ہو رہا ہے۔ اس مفروضے پر بھی کام کیا جا رہا ہے کہ خلاء میں ہی ایسے خلائی سٹیشن بنائے جائیں جہاں انسان لمبے عرصے تک قیام کر سکے تاکہ زمین پر اگر کوئی آفت آتی ہے تو کم از کم انسانی نسل کو بچانے کے لئے چند سو افراد کو ہی وہاں بھیج کر بچایا جا سکے۔ غرضیکہ اقوام آئندہ ایک ہزار سال کی منصوبہ بندیاں کر رہی ہیں۔

لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ ترقی یافتہ قومیں تو یقنیاً کوئی راستہ تلاش کر ہی لیں گی لیکن ترقی پذیر اقوام جو کہ شاید اگلے پانچ سو سال بھی اپنے اندرونی معاملات میں الجھی رہیں، جیسا کہ ان قوموں کے رویہ سے لگ رہا ہے، وہ اس وقت کیا کریں گی؟ اور کیا یہ ترقی یافتہ قومیں انہیں اس تباہ ہوتے سیارے پر چھوڑ کر چلی جائیں گی؟

درحقیقت ایسا ہی ہوگا اور یہ سائنسی طور پر پسماندہ قومیں جن کے آباء و اجداد صدیوں تک خیالی نظریات کی بنا پر آپس میں دست و گریبان رہے، مذہب، رنگ، نسل اور زبان کی بناء پر ایک دوسرے کے گلے کاٹتے رہے اور ایسی جنگیں لڑتے رہے کہ جن کا ان کو کوئی فائدہ نہ ہوا، سوائے ہزاروں انسان مروانے اور مالی نقصان کروانے کے، وہ یہ ضرور سوچیں گی کہ کاش ہمارے آباء بھی فلسفہ، منطق، اخلاقیات اور دلیل و تجربہ کے مراحل طے کرتے ہوئے سائنسی ترقی کی طرف توجہ دیتے اور ہم ان کی سائنسی ترقی کی بدولت کائنات میں کہیں دوسرے سیارے یا خلائی سٹیشن پر اپنی نسل کو منتقل کر سکتے۔ کوئی خلائی سٹیشن اکیسویں صدی میں ہمارے اجداد نے بھی خلاء میں بھیجا ہوتا تو وہ آج ہمارے کام آتا اور ہماری نسل بچ جاتی۔

مصنف ایک سیاسی و سماجی ورکر ہیں اور ماضی میں صحافت کے پیشے سے منسلک رہے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Shujaat کہتے ہیں

    Correction: Voyager 2 distance from Earth is over 2.8 Billion Kilometers. Also the probe was NOT designed to find life in the universe. Our universe is far too big (and I can’t stress it enough) for any spacecraft to probe. Lastly, it will take Voyager 2 about 296,000 years to reach Sirius, which is one of our next-door neighbors considering the size of known universe.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.