اتوار کے دن کام پر نہیں آٰؤں گا

2 5,566

پہلا حصّہ

“سلیم! اتوار کو آنا ہے کام پر لازمی۔”

“سہیل بھائی، آپ کو پتا تو ہے میں اتوار کو نہیں آتا”

“یار سلیم، بہت ضروری ہے۔ منڈے (Monday) کو گاڑی دینی ہے۔ کچھ بھی کر آجا یار۔”

“سہیل بھائی! میں پورا ہفتہ دن رات کام کرلوں گا پر اتوار کو نہیں آسکتا۔”

“تجھے پتہ تو ہے دو دن پی ایم ٹی خراب رہی ساری پروڈکشن کی واٹ لگ گئی اور مال دینا لازمی ہے منڈے کو”

“نہیں بھائی آپ سلمان کو بلا لو، میں کسی صورت نہیں آ سکتا۔ عید پر آجاؤں گا پر اتوار کو نہیں۔”

“مسئلہ کیا ہے ایسا؟”

“ہے کچھ ذاتی”

“ہممم۔۔۔ اچھا چلو نہیں آنا پر اتوار کو ہی ایسا مسئلہ کیا ہے؟ آج بتاؤ۔۔۔”

“چھوڑیں سہیل بھائی”

“ارے نہیں۔ بتاؤ۔”

“بس وہ دراصل اتوار کو میں صرف فیملی کو وقت دیتا ہوں۔ صبح ناشتہ کرنے نکل جاتے ہیں، پھر واپس آ کر بیٹے کے ساتھ کرکٹ کھیلتا ہوں۔ چار بجے ہم نکل جاتے ہیں کسی بھی پارک یا سمندر کی طرف اور رات کا کھانا کھا کر دس گیارہ بجے گھر آتے ہیں اور کافی عرصے سے یہی روٹین ہے۔ اور یہی ہماری تفریح۔”

“ارے بھائی اس میں تو اچھے خاصے پیسے خرچ ہوجاتے ہونگے”

“تو اسی لیے تو سہیل بھائی اوور ٹائم لگاتا ہوں۔ اکثر ڈبل شفٹ کرتا ہوں۔ صرف اتوار کے دن کو یادگار بنانے کے لیے۔ مجھ سے زیادہ میری وائف اور بچہ اتوار کی پلاننگ کرکے بیٹھے ہوتے ہیں”

“ارے تم تو بڑے ہی مہان ہو، جان توڑ محنت کرو اور اتوار کو سب اڑا دو”

“سہیل بھائی یہی ہماری تفریح ہے یہی ہماری خوشیاں ہیں، وائف کی مسکراہٹ اور بچے کی کھلکھلاہٹ پورے ہفتے کی تھکن اتار دیتی ہے۔ جو اپنے بچپن میں دیکھ لیا وہ میرا بچہ کیوں دیکھے؟”

“ارے بھائی صحیح بات ہے پر کچھ بچا بھی لو برے وقت میں کام آئیگا وقت بتا کر تو نہیں آتا”

“جو وقت دیکھ آیا ہوں اس سے برا وقت کیا آئیگا سہیل بھائی؟”

“بیٹھو یار اب آرام سے، چائے منگواتا ہوں۔ اب سنیں گے اور سنائیں گے۔ اب تجسس بڑھ رہا ہے”

دوسرا حصّہ

“اچھا تو اب بتاؤ بھائی شروع سے۔ بلکل شروع سے”

“آپ بھی گڑے مردے اکھڑوا کر ہی چھوڑینگے، کوئی بات نہیں، چائے منگواتے رہیں”

“فکر ناٹ، چائے ہی چائے۔”


“ایک بچہ بھری دوپہر میں ننگے پاؤں بھاگتا ہوا آتا ہے، سیدھا گھڑے کے پاس جاکر بریک لگاتا ہے۔ المونیم کا ٹیڑھا میڑا گلاس مٹی کے مٹکے پر پڑا ہے، اٹھاتا ہے اور غڑاپ سے مٹکے میں ڈال کر گلاس منہ سے لگا لیتا ہے۔ آدھا پانی منہ میں۔۔ آدھا بانچھوں پر۔۔ اچانک کمر پر ایک ڈھموکا پڑتا ہے۔۔ ‘ناس مارے کھرے میں جاکے ہاتھ تو دھو لیتا، گندا نہ ہو تو سارے پانی کا ناس مار دیا’۔ ‘کیا ہے اماں اتی زور سے مار دیا۔۔ تم اچھی اماں نہیں ہو میری’۔ ‘کم بخت ہاتھ تو دھو لیتا یہی تو بول رہی ہوں’۔ ‘تو اتی زور سے مارا کیوں؟’

‘ہاں نئیں تو۔۔ اچھا اچھا روتے نہیں ہیں۔۔ چل روٹی کھا لے۔۔ سارا دن ادھر ادھر بھاگتا پھرتا ہے’۔ ‘نئیں کھارا میں نئیں کھارا۔۔’۔۔ ‘آ جا نہیں تو ایک اور لگاؤں گی’۔ ‘میں ہاتھ نئیں دھوؤں گا’۔ ‘چل میں کھلاؤں گی اپنے ہاتھ سے۔۔ بیٹھ ادھر’۔ ‘یہ کیا روز روز توری ہی بناتی ہے کبھی ٹنڈے کبھی توری’۔ ‘نا تیرے باپ نے بورا بھر کے دیے ہیں پیسے کہ میرے لڑکے واسطے قیمہ اور قورمہ بنا لینا؟؟؟ چپ ہو کے کھا لے ورنہ دوں گی کان کے نیچے۔۔ منہ کھول’۔۔۔


‘اماں روٹی دے’۔۔۔ ‘پہلے ہاتھ دھو کے ورنہ نہیں ہے کوئی روٹی ووٹی’۔ ‘بھوک لگی ہے جلدی دو نا اماں’۔ ‘دیکھ پورا گھوڑا ہو رہا ہے عقل نہیں ہے ذرا سی بھی’۔ ‘اچھا دھو رہا ہوں۔۔ ارے اماں یہ آلو قیمہ تو نے بنایا ہے؟’ ‘نہیں رے وہ حاجی صاحب کا انتقال ہوا تھا نا ہرے بنگلے والے کا۔۔ تو ان کے ہاں سے آیا ہے نیاز فاتحہ کا’۔

‘اماں ہے مزے کا۔۔ واہ اے اللہ میاں، روز مار دیا کر۔۔ مزے کا کھانا تو ملتا ہے’۔ ‘اے ہے۔۔ بڑا ہی کم بخت ہے۔۔ تو تو چٹخارے کے لیے کسی کو بھی مروا رہا ہے’۔ ‘ارے اماں، اللہ ہماری نہیں سنے گا اتنی آسانی سے۔۔ ورنہ تو روز مصلے پر بیٹھی دعائیں نہیں مانگ رہی ہوتی۔۔ جب مریں گے، مرجائیں گے۔۔ تھوڑا سا اور دے نا’۔ ‘نہیں ہے کم بخت۔۔ تیرے باپ کے لیے رکھا ہے’۔ ‘اچھا اچھا تھوڑا سا، بس تھوڑا سا۔۔ اماں! ایک بات ہے۔۔ تو کبھی بھی ایسا سالن نہیں بنا سکتی۔۔ بس لمبا پانی۔۔ سبزی ہو یا گوشت نمک مرچ ڈالا اور دے لمبا پانی۔۔ ناک پکڑ کر غوطہ لگا لو۔۔ کوئی مزہ نہیں’۔ ‘ہاں ہاں تو جب کمانے لگے گا تو اپنی لگائی سے بولیو وہ تجھے بھنوا کھلائے گی۔۔ کم بخت کھلا کھلا کر بڑا کر دیا منہ کا نوالہ بھی کھلا دیا بولتا ہے سواد ہی نہیں۔۔ دفع ہو’۔

‘اماں بات سن۔۔ اگر لڑکی دیکھے نا تو شکل جیسی ہو سالن اگر صحیح نہیں بنایا تو ہاتھ پکڑ کے چھوڑ آؤں گا’۔ ‘جا جا۔۔ آیا بڑا چٹورا۔۔ پہلے کچھ کما تو لے’۔ ‘بس کام سیکھنے دے، ہاتھ صاف ہوجائے۔۔ دو سال میں ہی شادی کے لیے پیسے تیرے ہاتھ میں دوں گا’۔


“بس سہیل بھائی ایسے ہی زندگی چلتی رہی۔۔ اچھے اور ذائقے دار کھانوں کی بھوک اندر ہی اندر پلتی رہی، جو یا تو کسی شادی بیاہ کی دعوت میں پوری ہوتی یا کسی دوست کے مفتے میں۔ بس وہ اندر ہی کہیں جڑ پکڑ گئی۔ ایک بات اور ایسی ہوئی کہ جو دل و دماغ سے سے کہیں چپک کر رہ گئی۔ چھوٹی عمر تھی۔ ایک گھر میں کھیلتے ہوئے چلے گئے۔ وہاں ایک ہمارے ہی جیسا ہمارا رشتےدار برفی کھا رہا تھا۔ میری اور اس کی نظر ملی تو کہا، کھائے گا؟ میری منڈی ہاں میں ہلی خود بخود۔ اس نے جو کہا وہ نقش ہو گیا۔ ‘لے نییتے، لے۔۔ کھا لے۔۔ بری شِکل کا نہ ہو تو’۔ اور ایک ٹکڑا مجھے پکڑا دیا۔ کھا تو لی میں نے برفی پر وہ لہجہ اور جملے بس چپک ہی گئے۔ بس جوان ہو گئے۔۔ محنت مزدوری کرتے کرتے کچھ پیسے جمع ہو گئے۔۔ اور شادی ہو گئی۔ اوپر تلے اماں ابا بھی اوپر چلے گئے۔ اب کرنا اللہ کا یہ ہوا کہ جو وائف ملی ماشاءاللہ بہت اچھی ہر طریقے سے خیال رکھنے والی۔۔ بس سالن بنانے میں واقعی اماں ہی کی بہو ثابت ہوئی اور پہلی بار اس کے ہاتھ کا سالن چکھتے ہی آپ نہیں جانتے دل کا کیا حال ہوا۔ بہت مشکل سے اپنے آپ کو سنبھالا۔ اور ادھر وائف اس توقع پر میری طرف دیکھ رہی تھی کہ کوئی تعریفی جملہ۔۔۔۔ خیر، ایک دو دن بعد میں نے اسے راضی کیا کہ میمن فاونڈیشن سے کھانا پکانے کی تربیت لے۔ وہ سمجھدار خاتون سمجھ گئی۔ اور مہینے بھر میں کافی بہتر پکانے لگ گئی۔ بس جب اللہ نے بیٹا دیا تو سوچ لیا کہ جیسے میں ترسا ہوں اپنی اولاد کو نہیں ترسنے دوں گا، چاہے دن رات اوور ٹائم لگانا پڑے۔۔۔”

“ہمممم”

“بس سہیل بھائی، اتوار میں نے وقف کر دیا چٹور پن کے لیے۔۔ اچھا کھانا، جہاں مناسب دام میں ہو وہاں ہم ضرور جاتے ہیں۔ اب کھانے پینے سے زیادہ اتوار ہمارا پکنک ڈے ہے۔”

“ابے یار تم صحیح انجوائے کر رہے لائف۔”

“بس بچپن کی لڑکپن کی ایسی خواہش جس پر ہنسی بھی آتی ہے پر بھوک ختم ہی نہیں ہو رہی۔۔۔”

“ہاہاہاہا چل ٹھیک ہے۔۔ میں سلمان اور عرفان کو بلاتا ہوں۔ تو انجوائے کر۔۔”

مصنّف بے ربط جملوں میں ربط پیدا کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. Majeed Rajput کہتے ہیں

    بہت خوبصورت تحریر ، مصنف بے ربط جملوں ہی میں نہیں بے ربط خیالوں اور بے ربط لوگوں، دلوں میں بھی ربط پیدا کرتے ہیں

  2. Muhammad Athar Jameel کہتے ہیں

    بہت اچھی تحریر ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.