یہ جو لاہور سے محبّت ہے

0 3,075

ایک عالم لاہور کے عشق میں مبتلا رہا ہے۔ مگر حیرت ہے کہ شاعری میں اس شہر کے لیے کوئی قابلِ ذکر طبع آزمائی نہیں ہوئی جسے اہلِ لاہور فخر سے سُنا سکیں۔ مثلاً اسی مبہم شعر کو لیجئے جس کا پہلا مصرع اس مضمون کا عنوان ہے۔

یہ جو لاہور سے محبّت ہے
یہ کسی اور سے محبّت ہے

یہ شعر بیک وقت معنی سے لبریز اور خالی ہے اور عام فہم تو قطعی نہیں ہے۔ اور پنجابی کی وہ خوبصورت نظم جو بیحد مقبول ہے اور اکثر لاہور کی مدح میں سُنائی جاتی ہے “دس کھاں شہر لاہور اندر، کنّے بوہے تے کنّیاں باریاں نیں” وہ بھی آخر میں لاہور سے ہٹ کر عشق و عاشقی کی طرف نکل جاتی ہے جس طرح اس شعر میں بھی لاہور کے بعد کوئی “اور” آگیا ہے۔

اس معاملے میں دہلی کی خوش نصیبی پہ رشک آتا ہے۔ ایسے ایسے خوبصورت اشعار، قطعات اور نظمیں اس شہر کے لیے کہی گئی ہیں۔ مثلاً ذوق کا وہ شہرہ آفاق شعر:

ان دنوں گرچہ دکن میں ہے بڑی قدرِ سُخن
کون جائے ذوق دہلی کی گلیاں چھوڑ کر

اور میر کا یہ شعر:

دہلی کے نہ تھے کوچے اوراقِ مصّور تھے
جو شکل نظر آئی، تصویر نظر آئی

اور میر ہی کا یہ بیحد حسین قطعہ:

دہلی جو ایک شہر تھا عالم میں انتخاب
رہتے تھے منتخب ہی جہاں روزگار کے
اُس کو فلک نے لوٹ کر ویران کر دیا
ہم رہنے والے ہیں اسی اُجڑے دیار کے

اور ہماری خوشبختی کہ فہمیدہ ریاض کی نظم “دلّی” ہم نے خود اُن کے جادوئی انداز اور لب و لہجے میں سُنی۔ اس کا پہلا بند کچھ یوں ہے۔

دلّی تیری چھاؤں بڑی قہری
میری پوری کایا پگھل رہی
مجھے گلے لگا کر گلی گلی
دھیرے سے کہے تو کون ہے ری

شاعری تو دہلی کے لیے خوب خوب ہوئی مگر اس بات سے انکار ناممکن ہے کہ لاہور کے چاہنے والوں کا شمار نہیں۔ ان عشّاق نے اپنے اپنے طریقوں سے اظہارِ محبّت کیا۔ ناچیز بھی انہی بیماروں میں سے ہے۔

لاہور میرے لیے کیا ہے؟

Jahangir's tombباغِ دلکشا کی شام۔ دھندلکے میں لپٹے مقبرہ جہانگیر کے پُرشکوہ مینار، شور کرتے پرندے اور اپنے فسوں میں کھویا مقبرہ آصف خان کا تاراج گنبد۔ شیش محل کا حیرت کدہ جہاں ہزاروں آئینوں کے بیچ دیکھنے والے کا اپنا عکس کھو جاتا ہے اور اس کے نیچے تاریک تحہ خانوں کی طویل بھول بھلیّاں۔ دیوانِ عام کے تختِ انصاف سے دیوان اور باغات کا نظارہ اور اس نظارے میں چھپا ایک لُطفِ بادشاہی۔ قلعے کی فصیلوں سائے میں آراستہ چمن کی سیر، بلند شاہی محلّات کا نظارہ اور اُن زمانوں کا تصوّر۔ گوردوارہ ڈیرہ صاحب کی مقدّس خاموشی میں گُھلی ہوئی شام اور ایک ضعیف گیانی تخت پر بیٹھا گورو گرنتھ صاحب کا پاٹ کرتا ہے۔ رات کے وقت شاہی محلّے کے چوباروں سے بادشاہی مسجد کا ناقابلِ فراموش منظر اور نیچے فوڈ سٹریٹ میں روشنائی دروازے کے آس پاس کہیں اُٹھتی ہوئی بانسری کی سُریلی تان۔

لاہور میرے لیے کیا ہے؟

walled city streetsحویلی نونہال سنگھ کا چوٹی کا کمرہ۔ ایک مختصر سا رنگ محل جس کی دیواروں پہ ماضی کی تصویروں کے رنگ دھندلے پڑتے جا رہے ہیں۔ لوہاری دروازے کی تنگ گلیوں میں پوشیدہ حویلیوں کے دروازے اور چوبارے۔ بازار سے نظر آتا سر اُٹھائے کھڑا ایک مندر جس کی اندروُنی چھت پر آج تک شیش محل جیسا کام اور دیوی دیوتاؤں کی شبیہیں نظر آتی ہیں اور اس کے فرش پر رات بھر کے جاگے تھکے ہارے مزدور سوتے ہیں۔ دہلی دروازے کی شاہی گزرگاہ اور بقول گلزار، پیچیدہ دلیلوں کی سی گلیاں۔ شاہی حمام کے جادوئی نقش و نگار اور مہرابوں پر بنی لافانی فرشتوں کی فانی تصویریں۔ مسجد وزیر خان کی چھت پر قدم رکھتے ہی پانچ خوابیدہ گنبدوں کا نظارہ جیسے دروازہ مسجد کی چھت پر نہیں، طلسمِ ہوشربا میں جا کھلا ہو۔ اور مسجد کے مینار سے تاحّدِ نظر اندرون لاہور کا نظارہ جس کی بدصورتی میں بھی بیحد خوبصورتی ہے۔ کشمیری بازار، سوہا بازار اور رنگ محل کی رونقیں اور رنگینیاں۔ اور لاہور کی لذیذ خوراکیں۔

لاہور میرے لیئے کیا ہے؟

Shalimar-Gardenشالیمار میں بہار کے دن۔ ٹھنڈی ہواؤں میں اِٹھلا کر چلتے فوّارے اور باغات کی جنّتِ ارضی۔ گلابی باغ کے دروازے پر صدیوں سے ٹھہری کاشی کاری کی بہار اور سر اُٹھا کر دیکھیے تو اس کی پیشانی پر خدا کا نام ہے اور اس کے بعد نیلا آسمان ہے مگر اب اس پر ایک بدنما پُل کا سایہ پڑ چُکا ہے۔ بد نصیب چوبرجی۔ مقبرہ علی مردان خان کا تحہ دار گنبد اور اس میں صدیوں سے مقیم اندھیرا اور مقبرے کو جاتی پُراسرار سُرنگ۔ میاں میر صاحب کی خاموش سرد رات جب مزار پر کوئی ہجوم نہیں ہوتا۔ صرف اس کی جالیوں سے لگ کر بیٹھی چند دریدہ دل عورتیں دھیمی آواز میں ایک دوسری سے باتیں کرتی ہیں اور وہاں “سکینتہ الاولیآء” کا جلوہ نظر آتا ہے۔ مزار سے ملحق قبرستان میں کہیں کہیں جلتے دیوں کی روشنی نظر آتی ہے مگر دودمانِ مغلیہ کی شہزادی نادرہ کا مرقد بے چراغ رہتا ہے۔

لاہور میرے لیے کیا ہے؟

گوالمنڈی اور نسبت روڈ کے اونچے مکانات جن کی پیشانیوں پر “سنت نواس”، “گیان کُٹیا” اور “ودّیا نواس” جیسے ناشناس نام آج بھی لکھّے ہیں جو وقت کی گرد میں کہیں بہت دور کھوئے گئے اپنے مکینوں کا پتہ دیتے ہیں۔ انارکلی کی پُر رونق گلیاں، بانو بازار، پان گلی اور قطب الدین ایبک کا مزار اور ایک چھوٹے سے گرجا گھر سے کرسمس کے دن آتی حمد کی صدا۔ مال روڈ کی پُرشکوہ عمارتیں۔ زمزمہ کی توپ، عجائب گھر میں رکھّا ملکہ وکٹوریہ کا بُت اور گوتم بُدھ کی مورتیاں۔ چھاؤنی کی درختوں سے ڈھکی ٹھنڈی سڑکیں۔ گلبرگ کے نیم روشن چائے خانے اور ماڈل ٹاؤن کی قدیم پُراسرار کوٹھیاں۔ جشنِ بہاراں میں گُل و گلزار ہوتے باغات اور شہر والوں کا ہجوم۔ اور لاہور کی کتابوں کی دوکانیں جن کی شیلفوں پر سجی کتابوں Old Anarkaliمیں ایک خوشبو بستی ہے۔ اتوار کے روز انارکلی کے فُٹ پاتھ پر کتابوں کے ڈھیر اور دھرمپورے کی بے چراغ گلیوں میں قدیم کتب، مخطوطات اور قلمی کتابوں کا ایک بیوپاری 1722 کے ایک نسخہِ انجیل کو سینے سے لگائے بیٹھا کسی قدردان کی راہ تکتا ہے۔ پاک ٹی ہاؤس کی فضا۔ دیواروں پر اہلِ قلم کی تصویریں۔ لاہور کے ادبی میلے، ان میں آنے والے قیمتی لوگ اور خوبصورت گفتگوئیں۔ اور اسی شہر میں جس کی سڑکوں پر بیگناہوں کے لاشے گرے، فضا بارود کی بو سے مسموم رہی اور نفرت کا پرچار ہوا، کچھ جزیرے ایسے بھی ہیں جہاں چند اہلِ دل کی کاوشوں سے آج بھی صوفیوں کی محفلیں ہوتی ہیں۔ حافظ و سعدی اور میر و غالب کا ذکر چھڑتا ہے۔ موسیقی کی تعلیم دی جاتی ہے اور کچھ سر پھرے قدیم علوم و فنون کو زندہ رکھنا چاہتے ہیں۔ جب تک یہ چراغ جلتے ہیں، اُمید باقی ہے۔

قدرتی بات ہے کہ انسان کو اپنے وطن، اپنی جائے پیدائش سے بیحد محبّت ہوتی ہے۔ اگر آپ کی جائے پیدائش کسی ایک یا بہت سے حوالوں سے اہم یا محبوبِ عام ہے تو سونے پر سہاگہ ہو جاتا ہے۔ میری پیدائش اور زندگی لاہور کی ہے مگر میں یہاں کا  باشندہ نہیں۔ باشندہ تو کوئی بھی کہیں کا نہیں۔ اندرون لاہور میں ساری زندگی گزارنے والے اور ‘ر’ کو ‘ڑ’ بولنے والے لوگ اگر کھوجا جائے تو عرب، ترک یا تورانی نکلتے ہیں۔ انسان ہمیشہ گردش میں رہا ہے اور اس کی پہچان کے سب حوالے چند نسلوں کے بعد کچھ کے کچھ ہو جاتے ہیں۔ مگر ایک حقیقت ہے کہ لاہور کا رہنے والا بشرطیکہ سینے میں دھڑکتا ہوا دل رکھتا ہو کہیں اور رہ تو سکتا ہے مگر خوش نہیں رہ سکتا۔ اپنے شہر کی کوئی یاد، کوئی کوچہ، کوئی چہرہ اس کا دل سلگائے رکھتا ہے۔ لاہور کے ناسٹیلجیا پر ایک پورا لٹریچر وجود میں آ چکا ہے۔ تو صاحبو! لاہور برا بھلا جیسا بھی ہے، ہمیں بیحد عزیز ہے۔ یہیں ہماری صبحِ بنارس ہے، یہیں ہماری شامِ اودھ۔ اس کی خاک میں ایسے ایسے ہیرے دفن ہیں، یونہی تو نہیں اس کے پھولوں کے رنگ اسقدر تابناک ہوا کرتے۔ یہ سب دل کی باتیں ہیں۔ لاہور بے مثال، لاہور لازوال۔۔۔

مصنف پنجاب یونیورسٹی سے بین الاقوامی تعلقات میں ماسٹرز ہیں اور ادب اور ثقافت پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.