تحریک انصاف اور عمران خان لازم و ملزوم؟

6 5,257

پاکستان تحریک انصاف کا قیام  1996میں عمل میں آیا۔ جب فاتح عالمی کرکٹ کپ عمران خان نے سیاست میں اس پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی انٹری دی  تحریک انصاف کے قیام سے لیکر اب تک 1997، 2002، 2008 اور 2013 میں عام انتخابات ہو چکے ہیں۔ پہلے اور دوسرے عام انتخابات میں کچھ ہاتھ نہ آیا۔  2008کے الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔  1996سے لے کر  2012تک عمران خان کی تحریک انصاف صرف ٹانگہ پارٹی ہی رہی۔ دنیائے کرکٹ میں طویل عرصے حکمرانی اور کامیابی کپتان قرار دیئے جانے والے عمران خان  16سال میں شاید  16ہزار کارکن بھی جمع نہ کر سکے۔ کوئی سیاست دان اور عوام بھی یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہ تھا کہ عمران خان بھی سیاسی دھارے میں گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔

اول تو ان 16 سال میں عمران خان کی جانب سے کوئی بڑا بیان سامنے نہ آیا۔ اور اگر آیا بھی تو کسی بھی سطح پر اس کا نوٹس نہ لیا گیا اور نہ ہی کسی کے کان پر جوں تک رینگی۔ لیکن 2012 میں ایک فلمی سی صورتحال پیدا ہوئی۔ 16 سال تک بمشکل سانس لینے والی تحریک انصاف راتوں رات عوام کی آنکھوں کا تارا بن گئی۔ جوق در جوق اور قطار بنا کر معروف سیاسی شخصیات آئے روز اس میں شمولیت اختیار کرنے لگیں۔  2013 کے عام انتخابات میں پی ٹی آئی نے نہ صرف مسلم لیگ کے بعد سب سے زیادہ ووٹ حاصل کیے بلکہ پہلی بار قابل ذکر نشستیں بھی قومی اسمبلی میں حاصل کیں۔ یہی نہیں، خیبر پختونخوا میں اپنی حکومت بھی قائم کی۔ اب عمران خان کی نظریں اگلے الیکشن کے بعد وزارت عظمیٰ پر ہیں۔ لیکن اس سے مزید آگے جانے سے پہلے ایک بار ماضی میں جانا چاہتا ہوں۔ اور مختصراً ایک جماعت کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں جو عوام میں بے انتہا مقبول ہوئی اور موقع سے فائدہ نہ اٹھانے کی ایسی سزا بھگتی کہ کارکنوں سے تو کیا اوراق میں بھی اس کا وجود ختم ہو گیا۔ کیونکہ کہیں نہ کہیں ملکی تاریخ کی اس گمشدہ سیاسی جماعت کی مماثلت آج کی تحریک انصاف سے ہو ہی رہی ہے۔ شاید عمران خان ماضی کے سبق سے فائدہ اٹھائیں اور اپنا مستقبل محفوظ بنا لیں۔

1965 کی جنگ کے ہیرو ائیرمارشل اصغر خان نے ریٹائرمنٹ کے بعد سیاسی میدان میں قدم رکھا۔ 1970 میں  تحریک استقلال پاکستان کے نام سے ایک جماعت کی بنیاد ڈالی۔ جس نے ذوالفقار علی بھٹو کی پیپلز پارٹی کو خوب ٹف ٹائم دیا۔ اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر کا بھرپور کردار نبھایا۔ بھٹو کی پھانسی کے بعد مارشل لاء لگا۔ جنرل ضیاالحق نے 90 روز میں الیکشن کا وعدہ کیا۔ جس کے بعد سیاسی پنڈتوں نے اصغر خان کو مستقبل کا وزیراعظم قرار دے دیا۔ مگر ہائے ری قسمت۔ قدرت نوازنے پر آئے تو ایک سقہ بھی سلطنت ہندوستان کا تاجدار بن جاتا ہے۔ اور اگر اپنی آئی پر آ جائے تو کوئی بھرا پیالہ ہاتھ میں تھام کر بھی اسے پینےکو ترس جاتا ہے۔ ایسا ہی ہوا اصغر خان کے ساتھ۔ جن کے مقدر میں وزرات عظمیٰ کی کرسی نہ لکھی تھی۔ نہ جنرل ضیا کے 90 روز آئے اور نہ ہی الیکشن ہوئے۔ تاہم اس دوران تحریک استقلال میں مختلف نظریاتی و سیاسی افراد دھڑا دھڑ شریک ہوتے گئے۔ جن میں نواز شریف، خورشید محمود قصوری، اعتزاز احسن، منظور علی گیلانی، شیخ رشید، جاوید ہاشمی، نواب اکبر بگٹی، مشاہد حسین سید، مہناز رفیع، راجا نادر پرویز، گوہر ایوب خان، نثار کھوڑو، ظفر علی شاہ، احمد رضا قصوری، منظور وٹو، مشیر پیش امام، سیدہ عابدہ حسین اور سید فخر امام جیسے سیاست دان شامل تھے۔

خیر، کفر ٹوٹا خدا خدا کر کے۔ ضیاالحق صدر بنے اور انہوں نے 1985 میں الیکشن کا اعلان کیا۔ پیپلز پارٹی کے پاس بھٹو کی پھانسی کا کارڈ تھا جس کے بل بوتے پر وہ کامیابی حاصل کر سکتی تھی۔ لیکن اس بار بھی سیاسی پنڈتوں نے مستقبل کا وزیراعظم اصغر خان کو قرار دے دیا۔ سیاسی مہم عروج پر تھی۔ عین الیکشن سے پہلے ذوالفقار علی بھٹو کی صاحب زادی بے نظیر بھٹو نے جنرل ضیا کی نگرانی میں کرائے جانے والے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا۔ سیاسی مجبوری کے تحت ایک بار پھر تحریک استقلال کے اصغر خان نے وزارت عظمیٰ کی کرسی سے دوری اختیار کی اور الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا۔ عام انتخابات کے بعد محمد خان جونیجو کی بے ضرر سی حکومت وجود میں آئی جنہوں نے اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری اور ذوالفقار بھٹو کی جلا وطن بیٹی بینظیر بھٹو کو وطن واپسی کی دعوت دے ڈالی۔ یہ بات صدر ضیاالحق کو ناگوار گزری اور اسی بات کی رنجش پر کچھ عرصے بعد جونیجو کی حکومت کا بوریا بستر گول کر دیا گیا۔

جنرل ضیا کے اقتدار میں آنے کے بعد پاکستان کو بہت سے اندورنی و بیرونی مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ عوام اور عالمی برادری کی اکثریت ان کے متعدد اقدامات سے نالاں تھی۔ 14اگست 1988 کو امام کعبہ پاکستان آئے تو انہوں نے رو رو کر پاکستان کی بہتری، ترقی و اچھے مستقبل کی دعا کروائی۔ پتہ نہیں کیا اثر تھا اور کیا دعا مانگی کہ تین روز بعد جنرل ضیاالحق طیارے حادثے میں اس جہان سے رخصت ہوگئے۔ لیکن 1970 میں اپنی سیاست شروع کرنے والے اصغر خان دو بار یقینی طور پر وزیراعظم بنتے بنتے رہ گئے۔

1970 سے 1985 تک پندرہ سال عوام نے ان سے آس لگائے رکھی۔ لیکن جب وہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے میں ناکام رہے تو آہستہ آہستہ عوام نے بھی ان سے منہ پھیر لیا۔ ایک وقت تھا کہ 20 سے 25 لاکھ آبادی والے کراچی میں 8 لاکھ افراد اصغر خان کا استقبال کرنے کیلئے موجود ہوتے تھے۔ اور ایک وقت ایسا بھی آیا کہ ان کے جلسوں میں چند سو افراد بھی شریک نہ ہوتے۔ 70 اور 80 کی دہائی میں تحریک استقلال کے پلیٹ فارم سے سیاست شروع کرنے والے سیاسی کھلاڑی ان سے الگ ہوتے گئے۔ ان میں سے کوئی وزیراعظم بنا تو کوئی وزیراعلیٰ، کسی نے گورنر کی سیٹ سنبھالی اور کوئی وزارت کے مزے لوٹتا رہا۔ ایک کرسی ہاتھ نہ لگی تو ان سیاست دانوں کے سیاسی قائد اور استاد اصغر خان کے ہاتھ۔۔ 1990 سے لے کر 2008 تک پانچ عام انتخابات ہوئے لیکن اصغر خان کی تحریک استقلال ہوتے ہوئے بھی نہ ہونے جیسی رہی۔ اور بالآخر اس کا انجام آن پہنچا۔ 2012 میں تحریک استقلال کھایا پیا کچھ نہیں گلاس توڑا بارہ آنے کے مصداق عمران خان کی پاکستان تحریک انصاف میں ضم ہو گئی۔

اب بات جوڑتے ہیں جہاں سے کالم شروع کیا تھا۔ فوجی اصغر خان اپنے پیشے کے بعد سیاست میں داخل ہوئے۔ ایسے ہی کرکٹر عمران خان اپنے پیشے کے اختتام کے بعد سیاست میں آئے۔ ابتدا میں اصغر خان کی جماعت بھی مقبولیت نہ حاصل کر سکی۔ عمران خان کو بھی تقریباً 16سال بعد پذیرائی ملی۔ اصغر خان کی جماعت کے بارے میں ایک طبقے کی رائے تھی کہ انہیں اسٹیبلشمنٹ کی آشیرباد حاصل ہے۔ انہیں پیپلز پارٹی کو ٹکر دینے کیلئے میدان میں لایا گیا ہے۔ عمران خان کے بارے میں بھی کچھ ایسی ہی باتیں ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ لیکن انہیں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے متبادل کے طور پر سامنے لایا گیا ہے۔ اصغر خان کی طرح عمران خان نے بھی ایک موقع گنوایا اور ایک بار الیکشن کا بائیکاٹ کیا۔ اصغر خان کی جماعت میں ایک مخصوص وقت میں دھڑا دھڑ سیاست دانوں کی شمولیت ہوتی رہی۔ اسی طرح 2012 کے بعد اچانک سے مختلف سیاسی جماعتوں کے بڑے بڑے رہنما عمران خان کی جماعت میں شامل ہوتے رہے۔ اصغر خان کی طرح عمران خان کی منزل بھی وزارت عظمیٰ کی کرسی ہے۔

اب دیکھنا ہوگا کہ اب تک قسمت کے دھنی عمران خان کے سر اقتدار کا ہما بیٹھتا ہے یا نہیں۔ لیکن اس کیلئے کپتان کو مستقبل سے مکمل طور پر باخبر رہنا پڑے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت پاکستان تحریک انصاف انتہائی مضبوط پوزیشن میں ہے۔ اور بظاہر لگ رہا ہے کہ اگلے الیکشن میں وہ سادہ اکثریت حاصل کر لے گی۔ اور پی ٹی آئی کی کامیابی کی صورت میں وزارت عظمیٰ کا منصب عمران خان کو ہی ملے گا۔ لیکن عمران خان کو اس بات کا احساس بھی ہونا چاہیے کہ اس وقت تحریک انصاف میں بہت سے ایسے افراد موجود ہیں جو وزیراعظم بننے کی نہ صرف اہلیت رکھتے ہیں بلکہ خواہش بھی رکھتے ہیں۔ عمران خان کو مسلم لیگ (ہم خیال) کے سربراہ میاں محمد اظہر کا انجام بھی سامنے رکھنا ہوگا جنہیں 2002 کے الیکشن میں بری طرح ناکامی کا سامنا کرنا پڑا اورمائنس اظہر کے بعد مسلم لیگ (ق) وجود میں آئی۔

بھولا خبری کے مطابق اگلے الیکشن میں پی ٹی آئی ہی اکثریت حاصل کرے گی جس کے بعد وزیراعظم کے حلف کیلئے شیروانی عمران خان ہی پہنیں گے۔ اور اگر انہوں نے  نواز شریف کی طرح دیگر اداروں سے محاذ آرائی کا خطرناک کھیل نہ کھیلا تو وہ طویل عرصے اس کرسی پر براجمان رہیں گے۔ تاہم بھولے خبری کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ عمران خان کی جماعت میں ہی ان کے ‘متبادل’ موجود رہیں گے۔ جو کسی بھی ‘غیریقینی و ہنگامی’ صورتحال میں اقتدار سنبھال سکتے ہیں۔ تاہم قوی امکان یہی ہے کہ اس حد تک نوبت نہیں آئے گی اور عمران خان ہی وزرات عظمیٰ پر فائز رہیں گے۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ پاکستانی قوم پرشخصیت کا سحر ہے۔ بھٹو، بے نظیر اور نواز شریف کے بعد عمران خان ہی ایسی شخصیت ہیں جسے عوام اپنا لیڈر دیکھنے کو تیار ہے۔

محمد علی میو 2000 سے شعبہ صحافت سے وابستہ ہیں، روزنامہ اساس، روزنامہ دن، روزنامہ خبریں سمیت متعدد قومی اخبارات میں نیوز روم کا حصہ رہے۔ 2007 میں پرنٹ میڈیا سے الیکٹرانک میڈیا میں آئے۔ دنیا ٹی وی، چینل فائیو، وقت ٹی وی سے وابستہ رہے۔ ان دنوں دنیا ٹی وی میں نیوز روم کا حصہ ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

6 تبصرے

  1. muhammad saleem کہتے ہیں

    1965 ki jung k hero Air marshal Noor khan hein.asghar khan to retire ho chukey they.

    1. Ali Mayo کہتے ہیں

      yes he was retired in 1965.it was meant Hero of Pakistan Air Force. He Participated in World War II, Burma Campaign 1944-1945; Indo-Pakistan War of 1947.He was retired in 1965 war but he was not out of game that time also .anyways thank you for concern

  2. Dr Asif Khokhar کہتے ہیں

    میو صاحب السلام علیکم
    آپ نے بہت خوبصورت انداز میں تجزیہ کیا ہے اور بڑی اہم حقیقت سے پردہ اٹھایا ہے لیکن ایک بات اور اضافہ کر لیں کہ اب اسٹیبلشمنٹ بھی کافی تجربہ کار ہو چکی ہے۔ وہ اب ایسے نہیں خریدتی جو بعد میں سنبھالنے مشکل ہو جائیں۔ اب شاید وہ اس کٹھ پتلی کو بہت زیادہ اسٹیبلش نہیں ہونے دیں گے۔

    1. Ali Mayo کہتے ہیں

      ڈاکٹر آصف کھوکھر صاحب ! بہت شکریہ ۔آپ کی آرا میں دم خم ہے ۔لیکن یہ بھی ایک المیہ ہے کہ جس جماعت میں کوئی لائق طالب علم نہ ہو تو استاد کو مجبوری میں کسی نالائق پر ہی اکتفا کرنا پڑتا ہے ۔ اسی طرح اسٹیبلشمنٹ کو بھی دستیاب وسائل میں سے ہی انتخاب کرنا ہوتا ہے ۔اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں

  3. zakirya کہتے ہیں

    Agr Imran Khan nny abb bhi apna demag istemal naaa kia tuuu PTI ka Allah hi Hafiz hy

  4. Muhammad Ali Mayo کہتے ہیں

    Zakirya , PTI ko itni asaani se side line ni kia ja skta . han albta IK ko kch zimedari ka kirdar b ada krna ho ga

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.