خان صاحب، ایسے نہیں چلے گا

17 11,238

ہم سبھی اس پرانے پاکستان سے تنگ آچکے ہیں جہاں بات بات پر جھگڑا ہوتا ہے، عدم برداشت ہے، گھریلو ناچاقیاں ہیں، بے روز گاری ہے، جھوٹ اور کرپشن کا بازار گرم ہے، ہر پیدا ہونے والا بچہ مقروض ہے، سیکورٹی نہ ہونے کے برابر ہے، کوئی پتہ نہیں کب کہاں کون آپ کو لوٹ لے، دہشتگردی ہے، فرقہ واریت ہے، افراتفری ہے، نفسا نفسی ہے۔ ایک آزاد ملک میں رہتے ہوئے بھی ہم مظلوم، محکوم اور مجبور ہیں۔ الغرض کہ آزادی بھی برائے نام ہے۔ ایسے میں ہم سبھی کو نیا پاکستان چاہئے جہاں قوت برداشت ہو، اخوت اور بھائی چارہ ہو، آزادی ہو اظہار کی اور اظہار رائے کی، روزگار ہو، خوشحالی ہو،غربت نہ ہو، افلاس نہ ہو۔ یعنی اگر ہمیں صرف بنیادی ضروریات سے ہی گزارا کرنا پڑے مگر امن ہو، امان ہو تب بھی یہ ملک کسی جنت سے کم نہ ہوگا اور یہی ہمارے لئے ایک نیا پاکستان ہوگا۔

لیکن جس نئے پاکستان کا خواب ہمیں عمران خان نے دکھایا تھا وہ دور حاضر کے جدید تقاضوں کو پورا کرتا ہے۔ اس نئے پاکستان میں یورپ اور پاکستان ایک ہی صف میں کھڑے ہیں۔ ترقی پذیر سے ترقی یافتہ ہو چکے ہیں۔ عمران خان کی وہ تقریریں جس میں وہ یورپ کی مثالیں دیتے ہیں ہم نے اپنے دماغ کے دریچوں میں کہیں قید کر لی تھیں اور عمران خان سے ان سب کی امید اور توقعات بھی بہت تھی۔ جیسے ہی عمران خان کی خیبر پختونخوا میں حکومت آٗئی، ہم نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اس انتظار میں بیٹھ گئے کہ کب خان صاحب ہمیں آرڈر لگائیں کہ جناب آنکھیں کھول لو اور جیسے ہی ہم آنکھیں کھولیں گے تو ہمیں خیبر پختونخوا میں بڑے بڑے ریسرچ سینٹر دکھائی دیں گے، بین الاقوامی معیار پر پوری اترتی جامعات ہوں گی، خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے وہ تمام پی ایچ ڈیز جو قابلیت کا صحیح مول نہ لگنے کی وجہ سے ملک چھوڑ گئے تھے ہمیں وطن عزیز کی خدمت میں مصروف عمل دکھائی دیں گے، روزگار ہوگا، خوشحالی ہوگی، ہر جگہ سڑکوں کے جال بچھے ہوں گے، ترقی ہی ترقی ہوگی، خوشحالی ہی خوشحالی ہوگی، مگر افسوس کہ ہمااری آنکھیں بند ہی رہیں۔

اگر ہم مان لیں کہ وقت بہت کم تھا، تقاضے بہت تھے، وسائل کی کمی تھی، سازشیوں نے بھی ترقی کی راہ میں رکاوٹی ڈال رکھی تھیں، وفاق نے بھی کوئی ساتھ نہ دیا، تب بھی عمران خان ہمیں یہ جواب تو دے دیں کہ غریب اور امیر کے لئے یکساں نصاب تعلیم کے وعدے کا کیا ہوا۔ یہ تو کوئی بڑا کام نہیں تھا۔ آپ نے کہا تھا کہ ہم ایک ایسا نظام لائیں گے جس میں غریب اور امیر کا بچہ ایک ہی سائے میں بیٹھ کر تعلیم حاصل کرے گا۔ سب کو ایک ہی نصاب پڑھایا جائے گا۔ اور آپ نے اس پر بھی یورپ کی بہت سی مثالیں دی تھی۔ وہ بل گیٹس کے بچے روزانہ لنچ بھی ساتھ لے جاتے ہیں، جیب خرچ لے کر جاتے ہیں اور باقی تمام بچوں کے ساتھ ہی بیٹھ کر پڑھتے ہیں کہ دوسرے بچے ان کا لائف سٹائل دیکھ کر احساس کمتری کا شکار نہ ہوں، والی مثال یاد ہے نا خان صاحب یا بھول گئے ہیں؟ چلیں، امیر اور غریب کے بچے کو ایک ہی چھت تلے پڑھانے کا وعدہ یا دعویٰ چھوڑیں، یکساں نصاب تعلیم کی بات بھی چھوڑ دیں۔ آپ بتائیں کہ چار سال گزر جانے کے باوجود آپ آج تک پورے خیبر پختونخوا میں بچوں کی سکول کی وردی کیوں نہیں ایک کروا سکے؟ آج بھی وہاں بڑے شہروں کے سرکاری سکولوں اور چھوٹے شہروں کے سرکاری سکولوں میں وردیاں الگ الگ ہیں۔

کوئی عمران خان کو پاکستانی عوام کا یہ پیغام پنہچائے کہ پاکستانی عوام اب سمجھدار ہو گئی ہے۔ اب تقریروں اور دوسروں پر تنقید سے ووٹ نہیں ملنے والا۔ اگر آپ نے بھی باقیوں کی طرح باتوں کے پل بنانے ہیں تو پھر آپ بھی سن لیں کہ اب ایسا نہیں چلے گا۔ آپ شہباز شریف پر تنقید کرتے ہیں کہ سڑکیں اور پل بنانا متعلقہ اداروں کا کام ہے اور ہمیں یورپی ترقی کی مثالیں سنا سنا کر خود خیبر پختونخوا میں پودے اور درخت لگوا رہے ہیں۔ جب دنیا چاند اور ستاروں سے باتیں کر رہی ہے آپ خیبر پختونخوا کے نوجوانوں کو طوطے پالنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ آپ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے جس میں آپ نوجوانوں کو بتا رہے ہیں کہ آپ کے علاقے کا یہ طوطا بہت نایاب ہے، پوری دنیا میں اس کی نسل ختم ہو گئی ہے، آپ کو اس کی قدر کرنا ہوگی، اور ٹویٹر پر آپ جس ٹورازم کو پروان چڑھا رہے ہیں یہ بھی آپ کا کام نہیں ہے۔

آپ  اور آپ کی ٹیم چار سال گزرنے کے باوجود بھی نئے پاکستان کی بنیاد تک نہیں رکھ سکے۔ اب جب کہ الیکشن قریب آرہا ہے تو آپ ٹورازم کے نام پر عوامی محبتیں اکٹھا کرنے نکل پڑے ہیں۔ آپ کو یا تو وہ سب کچھ دینا ہوگا جس کا آپ نے وعدہ کیا تھا یا پھر اگلے الیکشن میں تقریریں سوچ سمجھ کر کیجئے گا کیونکہ عوام سمجھ دار ہو چکی ہے اور اب ایسے نہیں چلے گا۔

مصنف دنیا ٹی وی میں رپورٹر اور یوتھ کونسل پاکستان کے صدر ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

17 تبصرے

  1. Fahim کہتے ہیں

    kitnay mein apna qalam beecha hy? Captain k khilaaf bolnay walay bikao likhari

    1. waqar کہتے ہیں

      قلم سے کام تیغ کا اگر کبھی لیا نہ ہو
      تو مجھ سے سیکھ لے یہ فن اور اس میں بے مثال بن

  2. Abuabdallah کہتے ہیں

    بہت ہی سطحی اور ناقابل اشاعت قسم کی تحریر ہے
    جس سمجھداری کی باتیں کالم نگار کر رہے ہیں
    وہ سمجھداری ان کے خود کے پاس سے نہیں گذری- گلوبل وارمنگ اور اس سے متاثرہ ممالک میں ہم ٹاپ 5 ممالک میں ہیں اور یہ حضرت درخت لگانے پر الو لاجک جھاڑ رہے ہیں

    1. waqar کہتے ہیں

      آپ تحریر کی روح تک نہیں پنہچ پاۓ۔ بات یہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ کام متعلقہ اداروں کا ہے ، ممبرز نیشنل اسمبلی کا کام لیجسلیشن ہے۔ اور آج کے اس دور میں درخت لگانا ترقی کی علامت نہیں

  3. Rauf کہتے ہیں

    Strange that why there is still uniform not uniform among rural and urban schools. Urban is more well off rural so we why you are creating a sense of deprivation among rural masses?

  4. Mohsin Habib کہتے ہیں

    education system thek hua hai KPK me and ameer or ghareeb aik hi chat taly parh rahy hain… iski zinda misaal ye hai k KPK k 1 MPA ne apny bachon ko private school se hata kar govt school me admit karwa dia ha…
    and Tree lagany p apko takleef ho rahi hai jab ky World economic forum ny b KPK gov k is step ko kharaj-e-tehseen paish kia ha bcz it will help to control global warming. and It will be good for our health.
    tamber mafia p hath dala PTI ny. Police system ki improvement ko PMl-n k wuzra or international institutes ny b saraha ha..
    parrot wali video ki aap baat karty ho Pakistan k ilawa konsa country esa ha jis ki ye koshish nai hoti k nayab chezoon ko bachaya jaye… and agar Imran Khan ny esa initiative lia ha tu ap ko is py b tanqeed karni k siwa kuch kehny ko nai milla…
    Me ye nahi keh raha k har chez control hogye ha KPK me but jo promisses kye hain un p kaam b kia ha PTI ny …

    Mazrat k sath hamari awam k sath hamary journalists b zehni gulam ban gye hain… jo k nutral hony ki bjaye yak tarfa ho k sochty hain or inhy baki parties k achy kaam b bury lagty hain

    baki govts agar kuch karti hain tu waha hony wali curroption p tajzye ho rahy hoty hain… KPK me apko curroption nai nazar ayee tu apko trees lagana b acha nai laga waha p.. qemti prindo ko save karny ka initiative b ni acha laga.. education me tabdeli b nazar nai aye… police me changing b nazar nai ayee… Q k humy tu sirf new Roads nazar aty hain

    or Khan sb ny agar punjab ki tarha roads nai bnaye tu phr ap samajty ho k shayed esa nai chaly ga

    Me kehta hu k Khan sb well done ab esa hi chaly ga

  5. Amir Hamza کہتے ہیں

    Shah g boht khoob likha ap ny maagr ap ny theek chun chun k wo iqdam nikaly hain jin ko karny ma khan saab abe taak pora na utar saaky mgr is ka yaa matlab har giz nahe k wo apny manshoor sy pechy haty hain .. ab suny k Namal jasi university jaha dual degree fraham ki jati ha ameer logo sy bhari bharkam fees wasool kar k gareeb k bachy ko parhaya jata ha .. peshawar k police station or pc hotels fark karna mushkil ho gya ha patwaari system ka khatma usi pakhtunkhwa ma hua jis ki aap baat kar rahy hain police ki inquiry systm fone caal pa hony wala systm pakhtunkhwa ma e strt kia gya ha .. drakhat or pody lgana traqi ki shuruwat ha …. Jis surathal ma khan sab ko hukumat di gai mulk ma boht chalanges thy … Humy moqa dana chahey! khan saab ko tab wo apny manshoor pa pura nhe utarty to khan saab k against khary hony waly hum tulaba phly ho gy . Shukria

  6. Amar کہتے ہیں

    Keep it up ..

  7. Ayan کہتے ہیں

    Sayed Waqar ali apko abhi knoledge ki kami hai… islye pehly apna knowledge complete karain phr column likhny ki koshish karna… apko sahi chezain b wrong lag rahi hain…
    apko chahye kisi school me again admission lay lain sari classes dobara parhain phr shayed kuch improvement aajaye ap my.. and me apko advise karo ga k aap KPK k kisi govt school me admission lain taky apko pta chaly k education me improvement aye k nai…

  8. Ayan کہتے ہیں

    @Mohsin Habib well done apny tu isky fazool column ka operation hi kar dala…

  9. ندیم اختر کہتے ہیں

    مثبت تنقید کو نہ صرف اہمیت ملنی چاہیے بلکہ اُس کی حوصلہ افزائی بھی ضروری ہے لیکن یہ اپنے تئیں تنقیدی تحریر اپنے اندر اتنی کمزوریاں لیے ہوئے ہے کہ اس پر صرف افسوس کیا جاسکتا ہے۔ خاص کر درخت لگانے اور نایاب پرندوں کی دیکھ بھال پر اعتراض کرکے مصنف نے اپنی کم علمی اور تنگ
    نظری کا ثبوت دیا ہے۔ لگتا ہے موصوف کو یوتھ کونسل کی صدارت بھی اسی طرح ملی ہے جیسے کیپٹن صفدر کو مسلم لیگ یوتھ ونگ کی صدارت ملی ہوئی ہے۔

  10. Muhammad Zia کہتے ہیں

    ye smjhdari imran khan ne hi sikhaai hai awaam ko..or ap jesay bachay bolnay ka qabil huay…ye bhi khan ka hi result hai..

  11. سید اظہر حسین شاہ کہتے ہیں

    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ
    شاہ جی جانے دیں.
    دنیا میڈیا نیٹ ورک کی پالیسی کے مطابق لکھنا شاید آپ کی مجبوری محسوس ہو رہی ہے.
    ہزار اختلاف کے باوجود خان کے کام کی تعریف بنتی ہے. باقی جو چاہے آپ کا حسنِ کرشمہ ساز کرے…..

    1. sajjad کہتے ہیں

      Aisa kiy kaam hay jo is masmoon me darg nahi hay, yaj to bata deaen. fully endorse the article.

  12. Adnan Sohail کہتے ہیں

    Agree with most part of the article except the last 2 paragraphs which are written with a complete senseless mind.

    Pakistan is one of the top 10 countries affected by global warming. And saving creatures is our job and responsibility. Both of these sense (growing trees and saving creature) are the kind of ideas, only a leader can think off.

  13. Name Khan کہتے ہیں

    بھائی جان آپ بڑے تو ہو جائیں پہلے — پانچویں جماعت کے بچے کا مضمون لگ رہا ہے –

  14. saad کہتے ہیں

    what an idiot.Dunya news is doomed if it has reporters like him.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.