اقتدار کی حوس یا کچھ اور

1 7,336

نااہلی کے بعد میاں نواز شریف نے لاہور اپنے محل میں واپسی کا فیصلہ کیا تو کئی دن تک یہی طے نہ ہوسکا کہ عزت مآب بادشاہ جو تحت سے اُتر کر بھی بادشاہ ہی ہیں انہیں کیسے لاہور بھیجا جائے۔ تقریباً حکومت کے ماتحت آنے والے سارے ہی ادارے متحرک ہوگئے کہ میاں صاحب کو کیسے لاہور میں پہنچایا جائے۔ دوسری طرف سب رہنماؤں نے اپنے نمبر ٹانگنے کے لیے نواز شریف کو ایک سے بڑھ کر ایک مشورہ دیا۔ تاہم آخر میں فیصلہ یہ ہوا کہ بھرپور سیاسی قوت کا مظاہرہ کرتے ہوئے لاہور جایا جائے گا اور مخالفین سمیت تمام اداروں کو یہ پیغام دیا جائے گا کہ فیصلہ اصل میں شریفوں کی مرضی کےخلاف آیا ہے۔ ہوا بھی ایسے ہی۔ پنجاب ہاؤس سے لے کر پنڈی کی سڑکوں، پھر وہاں سے پہلا پڑاؤ جہاں ڈالا گیا جہلم اور آخر میں گجرات ہر جگہ کھڑے ہو کر اعلانیہ یہ کہا گیا کہ مجھے کیوں نکالا؟ میرا قصور کیا ہے؟ لوگ پوچھتے کیوں نہیں؟ ایک منٹ میں پانچ ججوں نے مجھے نا اہل قرار دے دیا، یہ مجھے نہیں آپ لوگوں کے مینڈیٹ کو نااہل قرار دیا گیا وغیرہ وغیرہ سمیت اور بھی بہت سے نشتر برسائے گئے جو پاکستانیوں سمیت ساری دنیا کے لوگوں نے دیکھے بھی اور سنے بھی۔

نواز شریف جن چکروں میں ہیں وہ کامیاب ہوتا دکھائی نہیں دے رہا کیونکہ (ن) لیگ پر ایک دھبہ ابھی تک موجود ہے کہ انہوں نے سپریم کورٹ پر شب خون مارا تھا۔ لیکن لگتا ہے اس دفعہ نواز شریف نے تلخ یادوں کو ذہن میں رکھتے ہوئے اپنا پلان تبدیل کیا ہوا ہے اور وہ خود کارکنوں کو یہ حکم نہیں دے رہے کہ شب خون مارا جائے پر جس طرح وہ خطاب فرما رہے ہیں انکو یہی لگتا ہے کہ لوگ جذباتی ہو کر خود ہی حملہ آور ہوجائیں گے۔

لیکن افسوس یہ پاکستانی قوم اب سب کچھ جان چکی ہے۔ میاں صاحب کی یہ فرمائش پوری ہوتی دکھائی نہیں دے رہی۔ خیر اب مدعے کی طرف آتا ہوں۔ جہلم تک تو کسی نہ کسی طرح (ن) لیگی یہ کہتے رہے کہ عوام نے فیصلہ مسترد کر دیا اور نواز شریف سیاسی شو دکھانے میں کامیاب ہوگئے، لیکن لالہ موسیٰ جو کہ میرا آبائی شہر بھی ہے وہاں سے گزرتے ہوئے جناب عزت مآب نااہل بادشاہ کے سکواڈ میں شامل گاڑی نے ایک بارہ سالہ بچے جو کہ محبوب لیڈر کو دیکھنے کی خاطر سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر سڑک پر موجود تھا، کو کچل دیا۔ وہاں پر موجود لوگوں اور میری اطلاعات کے مطابق پہلے ایک گاڑی اور پھر دوسری گاڑی اور نجانے کتنی ہی گاڑیاں اُس معصوم کو خواہش سمیت کچلتی چلی گئیں لیکن وہ بادشاہ جو عوامی حمایت کی خاطر سڑکوں پر نکلا تھا۔ انہوں نے ایک دفعہ بھی مُڑ کر دیکھنا گوارہ نہیں کیا۔ بات یہیں رک جاتی تو شاید قابلِ برداشت ہو جاتی جو کہ ممکن نہیں۔ لیکن نواز شریف کی محبت میں اپنی آنکھوں پر پٹی باندھے ہوئے لیگی رہنماؤں کی جب یہ بیانات آنا شروع ہوئے کہ “حامد ہماری تحریک کا پہلا شہید ہے” یا شریف خاندان کے داماد جو کہ نیشنل داماد بننے کے چکروں میں لگے رہتے ہیں انکا بیان سنتے ہی لکھنے پر مجبور ہوگیا۔ وہ فرماتے ہیں کہ “حامد پاکستان کی خاطر شہید ہوا ہے”۔ رہی سہی کسر اُس ہستی نے نکال دی، تقریباً جسکی وجہ سے نواز شریف اس حال میں پہنچ چکے ہیںؕ انہوں نے حسب معمول ایک ٹویٹ کیا اور کہا کہ “مقامی قیادت مرنے والے بچے کے گھر جائے”۔ مریم نواز کو یہ کیوں نہ خیال آیا کہ انکے والد جناب میاں نواز شریف صاحب جو کہ عوامی حمایت حاصل کرنے کے چکروں میں پچھلے دو دنوں سے سڑکیں ناپ رہے ہیں، اگر ایک ٹویٹ میں ان سے ہی درخواست کر دی جاتی کہ اُس بچے کے گھر جا کر اُسکی دکھیاری ماں کو دلاسہ ہی دے آئیں، کیا اس طرح نواز شریف کے لیے لوگوں کے دلوں میں عزت نہیں بڑھنی تھی؟

ماروی میمن جو کہ کبھی گاڑی کے اندر اور کبھی گاڑی کے اوپر چڑھ کر شیر کی طرح دہاڑنے کی ناکام کوشش کر رہی تھیں، وہ تو ایک عورت ہیں اور عورت کا درد بہت بہتر طریقے سے سمجھ سکتی ہیں۔ لالہ موسیٰ سے صرف چند کلو میٹر کی مسافت پر گاڑی کے اوپر کھڑے ہو کر کارکنوں کے نعروں کا جواب دے رہی تھیں، تو کیا وہ بھی اپنے آپ کو اس قابل نہ سمجھ پائیں کہ اُس ماں جسکی گود اُجاڑ دی گئی اُسکے سوالوں کا جواب نہ دیتیں کم از کم دلاسہ ہی دے آتیں؟

اب تازہ ترین اطلاعات کے مطابق نواز شریف کا قافلہ گوجرانوالہ میں پہنچ چکا ہے جہاں پر انکے لیے قیام و طعام کا بھی انتظام کیا گیا لیکن اس سب سے پہلے گوجرانوالہ کی عوام کے سامنے اپنے آپ کو سچا ثابت کرنے میں لگے رہے۔ انہوں نے بھی ایک لفظ بھی اُس معصوم بچے کے لیے ادا نہیں کیا جو شاید انکے ہی دیدار کی خواہش لیے سڑک پر کھڑا تھا لیکن اُس بیچارے کو کیا پتہ تھا کہ محبوب لیڈر کے دیدار کی خواہش اُسکی جان ہی لے لے گی۔ اُسکی ماں کو ٹی وی پر یہ کہتے سُنا کہ “اوہ نواز شریف تیرا ککھ نا روے” تو خیال آیا کہ ککھ رہا بھی نہیں اور اگر میرا خیال غلط ہے تو جس روش پر یہ چل نکلے ہیں ککھ رہتا دکھائی نہیں دے رہا۔

ممبر سٹاف

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. Tahir کہتے ہیں

    yeh hawas saray hee politicians mein hai Imran khan, Zardari sab aik hee hain Awam ko bewaqoof banaya hua hai.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.