بڑے ابّو کے پاس مت بیٹھنا

2 8,787

مجھے اپنی بیٹی کے ہمراہ ایک نجی کام کے سلسلے میں لاہور سے باہر جانا پڑا۔ واپسی کے لئے ڈائیوو کا انتخاب کیا اور تیاری باندھ لی۔ بس آئی اور ہم اس میں سوار ہو گئے۔ ہماری نشست کے عین پیچھے ایک خاتون جن کی عمر کوئی چالیس پینتالیس کے پیٹے میں ہوگی اپنی بیٹی کے ہمراہ براجمان تھیں۔ بس نے جیسے ہی حرکت کی ان کا موبائل فون بھی ساتھ ہی متحرک ہو گیا (یہ بھی نسوانی خواص کے تحت ایک الگ بات ہے کہ موبائل فون کی تحریک لاہور ٹرمینل پر پہنچ کر ہی اختتام کو پہنچی)۔ اب ان کا فون تھا اور وہ تھیں۔ آواز بھی خاصی بھاری اور بلند تھی۔ مجھے معلوم ہے کہ لوگوں کی باتیں کان اور دھیان لگا کر سُننا مہذب لوگوں کا شیوہ نہیں لیکن جب آواز ہی اتنی بلند اور لہجہ کرخت ہو تو نہ چاہتے ہوئے بھی دھیان دینا ہی پڑتا ہے۔ اور یہ تو ویسے بھی ہمارا قومی رویہ ہے۔ جب دلیل موجود نہ ہو تو اونچی آواز اور بارعب لہجے سے دوسرے کو قائل کر کے اپنی فصاحت اور بلاغت کی دھاک بٹھا دینی چاہیئے۔

خیر واپس آتے ہیں اس خاتون کی طرف جنہوں نے غالباً بلیاں پال رکھی تھیں اور وہ بلیاں انہیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز تھیں۔ پہلا فون انہوں نے اپنے نوکر کو کیا اور اسے کہا کہ گرمی بہت ہے۔ میرے کمرے کا اے سی چلا کے بلیوں کو اندر لے جاؤ اور کسی کو بھی میرے کمرے میں جانے مت دینا۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے شاید کسی دوسرے نوکر کی بابت دریافت کیا جو ممکنہ طور پہ اس دن شاید چھٹی پر تھا۔ میری توقعات کے عین مطابق انہوں نے اس مبینہ نوکر کو اتنے خوبصورت القابات سے نوازا کہ زبان و بیان کی رعنائیاں اپنے جوبن پر محسوس ہوئیں۔ پنجابی زبان کی رَسن سے بھرپور گالیاں ساری بس کی توجہ حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔ لاہور آنے تک ایسے کتنے فون انہوں نے کیے اور سنے ان کا شمار ناممکن ہے لیکن ایک کال ایسی تھی جس نے مجھے یہ تحریر لکھنے پر مجبور کیا اور آپ کو پڑھنے کی زحمت گوارا کرنی پڑی۔ وہ کال انہوں نے اپنے فرزند کو کی تھی۔ اسے باقی ساری تفصیلات سے آگاہ کرنے کے بعد پند و نصائح کا ایک لامتناہی سلسلہ شروع کر دیا۔ یہ کر لینا وہ نہ کرنا۔ فریج میں سب کچھ رکھا ہے۔ جو دل کرے ماسی سے بنوا لینا۔ ان سب باتوں کے علاوہ اس عورت نے ایک بات ایسی کہی جو میرے دل کو کچوکے لگاتی رہی اور کافی وقت تک مجھے میرے ضمیر کی عدالت میں پیش ہونا پڑا اور اس قوم کی تربیت (بشمول اپنی تربیت کے) کے لئے جوابدہ ہونا پڑا۔ انہوں نے اپنے بیٹے سے کہا کہ ماسی سے کہنا کہ بڑے ابو کو کھانا ان کے کمرے میں دیتی رہے اور آپ بڑے ابو کے پاس جا کر مت بیٹھنا۔ نہ کوئی بات کرنا اور اپنے کام سے کام رکھنا۔

مجھے نہیں معلوم کہ اس خاتون نے ایسا کیوں کہا۔ ایسا کیا ہوا تھا کہ وہ یہ کہنے پر مجبور تھی۔ ایک مرد جو بچپن میں بچہ، لڑکپن میں لڑکا اور جوانی میں نوجوان بننے کی ان سب منازل کو طے کرتا ہوا مرد کہلاتا ہے اس مرد کی ذمہ داریوں کی نہج کیا ہے اس کا اندازہ شاید کوئی نہیں کر سکتا۔ سائنس کا کہنا ہے کہ مردوں کی نسبت عورتوں کی قوتِ توجہ زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد کا دماغ اور اس کی سوچ کا دائرہ کار بسا اوقات کافی منتشر اور بکھرا ہوا ہوتا ہے۔ اور کیوں نہ ہو ذمہ داریوں کا ایک کوہِ گراں اسے اپنے کندھوں پر اٹھانا ہوتا ہے۔ عورت کی جدوجہد اور اس کے صنفِ نازک ہونے کے باوجود اس بات پہ کوئی دو رائے نہیں ہے کہ ہمارے معاشرے میں ان دونوں اجناس کے اپنے اپنے مسائل اور مشکلات ہیں۔ یہ دعویٰ حقیقت کے بالکل برعکس ہے کہ ان میں سے عورت زیادہ ذمہ داریوں میں جکڑی ہوتی ہے اور مرد کی نسبت اس کی مشکلات زیادہ ہوتی ہیں۔ بلاشبہ مرد اور عورت دونوں انسانی گاڑی کے دو اہم پہیے ہیں۔

چند لمحوں کے لئے ذرا جنسی تعصب اور تنگ نظری کی عینک اتار کے دیکھیئے کہ ایک مرد کے لئے جیون کے میدانِ کارزار کی مشکلات کیا ہیں۔ والدین کی ذمہ داری، بیوی کی ذمہ داری، بچوں کے فرائض، روزگار کے مسائل اور دنیا داری کے نظام میں مرد کے لئے آسانی کہاں ہے؟ ارے مرد تو رو بھی نہیں سکتا۔ اگر رو پڑے تو اُسے نامرد اور بُزدل اور نجانے کیا کیا کہا جائے، الفاظ ہی نہیں ملتے۔ محبت کا مینارہ، ایثار کا پیکر اور خلوص کے مجسمے کی صورت میں ایک مرد ہی ہوتا ہے جو بیک وقت، بیٹے، بھائی، شوہر، باپ اور مزدور کی ذمہ داریاں اٹھاتا ہے۔ اس کے کپڑے ہر مہینے بنیں یا نہ بنیں بیوی کا سوٹ اور جیب خرچ اس پہ لازم ہے۔ اپنی خواہش پوری کرے یا چھوڑ دے بہن کا جہیز ضرور پورا کرے۔ خود کا میڈیکل ٹیسٹ ملتوی ہوتا ہوتا رہ جائے لیکن والدہ کی دوائی اور ڈاکٹر کی فیس کا انتظام اسے کرنا ہے۔ اپنے جوتے میں سوراخ ہی سوراخ ہوں لیکن بیٹے کو سکول کے لئے نئے جوتے دلانا اولین ترجیح ہے۔ بیوی بچوں کے ساتھ سڑک پار کرتے وقت خود گاڑیوں کی طرف رہے کہ خدا ناخواستہ حادثے کی صورت میں پہلا تصادم اسی کے ساتھ ہو۔ کڑی دھوپ میں سکول کے باہر بچوں کا انتظار کرے اور نجانے کیا کیا۔ یہاں میں ہرگز یہ نہیں کہتی کہ یہ ذمہ داریاں مرد کے لئے بوجھ ہیں یا اس پر ظلم ہے مجھے دکھ اس بات کا ہوتا ہے کہ اسے آخر میں صِلہ کیا ملے گا۔ گھر اور اولاد کی خاطر ضروریات کے میدان میں لڑتے لڑتے جب یہ سپاہی تھکے ٹوٹے بدن کے ساتھ آخری عمر کو پہنچتا ہے تو یہی اولاد اسے تنہائی، بے بسی اور بے چارگی تحفے میں دے کر یا تو گھر کے کسی کونے میں بوسیدہ فرنیچر کی مانند مرنے کے لئے چھوڑ دیتی ہے یا پھر یہ کہہ کر کہ “ابا جی آپ کچھ ڈھنگ کا کر لیتے تو زندگی سنور نہ جاتی” اولڈ ایج ہوم میں داخل کروا کے اپنے فرائض اور ذمہ داری سے سبکدوش ہو جاتی ہے۔

بڑے ابو کے پاس مت بیٹھنا۔ آپ یقین جانیے کہ اس فقرے نے راقم کو جس ذہنی اذیت اور سوزشِ قلبی سے دوچار کیا ہے اس کا اظہار ممکن ہی نہیں۔ یہ احسان فراموش اولاد باپ کی قدر کر ہی نہیں سکتی۔ یہ بھول جاتی ہے کہ ماں کے قدموں میں اس خدائے بزرگ و برتر نے ان کی جو جنت رکھی ہے، باپ اسی جنت کا دروازہ ہے۔ میرا ضمیر اس قوم کے نام پر مجھے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کے یہ سوال مجھ سے کرتا ہے کہ جس باپ نے اپنی زندگی کے روز و شب تمہارے نام کر دیئے، جس نے خود کو بھلا کر تمہیں پروان چڑھایا، جس نے اپنی صحت کو داؤ پہ لگا کر تمہاری پرورش کی آج وہی باپ تم سے چند لمحوں کا سوالی ہے۔ وہی تمہیں اپنی گھر پر اور اپنے بچوں کے لئے بوجھ لگتا ہے جس کے کندھے تمہاری نشوونما اور پرورش کی ذمہ داریوں سے جھکے ہوئے ہیں۔ جو تمہارے ہزاروں سوالوں کا جواب مسکرا کے دے دیا کرتا تھا آج اسی کے چند سوال تمہیں چبھتے ہیں۔ میرا قلم خاموش ہے۔ مجھے نہیں معلوم کہ میں آگے کیا لکھوں۔ بڑے ابو کے پاس مت بیٹھنا۔ یہ صدا تب تک گونجتی رہے گی جب تک اس ملک کے اولڈ ایج ہوم ختم نہیں ہو جاتے۔ جب تک وہ سارے بوڑھے والدین جن کے گھر بار اور آل اولاد آباد ہیں ہنسی خوشی اپنے اپنے گھروں کو لوٹ نہیں جاتے۔

بڑے ابو کے پاس مت بیٹھنا۔ باخدا میں نہیں جانتی کہ اس خاتون نے یہ جملہ کس پیرائے میں کہا لیکن محمدؐ رسول اللہ کے امتی کہلانے پر آج میرا سر شرم سے جھکا ہوا ہے کہ ہم اپنے پیارے نبیؐ کی تعلیمات کی لاج نہ رکھ سکے۔ وہ دین جو نظامِ حیات دیتا ہے، جو کہتا ہے کہ والدین کے چہرے پہ ایک پیار بھری نظر سے دیکھنا مقبول حج کے برابر ہے۔ میں یہ اقرار کیسے کروں کی پیار بھری نگاہ تو درکنار میرے پاس انہیں دینے کے لئے سِرے سے وقت ہی نہیں ہے؟ خدارا ماں اور باپ کی قدر کیجیئے۔ یہ دونوں بہت اہم ہیں۔ یہ آپ کا قیمتی سرمایہ ہیں۔ شاید آپ کو جب تک احساس ہو گا وقت بہت آگے نکل چکا ہو گا اور وہاں سے واپسی ناممکن ہو گی کیونکہ:

سدا روپوش رہتے ہیں وہ پتھر
عمارت جن کے کندھے پر کھڑی ہو

دنیا میں والدین سے بڑھ کر اور ان سے بڑا بے لوث رشتہ کوئی نہیں۔ انہیں دواؤں اور پیسوں کی نہیں آپ کے پیار، توجہ اور وقت کی ضرورت ہے۔ آج والدین کو نظر انداز کر دینے والی اولاد شاید اس حقیقت سے آنکھیں موند لیتی ہے کہ کل انہیں بھی بوڑھا ہونا ہے۔ والدین سے کیا جانے والا سلوک ایک ایسی کہانی ہے کہ جسے لکھتے ہم اپنے ہاتھوں سے ہیں لیکن وہ کہانی ہمیں ہماری اولاد پڑھ کے سناتی ہے۔ کوئی ان سے پوچھے جس نے یہ سرمایہ گنوا دیا۔ عابی مکھنوی نے ٹھیک ہی کہا ہے:

یتیمی ساتھ لاتی ہے زمانے بھر کے دکھ عابی
سنا ہے باپ زندہ ہو تو کانٹے بھی نہیں چبھتے

اور محترم وسیم عباس کا یہ شعر بھی مجھے ہمیشہ یاد آتا رہتا ہے

میں والدین کو جب سے کمائی دینے لگا
ضمیر بوجھ سے مجھ کو رہائی دینے لگا

جاگ جائیے اور حقیقیت سے نظریں نہ چرائیے ورنہ شاید کل آپ کے پوتے، پوتی، نواسے یا نواسی کے کان بھی یہی فقرہ ضرور سنیں گے کہ بڑے ابو کے پاس مت بیٹھنا۔

مصنفہ ملتان کے ایک ادبی گھرانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کے نانا جان شمشیر حیدر ہاشمی المعروف مہر صاحب ریڈیو پاکستان کے مشہور صداکار تھے۔ آج کل ایک سرکاری ادارے میں ملازم ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

2 تبصرے

  1. آ صف علی کہتے ہیں

    اپ کے لکھنے کا شکریہ
    لیکن مجھے ایک بات سمجھ نہیں آئی کہ آپ نے بہو اور سسر کے رشتے کی بجائے باپ بیٹا یا باپ بیٹی پر قلم کشائی کی۔
    عام طور پر بڑے ابو دادا جی کو کہتے ہیں اور ھمارے معاشرے میں عورت کو سب سے پہلے تنقید سسرکی ہی سننی ہو تی ہے۔
    ہمارے معاشرے میں اولڈ ایج ھوم کا عروج پر نہیں ہے جیسے دوسرے ملکوں میں ھوتا ہے۔ہاں سسرال کے ساتھ مسا ئل ہو سکتے ہیں۔

  2. Maqsood کہتے ہیں

    The Great.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.