قیدی کے خواب

ہر اس شخص کے نام جو خوابوں کی تکمیل چاہتا ہے

0 3,279

بے روزگاری ایک ایسے قیدی کی کہانی ہے جس کا جرم یہ ہے کہ وہ کچھ نہیں کرتا اور سزا یہ کہ جب تک وہ خود چاہے قید ہی رہے۔ حالت جمود بھی بے روزگاری ہی ہے اور ایسا شخص ایک مؤدب اور مظلوم قیدی ہے۔ ایسا شخص قید میں سلاخوں سے لگ کر باہر آزاد چلنے پھرنے والے لوگوں کو بڑی حسرت سے دیکھتا ہے اور پھر اپنے ماضی کی ٹائم لائن کا دوسروں کی ٹائم لائن سے موازنہ کرتا رہتا ہے۔ جب اس کی صلاحیتیں، جستجوئیں، سب کی امنگیں اور اپنے اندر کی آوازیں اس کو بے چین کرتی ہیں، تو وہ اپنی ہی ذات میں پہلی تاریخی غلطی یہ کرتا ہے کہ وہ دوسروں کے کندھوں پر اپنے سارے خواب ڈال دیتا ہے۔

وہ اس قید کی ساری صعوبتیں خود ہی برداشت کرتا ہے اور ہر سوالیہ نظروں کو خود ہی جواب دیتا ہے۔ یہ اس اونٹ کی مانند ہے جس کو چلنے کیلیے یہ انتظار ہے کہ اس کی نکیل کوئی کھینچے، یعنی اس قید سے باہر آنے کا اختیار وہ اپنے پاس نہیں رکھتا۔ آپ اگر کسی پیشے سے منسلک ہیں اور آپ کو لگتا ہے کہ آپ اس پیشے میں خوش نہیں ہیں تو بھی آپ بے روزگار ہی ہیں اور حالت جمود میں ہیں۔

انسان کی فطرت ہے کہ وہ ایک عرصے بعد کسی بھی طرح کے حالات میں ڈھل جاتا ہے۔ اردگرد کا ماحول آپ کو اور آپ ماحول کو ایک دوسرے کے ساتھ موافق کر لیتے ہیں۔ کبھی کبھی ہم موافقت کے اس رشتے میں ایسے بندھتے ہیں کہ ساری عمر ہم خواہشات اور صلاحتیوں کو عمر قید کی سزا دے رہے ہوتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ حالات آپ کو کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں نہ کہ آپ حالات کو۔ خود سے زیادہ ہمیں ماحول کی فکر ہوتی ہے۔ بہت سی آوازیں آپ کو ماحول کی اس بغاوت پر روکنے کی کوشش کریں گی اور قیدی دوست آپ کو دلائل سے سمجھائں گے۔ بس یہی وہ وقت ہوتا ہے جب ہم اپنی ذات کے کٹہرے میں خود کو یہ فیصلہ سناتے ہیں کہ اگلی پیشی پر آنا ہے یا آزاد ہونا ہے؟ آزادی کا فیصلہ آج کیوں نہیں؟ آنے والے کل کا انتظار قیدِ بامشقت ہے۔ آزادی کے بعد ہر وہ آواز جس نے آپ کو روکا ہو گا وہ آواز ہی آپ کی کامیابی کی منادی کرے گی۔ لوگ آپ کے خوردبینی رشتہ دار بھی بن جائیں گے۔

بے روزگاری یا جمود صرف ذہن کی قید ہے۔ ذہن کی یہ قید جہاں بہت سارے وسوسوں کو جنم دیتی ہے، تو وہیں بہت سارے بے بنیاد جملے اس کی ڈھارس باندھنے آ جاتے ہیں۔ آپ نے یقیناً یہ الفاظ سنے ہونگے کہ “پیسہ چلتا ہے”، کوئ سفارش نہیں ہے، سیاسی اثرو رسوخ چاہیے ہوتا ہے، میری بہت سی مجبوریاں ہیں، میں کچھ اپنا کرنا چاہتا ہوں، قسمت ساتھ نہیں دے رہی، میری ڈگری کا سکوپ نہیں ہے، عمر کے اس حصے میں یہ نہیں ہو گا اور بہت سارے جملے بھی۔

اس بات سے بالکل اختلاف نہیں کہ لوگ شارٹ کٹ کا سہارا لیتے ہیں، مگر آپ کے آگے بڑھنے کیلئے بھی کوئی شارٹ کٹ ہی ہو، آپ کا یقین اس بات پر ہی کیوں ہے؟ وہ لوگ جو خود پر یقین سے آگے آتے ہیں، آپ کا شمار ان میں کیوں نہیں ہو سکتا؟

پیسہ اگر چلتا ہے تو ایسے مواقع جہاں پیسہ نہیں چلتا، آپ نے ادھر بھی تو جانے کی کوشش نہیں کی ہو گی۔ سیاسی بھرتیوں کے علاوہ آپ نے جہاں درخواست دی ہو گی یا اپلائی کیا ہو گا، ہر بار اس سوال پر آپ کیا کرتے ہیں؟ آپ نے جواباً وہی دو چار نام ہی بتا دیے ہونگے۔ آپ اپنا بھی کوئی بزنس نہیں کر رہے ہیں تو دوسرے جو کسی کے بزنس میں ملازم ہیں، وہ بالکل کسی کو بھی برے نہیں لگ رہے۔ قسمت صرف Stephen Hawking جیسے اپاہج کا ساتھ تو دے رہی ہے، مگر آپ کا نہیں دے رہی۔ میں ایسے بہت سے قیدیوں کو جانتا ہوں جو بیرون ملک جانے کی خواہش میں کئی مہینے ایسے بے فکری سے گزار رہے ہوتے ہیں جیسے بیرون ملک جانے کے بعد ان کا یہ وقت تجرباتی سرٹیفیکیٹ کے طور پر کام آئے گا۔ کسی ادارے اور یونیورسٹی میں داخلے سے پہلے بھی وقت کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہوتا ہے۔

اس ناٹک میں کچھ وقت میں نے بھی گزارا ہے، آپ کے خیالات کی ترجمانی میں کر سکتا ہوں۔ اس قید سے آزادی کا مقدمہ میں نے خود ہی لڑا تھا، لیکن دلیل صرف ایک تھی وہ یہ کہ داستان ضرور کسی کی ہو گی، مگر یہ داستان میری کیوں ہو؟

ہم سکوپ سکوپ کرتے ہیں، جو ڈگری ہم نے کر لی ہوتی ہے ہمیں اس کا سکوپ ہی نہیں پتہ ہوتا اور اگر ہوتا بھی ہے تو کسی دوسرے کے سکوپ میں ترقی زیادہ نظر آتی ہے۔ اگر کہیں درخواست دینی ہو تو اعلیٰ تعلیم بھی وہ نہیں کر سکتی جو ایک پرنٹر کی دکان والا کر سکتا ہے۔ آپ کی پروفائل (CV) آپ خود بنائیں گے تو ایک اور مقدمے میں پھنس سکتے ہیں، کیونکہ ہم اپنی پروفائل بھی تو خود نہیں بنا سکتے۔ کسی بھی خاص عہدے یا پیشے کے علاوہ خود کو کسی بھی دوسرے پیشے کیلئے موزوں نہیں سمجھتے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ لگن اور جذبہ مرُجھا جاتا ہے اور بے دلی سے کوئی بھی کام کب کامیابی کی ضمانت ہو سکتا ہے۔

یقین کیجئے لوگ آپ سے دکھ تو بانٹے گے، آپ کے ہم خیال بھی ہونگے، آپ سے ہمدردی بھی رکھتے ہونگے مگر آپ کے “حال” میں صرف “آپ خود ” ہی رہ رہے ہونگے۔ کچھ بھی کیا جائے کہیں بھی کیا جائے اور خود کو اس قید سے آزاد کیا جائے، یہ فیصلہ اگر کل کرنا ہے تو آج کیا جائے۔ آج کے اس جدید دور میں ایک اچھی مصروفیت کا تعین کرنا بے حد آسان ہے۔ اعلیٰ حکومتی عہدے، پرائیویٹ فرم، کاروبار اور کوئی بھی مصروفیت سارے آپشنز ہر وقت موجود ہوتے ہیں۔

کسی بھی پیشے کی مثال لے لیجئے، آپ کو ہر پیشے میں کامیاب لوگ ضرور ملیں گے۔ کسی بھی علاقے میں ڈاکٹرز، اساتذہ، درزی، موچی اور نائی تو بہت سارے ہونگے لیکن ہر پیشے میں کوئی ایک دو ہی نام سب کو پتہ ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خواہ کسی بھی پیشے سے منسلک ہوں وہ کام کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ جو کسی معجزے کا انتظار نہیں کرتے بلکہ جو کرتے ہیں دل لگا کر کرتے ہیں اور ایک کامیاب سوچ سے اپنے خوابوں تک پہنچتے ہیں۔ کوئی پیشہ بڑا چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ بڑے اور چھوٹے لوگ ہر پیشے میں ہوتے ہیں۔ کامیابی کسی پیشے کی محتاج نہیں بلکہ ایک کامیاب سوچ کسی بھی “پیشے” کو دوسروں کا خواب بنا سکتی ہے۔

“قید” میں جب بڑے خواب دیکھنے کا حق آپ کے پاس ہے تو خوابوں کی تکمیل کا کیوں نہیں؟

مصنف لاہور نیوز میں اینکر ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی کارکن بھی ہیں اور بطور کارپوریٹ ٹرینر بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.