جہالت کے دستور پر قائم پنچائیت

0 3,878

گزشتہ دنوں ملتان میں سفاکی، درندگی اور جہالت کے دستور پر قائم پنچائیت کا ایک اور شرمناک فیصلہ سامنے آیا جب پنجائیت کے حکم پر 12 سالہ لڑکی سے زیادتی کے بدلے میں 16 سالہ یتیم لڑکی کو زیادتی کا نشانہ بنا دیا گیا۔ یہ دل دہلا دینے والا افسوسناک واقعہ نہ تو پہلا واقعہ ہے اور نہ ہی یہ آخری واقعہ ہے کیونکہ حکومت اس معاملے میں انتہائی غیر سنجیدہ نظر آتی ہے۔ رواں سال فروری کے مہینے میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت کی جانب سے قومی اسمبلی میں ایک متنازع بل کی منظوری دی گئی جو ملک کے پرانے جرگے اور پنچائیت کے نظام کو آئینی اور قانونی مدد فراہم کرتا ہے۔

گزشتہ سال گجرات کے نواحی علاقے جلال پور جٹاں کے ایک گاؤں میں بھی پنچائیت نے ظالمانہ فیصلہ کیا تھا۔ لیاقت پر الزام تھا کہ اس نے بوٹا کی سات سالہ بیٹی سے جنسی زیادتی کی ہے، جس پر پنچائیت نے لیاقت کی شادی شدہ بیٹی ماریہ سے جنسی زیادتی کا حکم دیا اور ناکردہ جرم کے بدلے بےقصور ماریہ کی عزت کو تار تار کر دیا گیا۔ ماریہ نے دل برداشتہ ہو کر خودسوزی کرلی۔ اپنی موت سے چند روز قبل میو ہسپتال میں ماریہ نے پولیس کو دیئے گئے بیان میں بتایا تھا کہ وہ جنسی زیادتی کے بعد حاملہ ہوگئی جس کے بعد اس نے خود کو آگ لگا لی۔

میں اس بات پر حیران ہوں کہ جب پنچائیتوں میں اتنے ظالمانہ اور جاہلانہ فیصلوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہوتا ہے تو قانون نافذ کرنے والے ادارے کہاں غائب ہوتے ہیں؟

ہم ایک اسلامی اور جمہوری ملک کے باسی ہیں۔ ہمارے ملک کا آئین خواتین کو تحفظ فراہم کرتا ہے مگر کیا ہمارے ملک کی خواتین کو تحفظ اور بنیادی حقوق حاصل ہیں؟

اسلام میں خواتین کو وہ مقام حاصل ہے جو کسی سماج یا دھرم میں حاصل نہیں۔ اسلام سے قبل عورت معاشرے میں نہ صرف مظلوم تھی بلکہ سماجی و معاشرتی عزت و توقیر اور ادب و احترام سے بھی محروم تھی لیکن جب میں پنجاب میں ہونے والے مختلف واقعات پر نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ایسا لگتا ہے ہم ابھی بھی پتھروں کے دور میں رہتے ہیں جہاں آئے دن خواتین کی تذلیل و بےحرمتی معمول بن گیا ہے۔

جب تک حکمران غفلت کی نیند سو رہے ہیں ایسے واقعات رونما  ہوتے رہیں گے۔ ملتان واقعے کے بعد چیچہ وطنی کے ایک گاؤں کے رہائشی منیر نے الزام عائد کیا کہ رفیق نامی لڑکے نے اپنے 3 ساتھیوں کے ساتھ ملکر اس کی بیوی کو زیادتی کا نشانہ بنایا۔ منیر کی درخواست پر پنچائیت بلائی گئی۔ پنچائیت کے سربراہ نے ملزم رفیق کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کے بجائے اس کی نابالغ 14 سالہ بہن خضراں کا نکاح منیر سے کرنے کا ظالمانہ حکم صادر کر دیا۔ بچی کی چینخ و پکار اور اہلخانہ کی آہ و بکا بھی ظالموں کے دل موم نہ کر سکی۔ فیصلہ ہونے کے 3 دن بعد پولیس کو ہوش آیا۔

گزشتہ روز بھی پنچائیت کے ظالمانہ فیصلے نے ایک گھرانے کو تباہ کیا۔ احمد پور شرقیہ کے علاقے موضع مڈ پیرواہ میں اللہ نواز نامی علاقہ مکین پر چوری کا الزام لگایا گیا جس پر پنچائیت ہوئی اور علاقے کے زمیندار سرپنچ میاں رفعت الرحمان نے اللہ نواز کو چوری کے الزام میں چھ لاکھ روپے دو روز کے اندر جمع کروانے کا حکم دیا۔ پنچائیت کے ظالمانہ فیصلے پر اللہ نواز کی بیوی نے دو کمسن بچوں کے ہمراہ خود پر پٹرول چھڑک کر خود کو آگ لگا دی تاہم موقع پر موجود لوگوں نے انہیں بچایا اور زخمی حالت میں ہسپتال منتقل کیا۔

“ہمارے پیارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ بیٹی بیٹی ہوتی ہے خواہ کافر کی بھی کیوں نہ ہو۔”

یہاں ہر روز کئی مظلوم بیٹیاں اس طرح کے مظالم کی بھینٹ چڑھتی ہیں، ہر روز کئی حوا کی بیٹیاں روح سوزی کے جھٹکے برداشت کرتی کرتی خودسوزی کرلیتی ہیں، ہر روز کئی خواتین اپنے جسم نہ سہی لیکن اپنی زندگی بھر کی خوشیوں کو آگ لگا دیتی ہیں۔

حکومت کی یہ انتظامی اور اخلاقی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ خواتین کو بنیادی حقوق فراہم کرے اور ان کی عزت و آبرو کی حفاظت کرے اور انہیں وڈیروں، نوابوں اور پنچائیتوں کے سرپنچوں کے مظالم سے آزاد کرائیں تاکہ دوبارہ ملتان جیسے دل سوز سانحات پیش نہ آئیں۔

عمیر سولنگی کا تعلق کراچی سے ہے۔ ان کی تحریریں ملکی اخبارات و جرائد سمیت آن لائن ویب سائٹس پہ شائع ہوتی رہتی ہیں۔

مصنف سیاست اور حالاتِ حاضرہ پر لکھنا پسند کرتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.