مافیا کون؟

0 2,590

ہمارے یہاں مافیا کی اصطلاح ایک عرصے سے بہت عام  ہے۔ لیکن اس کا بے دریغ  اور غیر ذمہ دارانہ استعمال خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ کراچی والے یہ اصطلا ح ہر طرح کے غیرقانی منظم دھندوں کے لئے استعمال کرتے آئے ہیں۔ مثلاً  ٹینکر مافیا، بلڈر مافیا، ریتی بجری مافیا، بھتہ مافیا وغیرہ وغیرہ۔ یہ سارے وہ دھندے ہیں جن میں حکومتی لوگ، افسران، پولیس اور دیگر با اثر ادارے عوام کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ کرتے آئے ہیں۔  پانامہ فیصلے میں سپریم کورٹ کے ایک جج نے ملک کے تین مرتبہ منتخب وزیراعظم کو سسیلیئن مافیا ڈان سے تشبیہہ دے ڈالی اور بظاہر بطور منصف اپنی ذمہ داریوں سے تجاوز کر گئے۔

لیکن جس قسم کے مافیا  کا حوالہ دیا گیا اس کے بھی اپنے کچھ اصول ہوتے ہیں۔ اس کھیل میں غیر مشروط  وفاداری سب اہم چیز ہوتی ہے- زندگی موت کوئی معنی نہیں رکھتے۔ سب کو پتہ ہوتا ہے کہ جو مافیا کے ساتھ غداری کرے گا، اس کی خیر نہیں۔ اس کھیل میں انتقام  ناگزیر ہوتا ہے تاکہ کوئی دوسرا گاڈ فادر کو للکارنے کی ہمت نہ کرے۔ مافیا کی حرکتوں کا سارے شہر کو پتہ ہوتا ہے لیکن بولتا کوئی نہیں کیونکہ بندوق والوں سے سب ڈرتے ہیں کہ کہیں اٹھا کے نہ لے جائیں، غائب نہ کروا دیں، یا مروا ہی نہ دیں۔

الطاف حسین کی ایم کیو ایم اس کی مثال ہو سکتی ہے-

لیکن نواز شریف پر مقدمہ کرپشن وغیرہ کا تھا، بندے اٹھوانے یا کسی کو مروانے کا نہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ عدالت کے متنازع فیصلے سے ثابت ہوا کہ ہمارے یہ سولین گاڈ فادر کتنے لاچار اور مجبور ہوتے ہیں- کاش ہمارے یہ جج ملک پر قابض اصل مافیائوں کے خلاف بھی کبھی کوئی فیصلہ سنانے کی جراٗت رکھتے۔ عاصمہ جہانگیر  نے یہ بات چند روز پہلے اسلام آباد پریس کلب میں کی۔ ہمارے اکثر چینلوں نے یہ خطاب دکھانے کی ہمت نہ کی۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پیارے پاکستان کا میڈیا کتنا آزاد ہے۔

عاصمہ جہانگیر  کے اس خطاب سے ایک دن پہلے سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے آئین اور پارلیمان کی حکمرانی کی بات کی۔ دونوں نے پاکستانی ریاست کے اس بنیادی بگاڑ کی طرف نشاندہی کی کہ جسے ٹھیک کئے بغیر یہ ملک آگے نہیں بڑھ سکتا- یہ باتیں ہمارے لئے لمحہ فکریہ ہیں کیونکہ چند ہی تو لوگ رہ گئے ہیں جو وقتاً فوقتاً قوم کو آئینہ دکھانے کی جراٗت کرتے ہیں۔

لیکن ہوا کیا؟ جلد ہی دونوں کے خلاف پروپگینڈہ شروع ہوگیا-

ہمارے بعض نادان اینکر امن و آئین کی بات کرنے والوں کو ‘موم بتی مافیا’ پکارتے ہیں۔ چند برس پہلے تک میں نے  یہ اصطلاح نہیں سنی تھی۔ لیکن حالیہ کچھ برسوں میں اپنے اردگرد یہ اصطلاح  آئے دن سنتا رہتا ہوں۔

میں نے پشاور کے اے پی ایس اسکول کے باہر غم سے نڈھال والدین کو امن کی شمعیں جلاتے دیکھا ہے۔ میں نے کراچی پریس کلب کے باہر برسوں سے لاپتہ بلوچوں کی بچیوں کو موم پتیاں پکڑے پرامن مظاہرے کرتے دیکھا ہے۔ پنجاب میں مذہبی منافرت کے شکار عیسائیوں کو ان کے گرجا گھروں میں شمعیں جلا کر آنسو بہاتے دیکھا ہے۔

کیا یہ سب لوگ کسی موم بتی مافیا کا حصہ ہیں؟

نہتے وکیلوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے کاکنوں کو موم بتی مافیا  کا لقب دینے والے دراصل ایک خاص ذہنیت اور کردار کی عکاسی کرتے ہیں۔ ان میں اکثر ایسے لوگ ہیں جو خود کبھی کسی اجتماعی جدوجہد کا حصہ نہیں رہے۔ جوکسی مظلوم کی تضحیک اور طاقتور کی خوش آمد پر کوئی شرم محسوس نہیں کرتے۔ زیادتی ہوتے دیکھتے ہیں لیکن خاموش رہتے ہیں کیونکہ خودغرضی اور مفادپرستی کا یہی تقاضہ ہوتا ہے کہ اپنے کام سے کام رکھا جائے۔

ایسے لوگ بے حس ہو جاتے ہیں- وہ لاٹھیاں کھانے والوں، جیل جانے والوں،  ٹارچر کئے جانے والے کا درد محسوس کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ ٹی وی چینلوں پر روزانہ کے طوفان بدتمیزی، الزام تراشی اور  پراپگینڈے کے شور میں  سچ کہیں دب جاتا ہے۔ امن وشانتی کی خواہش رکھنے والوں کو مافیا مافیا پکار کر  ملک پر مسلط ازلی مافیا اور اس کے مہروں کو خوش کیا جاتا ہے۔

لیکن یہ ایک خطرناک روش ہے۔

اختلاف رائے ہم سب کا حق ہے۔ لیکن آئین، جمہوریت، عدل و انصاف کی بات کرنے والوں کا تمسخر اڑانے یا انہیں ڈرانے دھمکانے سے ہم اپنے ہاتھوں سے اس ملک کو فسطائیت کی طرف دھکیل رہے ہیں۔

مصنف صحافی اور تجزیہ کار ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.