گلالئی اور جاوید ہاشمی، یا چودھری نثار

0 3,065

”میری بیوی ایمن آباد کی شیخانی ہے۔ ایمن آباد کے شیخ نو مسلم ہیں۔ نو مسلم پکے مسلمان ہوتے ہیں۔ وہ بتوں کو نہیں مانتے۔ نہیں مانتے”۔

یہ جملے اردو کے صاحبِ طرز نثّار جناب ممتاز مفتی کے ہیں۔ مفتی صاحب ایک پیر صاحب سے عقیدت رکھتے تھے مگر ان کی اہلیہ اقبال بیگم گھر میں ایسا کوئی ذکر تک پسند نہیں کرتی تھیں۔ اپنی مریدانہ سوچ کا سبب بیان کرتے ہوئے ممتاز مفتی لکھتے ہیں، “ہم ہندو سے مسلمان ہوئے تھے۔ ہم نے بت توڑ دیئے تھے لیکن ہمارے خون سے بت پرستی نہیں نکلی”۔

عائشہ گلالئی ایمن آباد کی شیخانی تو ہرگز نہیں ہیں لیکن بہت ممکن ہے کہ وہ بھی نومسلم ہوں۔ اور بقول مفتی صاحب، “نومسلم پکے مسلمان ہوتے ہیں۔ وہ بتوں کو نہیں مانتے۔ نہیں مانتے۔”

مخدوم جاوید ہاشمی بھی ایمن آباد کے شیخ تو ہرگز نہیں ہیں لیکن بہت ممکن ہے کہ وہ بھی نومسلم ہوں۔ اور بقول مفتی صاحب، “نومسلم پکے مسلمان ہوتے ہیں۔ وہ بتوں کو نہیں مانتے۔ نہیں مانتے۔”

لیکن ان دونوں معززین اور پنجاب اور خیبر پختونخوا کے طول و عرض میں پھیلے خٹک مافیا اور شہباز مافیا کے جبرواستبداد تلے دبے، اپنا قد بڑھانے کیلئے ہاتھ پاؤں مارتے بیسیوں ننھے منے سیاسی کارکنوں کی خدمت میں مضمون واحد عرض ہے کہ آپ کی جماعتوں میں موجود سینکڑوں نہیں ہزاروں مرکزی و صوبائی و علاقائی رہنما اور لاکھوں کروڑوں کارکنان وہ ہیں کہ جو “ہندو سے مسلمان ہوئے تھے۔ انہوں نے بت توڑ دیئے ہیں لیکن ان کے خون سے بت پرستی نہیں نکلی”۔ چنانچہ انہوں نے آپ کے سیاسی مافیاز کے سرداروں کو ‘بُت’ بنا دیا ہے اور اب وہ صرف مورچھل کروانا جانتے ہیں۔ پرستش کروانا جانتے ہیں۔ حکم دینا جانتے ہیں۔ بے نیازی دکھلانا جانتے ہیں۔ بھینٹ لینا جانتے ہیں۔ سننا اور ماننا ہرگز نہیں جانتے۔

جاوید ہاشمی نے پہلے نواز شریف اور پھر عمران خان سے بغاوت کی۔ ہاشمی صاحب کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔ عمران خان اور نواز شریف کا کچھ نہیں بگڑا۔ چند دنوں کیلئے شہرت کا گراف نیچے جانے یا ووٹ بینک دو چار فیصد دائیں بائیں ہونے سے کچھ نہیں ہوتا۔ وہ دونوں کل بھی بڑے ووٹ بینک کے مالک تھے۔ آج بھی ہیں۔ کل بھی لیڈر تھے۔ آج بھی ہیں۔ نہایت بلند کردار شخصیت کے مالک ہونے اور شاندار سیاسی کریئر رکھنے کے باوجود آج ہاشمی صاحب کہیں نہیں ہیں۔ اب سوچیں اگر ہاشمی صاحب کی بیسیوں پریس کانفرنسوں اور انگنت ٹاک شوز کے باوجود عمران خان کا کچھ نہیں گیا تو بیچاری عائشہ گلا لئی تو کل کی بچی ہیں۔ وہ تو شاید تیسری بار پیدا ہو جائیں تو بھی جاوید ہاشمی نہ بن سکیں۔

سوادِ زندگانی میں
اک ایسی شام آتی ہے
کہ جس کے سرمئی آنچل میں
کوئی پھول ہوتا ہے
نہ ہاتھوں میں کوئی تارہ
جو آکر بازوؤں میں تھام لے
پھر بھی رگ و پے میں کوئی آہٹ نہیں ہوتی
کسی کی یاد آتی ہے
نہ کوئی بھول پاتا ہے
نہ کوئی غم سُلگتا ہے
نہ کوئی زخم سلتا
نہ گلے ملتا ہے کوئی خواب
نہ کوئی تمنّا ہاتھ ملتی ہے
سوادِ زندگانی میں
اِک ایسی شام آتی ہے
جو خالی ہاتھ آتی ہے
جوخالی ہاتھ آتی ہے

ہاشمی صاحب تو خیر اب بہت بڑے ہوگئے ہیں۔ سیکھنے کی نہیں سکھانے کی عمر میں ہیں۔ گص کوئی ان سے سیکھنے کو تیار نہیں۔ لیکن عائشہ ابھی اپنا سیاسی کریئر شروع کر رہی ہیں۔ اگر ہاشمی صاحب کا علم برداشت کرنے کی طاقت ان میں مفقود ہے تو وہ کم از کم چودھری نثار یا حامد خان ہی سے کچھ سیکھ لیتیں تو شاید یہ ان کے سیاسی کریئر کیلئے بہتر ہوتا۔ جماعت کے اندر رہ کر دباؤ بڑھانے کی اور اپنی بات کو ڈائریکٹ ایکشن کی بجائے حکمتِ عملی سے منوانے کی کوشش کرتیں تو شاید وہ اپنا کوئی نہ کوئی مطالبہ وقتاً فوقتاً منوانے میں کامیاب ہوتی رہتیں۔

ہاں! اگر واقعی معاملہ عزت اور وقار اور ذات اور گھٹیا میسجز اور شادی کے اشاروں کا تھا تو یہ ‘دیر’ یا چار سال کی خاموشی اس امر کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ وہ بھی فوری طور پر خان صاحب کے ‘پیغامات’ کو مسترد نہیں کر سکیں اور کچھ نہ کچھ غور کرتی رہیں اور خان صاحب کی ‘سنجیدگی’ کو جانچنے کی کوشش کرتی رہیں اور سالہاسال کی پیغام رسانی کا لازماً کوئی نہ کوئی جواب دیتی رہیں۔ قطع نظر اس بات کے کہ ‘حدود’ کس جانب سے ‘زیادہ’ پھلانگی گئیں، اب تک پیغامات آشکار کرنے کے معاملے میں دونوں فریقین کی پراسرار خاموشی واضح کر رہی ہے کہ دونوں کے پاس ایک دوسرے کے خلاف کچھ نہ کچھ ‘ثبوت’ موجود ہیں۔ اور پاکستان میں رہتے ہوئے یہ سمجھنا کسی کیلئے مشکل نہیں کہ اس تنازعے کا زیادہ نقصان کس کو ہو گا، مرد کو یا عورت کو؟ لیڈر کو یا کارکن کو؟

ایک ہم ہیں کہ لیا اپنی ہی صورت کو بگاڑ
ایک وہ ہیں کہ جنہیں تصویر بنا آتی ہے

سلمان نثار شیخ لکھاری، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.