قسمت کا کاغذ

0 827

اماں، مبھے بھی سکول جانا ہے۔ گیلی مٹی کو گوندھتی ہوئی رجو کے کان میں یہ آواز کسی گھنٹی کی طرح گونجنے لگی۔ اس کے چھہ سالہ بیٹے کی خواہش اس کے ذہن پہ بجلی بن کے گری۔ وہ بولی جیلے پتر (بیٹے کا نام جمیل تھا، مگر غربت مستقبل نہیں نام بھی چھین لیتی ہے)، سکول کا تو منہ نہیں دیکھا کسی نے تیرے پورے خاندان میں، ہمارا گھر، سکول، قبر یہی اینٹوں کا بھٹا ہے۔ جا پانی لے کے آ، مٹی سوکھ رہی ہے۔ رجو جس کا نام رضیہ تھا، فضلو (فضل دین) سے آٹھ برس قبل اس کی شادی ہوئی تھی اور دونوں اینٹوں کے بھٹے پہ کام کرتے تھے۔ یہ ان کا خاندانی پیشہ تھا۔ دونوں نے آنکھ کھولتے ہی کچی مٹی کی خوشبو سونگھی تھی جو ان کے دل و دماغ میں رچ بس چکی تھی۔ فضلو نے آنکھ کھولی تو اپنے باپ کوبھٹہ مالک چوہدری حیات کا قرض دار پایا۔ اپنی پیدائش سے پہلے لئے جانے والے قرض کی قیمت اس کا بچپن تھا۔ اب بیٹے کی خواہش نے ماں کی بے بسی کا امتحان لے لیا تھا اور وہ چاہتی تھی کہ جیلا اس خواہش کو فراموش کر دے۔ بیٹے کی بات کو ٹالنے کیلئے اس نے اسے پانی لینے بھیج دیا تھا۔ جیلا جلدی سے پانی لے آیا اور اپنی بات پھر دہرائی۔ رجو سمجھ گئی کہ بیٹے کی خواہش ضد کے راستے پہ چل سکتی ہے اور اس کے پاس کوئی ایسی مناسب دلیل نہیں جو اس خواہش کے آگے بند باندھ سکے۔  وہ بولی، جیلے تجھے پتا ہے کہ سکول جانے کے پیسے لگتے ہیں۔ ابھی تیرا دادا جو قرضہ چھوڑ گیا ہے، اسی نے ہماری زندگی عذاب بنا رکھی ہے۔ جیلا جھٹ سے بولا، اماں وہ سامنے جھگی والوں کا شیدا ہے نا، جو کاغذ چنتا تھا۔ اس کے ابے نے اسے سکول داخل کرا دیا ہے۔ اس سکول میں کتابیں، کپڑے اور دوپہر کی روٹی بھی مفت میں ملتی ہے۔ اماں کل جب ہم کھیل رہے تھے تو شیدا بتا رہا تھا کہ پرھائی کر کے وہ ایک دن افسر بن جائیگا اور بڑی سی موٹر کار ہو گی اس کے پاس، بالکل اپنے مالک، چودھری کے بیٹے جیسی۔ پتہ ہے اماں اس نے اپنی اماں سے وعدہ کیا ہے جب پڑھائی پوری کر کے افسر بنے گا تو اسے کانچ کی نہیں سونے کی چوڑیاں لے کر دے گا۔ رجو کے ذہن میں اندھیروں کی جو دنیا بس چکی تھی، جیلے کی دلیل نے انہی اندھیروں میں ایک دیپ جلا دیا۔ اسکی موہوم سی روشنی نے اس کے اندر یہ حوصلہ پیدا کر دیا تھا کہ وہ یہ سوچنے لگی کہ اسکی آنے والی نسل کا مستقبل یہ بھٹہ نہیں ہونا چاہیے۔ اس نے جیلے سے یہ وعدہ کر لیا تھا کہ فضلو سے اسے سکول بھیجنے کی بات ضرور کرے گی۔

شام تک رجو خوابوں کے محل تعمیر کرتی رہی۔ کبھی وہ چشم تصور میں جیلے کو اجلے کپڑوں میں دیکھتی تو کبھی وہ اسے موٹرکار میں بیٹھا صاحب نطر آتا۔ کبھی وہ مٹی سے لت پت اپنی کلائی میں سونے کے کنگنوں کی کھنک کو سنتی تو کبھی اسے اپنا بڑا سا گھر دکھائی دیتا۔ بہت دیر تک وہ اپنے معصوم بچے کے بہکاوے میں آ کر تنکوں سے محل تعمیر کرتی رہی۔ شام ڈھل رہی تھی کہ جیلے کی آواز پھر اس کے کانوں میں گونجی! اماں شام ہو گئی، گھر چلیں۔ گھر کیا تھا، کچی مٹی سے بنا اک کمرہ اور ایک کچا صحن جہاں مٹی کا چولہا سب سے اہم جگہ تھی۔ مٹی کا یہ گھروندہ، جسے وہ گھر کہتے تھے، اکثر بارشوں کے رحم و کرم پہ رہتا تھا۔ دروازے سے عاری اسی صحن میں چولہے کے گرد بیٹھ کر یہ مختصر سا خاندان اپنے پیٹ کی آگ بجھاتا تھا۔ سر شام جیلا  کھانا پکاتی ہوئی اپنی ماں کی مدد میں مصروف رہتا تھا مگر آج اس وہ گھر کی دہلیز، جہاں دروازہ تو نہیں، مگر اک کٹا پھٹا پردہ لٹکایا گیا تھا، پہ بیٹھ کر باپ کا انتظار کر رہا تھا۔ معصوم چہرے پہ اضطراب، اجلے سفید کپڑوں پہ پڑی شکنوں کی مانند دکھائی دے رہا تھا۔ فضلو گدھا گاڑی پر اپنے گدھے کے لئے چارہ لینے گیا تھا اور اکثر وہ شام کے بعد ہی لوٹا کرتا تھا۔ چوہدری کے اور بھی بھٹے تھے جہاں ایسے ہی خاندان سماجی طور پر یرغمال لوگوں کی طرح زندگی بسر کرتے تھے۔

جب انہیں ایک سے دوسری جگہ منتقل ہونا ہو، تو گدھا گاڑی واحد ذریعہ تھی جس پر وہ گھر کا سامان لاد کر لے جا سکتے تھے۔ یوں گدھا اس گھر کا چوتھا فرد تھا۔ فضلو جونہی جیلے کو دور سے آتا دکھائی دیا، وہ خوشی سےاچھل پڑا اور ماں کی جانب لپکا۔ منہ سے بے اختیار نکلا، اماں، ابا پٹھے (چارہ) لے کے آگیا۔ رجو بولی اچھا، صبر کر آنے تو دے اسے گھر۔ فضلو اپنے گدھے کو چارہ ڈال کر گھر میں داخل ہوا تو بیٹے نے بڑی پھرتی سے برتن اسکے آگے رکھ دیے۔ باپ نے بیٹے کے چہرے کی بے چینی بھانپ لی مگر اس خوف سے کچھ دریافت نہ کیا کہ کوئی کھلونا ہی نہ مانگ لے۔ آخر رجو نے پٹاری کھول دی۔ کھانا دیتے ہوئے وہ بولی، فضلو ہم جیلے کو سکول نہ داخل کرا دیں؟ فضلو چونک گیا اور اس نے کھانے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ غصے سے کہنے لگا، آہستہ بول! کہیں منشی خیر دین نہ سن لے، آج ملنے آنے والا ہے۔ منشی وہ جلاد تھا جو چوہدری حیات کی دہشت کو عمل طور پہ نافذ کرتا تھا۔ سارے مزدور خاندانوں کے ادھار والے انگوٹھا لگے کاغذ اسی کی الماری میں قید تھے۔ رجو نے پھر ہمت کی اور بولی! فضلو، تو منشی سے بات کر کے تو دیکھ، ہم دونوں بڑی محنت کریں گے۔ سارا قرضہ بھی چکا دیں گے۔ فضلو بولا، ابّے کی بیماری کے لیے لیا تھا قرضہ اور اسے مرے پانچ سال ہوگئے، اس سے جان نہیں چھوٹی۔ اگر منشی مہربان ہو بھی جائے، تو سکول کا خرچہ کون دے گا۔ رجو جھٹ سے بولی، غریبوں کیلئے مفت سکول بنایا ہے کسی نے۔ وہ سڑک کے پار جھگی والوں نے بھی اپنا پتر وہیں ڈال دیا ہے۔ اسی اثنا میں خیر دین منشی کسی آفت کی مانند نازل ہو گیا۔ آتے ہی فضلو سے کہنے لگا، تیاری پھڑ لے بھئی بالن (ایندھن کی لکڑی) آ رہا ہے، بھٹہ گرم ہونے والا ہے۔

فضلو نے منشی کا موڈ اچھا دیکھ کر فوراً جیلے کی بات چھیڑ دی۔ منشی غراتے ہوئے بولا، اوئے پاگل تو نئیں ہو گیا تو، کام سکھا پتر کو، تیرا بازو بنے۔ فضلو نے اسکی منت سماجت شروع کر دی اور رجو اپنے شوہر کی بے بسی کو مایوسی سے تکتی رہی۔ آخر منشی نے فیصلہ کن انداز میں دھمکی دی۔ دیکھ فضلو، چوہدری کے کانوں میں یہ بات بھی پڑ گئی نا تو تجھے بالن کی طرح بھٹے میں پھنکوا دے گا۔ اوپر سے تو نے اتنے سالوں سے پیسے دینے ہیں چوہدری کے، وہ تو میرے منہ کو چپ ہے۔ تجھے پتہ ہے قنون کا، کسی کے پیسے مارنا کتنا بڑا جرم ہے۔ پولیس لے گئی تو کسی نے ضمانت نہیں دینی تیری۔ اگر یہ شوق پالنے ہیں تو سویرے آ کے اپنا کھاتا دیکھ لے۔ تیرا کاغذ، جس پہ انگوٹھا لگا ہے تیرا، میرے پاس پڑا ہے۔ اپنا قرضہ دے جا اور کاغذ لے جا۔ ورنہ پولیس کو یہ کاغذ دے دیا، تجھے تو نہیں چھوڑے گی۔ جیل کی چکی پیسنے سے بہتر ہے کہ اینٹیں بنا لے۔ تھانیدار کا گھر بن رہا ہے، ابھی کل ہی چوہدری نے اینٹوں کی دو ٹرالیاں، تحفہ بھیجا ہے۔ چوہدری نے ایک اشارہ کر دیا نا پولیس کو، تو کہیں کا نہ رہے گا۔ اب سویرے تینوں مجھے کام پہ نظر آؤ۔ منشی کے جانے کے بعد رجو آغوش میں لئے جیلے کو سلانے کی کوشش کر رہی تھی اور اس کے آنسو ویران آنکھوں سے امڈ کر رخساروں تک آچکے تھے۔ اسی سناٹے میں جیلے نے ماں سے ایک معصوم سوال کر دیا۔ اماں، ابے نے کون سے کاغذ پہ انگوٹھا لگایا ہے۔

رجو بھرائی ہوئی آواز میں بولی، پتر قسمت کے کاغذ پہ!

مصنف پیشے کے اعتبار سے کیمیادان ہیں، کتاببیں پڑھنا پسند کرتے ہیں اور تاریخ، فلسفہ، حالات حاضرہ اور اردو شاعری پسندیدہ موضوعات ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.