ایٹمی ٹیکنالوجی تک رسائی ہماری ضرورت

0 2,414

توانائی ہر ملک کی ترقی میں بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور سائنسی ترقی کی روشنی میں اسکی مختلف قسمیں وجود میں آئیں جن میں نیو کلئیر ٹیکنالوجی یا جوہری توانائی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ پاکستان اس وقت تقریباً ایک ہزار میگاواٹ ایٹمی بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جو کہ ناکافی ہے کیونکہ پاکستان ایٹمی ٹیکنالوجی کا حامل ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والے ممالک نے نیوکلئر سپلائرز گروپ بنا رکھا ہے جو این پی ٹی معاہدے کی توثیق کرنے والے ممالک کو سول مقاصد کیلئے نیوکلئر ٹیکنالوجی فراہم کرتا ہے۔ پاکستان، بھارت اور اسرائیل نے تاحال اسکی توثیق نہیں کی جبکہ شمالی کوریا اسکی توثیق کے بعد اس سے الگ ہو چکا ہے۔ تاہم اس ایٹمی عدم پھیلاؤ کے معاہدے کے عمل میں آنے سے قبل اگر کچھ ریاستوں کے مابین ایٹمی توانائی کے حوالے سے تعاون کا کوئی معاہدہ موجود ہو تو اسکی گنجائش موجود ہے۔ پاک چین تعاون سے تیار ہونے والے چشمہ پاور پلانٹس اسی تناظر میں تعمیر کئے گئے۔ امریکہ نے بھارت سے جو ایٹمی تعاون کا معاہدہ کیا وہ دہرے معیار کا عکاس ہے۔ اسکا پس پردہ محرک بھارت کو سستی توانائی کا ذریعہ فراہم کرنا تھا تاکہ وہ صنعتی میدان میں چین کے مقابلے میں اپنی معیشیت کو مستحکم کر سکے اور اس ضمن میں ایران سے گیس پائپ لائن معاہدے سے گریزاں رہے۔ مشرف دور میں 8800 میگاواٹ ایٹمی بجلی کے حصول کیلئے منصوبہ بندی کی گئی تھی جو اب سرد خانے میں پڑی نظر آتی ہے۔

جب سے دنیا بنی ہے سائنسی ترقی انسانیت کی مشترکہ میراث رہی ہے۔ پاکستان پر بعض نام نہاد دانشور اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے چوری جیسے الزام منسوب کرنے سے بھی گریزاں نہیں رہتے۔ تہذیبیں انسانی ترقی کے ارتقاء میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں اور ایک دوسرے کی میراث کو آگے بڑھاتی ہیں۔ اس تحریر میں ایٹم بم اور ایٹمی ٹیکنالوجی کے ارتقا کا مختصر تذکرہ ہے تاکہ پاکستان پر اس حوالے سے لگنے والے الزام کا جواب دیا جا سکے۔ مضمون کے آخری حصے میں پاکستان کیلئے جوہری توانائی کی اہمیت کو واضح کرنے کی کوشش کروں گا اور دیگر ممالک کے ساتھ ایک تقابل بھی پیش کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

جرمن کیمیا دان اوٹووان، اسکے زیرنگرانی کام کرنے والی لائیز مٹنر اور اسکا بھتیجا فشر اس ٹیکنالوجی کے حوالے سے بانی کہلائے جانے کے مستحق ہیں۔ مادے کی اکائی کہلائے جانے والے ذرے ایٹم کے تین بنیادی اجزاء الیکٹران، پروٹون اور نیوٹران ہیں۔ ایٹم کے مرکز یا نیوکلئس میں سارہ وزن پروٹان اور نیوٹران کی شکل میں ہوتا ہے جبکہ اس کے اردگرد انتہائی ہلکا اور اہم الیکٹران گردش کرتا ہے۔ یورینیم ایک تابکار دھات ہے، اوٹووان نے یہ ثابت کیا کہ اگر یورینیم کے نیوکلیس سے نیوٹران کا ٹکراؤ ہو تو یہ دو عناصر، بیریم اور کرپٹان، میں تحلیل ہو جائیگا اور مزید ایک نیوٹران اور توانائی کا اخراج ہوگا۔ اب نیوٹران کی تعداد دو ہوجائیگی اور یہ دو مزید یورینیم ایٹمز کو اپنا نشانہ بنائیں گے۔ اسطرح یہ عمل جاری رہے گا جسے عمل انشقاق یا چین ری ایکشن کہتے ہیں۔ توانائی کا اخراج شعاعوں کی صورت ہوتا ہے جو بے حد تباہی کا سبب بنتا ہے۔ اس عمل کو سائنسی اصطلاحات کے کم سے کم استعمال کے ساتھ عام فہم بنانے کی غرض سے تحریر کیا جا رہا ہے۔ مندرجہ بالا عمل ہی ایٹم بم کی سائنسی منطق ہے۔

اوٹووان کے زیرنگرانی کام کرنے والے مٹنر اور فشر یہودی عقیدہ رکھتے تھے اور جرمنی میں ہٹلر کی حکومت قائم ہو چکی تھی۔ تحقیقی کام کو چھوڑ کر مٹنر اور فشر نازیوں سے جان بچا کر فرار ہو گئے۔ فشر نے برطانیہ اور امریکا کے جوہری پروگرام کیلئے معلومات فراہم کیں کیونکہ مٹنر اس قسم کی پیش کش کو ٹھکرا کر سویڈن میں خود کو تحقیق کے کام سے وابستہ کر چکی تھی۔ دوسری جانب اوٹووان نازیوں کے زیرعتاب تھا کیونکہ اس نے ایٹمی پروگرام پر یہ کہہ کر تعاون سے انکار کردیا تھا کہ وہ محض تھیوریٹیکل یعنی نظریاتی کیمیا دان ہے۔ اس کام کو بنیاد بنا کر اٹلی، جو مسولینی کے زیراثر جرمنی کا اتحادی بن چکا تھا، کے معروف سائنسدان اینریکو فرمی نے نظریہ پیش کیا کہ اگر ہم نیوٹران کی رفتار پرقابو پالیں تو اس عمل کو سست رفتار بنا کر توانائی کے حصول کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ اس نے پیرافن آئل کواس مقصد کیلئے استعمال کر کے ایٹمی ری ایکٹر کا پہلا پائلٹ پرجیکٹ بنایا۔ اسکی بیوی یہردی تھی جسکی وجہ سے وہ مسولینی کی فاشسٹ حکومت کے دباؤ میں تھا۔ 1938 میں جب وہ سویڈن نوبل پرائز وصول کرنے گیا تو پھر نہیں لوٹا اور امریکی حکومت نے اسے پناہ اور یونیورسٹی کی نوکری دے دی۔

آئن سٹائن جو انتہائی معروف سائنسدان تھا، نے دیگر سائنسدانوں کے اکسانے پر امریکی صدر روزویلٹ کوایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کیلئے خط لکھا۔ اسطرح امریکا میں ایٹمی پروگرام مین ہٹن پروجیکٹ کی منظوری مل گئی جس میں غیر ملکی ماہرین کی بڑی تعداد شریک تھی اور فرمی کا کردار بھی اہم تھا۔ جب ایٹمی دھماکہ کیا گیا تو اسکا کوڈ تھا کہ اطالوی ملاح سمندر میں داخل ہو گیا۔ یہ یقیناً فرمی تھا۔ 1945 میں امریکا نے دو ایٹم بم جاپان پر داغ کر دوسری جنگ عظیم کا خاتمہ کیا۔ دو لوگ، ایتھل روزنبرگ اور جولیس روزنبرگ، جو آپس میں میاں بیوی تھے، نے دنیا میں اس وقت شہرت سمیٹی جب انہیں غدار اور سوؤیت ایجنٹ قرار دے کر امریکہ نے سزائے موت سنا دی۔ سوؤیت لیڈر نکتیا خردشچیف نے انہیں خراج تحسین پیش کیا اور بائیں بازو کیلئے وہ پوری دنیا میں عظمت کی مثال بن گئے۔

پاکستان میں فیض صاحب نے ان پر اپنی معروف نظم، ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے، لکھی۔ 1949 میں سوؤیت یونین، 1952 میں برطانیہ، 1960 میں فرانس اور 1964 میں چین نے ایٹمی دھماکے کر کے جوہری طاقت ہونے کا اعلان کردیا۔

1974 میں بھارت نے پوکھران میں ایٹمی دھماکے کیے مگر جب 1998 میں اس نے یہ عمل دوبارہ دہرایا تو پاکستان نے بھی اپنے دفاع میں ایٹمی دھماکے کر دیے۔ اگر پاکستان پر منفی الزامات لگائے جائیں تو کوئی ملک بھی اس حوالے سے خودکفیل نہیں۔ اسرائیل بھی ایٹمی ہتھیار رکھتا ہے مگر اس نے اس صلاحیت کا باقاعدہ اعتراف نہیں کیا۔

اس وقت ایٹمی ٹیکنالوجی سول مقاصد کیلئے انتہائی اہم اور بجلی کے حصول کا اہم ترین ذریعہ ہے۔ ایٹمی ری ایکٹر میں بھاری پانی کے ذریعے نیوٹران کو کنٹرول کرکے توانائی کا حصول ممکن بنایا جاتا ہے اور جب چین ری ایکشن کو روکنا مقصود ہو تو کیڈمیم یا دیگر دھاتوں کو استعمال کیا جاتا ہے جو نیوٹران کے انجذاب کی خصوصیت رکھتی ہیں۔ حرارت کی شکل میں خارج ہونے والی توانائی پانی کو بھاپ میں تبدیل کر دیتی ہے جس کی مدد سے ٹربائنز چلائی جاتی ہیں۔ پاکستان کیلئے ایٹمی بجلی گھروں کی تعمیر کی خاص اہمیت ہے جسکی وجوہات یہ ہیں کہ اول یہ سستی بجلی کے حصول کا ذریعہ ہے۔ دوئم، پاکستان ایٹمی صلاحیت کا حامل ہے اور اس کے استعمال کیلئے باقاعدہ نظام رکھتا ہے۔ سوئم، ہمارے پن بجلی کے منصوبے تاخیر کا شکار ہیں اور کچھ تو تنازعات کی زد میں ہیں، لہٰذا یہ ہماری ضرورت ہے۔

اس کے استعمال کیلئے سب سے اہم چیز تابکار دھاتوں، یعنی یورینیم اور پلوٹونیم وغیرہ کی اینرچمنٹ کا عمل ہے جس میں پاکستان تقریباً چار دہائیوں کا تجربہ رکھتا ہے۔ ہمارا پہلا ایٹمی بجلی گھر 1972 میں کینوپ کے نام سے کراچی میں میں آپریشنل ہوا جسکے لئے کینیڈا نے تعاون کیا۔ اسکے بعد پاکستان اس حوالے سے پابندیوں کا شکار رہا مگر ہم نے 1982 تک یہ صلاحیت حاصل کر لی تھی۔ چشمہ میں چین کے تعاون سے چار ایٹمی پلانٹ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں جنکی استعداد 300 سے 450 میگاواٹ فی یونٹ ہے۔ مزید منصوبوں پر کام جاری ہے۔ ہندوستان نے ایک ہزار میگاواٹ فی یونٹ تک کے معاہدے امریکا اور دوسرے ممالک سے کر رکھے ہیں۔

پاکستان کی خارجہ پالیسی میں نیو کلئیر سپلائرز گروپ تک رسائی کو اہمیت دی جانی چاہیے تھی۔ اس وقت فرانس اور سویڈن اپنی ضروت کی ساٹھ فیصد سے زائد بجلی اسی ذریعے سے حاصل کرتے ہیں۔ جاپان چالیس سے زائد ایٹمی بجلی گھر رکھتا ہے جو اسکی صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ امریکہ ایک لاکھ میگاواٹ سے زائد ایٹمی بجلی پیدا کر رہا ہے۔ ایٹمی بجلی کوئلے اور تیل سے پیدا ہونے والی بجلی سے بھی سستی ہے۔ پاکستان کو مجموعی طور پر محض بیس ہزار میگاواٹ کی ضرورت ہے جس کیلئے ایٹمی بجلی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ معاشی ترقی کیلئے توانائی کی ہی نہیں بلکہ سستی توانائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ شنگھائی کوآپریشن آرگنائیزیشن یا ایس سی او کا ممبر بننے کے بعد ہاکستان روسی تعاون کیلئے بھی کوشاں ہو سکتا ہے جو اس میدان میں وسیع تجربہ رکھتا ہے۔ اس وقت پانچ ویٹو پاور رکھنے والے ممالک ہی اقوام متحدہ کی شرائط کے مطابق ایٹمی صلاحیت رکھنے کے اہل ہیں۔ ہندوستان اس سٹیٹس کے حصول کیلئے کوشاں ہے۔ پاکستان نے این پی ٹی کی توثیق ہندوستان کے حوالے سے مشروط کر رکھی ہے۔ اس تناظر میں ہندوستانی پالیسی کو ہمیشہ مد نظر رکھنا چاہیے کیونکہ امریکہ سے معاہدے کے بعد اسے رعائتیں مل گئی ہیں جو مغربی ممالک کے دوہرے معیار کی آئینہ دار ہیں۔ چین اور روس سے ایسے معاہدوں کے بعد ہم بھی کاؤنٹر پالیسی وضع کر سکتے ہیں۔

مصنف پیشے کے اعتبار سے کیمیادان ہیں، کتاببیں پڑھنا پسند کرتے ہیں اور تاریخ، فلسفہ، حالات حاضرہ اور اردو شاعری پسندیدہ موضوعات ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.