راکھ کے ڈھیر پہ کیا شعلہ بیانی کرتے، ایک قصے کی بھلا کتنی کہانی کرتے

4 944

بردرانِ عزیز،

میں معذرت چاہتا ہوں میرے پاس اس سے زیادہ القابات نہیں جس سے میں معززین کو نواز سکوں۔ کل رات جب میں آج کی تقریر کی بابت پریشان تھا اور ملک کے نامور مقررین کی اپنے کمرے میں لگے آئینے کے سامنے نقل اتارنے کی کوشش کررہا تھا تو پیچھے روشن دان سے آتی ہوئی روشنی نے سامنے کی دیوار پر میری بے رنگ تصویر کھینچی۔ میں تقریر کی تیاری میں ہاؤہو کر ہی رہا تھا کہ یکدم ایسا محسوس ہوا کہ سامنے میرا سایہ مجھے حیرت سے تک رہا ہے اور میرے سامنے یہ سوال رکھ ہے کہ ‘جناب یہ کیا چلانا مچایا ہوا؟ ہے یہ کیا ڈرامہ ہے؟’ مجھ پر ایک خاموشی طاری ہوجاتی ہے اور میں اپنے آپ کو اپنے ہی سامنے بیوقوف کھڑا محسوس کرتا ہوں۔

اسی دوران مجھے یہ خیال آتا ہے کہ میں یہ کیوں کر رہا ہوں؟ کیا مجھے انعام کی لالچ ہے؟ یا میں اپنی شعلہ بیانی سے دھاک بٹھانا چاہتا ہوں؟ یا واقعی میں کسی تبدیلی کے لیے کوشاں ہوں؟ اگر میں تبدیلی چاہتا ہوں تو یہ آواز کا بلند کرنا، جوشیلے جملے کسنا کیا معنی رکھتا ہے؟ اگر میری دلیل میں وزن ہو تو آرام سے کہے گئے جملے بھی معنی رکھتے ہیں۔ ان خیالات کے دوران میری نظر دوبارہ اپنے سائے کی جانب گئی اور اب وہ مجھے دیکھ کر ہنسنے لگا اور میں اسکے پیچھے چھپے راز کو سمجھ گیا تھا۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کہہ رہا ہو کہ تقریر سے پہلے تم کس طرح سے کلام کرتے ہو؟ اور تقریر کے بعد کس طرح سے؟ کیا عملی طور پر بھی تمہاری زندگی ان رہنما اصولوں سے مزین ہے جو تم جارحانہ انداز میں لوگوں پر سوار کرنا چاہتے ہو؟ کیا یہ ایک منافقت نہیں کہ تقریر کے دوران تم ایک جھوٹا اندازِ کلام اپنا لیتے ہو اور تقریر کے بعد دوبارہ اسی ڈگر پر آجاتے ہو؟

دوستو! مجھے معاف کیجیے۔ میں اس انعام کو حاصل کرنے کا متمنی نہیں جو انسان کی منافقت پر دیا جاتا ہو۔ میں ایسے ہی کلام کیوں نہ کروں جیسے کہ میں واقعتاً کرتا ہوں؟ میں اس دو ٹکے کی ڈرامائی کہانی کا حصہ کیوں بنوں؟ اب میرے سائے نے ایک قہقہہ لگا دیا۔ میں دوبارہ تخیلات میں گھر گیا کہ ہر انتخاب سے پہلے سیاستدانوں کا ایک ناٹک لگایا جاتا ہے جس کو ہم انکی شعلہ بیانی کے باعث حقیقت سمجھ لیتے ہیں اور پھر دوبارہ اسی ناٹک میں بیٹھ کر تالیاں بجاتے ہیں کہ شاید اب کی بار ناٹک ایک حقیقت ہوگا۔ میں ان لوگوں کی طرح یہ ہاتھوں کو ہلا کر، مائیک کو کھینچ کر جعلی ہیجان پیدا کرنے کا قائل نہیں۔ میں آنکھوں کو بڑا کرکے اپنی غیر منطقی بات کو دلیل کہنے سے عاری ہوں۔ میں ویسے ہی تقریر کرنا چاہوں گا جیسے میں اپنے دوستوں سے بات کرتا ہوں، جیسے میں انکو سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔

میں معذرت چاہتا ہوں کہ میں نے اس مقابلے میں حصہ لے کر غلطی کی اور اس دقیانوسی روایت پر کچھ کہنے کی صلاحیت اپنے اندر محسوس کی۔ میں اس فن کو نہیں جانتا اور نہ جاننے کی سکت رکھتا ہوں۔ ارے میرے لیے تو ایک خاموش سایہ ہی مجھے اس نتیجے تک پہنچانے میں کامیاب ہوگیا۔ نہ اس نے میرے سامنے چھلانگیں لگائیں اور نہ ہی چیخیں ماریں۔ دلیل خاموشی بھی دے جاتی ہے، آواز کی بلندی وہاں پائی جاتی ہے جب کوئی چیز مسلط کرنے کا ارادہ ہو۔ شاید اب مجھے اپنی گفتگو روک دینی چاہیے۔ شاید سامعین گھبرا گئے ہیں اور چینخیں مارنے والے اور ناچنے والے مقررین کی طرف لوٹ آنا چاہیے۔ شکریہ۔


عنوان کے طور پر استعمال کیا گیا شعر عرفان ستار صاحب کا ہے۔

مصنف طبعیات، فلسفہ اور ریاضی کے طالب علم ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. Muhammad Zawwad کہتے ہیں

    Very impressive and strong arguments. Being a declamation speaker, I am feeling like standing nowhere. But I think, general public is more inclined towards the cosmetic and styled speech as compared to just argument-oriented talk. No doubt, if a speech is based on arguments, it is way better than mere cosmeticized speech. On the other hand, speech without spices, cosmetics and styles are also difficult to impress the audience. So, in my views, we can’t ignore either shola biani and a specific andaaz e kalaam or the importance of arguments. Both are important, even if not equally. However, I second your stance of talking rationally whatsoever.

    1. ریحان نقوی کہتے ہیں

      شکریہ۔

  2. Shaista abbas کہتے ہیں

    بہت اعلی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.