توانائی کا بحران، وجوہات اور حل

0 346

توانائی کسی بھی معیشیت کے جسم میں دوڑتے ہوئے لہو کی حیثیت رکھتی ہے جسکی فراہمی کے بغیر کوئی بھی ملک ترقی کی منازل طے نہیں کر سکتا۔ توانائی کے حصول کیلئے دستیاب وسائل سے استفادہ کرنا اب بڑی حد تک ٹیکنالوجی کا مرہون منت ہے۔ مؤثر منصوبہ بندی ہر ملک کی صورتحال پر منحصر ہے مگر اس حوالے سے ٹیکنالوجی پر ترقی یافتہ اور مغربی ممالک کو ہی دسترس حاصل ہے۔ پاکستان تقریبا گزشتہ ایک دہائی سے توانائی بحران کا شکار ہے حالانکہ بجلی کی پیداوار کی صلاحیت ضرورت سے زائد ہے۔ مگر نجی شعبے پر انحصار اور تیل سے بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت نے اس بحران کو جنم دیا۔ حکومتوں کی ناقص منصوبہ بندی نے اس ضمن میں ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔ آج صورتحال اس قدر ناقص ہو چکی ہے کہ صنعتیں اس مسئلے کی وجہ سے بحران کا شکار ہیں اور ٹیکسٹائل جیسے شعبے سے وابستہ لوگ بھی سرمایہ کاری کو دیگر ممالک میں منتقل کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت نے اپنی مدت کے پہلے تین ماہ میں اس شعبے کے سرکلر ڈیٹ یعنی گردشی قرضے کے خاتمے کیلئے تقریبا پونے پانچ ارب ڈالر کے قرضہ جات حاصل کئے تھے مگر وہ بھی اس مسئلے سے نبرد آزما نہ ہو سکی۔ اس برس کو حکومت نے لوڈشیڈنگ کے خاتمے کا سال قرار دیا ہے مگر حالات اس کے برعکس نظر آتے ہیں۔ اس مسئلے کو سمجھنے اور اس کے مناسب حل کیلئے اسکا تجزیہ لازمی ہے۔ منصوبہ بندی کے فقدان کی وجہ سے ہمیں آج ان نامساعد حالات کا سامنا ہے حالانکہ دیگر ترقی پذیر ممالک کی نسبت ہماری توانائی کی ضروریات کم ہیں کیونکہ ہماری معیشیت کی ریڑھ کی ہڈی زراعت ہے نہ کہ صنعت۔ آج حالات یہ ہیں کہ ہماری ضرورت تقریبا بیس ہزار میگاواٹ کے قریب ہے اور جرمنی محض ونڈ انرجی سے پچیس ہزار میگاواٹ سے زائد بجلی حآصل کر رہا ہے۔

پاکستان کے پاس دستیاب قدرتی وسائل میں سب سے اہم پانی ہے۔ ہمالیہ کی چوٹیوں سے پگھلتے ہوئے گلیشئر جنوب کی جانب دریاؤں کی صورت بہتے ہیں اور زمینوں کو سیراب کرتے ہوئے بحیرہ عرب میں جا گرتے ہیں۔ تقسیم نے پانی کے وسائل کو بھی تقسیم کردیا خصوصاً پنجاب کی تقسیم سے نہروں اور ہیڈورکس کا کنٹرول ہندوستان کے پاس چلا گیا۔ 1960 میں ورلڈ بینک کے صدر یوجین بلیک کی ثالثی کے نتیجے میں پاک ہند سمجھوتہ طے پایا جسے سندھ طاس معاہدے کا نام دیا گیا۔ اسکے ساتھ ہی پن بجلی، یعنی ہائیڈرو الیکٹرک کے منصوبے بھی ڈیموں کی تعمیر کے نتیجے میں سامنے آئے۔ پاکستان میں تین دریا مشرقی پنجاب کی سمت سے آتے ہیں، یعنی ستلج، راوی اور بیاس جنکا مکمل کنٹرول ہندوستان کو دے دیا گیا۔ تین مغربی دریاؤں سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستانی حق تسلیم کیا گیا اور طے پایا کہ ورلڈ بینک اس سمجھوتے میں ہمیشہ ثالث کا کردار ادا کرے گا۔ مشرقی دریاؤں کی کمی کو پورا کرنے کیلئے مغربی دریاؤں پر ڈیم بنا کر لنک نہروں کا جال بچھایا گیا۔ اس کے نتیجے دریائے سندھ پر تربیلا اور جہلم پر منگلا ڈیم تعمیر کئے گئے۔ آج بھی منگلا ڈیم سے ایک ہزار میگاواٹ سستی پن بجلی حاصل کی جارہی ہے جبکہ اسکی ذخیرے کی صلاحیت چھے ملین ایکڑ فٹ سے گھٹ کر چار ملین ہو چکی ہے۔ اسکے لئے توسیعی منصوبہ جاری ہے جس سے بجلی کی پیداوار میں اضافہ بھی ہوگا۔

تربیلا گیارہ ملین ایکڑ فٹ کی صلاحیت کو کھو کر آٹھ ملین ایکٹر فٹ پر آچکا ہے۔ یہ گیارہ سو میگاواٹ بجلی فراہم کرتا ہے جبکہ اسکی مکمل توسیع سے اسکی صلاحیت کو تین ہزار میگاواٹ تک بڑھایا جا سکتا ہے مگر یہ منصوبہ بھی سست روی کا شکار ہے۔ سب سے اہم منصوبہ جو جاری ہے، وہ نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پروجیکٹ ہے۔ یہ منصوبہ 1988 سے التوا کا شکار ہے جسکا براہ راست فائدہ ہندوستان کشن گنگا ہائیڈروپراجیکٹ کے ذریعے اٹھا رہا ہے۔ اس منصوبے کی خوبصورتی یہی ہے کہ پانی ذخیرہ کرنے کیلئے کسی جھیل کی تعمیر ضروری نہیں بلکہ کئی کلومیٹر لمبی سرنگ کے ذریعے نیلم کے پانی کو جہلم میں منتقل کیا جا رہا ہے جسکے راستے میں ٹربائینوں کی تنصیب کے ذریعے بجلی پیدا کی جائیگی۔

ابتدا میں متوقع پیداوار نو سو میگاواٹ تھی جو کم ہو کر چھہ سو میگاواٹ رہ گئی ہے۔ اسکی وجہ ہندوستان کی پاکستان مخالف سوچ ہے۔ نیلم کو مقبوضہ کشمیر میں کشن گنگا کہا جاتا ہے، اسی طرز کا منصوبہ اس نے وہاں بنا لیا ہے جس سے نیلم میں پانی کا بہاؤ کم ہونے سے نیلم جہلم منصوبے کی پیداوار متاثر ہو گی۔ مشرف دور میں واٹر وژن 2025 پیش کیا گیا تھا جس میں پانی کے چھہ منصوبوں کی منظوری دی گئی تھی۔ کالا باغ ڈیم جسکی صلاحیت چھتیس سو میگاواٹ تک ہو سکتی ہے، جلد ترین مکمل ہو پانے والا منصوبہ ہے تاہم یہ سیاست کی نظر ہو چکا ہے۔ اسکی اہم خصوصیت یہی ہے کہ مون سون کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت اسکی سب سے زیادہ ہے۔ دیامر بھاشا ڈیم بھی شمالی علاقہ جات میں دریائے سندھ پر تعمیر کیا جا رہا ہے۔ اسکی تعمیر بھی فنڈز کی کمی کی وجہ سے التواء کا شکار ہے۔ یہ بارش کے بجائے گلیشئر کے پانی کو ذخیرہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ چارہزار میگاواٹ پن بجلی کی صلاحیت ملک کیلئے سستی بجلی کی صورت میں کسی نعمت سے کم نہیں ہو سکتی۔ اسکی پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت منگلا اور تربیلا کی صلاحیت میں ہونے والی کمی کا ازالہ کر دیگی۔ اس منصوبے کو جلدازجلد مکمل کرنا چاہیے۔

اکوڑی ڈیم دریائے ہارو پر تعمیر کیلئے تجویز کیا گیا ہے۔ یہ تربیلا میں سلٹنگ کو بھی کم کریگا اور زراعت کیلئے بھی اسکی افادیت ہے۔ یہ تھوڑی لاگت کا مؤثر اور چھوٹا منصوبہ ہے۔ کرم تنگی ڈیم دریائے کرم پر تجویز کیا گیا ہے جسکا بنیادی مقصد زراعت کو فروغ دینا ہے تاہم بجلی کی پیداوار بھی اس منصوبے میں شامل ہے۔ منڈا ڈیم نیلم جہلم کی طرح کا منافع بخش ترین منصوبہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ مہمند ایجنسی کے قریب دریائے سوات پر تجویز کیا گیا ہے جہاں منڈا ہیڈورکس موجود ہے۔ اسکی جھیل اعشاریہ نو ملین ایکڑ فٹ کی ہوگی جبکہ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت نوسو میگاواٹ ہوگی۔ اسکی تعمیر کا فائدہ یہ ہے کہ نوشہرہ میں سیلاب پر قابو پایا جا سکتا ہے اور دریائے سوات کابل میں گرتا ہے جس سے کابل میں بھی پانی کے بہاؤ کو کنٹرول کرکے پشاور ویلی میں سیلاب کی صورتحال پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

اسطرح کے پی کے کالاباغ ڈیم پر تحفظات میں کمی آسکتی ہے۔ اسکو جب وژن 2025 میں شامل کیا گیا تو اسکی لاگت ایک ارب ڈالر تھی جو اب بڑھ چکی ہے۔ سندھ میں کیرتھر رینج سے سیلابی صورتحال کو کنٹرول کرنے کیلئے نائیگج ڈیم کی تجویز ہے جس سے زراعت کیلئے پانی مہیا ہو گا اور چار میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہوگی۔ سندھ کی صوبائی حکومت بھی اس منصوبے کو مکمل کر سکتی ہے۔ پن بجلی  سستی بجلی پیدا کرنے کا واحد ذریعہ ہے۔ ان منصوبوں کیلئے سرمایہ کاری کی ضرورت ہے تاکہ ہم اپنی صنعتوں کو سستی توانائی فراہم کر کے معاشی بحران سے باہر نکل سکیں۔

گلگت بلتستان میں نلتار ڈیم جیسے چھوٹے منصوبے مکمل کئے جا سکتے ہیں جو پندرہ سے تیس میگاواٹ بجلی فراہم کر سکتے ہیں۔ پنجی ڈیم اور کٹزرہ ڈیم جیسے بہت بڑے منصوبوں کی فیزیبیلیٹی بھی موجود ہے مگر یہ مستقبل کی منصوبہ بندی کا ہی حصہ ہو سکتے ہیں۔ بھارت کی آبی جارحیت کو بھی اسطرح کم کیا جا سکتا ہے۔ چین، ترکی اور عرب ممالک کو ان منصوبوں میں دلچسپی اور سرمایہ کاری کیلئے مائل کیا جا سکتا ہے۔

ایٹمی ٹیکنالوجی نے صنعتی ترقی میں بڑا اہم کردار ادا کیا ہے۔ امریکی اور سوؤیت ٹیکنالوجی ہی اس شعبے میں بنیادی کردار ادا کرتی رہی ہے۔ امریکہ ایک لاکھ میگاواٹ سے زائد بجلی اسی ذریعے سے حاصل کرتا ہے۔ فرانس اس  شعبے میں سب سے آگے ہے جو اپنی ضرورت کی 67% بجلی ایٹمی ری ایکٹرز سے حاصل کرتا ہے۔ سویڈن بھی کم و بیش اسی تناسب سے ایٹمی توانائی کا حصول جاری رکھے ہوئے ہے۔ جاپان کی صنعتی ترقی میں بھی اسکے چالیس سے زائد ایٹمی ری ایکٹرز کا اہم کردار ہے۔ بین الاقوامی معاہدہ این پی ٹی صرف پانچ ویٹو پاورز کو ایٹمی ہتھیاروں کیلئے اختیار فراہم کرتا ہے۔ اسرائیل، بھارت اور پاکستان  نے ابھی تک اس پر دستخط نہیں کیے جبکہ شمالی کوریا اسکی توثیق کر کے اس سے الگ ہو چکا ہے۔ یہ معاہدہ تمام ممبر ملکوں کو سول ایٹمی ٹیکنالوجی کے حصول کا حق اس شرط پر دیتا ہے کہ وہ فوجی مقاصد کیلئے ایٹمی پروگرام کو ترک کر دیں گے اور اپنی ایٹمی تنصیبات کو بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کیلئے کھول دیں گے۔ امریکا نے ہندوستان کو مستثنیٰ قرار دے کر سول ایٹمی ٹیکنالوجی کا معاہدہ کر کے دوہرے معیار کا ثبوت دیا۔

ستائیس سے زائد ممالک، جو ایٹمی ٹیکنالوجی فراہم کرتے ہیں، نے نیوکلئر سپلائرز گروپ بنا رکھا ہے جو این پی ٹی کے ممبران کو ٹجکنالوجی فراہم کرتا ہے اور پاکستان اس زمرے میں نہیں آتا۔ 1972 میں کراچی میں پاکستان کی تاریخ کا پہلا ایٹمی بجلی گھر کینوپ آپریشنل ہوا جس کیلئے کینیڈا نے ٹیکنالوجی فراہم کی۔ اسکے بعد مغربی ممالک نے امریکی دباؤ کے تحت پاکستان پر پابندیاں عائد کر دیں۔ اس صورتحال میں چین نے بھرپور تعاون کیا کیونکہ این پی ٹی کے قابل عمل ہونے سے پہلے اگر مختلف ممالک کے درمیان  ایٹمی تعاون کا معاہدہ ہو تو اسے قبول کیا جاتا ہے اسلئے چشمہ میں چار پاور پلانٹس  چینی تعاون سے تعمیر کئے گئے ہیں اور مزید کی تعمیر جاری ہے۔ ہم ایک ہزار میگاواٹ بجلی اسی ذریعے سے حاصل کرتے ہیں جو بہت ناکافی ہے۔ مشرف دور میں 8800 میگاواٹ ایٹمی بجلی کیلیئے منصوبہ بندی کی گئی تھی۔ پاکستان ایٹمی مواد کی اینریچمنٹ  کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہماری ترجیح  سستی اور وافر بجلی ہے جسکے لئے پن بجلی کے بعد یہی آپشن ہمارے لئے بہترین ہے۔

سولر انرجی یا شمسی توانائی پر حال ہی میں بہت سرمایہ کاری کی گئی مگر اسکے خاطر خواہ نتائج نہیں نکلے اور سو میگاواٹ کے قائداعظم سولر پارک پر سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ کمرشل سطح پر اسکا آؤٹ پٹ انتہائی کم ہے لہٰذا اس پر ڈومیسٹک سطح پر توجہ دینی چاہیے۔ گھریلو استعمال اور خاص طور پر یوپی ایس کی چارجنگ ان پٹ  کیلئے واپڈا کی بجلی کے بجائے اسے ترجیح ملنی چاہیے تاکہ گھریلو صارفین کو بلوں کی مد میں بچت ہو اور بجلی کا زیاں بھی کم ہو۔

ونڈ ٹیکنالوجی کو ابھی تک نظر انداز کیا جا رہا ہے حالانکہ یہ سولر سے بہتر آپشن ہے۔ ساحلی علاقوں میں ہر وقت ہوائیں چلتی ہیں جس سے ان پٹ یکساں دستیاب رہتا ہے۔ ٹھٹھہ کے قریب انرجی کوریڈور قرار دئیے گئے علاقے میں ونڈ فارمز کی تنصیبات جاری ہیں اور اسکا آؤٹ پٹ تقریباً ڈیڑھ سو میگاواٹ ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں اس ٹیکنالوجی کو درآمد کرنے میں سنجیدگی نہیں دکھائی گئی اور حکومت نے نجی کمپنیوں کو ترجیح دی ہے جو مہنگی بجلی فراہم کریں گی۔ وفاقی حکومت کو چاہیے کہ صوبوں کو ساحلی علاقوں پر زمین فراہم کرے کیونکہ پچاس میگاواٹ یا اس سے چھوٹے منصوبے لگانے کا اختیار صوبوں کو ہے۔ اسطرح وہ بھی نیشنل گرڈ میں اپنے حصے کی بجلی شامل کر سکیں گے۔ اس ٹیکنالوجی کا حصول اور اس میں خود کفالت ضروری ہے تاکہ ہم اپنی ایک ہزار کلومیٹر لمبی ساحلی پٹی کا فائدہ اٹھا سکیں۔

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے پاس ایک سو پچاسی ارب ٹن کوئلے کے ذخائر موجود ہیں جبکہ بجلی میں اسکا تناسب ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ چین سب سے زیادہ کول ٹیکنالوجی کا استعمال کرنے والا ملک ہے۔ مگر ہم ابھی تک تھر کول سے استفادہ کرنے میں ناکام ہیں۔ موجودہ کول پلانٹس جنکی تنصیب جاری ہے، کیلئے کوئلہ درآمد کیا جا رہا ہے۔ اگر کوئلہ درآمد ہی کرنا ہے تو ساحل سے لے کر ساہیوال تک لاجسٹک لائن بنانے کے بجائے اس کو ساحلی علاقوں کے قریب ہی کول پلانٹس کے ذریعے نیشنل گرڈ میں شامل کیا جانا چاہیے۔ تھر کول پروجیکٹ کی ترقی کے بغیر کول ٹیکنالوجی کا استعمال انتہائی مہنگا ثابت ہوگا۔ اسکے علاوہ ماحولیاتی آلودگی  کی وجہ سے مغربی دنیا اسکے استعمال کے خلاف ہے اور ممکنہ  طور پر اسکے استعمال کو محدود کیا جا سکتا ہے۔ ہمیں اس صورتحال سے قبل ہی اپنے وسائل کے استعمال کیلئے انفراسٹرکچر تیار کر لینا چاہیے۔ چین سے تعاون اور ٹیکنالوجی کا حصول بہترین آپشن ہے۔

جب تک حکومت خود دستیاب وسائل سے استفادہ نہیں کرتی، توانائی کی پیداور میں نجی شعبے پر ذمہ داری ڈالنا زہرقاتل ہوگا کیونکہ سستی بجلی کی پیداوار ہماری صنعتوں کیلئے زندگی کی علامت ہے۔ پن بجلی انتہائی مؤثر ہتھیار ہے جو سیلاب کی روک تھام ، پینے کیلئے صاف پانی اور زراعت کو بھی  مدد فراہم کرتا ہے۔ ہمارے پاس وسائل موجود ہیں مگر انکو استعمال کرنے کیلئے سرمایہ اور ٹیکنالوجی کیلئے منصوبہ بندی ہی واحد حل ہے۔ توانائی کا بحران ہماری ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے مگر ہماری نااہلی کی بدولت ہم اپنے وسائل کو بروئےکار لانے سے قاصر ہیں۔

مصنف پیشے کے اعتبار سے کیمیادان ہیں، کتاببیں پڑھنا پسند کرتے ہیں اور تاریخ، فلسفہ، حالات حاضرہ اور اردو شاعری پسندیدہ موضوعات ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.