قائد اعظم کے تصورات کا ایک لازمی جزو سیکولرازم تھا

4 2,341

اس موضوع پر ہزاروں تحریریں لکھی گئی ہونگی اور کروڑوں دفعہ پڑھی گئی ہونگی۔ لیکن اس موضوع کا انتخاب میرے نزدیک ہماری قوم کو ایک بھولا سبق یاد دلانا ہے۔ آج ہماری نوجوان نسل قائد اعظم اور قائد اعظم کے نظریات کے بارے میں بس 14 نکات تک محدود ہے۔ نوجوان نسل ہی نہیں بلکہ ہم سب قائد اعظم کے نظریات اور تصورات سے بہت دور چلے گئے ہیں۔ کیوں کہ قائد اعظم کے نظریات، تصورات، خواہشات، اصول اور پاکستان کے لئے انکے وژن کو ہر دور کی حکومت نے نظر انداز کیا اور سکول، کالج اور یونیورسٹی کی سطح پر نصاب کا حصہ بنانے سے گریز کیا۔ چند نامعلوم عناصر نے قائد اعظم کے نظریات اور تصورات کو قوم کے سامنے توڑ مروڑ کر پیش کیا کہ آزادی کے 70 سال گزر جانے کے باوجود بھی ہم اس الجھن کا شکار ہیں کہ آخر قائداعظم کے نظریات اور تصورات درحقیقت تھے کیا۔ نامعلوم عناصر نے قائداعظم کے نظریات کو کبھی “سیکولرازم” اور کبھی “تھیوکریسی” کا نام دیا اور وقتاً فوقتاً سیکولرازم اور تھیوکریسی کی تعریف کو وقت اور مفاد کی خاطر تبدیل کرتے رہے اور قوم کو گمراہ۔ اس سے پہلے کہ بحث جنگ بن جائے، چند بنیادی باتیں جن کا علم ہونا پوری قوم کے لیے بہت ضروری ہے، وہ یہ کہ سیکولرازم اور تھیوکریسی آخر ہے کیا؟

سیکولرازم کی تعریف برطانوی مصنف “جارج جیکب یولیوک” نےکچھ یوں کی ہے کہ “سیکولرازم سے مراد دنیاوی امور سے مذہب اور مذہبی تصورات کا اخراج یہ بے دخلی ہے۔ اس نظریہ کا مقصد مذہب اور مذہبی تصورات کو ارادتاً دنیاوی امور سے حذف کر دینا ہے۔ سیکولرازم جدید دور اور روایتی مذہبی اقدار سے دور جانے کی طرف ایک تحریک ہے۔ سیکولرازم کو اردو میں عموماً لادینیت سے تعبیر کیا جاتا ہے لیکن سیکولرازم کے حامیوں کے نزدیک یہ لادینیت سے متراف نہیں، بلکہ اس کا مطلب مذہب اور سیاست کو الگ الگ کر دینا ہے۔ سیکولرازم کی اصطلاح دراصل چرچ اور ریاست کو الگ کرنے کیلئے استعمال کی گئی تھی گویا سیکولرازم دراصل مذہب اور سیاست کے مابین تفریق کا نام ہے”۔

تھیوکریسی کا مطالعہ کریں تو پتا چلتا ہے کہ تھیوکریسی کا مطلب “مذہبی پیشوا کی حاکمیت” کہلاتا ہے۔ انہی وجوہات کی بنا پر چرچ اور بادشاہوں کے مابین اختلافات تاریخ کے صفحوں پر جابجا بکھرے نظر آتے ہیں۔ چونکہ حکمران پوپ کے مذہبی احکامات کا پابند ہوتا تھا جبکہ پوپ پر کوئی روک ٹوک نہ تھی اور پوپ کے انتخاب میں بھی نسلی اور قومی تعصب غالب تھا اور اسی وجہ سے کئی نا اہل لوگ بھی اس عہدے پر فائز ہوئے۔ اس صورتحال سے فائدہ اٹھاتے ہوئے چرچ نے اختیارات کا نہایت غلط استعمال کیا۔ ان حالات کی وجہ سے مذہب اور عوام میں بغاوت پیدا ہوئی جس کے نتیجے میں حکومت میں مذہب کے کردار کو مٹا دیا گیا۔ تھیوکریسی کے کچھ عرصہ مطالعہ کرنے کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مولانا فضل الرحمان صاحب کو پاکستان کا حکمران بنا دیا جائے اور ہر قانون مولانا صاحب کے فتویٰ کا محتاج ہو اسے تھیوکریسی کہیں گے۔

برصغیر تاریخ میں کبھی بھی ایک متحد ملک نہیں رہا۔ ہندو اور مسلم معاشرے برصغیر میں ایک ہزار سال تک ایک دوسرے کے ساتھ رواں دواں رہے لیکن ہندو، ہندو رہے اور مسلمان، مسلمان۔ دونوں کے طرزِ زندگی اور تصورات زندگی ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں اسی لئے تاریخ میں پاکستان کا قیام عمل میں آیا۔ مسلمانان ہند کی سالہا سال کی قربانیوں اور قائد اعظم کی قیادت کا ثمر تھا کہ انگریزوں کی سازشوں اور ہندوؤں کی ریشہ دوانیوں کے باوجود مسلمانان برصغیر نے سالوں کی محنت اور قربانیوں کے نتیجے میں دنیا کی سب بڑی اسلامی مملکت قائم کر نے کا معجزہ کر دکھایا۔ لیکن آج جب ہم تاریخ کے اوراق میں جھانکتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ پاکستان قائم ہونے کے باوجود ان مقاصد سے ہم آہنگ نہیں ہوا جو قیامِ پاکستان کے وقت پیش نظر تھے۔ آج ہمیں اس امر پر غور کرنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم اور تحریک پاکستان کے دیگر قائدین کے پیش نظر وہ کیا مقاصد تھے جن کے حصول کے لئے ان گنت قربانیاں دی گئیں اور ہجرت کا ایک عظیم الشان عمل وجود میں آیا۔ جس کی نظیر تاریخ میں نہیں ملتی۔ صاف ظاہر ہے کہ اس کے پیش نظر دنیا کا کوئی حقیر مقصد نہیں ہوسکتا تھا بلکہ یہ سب ایک عظیم نظریاتی، روحانی اور تہذیبی مقصد کے تہت کیا گیا تھا۔ آج جب قوم اور ملک ایک مشکل دور سے گزر رہی ہے تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ قائد اعظم کے پیش نظر پاکستان کے قیام کا مقصد کیا تھا اور ان کے تصورات کے مطابق پاکستان کا نظام اور پاکستان کی قومی زندگی کی اہمیت کیا ہونی چاہیے تھی؟

ان تمام سوالات کا جواب قائد کی نصائح میں مدغم ہے۔ 2 نومبر 1941 کو علی گڑھ یونیورسٹی کے طلبہ سے خطاب میں قائداعظم نے کہا کہ “آپ ہندوؤں اور سکھوں کو بتادیں کہ یہ بات سراسر غلط ہے کہ پاکستان کوئی مذہبی ریاست ہوگی اور اس میں غیر مسلموں کو کوئی اختیار نہیں ہوگا۔”

11 اپریل 1946 کو مسلم لیگ کنونشن دہلی میں تقریر کرتے ہوئے قائد اعظم نےکہا کہ “ہم کس چیز کےلئے لڑ رہے ہیں۔ ہمارا مقصد تھیوکریسی نہیں ہے اور نہ ہی ہم تھیوکریٹک سٹیٹ چاہیے ہیں۔ مذہب ہمیں عزیز ہے لیکن اور چیزیں بھی ہیں جو زندگی کیلئے بے حد ضروری ہیں۔ مثلاً ہماری معاشرتی زندگی، ہماری معاشی زندگی اور بغیر سیاسی اقتدار کے آپ اپنے عقیدے یا معاشی زندگی کی حفاظت کیسے کرسکیں گے”۔

1946 میں رائٹرز کے نمائندے ڈول کیمبل کو انٹرویو دیتے ہوئے قائد اعظم کا کہنا تھا کہ “نئی ریاست ایک جدید جمہوری ریاست ہوگی جس میں اختیارات کا سرچشمہ عوام ہوگی۔ نئی ریاست کے ہر شہری کے مذہب، ذات یا عقیدے کی بنا کسی امتیاز کے یکساں حقوق ہونگے ۔”

11 اگست 1947کو قائداعظم نے پاکستان کی پہلی دستورساز اسمبلی سے خطاب میں فرمایا: “آپ کا تعلق کسی بھی مذہب سے ہو سکتا ہے۔ کسی بھی نسل اور کسی بھی عقیدے کے ساتھ ہو سکتا ہے، یہ صرف اور صرف آپ کا ذاتی معاملہ ہے، ریاست پاکستان کا ان معاملات سے کوئی سروکار نہیں۔ آپ جانتے ہیں کہ تاریخ میں عقائد اور مذاہب کی بنیاد پرامتیاز روا رکھا جاتا رہا ہے۔ برطانیہ میں صورت حال بہت ابتر رہی ہے، جہاں فرقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے ایک دوسرے پر بہت مظالم ڈھائے ہیں حتیٰ کہ آج بھی کچھ ریاستیں موجود ہیں جہاں ذات پات کا امتیاز موجود ہے لیکن میں خدا کا لاکھ لاکھ شکر ادا کرتا ہوں کہ ہم اس تاریک دور میں آغاز نہیں کر رہے بلکہ ہم تو ایک ایسے عہد میں اپنے ملک کی بنیاد رکھ رہے ہیں جس میں ذات پات، برادریوں، مذاہب اورعقائد کے درمیان کوئی فرق، کوئی امتیاز اور کوئی دوری نہیں ہے۔ ہم ایک ایسے یقین اور بنیادی اصول سے اپنی جدوجہد کا آغاز کر رہے ہیں جس کے مطابق پاکستانی شہری ہونے کی حیثیت سے ہم سب برابر ہیں۔ ہم سب ایک قوم ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں اس راہنما اصول کو اپنا لینا چاہئے کہ ہم میں سے کوئی مسلمان نہیں اورنہ کوئی ہندو ہے۔ یقین جانئے کہ وقت کے ساتھ ساتھ ہمارے درمیان تمام تفرقات کا خاتمہ ہو جائے گا، اکثریت اوراقلیت کی تقسیم بے معنی ہوجائے گی؛ ہندوؤں اورمسلمانوں کے درمیان پایا جانے والا فرق ختم ہو جائے گا کیونکہ مسلمان ہوتے ہوئے بھی آپ کے درمیان پٹھان، پنجابی، شیعہ اور سُنّی کی تقسیم موجود ہے اور اسی طرح ہندو بھی برہمن، کھشتری، بنگالی، مدراسی وغیرہ کے خانوں میں بٹے ہوئے ہیں۔ یقین جانئے کہ ان سب کے درمیان پایا جانے والا فرق مٹ جائے گا۔ میرے خیال میں عقیدے، رنگ و نسل کی بناد پر کی جانے والی تفریق بھارت کی آزادی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو ہم کب کے آزاد ہو چکے ہوتے۔ ہمیں اپنے ماضی سے سبق سیکھنا ہوگا۔ آپ آزاد ہیں۔ آپ آزاد ہیں۔ آپ پاکستانی ریاست کے آزاد شہری ہیں۔ آپ کو مکمل آزادی حاصل ہے۔ آپ کو اپنے مندروں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔ آپ کو اپنی مساجد میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔ پاکستانی ریاست کے تمام شہریوں کو ان کے مذاہب اور عقیدوں کے مطابق اپنی عبادت گاہوں میں جانے کی آزادی حاصل ہے۔ میں ایسا مذہبی بنیادوں پر نہیں کہہ رہا ہوں کیونکہ مذہب تو ہر شخص کا انفرادی معاملہ ہے لیکن ہم سب لوگوں کے درمیان سیاسی طور پر مذاہب اور عقائد کا فرق ختم ہو جانا چاہئے۔”

یکم فروری 1948 کو امریکی عوام سے ریڈیو خطاب میں قائد اعظم نے کہا کہ “پاکستان ایک ایسی مذہبی ریاست نہیں بنے گا جس میں مذہب کے نام پر حکومت کرنے کا اختیار ہوگا۔ ہمارے ملک میں بہت سے غیر مسلم شہری موجود ہیں مثلاً ہندو، مسیحی اور پارسی وغیرہ لیکن وہ سب پاکستانی ہیں۔ انہیں وہی حقوق اور مراعات حاصل ہوں گی جو دیگر شہریوں کو دیے جائیں گے اور انہیں پاکستان کے امور مملکت میں اپنا کردار ادا کرنے کا کا پورا موقع ملے گا۔”

19 فروری 1948 کو آسٹریلیا کی عوام کے نام ایک نشریاتی تقریر میں قائداعظم نے ایک واضح اعلان کیا کہ “پاکستان کی ریاست میں تھیوکریسی کی طرزِ حکومت کی کوئی جگہ نہیں ہوگی ۔”

قائد اعظم کے تصورات کا ایک لازمی جزو سیکولرازم تھا۔ قائد اعظم کا مقصد واضح طور پر مذہب اور سیاست میں تفریق تھا۔ نظریہ پاکستان کا مقصد ایک ہندوستان دشمن ریاست بنانا ہرگز نہیں تھا، بلکہ ایک ایسی ریاست کا قیام تھا جہاں برصغیر کے مسلمان سیاسی اور اقتصادی آزادی کا مزہ لے سکیں اور پاکستان کا ہر شہری اپنے دین پر بلا خوف و خطر عمل کر سکے۔ قائد اعظم کی زندگی کا مقصد برصغیر کے مسلمانوں کو آزادی کی نعمت سے ہمکنار کرنے کے ساتھ ساتھ ایک باوقار شہری بنانا بھی تھا۔ وہ اکثریت اور اقلیت کا فرق مٹانا چاہتے تھے۔ پاکستان کو امریکہ اور برطانیہ جیسی ترقی پسند ریاست بنانا قائد اعظم کا مقصد تھا۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ قائداعظم کی وفات کے بعد ہم راستے سے بھٹک گئے اور قائد اعظم کے نظریات مسخ ہوگئے۔

وقت کا تقاضہ ہے کہ پاکستان کو فلاحی ریاست میں ڈھالا جائے اور آغاز وہیں سے ہو جہاں اس کا سر کچلنے کی سازش کی گئی۔ ہمیں قائداعظم کے نظریات اور تصورات کی روشنی میں اس ملک کی عوام کی بلاتفریقِ مذہب، نسل، جنس حقِ شہریت تسلیم کرنا ہوگا۔ قائداعظم کے ایک ایک لفظ پر عمل کے ذریعے ہی پاکستان کی تکمیل ممکن ہے۔ جب تک آمریت، جبر، طبقاتی تقسیم، فرقہ واریت، تنگ نظری اور ظلم کے دروازے بند نہ ہوں گے تب تک پاکستانی معاشرہ اسلامی، پرامن، ترقی یافتہ، خوشحال اور آسودگی کے راستہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔ ہم سب کو اپنے ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پاکستان کی تعمیر و ترقی اور استحکام کیلئے اپنی صلاحیتوں کو صرف کرنا ہوگا۔ یہی راستہ ہے قائداعظم کے نظریے اور تصورات کو عملی جامہ پہنانے کا۔ بات اقلیتوں کی نہیں ہے، بات ہے مساوی حقوق کی، بات ہے مساوی قانون کی؛ جو قانون ایک عام شہری کے لئے بنایا گیا، کیا اس پر عمل کرنا صدر پاکستان کی توہین ہے؟ ہم سب آج سندھی،بلوچی،پنجابی اور پختون کا پاکستان علیحدہ کرنے کی کوشش میں ہیں جبکہ ضرورت انسانیت اور پاکستان کا حق ادا کرنے کی ہے۔ کوئی بھی قوم کامیاب نہیں ہو سکتی جب تک وہ کمزور، لا چار، بے بس اور نادار لوگوں کی قدر نہیں کرتی۔

خدارا اس ملک کو نامعلوم عناصر سے آزاد کروانے کی تگ و دو کریں، اپنے آپ کو، اپنی نسلوں کو تباہی کا رستہ دکھانے کی بجائے ملک کی قدر اور اس کی اہمیت کو پہچاننے کی طرف توجہ مرکوز کریں۔ بابائے قوم کا مقصد اس ملک کو قید خانہ بنانا نہیں تھا، آزادی کے باوجود بھی ہم مذہب اور سیاست کے پنجرے میں قید ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

4 تبصرے

  1. Babar khan کہتے ہیں

    Intehayi aala darjy ki bakwas ki hy ap jo koi b ho..dunya news b pata ni kn kn logo ko article publish krny deti hy. Ap pe lakh Lanat ho k Qauid e Azam ko defame Kia. Quaid e Azam ne saaf farmaya ta k Pakiatan zameen ka Aik tukra ni ho ga(secular state ni ho ga) balky Aik aisi tajrubah gah ho gi jaha hm Islam k principles ki practice kre

  2. Sikandar Ahmad کہتے ہیں

    Highly generalized perspective , poor research & full of contradictory confused thoughts.

  3. dr hamza کہتے ہیں

    janab! Ahsan Bajwa sahib! main umeed karta hun k aap ne khoob achi tarah se Qauid e Azam k tamam irshadat aur nasaih ka mutala kia hoga aur un k khulasa akhaz karne k baad chand irshadaat ko naqal kia hoga as reference.
    magar fsos Quid e Azam k on the record 100 se zaid irshadat / Khutbaat mein se 5-7 khutbat se ziada mein aisi misaal nahi milti, balke situation is k baraks nazar aati hai. ab main un aksariat irhadat ko Qauid e azam ki political hypocricy to nahin keh sakta. albata logical hote hue ye nateeja akhaz karunga k kasrat se nazria pakistan aur islamic nizam ko pakistan k qanoon aur dastoor bannane ki baat k baad, ye irshadaat is liye kahe gaye take ye wazih ho jaye k is islamic premier state mein islam he superior hoga na k mazhab k naam nihaad thekedaar. na ahel afraad k haathon mazhab k naam par riyasat mein corruption ki jo misalein aap ne di hain, sirf un ka radd karna maqsood tha na k riyasat ko secularism k hawale karna!
    is qism k one sided views pesh karne par aur mukammal haqaiq chupaa kar readers ko gumraah karne par aapko roshan khiyali ke certficates, or aise roshan khayal mamalik k visa chance to zaroor milta hai. saath mein bundle offer mein jahannum ka ticket aur shafat e syed ul mursaleen se mehroomi ka chance bhe mubarak ho.

  4. azam کہتے ہیں

    ISLAMI JAMHOORIA PAKISTAN.

    1-EMAN
    2-ITEHAD
    3-TANZEEM
    4-YAQEEN-e-MUHKAM

    Islam tells us what are rights of minority in a Muslim state. Where dos #1 falls your definition of Secular Pakistan.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.