بھوک تہذیب کے آداب بھلا دیتی ہے

6,186

تہذیب اور روایات کو عصر حاضر میں عملی طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ لیکن اس کی حتمی شکل کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ صدیوں کی پروڈکشن (Production) کا نتیجہ ہے۔ معاشرتی کردار، پنپتے انسانی رویوں کا سکرپٹ (script)، اخلاقی قدروں کا پلاٹ، صحیح سے بہتر کی تلاش، ظاہر اور باطن کی خلیج، انسانی فطرت اور جبلت اس پروڈکشن میں حقیقی عکس بندی کرتی ہے۔ انسانی نفسیات میں “بھوک” بہت سارے رویوں کو جنم دیتی ہے۔ گویا کہ بھوک دوسرے کئی عوامل کے ساتھ ساتھ تہذیب بناتی بھی ہے اور تہذیب کے آداب بھی بھلا دیتی ہے۔ تہذیب اور بھوک کے رشتے کو پیٹ کی بھوک کی مثال سے ہی دیکھ لیجئے۔ گھر کے دسترخوان سے لیکر کسی دعوت ولیمہ کے منظر میں بھوک مشترک نظر آجائے گی۔ ولیمہ یا کسی تقریب میں، مبارکباد کے الفاظ کم اور ‘روٹی کھل گئی’ کے الفاظ زیادہ اہمیت کے حا مل ہیں۔ تہذیب پنپ رہی ہے۔ دستر خوان پر کھانا کھلتے ہی ہر کوٸی مرغن قورمہ کے ڈونگے میں سنائپر (Sniper) جیسی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی من پسند بوٹی پر نظر رکھتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ پہل کرنے کی (initiative) خوابیدہ صلاحیت طبیعت میں بجلی کی سی تیزی پیدا کر دیتی ہے۔ بیٹھے بیٹھے ساکن جسم کی بےچینی میں اور اضافہ کر دیتی ہے۔ چونکہ ابھی بھوک لگی ہے، نظریں اور کچھ دیکھنا نہیں چاہ رہیں، کان بھی تو چمچ اور پلیٹوں کی ہی آواز سننا چا رہے ہیں جبکہ دماغ کی صلاحتیں اس معرکہ کو سر کرنے میں وقف ہوتی ہیں۔ منظر بدلتا ہے۔ اور اب کھانے کے درمیان میں جب خود کے پیٹ کی بھوک سیر ہو چکی ہوتی ہے تو ایک اور جملے کا نزول ہوتا ہے “آپ یہ لیجئے، آپ لے کیوں نہیں رہے؟ آپ نے یہ کھایا؟ آپ کھا کیوں نہیں رہے؟” وغیرہ وغیرہ۔ ساتھ میں ہی طبعیت میں جلدبازی بھی کم ہونا شروع ہوتی ہے۔ طبیعت کی یہ جلدی اطمینان میں جب بدلتی ہے تو پھر ہی دوسروں کا خیال آتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب ہم مطمئن ہوں گے، تو ہی دوسروں کیلئے کچھ کر سکیں گے اور یہ جب ہی ہوگا جب اپنی بھوک ختم ہوگی۔ اس منظر میں تحمل مزاجی اور صبر سے کام لیتے ہوئے بھی ہم بھوک مٹا سکتے ہیں اور بہت سارے لوگ ایسا کرتے بھی ہیں۔ بھوک صرف پیٹ تک ہی محدود نہیں بلکہ ہر جائز ناجائز خواہش کا بھی نام ہے۔ زندگی میں بہت سارے دسترخوان سجے ہوئے ہیں بس بھوک کو اگر ہم خود پر سوار نہ کریں تو یقیناً بھوک پھر بھی مٹ جائے گی۔ لیکن مہذب اور غیر مہذب طریقے کا انتخاب سراسر ہمارا اپنا استحقاق ہے۔

Hierarchy of needs بھی اسی بات کی توثیق کرتی ہے کہ بنیادی ضرورت کے پورے ہونے کے بعد ہی ہم اطمینان کے حصول کی منزلیںں طے کرتے ہیں ۔ بہت سے مالدار لوگوں میں بل گیٹس (Bill Gates) کی ہی مثال لے لیں، دولت اور کاروبار میں اطمینان کے بعد ہی بل اینڈ میلنڈا گیٹس فاؤنڈیشن (Bill & Melinda Gates Foundation) کا قیام عمل میں آیا۔ اس طرح کی اور بھی بہت سی مثالیں ہیں جو کہ بلاشبہ ایک اچھا کام ہے۔ ایدھی کو کچھ نہیں چاہیے تھا اسی لئے تو خلق کی خدمت جو وہ کر گیا وہ ایک مثال ہے۔ کسی کو دینے کا حوصلہ جب ہی پیدا ہوگا جب ہم اپنی ضرورتوں کے تابع نہیں ہونگے۔

بھوک ایک فطری ضرورت ہے لیکن اس کے تابع ہونا تو ضروری نہیں ہے۔ طاقت کی بھوک کو مٹانے کیلئے ظلم کب ضروری ہے؟ دولت کی بھوک میں اندھا ہونا کب ضروری ہے؟ عزت کی بھوک کیلئے کچھ داؤ پر لگانا ضروری ہے کیا؟ جسم کی بھوک کا جائز طریقہ بھی تو ہے۔ احساس برتری اور کمتری میں کسی دوسرے کے احساس کو بھول جانا اخلاقی طور پر کبھی بھی اچھا فعل نہیں ہو سکتا۔

کامیابی کی بھوک اور احساس محرومی کی بھوک دو مختلف سوچنے کے انداز ہیں۔ احساس محرومی ایک خطرناک بھوک ہے جو ہماری صلاحتوں کو اندر ہی اندر مار دیتا ہے، وجہ یہ کے اپنی ذات کی حیثیت اور قابلیت کو ہم نہیں پہچانتے اور بھوکے رہ جاتے ہیں۔ یہ بھوک ہی ہے جو ہمیں خود سے ڈرا کر رکھتی ہے اور اس غریبی میں ہم اپنا آپ سفید پوشی میں بھوکا رہ کر گزار دیتے ہیں۔ بھوک ہونا تو سمجھ آتا ہے مگر بھوکا لگنا اور خود پر ترس کھانا کب ضروری ہے؟ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ خود کو بھوک میں چھپایا جائے یا اپنی بھوک کو ظاہر نہ کیا جائے۔ ایسا کیوں نہیں ہے کہ اپنی اصلیت کو مانا جائے اس پر فخر کیا جائے، خود کو کامیاب دیکھا جائے اور جو سفر رہتا ہے اسے طے کرنا فورا شروع کیا جائے۔ میں اپنی ورکشاپس میں یہ بات اکثر دہراتا ہوں کہ “سڑک نہیں جا رہی ہوتی، دراصل ہم خود جا رہے ہوتے ہیں”۔ یعنی کبھی کبھی ہم اپنے خواب صرف سڑک کی لمبائی کو ماپتے ماپتے خواب ہی رہنے دیتے ہیں، خواب جب ہی پورے ہوتے ہیں جب ہم صرف “خود” منزل کی طرف جا رہے ہوتے ہیں چاہے کہیں سڑک کا کچھ حصہ خراب بھی آ جائے۔

بھوک ایک محرک ہے جس سے واسطہ ہر جگہ پڑ جاتا ہے۔ جیسے عزت، دولت، شہرت، اور ہر وہ چیز جو کسی چیز کی طرف اکسانے ‘بھوک’ ہی تو ہے۔ اس کو مٹا نے کیلئے ہوس، لالچ، دھوکا، الزامات، تہمت، جھوٹ، برائی، اور بہت سارے حربے ہمیں سمجھ آنے لگتے ہیں۔ اور اگر بھوک مٹانے کیلئے ان کا سہا را لیا جائے تو کسی بھی صورت قدر کی نظر سے نہیں دیکھا جاۓ گا۔ ایک لحاظ سے بھوک اچھی بھی ہے اگر یہ صرف جگانے کا کام کرے تو۔ آگے بڑھنا، اور اونچے خواب بھی ایک بھوک ہی ہے مگر عزت نفس، خود داری اور اپنی ذات کی قیمت سے ان کی قیمت کبھی ادا نہ کی جائے۔ کامیابی ایک موتی ہے جس کو ظاہر ہونے کیلئے وقت درکار ہے۔ کیونک کامیابی بھوک کے ہاتھوں کبھی مجبور نہیں ہوتی، اسے نہ تو جلدی ہوتی ہے اور نہ ہی مشتہر کی ضرورت۔ کامیابی تو ایک شور مچاتا سچ ہے اور سچ میں کوئی خلا یا محرومی نہیں ہوتی۔ خواہشات کا تعلق احساس محرومی سے اگر جوڑ دیا جاۓ تو یہی “بھوک” ہے۔

مصنف ایک نجی ٹی وی چینل میں اینکر ہیں۔ اس کے علاوہ سماجی کارکن بھی ہیں اور بطور کارپوریٹ ٹرینر بھی خدمات انجام دیتے ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.