یہ پی ایس ایل سکینڈل کے آتے ہی ٹیم کو کیا ہو گیا؟

0 2,903

پاکستان اور انگلینڈ کا میچ ختم ہوا تو سوچا چلو اب کوئی نیوز چینل دیکھتے ہیں۔ ایک نیوز چینل لگایا تو وہاں کامران اکمل نظر آئے۔ موصوف پاکستان کے میچ جیتنے کی وجوہات پر روشنی ڈال رہے تھے۔ انہوں نے بڑی اعلیٰ، پُرمغز اور مدبرانہ گفتگو کی۔ کرکٹ کے ایسے ایسے اسرار آشکار کئے کہ ہر عامی انگشت بدنداں رہ گیا مگر افسوس صد افسوس کہ طویل انتظار کے باوجود اور ان کا پورا تبصرہ سننے کے باوجود بھی شائقین کرکٹ کو کامران بھائی کی زبان بے تکان سے یہ کلیدی اور روز روشن کی طرح عیاں سچ سننے کو نہ ملا کہ پاکستان کے یہ میچ جیتنے کی بڑی وجوہات میں سے ایک یہ تھی کہ ٹیم میں کوئی ‘اکمل’ موجود نہ تھا۔۔۔۔۔۔۔!!! چلو! اللہ انہیں خوش رکھے۔

بہرنوع، کرکٹ ٹیم کے جیتنے کی وجوہات پر کرکٹ پنڈتوں کے پُرمغز تبصروں سے قطع نظر ہمیں پی ایس ایل فکسنگ سکینڈل کا شکریہ ادا کرنا ہرگز نہیں بھولنا چاہئے۔ اگر اس سکینڈل نے پانچ چھ ‘اہم’ کرکٹرز کو گھر نہ بٹھایا ہوتا اور ان کے ذریعے مبینہ طور پر ٹیم سے رابطے کرنے میں کوشاں رہنے والے بکیوں کے چور دروازے بند نہ کئے ہوتے اور ان پانچ چھ سینئر کرکٹرز کی جگہ نوآموز کھلاڑیوں کو جگہ نہ ملی ہوتی تو شاید آج ٹیم پاکستان اس قدر شاندار نتائج نہ دے پاتی۔

خیر، اب تک کی سب سے اچھی اور سب سے بڑی خبر یہ ہے کہ وہ پاکستان جس کے سیمی فائنل میں پہنچنے تک کے امکانات نہایت کم نظر آتے تھے، آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں پہنچ چکا ہے۔ تاہم، آج کا سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان آئی سی سی چیمپئنز ٹرافی کا فائنل جیت پائے گا یا نہیں؟ پاکستان کی اس ٹورنامنٹ کی پرفارمنس دیکھیں تو نجانے کیوں کچھ الٹے الٹے خیال آنے لگتے ہیں۔ بات ہی کچھ ایسی ہے۔ دیکھیں! اس ٹورنامنٹ سے پہلے جب جب پاکستان نے کسی چھوٹی ٹیم سے میچ کھیلے، جیت لئے۔ دبئی جیسی آسان وکٹوں پر کھیلے، جیت لئے اور جب جب پاکستان نے بڑی ٹیموں سے میچ کھیلے، ہار گیا اور انگلینڈ، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی تیز پچز پر کھیلے تو بھی ہار گیا۔ لیکن اس ٹورنامنٹ کی بات ہی کچھ مختلف ہے۔ ہمارے کئی کھلاڑی ناتجربہ کار ہیں۔ انگلینڈ کی تیز پچز ہیں اور دنیا کی ٹاپ کی کرکٹ ٹیمز ہیں اور پاکستان مسلسل جیت رہا ہے۔ اس ساری صورتحال کو دیکھ کر تو یوں لگتا ہے کہ فائنل کا نتیجہ بھی خلاف توقع نکل سکتا ہے۔ یعنی اگر ہمارا مقابلہ بنگلہ دیش سے ہوتا تو شاید ہم ہار جاتے۔

وحشت میں ہر نقشہ الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نطر آتا ہے

لیکن اب جیسا کہ ہمارا مقابلہ بھارت سے ہو گا تو شاید۔۔۔۔۔ شاید ہم فائنل جیت جائیں۔۔۔۔۔۔!

وہ جو ممکن نہ ہو ممکن یہ بنا دیتا ہے
خواب دریا کے کناروں کو ملا دیتا ہے

سلمان نثار شیخ لکھاری، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.