کیا ہم کل سے اگلے ٹورنامنٹ کی تیاری شروع کر دیں گے؟

0 2,984

اول اول ہر خاص و عام کی طرح غالب بھی کم علم تھے۔ پھر ادھیڑ عمری کو پہنچتے پہنچتے انہوں نے عرفان کے راستے کی آدھی منزلیں طے کر لیں۔ پیری میں قدم دھرا تو انہیں عرفان کا بلند مقام نصیب ہوا۔ اسی طرح، پہلے غالب دنیا پر ہنسا کرتے تھے۔ دکھ بڑھ گئے تو خود پر ہنسنے لگے۔ مزید بڑھ گئے تو ہنسنا بھول گئے۔

اگر غالب کو معیار یا پیمانہ مان لیا جائے، جو کہ ہر سخن شناس خود کو ماننے پر مجبور پاتا ہے تو پھر یوں لگتا ہے کہ ہم بھی عرفان کی بلند ترین سیڑھی پر کھڑے ہیں۔

ایک زمانہ تھا کہ ہم مفلوک الحال، خانماں خراب اور فاقہ مست اقوام و ممالک پر ہنسا کرتے تھے پھر ہم خود بتدریج ‘پتھر کے زمانے’ میں دھکیلے جانے لگے، بجلی، گیس، پانی اور امن و امان تک سے محروم ہونے لگے، تعلیم صحت اور رہائش و روزگار سے تو شاید پہلے سے ہی قوم کا ایک بڑا طبقہ محروم چلا آ رہا تھا۔ مگر اس کے باوجود اول اول ہماری ہمت مزاحمت باقی تھی اور ہم خود پر ہنس لیا کرتے تھے۔۔۔ لیکن اب بات بہت آگے جا چکی ہے۔ شاید ہم غالب کی طرح اوج عرفان کو پا گئے ہیں جبھی تو اب ہمیں اپنے کرکٹ میچ ہارنے پر، بجلی سے محروم ہونے پر اور انٹرنیشنل سپورٹس کے وطن عزیز سے رخصت ہو جانے پر ہنسی بھی نہیں آتی!

پھر کیا کریں؟ اوج عرفان پر پہنچنے کے بعد غالب دنیا سے پردہ پوشی فرما گئے اور مہاتما بدھ جنگل نشین ہو گئے۔ کیا ہم بھی یہی کچھ کریں یا اسی طرح چپ چاپ ایک کے بعد دوسرا اور دوسرے کے بعد تیسرا اور تیسرے کے بعد چوتھا ٹورنامنٹ ہارتے چلے جائیں اور پھر ہر ٹورنامنٹ ہرانے والے نالائق کرکٹر کو ریٹائر کرکے گھر بھجواتے رہیں تاکہ وہ کسی ٹی وی چینل پر جا کر ماہر امور کرکٹ بن کر قوم کی رہنمائی کرے اور بتائے کہ یہ جو ٹورنامنٹ ہم ہار رہے ہیں اس کی وجوہات کیا ہیں؟ کاش کوئی ایسا اہل دل ہو جو آ کر یہ بھی بتائے کہ اس قوم کے پسندیدہ کھیل کو برباد کرنے میں خود اس کا اپنا کتنا کردار ہے۔ اور یہ کہ جو ٹورنامنٹ اس نے ہرایا تھا، اس پر اس کے ساتھ کیا کیا جائے۔

پوری قوم کے کرکٹ پنڈت دو کجیوں پر یکسر متفق ہیں۔ ایک یہ کہ ہمارے کرکٹر یورپ اور آسٹریلیا کی تیز وکٹوں پر ناکام ہو جاتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ ہمارا ڈومیسٹک کرکٹ کا سٹرکچر اچھا نہیں اسی لئے ہمیں اچھے بلے باز اور باؤلر نہیں مل رہے۔

حیراں ہوں روؤں دل کو کہ پیٹوں جگر کو میں
مقدور ہو تو ساتھ رکھوں نوحہ گر کو میں

جب مسئلہ بھی معلوم ہے، ماہرین بھی موجود ہیں، پی سی بی کے پاس پیسے کی بھی کمی نہیں تو پھر آخر ہم کب تک ٹورنامنٹ پہ ٹورنامنٹ، ٹورنامنٹ پہ ٹورنامنٹ ہارتے رہیں گے؟ آخر وہ کونسی قوت ہے یا وہ کونسی رکاوٹ ہے جو ہمیں ان دونوں مسائل کو حل کرنے سے روکتی ہے؟

بہرحال، ان باتوں کو تو چھوڑیں کہ جن پر آسانی سے عمل ہوتا نظر نہیں آ رہا لیکن فی الحال دو اہم اعلانات سن لیں۔

اگر ہم سری لنکا سے میچ جیت کر سیمی فائنل میں پہنچ گئے تو قطع نظر اس بات کہ آگے ہمارے ساتھ کیا ہوتا ہے، ہم واپسی پر اپنی ٹیم کو سر آنکھوں پر بٹھا لیں گے، اس کی اور اس میں “دریافت” ہونے والے نئے ٹیلنٹ کی عظمت کے گن گائیں گے اور اس مبینہ ٹیلنٹ کو نکھارنے یا پالش کرنے یا ایسے اقدامات کرنے کی چنداں ضرورت محسوس نہیں کریں گے کہ جن سے ہم صرف سیمی فائنل میں پہنچنے کو کامیابی نہ گردانیں بلکہ کوئی اگلا ٹورنامنٹ جیت بھی سکیں اور اگر ہم کل کا میچ ہار گئے تو حسب ہمیشہ زیادہ سے زیادہ ایک آدھ کوچ یا سلیکٹر یا ایک دو پلیئر “پھڑکا” کر یا کچھ دیر کیلئے “نُکرے” لگا کر اور شکست کی وجوہات کا جائزہ لینے کیلئے ایک آدھ اجلاس بلا کر قصہ ختم کر دیں گے۔ اور کسی اگلے ٹونامنٹ کا بھی ایسا ہی نتیجہ آنے تک چہلک بلیہ کھیلنے لگیں گے۔ سچ پوچھیں تو یوں لگتا ہے کہ وطن عزیز کے ادارے جوہڑ کے اس ٹھہرے ہوئے پانی کی طرح ہیں کہ جس کے ٹھیکیدار کسی “انقلابی” کو اس میں ایک کنکر بھی پھینکنے کی اجازت نہیں دیتے۔

سلمان نثار شیخ لکھاری، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.