محترم ساحر لودھی صاحب، کچھ آدابِ میزبانی بھی سیکھ لیجئے

1 5,280

رمضان جو کہ پہلے رحمتوں اور برکتوں کی وجہ سے جانا جاتا تھا، پچھلے چند سالوں سے ہمارے ٹی وی چینلز کی مہربانی سے اس بابرکت مہینے کو ایک نئی پہچان مل گئی ہے اور اب اس ماہ مبارک کی آمد کے ساتھ ہی مختلف ٹی وی چینلز پر مختلف انداز کی نوٹنکیاں پیش کی جانا شروع ہو جاتی ہیں۔ چند سال پہلے رمضان ٹرانسمیشن کا آغاز نیلے پیلے چینل سے اب نیلے پیلے چینل کو کوسنے والے ہمارے محب وطن ڈاکٹر صاحب نے کیا تھا، اب تقریباً ہر نجی چینل پر رمضان ٹرانسمیشنز پورا ماہ زور و شور سے جاری رہتی ہیں۔ دوپہر 3 سے رات 8 تک اور رات 1 سے لے کر صبح 4 تک کوئی بھی نجی چینل لگا لیں، مجال ہے کسی چینل پر آپ کو خوش شکل اورخوش باش اینکر خضرات نور برساتے ہوئے نظر نہ آئیں۔

رمضان ٹرانسمیشنز  ٹی وی چینلز کے لیے ایک کاروبار ہے اور وہ کاروبار جس سے  پیسہ نہ آئے تو فائدہ ایسے کاروبار کا؟ اور پیسہ تو ریٹینگ سے ہی آتا ہے۔ اب جب مقابلہ اتنی کثیر تعداد میں چینلز کے درمیان ہو تو وہ مقابلہ جنگ کی صورت اختیار کر لیتا ہے اور محبت اور جنگ میں تو ویسے ہی سب جائز ہے۔ تو پھر جب سب جائز ہے تو ریٹنگ کے لیے کسی کے منہ میں عام ٹھونسنے پڑیں یا کسی کو اپنے پروگرام میں ہونے والے تقریری مقابلے کے دوران روک کر اس کی تذلیل کرنی پڑے تو وہ بھی کریں کیونکہ ریٹینگ کی دوڑ میں تو سب جائز ہے۔

لگتا ہے محترم ساحر لودھی اپنی فلم کے ریکارڈ توڑ کاروبار کی خوشی میں اپنے  حواس کھو بیٹھے ہیں کہ انہیں آدابِ میزبانی بالکل بھول چکے ہیں۔ پہلے روزے والے دن میں جب افطاری کے انتظاز میں ٹی وی کےآگے بیٹھ کر افطار کا انتطار کر رہی تھی تو میں نے چینل بدلتے ہوئے ایک نجی چینل پر ساحر لودھی کو چینختا ہوا پایا۔ معلوم ہو رہا تھا کہ جناب کسی بات پر برہم ہیں۔ میں نے تجسس میں ریموٹ سائیڈ پر رکھا اور لگی سننے۔ ان کی گفتگو کے دوران قائداعظم کا ذکر بار بار آرہا تھا اور وہ اپنی سامنے بیٹھی آڈیئنس کو چینخ چینخ کر قائداعظم کی عظمت کا یقین دلوا رہے تھے۔ گفتگو کے دوران وہ سامنے کھڑی لڑکی سے مخاطب ہو رہے تھے۔ میں نے بھی سوچا کہ اس لڑکی نے ہمارے قائد کی شان میں ایسی کیا گستاخی کر دی کہ محترم ساحر صاحب اتنا لال پیلے ہو رہے ہیں۔

میں پروگرام کی ویڈو یو ٹیوب پر اپلوڈ ہونے کا انتظار کرنے لگی۔ کچھ گھنٹوں بعد جب پورے پروگرام کی ویڈیو یوٹیوب پر اپلوڈ ہوئی تو پورا واقعہ شروع سے دیکھا۔ جس لڑکی پر سحر لودھی برہم تھےوہ  داؤ یونیوسٹی کی طالبہ صبا رضوان تھیں، جو پروگرام میں ہونے والے تقریری مقابلے کا حصہ تھیں۔ صبا نے اپنی تقریر میں قائد پاکستان کو کیا کہاآپ خود ہی پڑھ لیں۔

تقریرر کا موضوع تھا “میری آواز سارے زمانے کی صدا ہے” جس کی مخالفت میں صبا کو تقریر کرنے کا کہا گیا۔ صباکی تقریرکچھ یوں تھی،

“عزت نفس کسی شخص کی یہاں مخفوظ نہیں، اب تو اپنے ہی نگہبانوں سے ڈر لگتا ہے، ڈنکے کی چوٹ پر ظالم کو برا کہتی ہوں، مجھے سولی سے نہ زندانوں سے ڈر لگتا ہے، صدرِ اعلی وقار، موجودہ قرارداد “میری آواز سارے زمانے کی صدا ہے” سے مراد اس ملک کی باون فیصد خواتین اور میری آواز سےمراد ہم پرکیے جانے والا ظلم اور جبر۔ میں آج بھی اس معاشرے سے تعلق رکھتی ہوں جہاں عورت کو کم تر اور حقیر سمجھا جاتا ہے، جہاں ہماری آواز کو دبا دیا جاتا ہے۔ تو کیا یہ ہماری آواز زمانے کی آواز ہے؟ نہیں، بلکل نہیں۔ میں عافیہ صدیقی ہوں جسے راتوں رات امریکہ منتقل کر دیا جاتا ہے، بے تہاشہ مظالم ڈھائے جاتے ہیں، خود مظلوم ہونے کے بعد بھی ظالم ہونے کا الزام سہنا پڑتا ہے۔ میں خدیجہ صدیقی ہوں جس پر دن دہاڑے 23 چاقو کے وار ہوتے ہیں، میں در در ٹھوکریں کھاتی ہوں انصاف کی بھیک مانگتی ہوں، لیکن انصاف نہیں ملتا تو منتقی اعتبار سے تو یہ قرارداد اسی وقت مسترد کی جاتی ہے، کہ میری آواز زمانے کی صدا ہے۔ اگر اس ایوان میں بیٹھا کوئی ایک شخص بھی اٹھ کریہ کہہ دے کہ میں غلط ہوں تو میں یہاں کی بجائے وہاں ہوں گی، میں اس مملکت میں رہتی ہوں کہ جہاں مجھ پر ظلم و جبردورِ جہالیت سے ہوا، کبھی زندہ دفن کردیا گیا کبھی قرآن سے شادی کر دی گئی، کبھی دو چار کتابیں پڑھ جانے کے عوض ظلم  ستم سہنا پڑا۔ یہ جو لوگ کہتے ہیں کہ یہ برابری کا زمانہ ہے، ارے کیسی برابری، کہاں کی برابری؟ اگر میں آج بھی نوکری کرنا چاہوں یا اپنے گھر کی کفالت کرنا چاہوں تو اس درندہ نما معاشرے کی بھنٹ چڑھنا پڑتا ہے۔ میں اس قوم کی ہر وہ بیٹی ہوں جو چند پیسے کمانے کے لیے گھر سے نکلتی ہے۔ اس کی عزت و حرمت کا سودہ ہوتا ہے۔ میں قندیل بلوچ ہوں جسے عزت و حرمت کے نام پر قتل کر دیا جاتا ہے، میں سارہ ریاض ہوں جسے پسند کی شادی کرنے پر تیزاب سے جھلسنا پڑتا ہے۔ ارے میں دیہات کی وہ معصوم آٹھ سالہ بچی ہوں جسے  چند پیسوں کے عوض 80 سالہ بوڑھے سے شادی کرنا پڑتی ہے، تو دل سے ایک ہی آواز نکلتی ہے کہ میری آواز مانے کی صدا نہیں اورایک ہی شخص کو پکارنے کا دل کرتا ہے کہ چور، لٹیرے قاتل سارے شہر کے چوکیدا ہوئے ہیں، حواس کے متوالے بھی دھرتی کے حقدار ہوئے ہیں، کوئی نہیں یہ دیکھنے والا، کوئی نہیں یہ پوچھنے والا کن ہاتھوں میں سونپ گئے تم قائد جان سے پیارا پاکستان، قائداعظم آؤ ذرا تم دیکھو اپنا پاکستان۔ یہ وہ ملک ہے کہ جہاں کبھی کسی عورت کو قتل کر دیا جاتا ہے تو کبھی اس کی عزت سے کھیلا جاتا ہے۔۔۔۔۔”

اور یہاں اس مقررہ کو محترم نے روک کر اپنی تقریر میں قائد اعظم کو برا بھلا کہنے پر خوب ڈانٹا۔ جب صبا نے یہ کہنا چاہا کہ انہوں نے دراصل قائد کو کچھ نہیں کہا اور ان کا مطلب تھا کہ اگر وہ ہوتے تو ملک کا یہ حال نہ ہوتا اور تقریر کےاختاتم پر صبا نے اپنی تقریر پورا کرنے کا مطالبہ بھی کیا مگر حضور کو غصہ کچھ زیادہ تھا، انہوں نے صبا کی بات پردھیان نہیں دیا۔ مجھے محترم کی نیت پر کوئی شک نہیں۔ انہوں نے یقیناً یہ سب ریٹینگ کے چکر میں نہیں بولا ہوگا، مگر کسی کو اپنے پروگرام میں بلا کر اس کی تقریر کو درمیان میں ہی روک کر اس کی تذلیل کرنا اور اسے اپنی تقریر پورا نہ کرنے دینا اخلاقیات کے منافی ہے۔ ساحر لودھی اور دیگر رمضان ٹرانسمیشنز کے اینکرز کو یہ سمجھنا ہو گا کہ ریٹنگز کی خاطر آپ اپنے پروگرام میں مہمانوں کو مدعو کر کے انہیں یوں تذلیل کا نشانہ نہیں بنا سکتے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. nabiha zaheen کہتے ہیں

    بالکل درست فرمایا کہ پپہلے پوری بات سننی چاہیے پھر تنقید یا کوئی رائے قائم کی جائے۔ ساحر لودھی نے بات مکمل سُنے بغیر ہی اس لڑکی کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا۔ حالانکہ اس کی بات کا یہ پہلو کہیں سے بھی عیاں نہیں ہوتا کہ وہ قائد اعظم کو برا کہہ رہی ہو!

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.