پاک بھارت ٹاکرا، کیا شاہین انہونی کر دکھائیں گے؟

1 265

چیمپئز ٹرافی کا بڑا معرکہ 4 جون کو برمنگھم میں ہو گا جہاں تجربہ اور حکمت عملی سے لیس بھارت کا نسبتاً کم تجربہ کار اور نوجوانوں پر مشتمل پاکستانی ٹیم کے ساتھ ٹاکرا ہو گا۔ سرفراز آئی سی سی ایونٹ میں سب سے کم تجربے کے حامل کپتان ہیں تاہم وہ جارحانہ حکمت عملی اپنا کر اس بڑے معرکے میں سرخرو ہو سکتے ہیں۔ ایک بات تو واضح ہے کہ بھارت آسان حریف ہرگز نہیں ہو گا۔ حال ہی میں ہونے والی آئی پی ایل سے کئی کھلاڑیوں کے انتخاب کے بعد انڈیا کی ٹیم ایک متوازن سائیڈ بن چکی ہے جو وارم اپ میچز میں بھی نظر آیا ہے۔

انڈین ٹیم نے اپنے دونوں میچز باآسانی جیت لیے جبکہ قومی ٹیم کو تقریباً ہار جیسی فتح نصیب ہوئی۔ پاکستان کے مضبوط سمھجے جانے والے باؤلنگ اٹیک کیخلاف 341 رنز سکور ہوئے اور بیٹنگ میں بھی مڈل آرڈر بری طرح ناکام ہوا۔ انڈین ٹیم کو نہ صرف تیز وکٹوں پر کھیلنے کا تجربہ ہے بلکہ وہ دفائی چیمپئن بھی ہے۔ دھونی کی شاندار قیادت نے انڈین ٹیم کو تاریخ کی مضبوط ٹیم بنا دیا ہے۔ کل وہ بھی ایک پلیئر کی حیثیت سے ایکشن میں نظر آئیں گے۔

دوسری جانب پاکستان کی بیٹنگ لائن سے غیر متوقع کارکردگی کی ہی امید کی جا سکتی ہے لیکن باؤلنگ کے شعبے میں بہتر کارکردگی دکھا کر بھارت کو کم سے کم ہدف تک محدود رکھنے میں کامیابی حاصل کرنے کا امکان قدرے زیادہ ہے۔ وہاب ریاض اور محمد عامر اچھے باؤلنگ اٹیک کے ذریعے ابتدا میں ہی وکٹس لے کر بھارتی بیٹنگ کو پریشر میں لا سکتے ہیں۔ یہ کوئی انہونی بات نہیں۔ دونوں اس سے پہلے بھی اس طرح کے شاندار سپیل کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ حسن علی کی لائن لینتھ پر کی گئی باؤلنگ بھی کارگر ثابت ہو سکتی ہے۔

اگر پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ کی بات کی جائے تو شعیب ملک پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ تجربہ کار کھلاڑی ہیں جو 6 مرتبہ آئی سی سی چیمپئز ٹرافی میں پاکستان کی نمائندگی کر چکے ہیں۔ وہ پاکستان کی بیٹنگ لائن کے مڈل آرڈر کو مستحکم بنیاد فراہم کر سکتے ہیں۔ ملک کا ساتھ دینے کیلئے اوپنگ جوڑی کے علاوہ بابر اعظم اور محمد حفیظ کو بھی ان کا بھرپور ساتھ دینا ہو گا۔

پاکستان کو گروپ کے باقی دو میچوں میں بھی سخت حریفوں کا سامنا کرنا ہو گا۔ بھارت سے میچ کے بعد سری لنکا اور جنوبی افریقہ کی ٹیموں کے ساتھ میچز میں بہترین پرفارمنس کے بعد ہی قومی ٹیم اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کر سکے گی۔ تاہم پہلا میچ سب سے اہم ہو گا، جس کیلئے پاکستان کو دفاعی چیمپئن کو زیر کرنا ہو گا۔ اہم میچ میں اچھی کپتانی، بہتر فیلڈنگ اور احسن انداز میں پریشر ہینڈلنگ سے ہی جیت کی بساط بچھائی جا سکتی ہے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

1 تبصرہ

  1. سلمان نثار شیخ کہتے ہیں

    افسوس حسان میاں! آپ کا جن جن پر تکیہ تھا انہی انہی پتوں نے آندھی چلائی ہے۔۔۔۔۔۔!!!۔
    ہائے ہائے!!۔ پروین یاد آ گئیں!۔
    کوئی سرد ہوا لب بام چلی
    پھر خواہش بے انجام چلی

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.