زبان اور ہماری شناخت

6,867

نیلسن منڈیلا نے ایک بار کہا تھا کہ اگر آپ کسی سے ایسی زبان میں بات کریں جو وہ سمجھتا ہو تو وہ بات اس کے دماغ تک جائے گی لیکن اگر آپ اس کی مادری زبان میں بات کریں تو وہ سیدھی اس کے دل تک پہنچے گی۔ عالمگیریت کے اس دور میں جہاں ہزاروں لوگ جنگوں، معاشی بدحالی، بے روزگاری اور تعلیم کے اعلیٰ مواقع اور بہتر طرز زندگی کی تلاش میں ترقی یافتہ اور محفوظ ممالک کا رخ کر رہے ہیں وہیں یہ ہجرت ان کی مادری زبان پر بھی منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔

زبان صرف الفاظ کا مجموعہ نہیں ہوتی بلکہ یہ فرد کو اس کے خاندان، شناخت، ثقافت، موسیقی، سماجی اقدار، عقائد اور دانش سے جوڑتی ہے۔ زبان، ایک جانب تاریخ، تہذیب، روایات، رسومات اور ثقافتی ورثے کو ایک نسل سے دوسری نسل میں منتقل کرنے کا کام سرانجام دیتی ہے تو دوسری جانب ثقافت کا زبان کے بغیر پنپنا ممکن نہیں ہوتا اور اسی لئے زبان ہی ہماری اصل شناخت قرار پاتی ہے۔

مادری زبان کا فرد کی شخصیت سازی پر انتہائی گہرا اثر ہوتا ہے اور یہ اس کی نفسیاتی نشوونما، سوچ اور جذبات کو جلا بخشتی ہے۔ بچپن ہماری زندگی کا ایک انتہائی یادگار دور ہوتا ہے اور مادری زبان میں سکھائے گئے ہنر اور کھیل بچوں کے اذہان میں زندگی بھر کے لئے محفوظ ہو جاتے ہیں۔ متعدد ماہرین نفسیات کا یہ ماننا ہے کہ مادری زبان ایک بچے یا بچی اور اس کے والدین خصوصاً ماں کے ساتھ اس کے پیار، محبت، وارفتگی اور تعلق میں ممد و معاون ثابت ہوتی ہے۔

mother-languages-literature-festival-2017-at-lok-virsa-islamabad-2

معروف ماہر تعلیم ہوریسا گورسن کا کہنا ہے کہ جب فرد اپنی مادری زبان میں بات کرتا ہے تو دل، دماغ اور زبان میں ایک براہ راست تعلق قائم ہو جاتا ہے۔ مادری زبان کا استعمال ہماری شخصیت، کردار، اخلاق، شرم و حیاء، خامیوں اور خوبیوں سمیت تمام مخفی اوصاف کو حقیقی معنوں میں ابھارتا ہے اور اس کی آواز ہماری سماعت اور دل میں ایک یقین اور اعتماد پیدا کرتی ہے۔ یونیسکو کی ڈائریکٹر جنرل ایرینا بوکووا کا کہنا ہے کہ مادری زبانیں ہماری اس کثیر اللثانی دنیا میں جہاں معیاری تعلیم میں ایک کلیدی حیثیت رکھتی ہیں وہیں عورتوں، مردوں اور معاشروں کو بااختیار بنانے کی بنیاد بھی ہیں۔

نئی زبانیں سیکھنا جہاں ذہنی نشوونما میں ممد ثابت ہوتا ہے وہیں یہ زندگی میں آگے بڑھنے کے لئے نئے مواقع فراہم کرتا ہے۔ نئی زبان ہمیں دنیا کے بارے میں جہاں ایک مختلف نکتۂ نظر فراہم کرتی ہے وہیں ہمیں نئی ثقافت، طرز زندگی، رسوم و رواج اور عقائد جاننے کا موقع مہیا کرتی ہے۔

mother-languages-literature-festival-2017-at-lok-virsa-islamabad-3

ایک اندازے کے مطابق پاکستان کے 20 کروڑ عوام اردو اور انگریزی سمیت 72 مختلف صوبائی اور علاقائی زبانیں بولتے ہیں۔ ان 72 زبانوں میں سے 10 زبانیں ایسی ہیں جو اب معدوم ہوتی جا رہی ہیں۔ پاکستان کے چاروں صوبوں میں علاقائی زبانیں بولی جاتیں ہیں تاہم سندھی زبان کے علاوہ کسی زبان کو سرکاری حیثیت حاصل نہیں ہے۔

زبانوں کی زندگی میں سب سے اہم کردار اہل زبان کا ہوتا ہے۔ تاہم ریاست کے لئے ضروری ہے کہ وہ سماجی اور سیاسی ماحول کو سازگار بنائے تاکہ کثیر اللثانیت کو فروغ ملے اور اقلیتی زبانوں کو عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھا جائے۔ ملک میں جہاں اقلیتی زبانوں کو تسلیم کرنے اور محفوظ بنانے کے لئے قانون سازی کی ضرورت ہے وہیں مادری زبان میں نظام تعلیم کو فروغ دینے اور سماجی کارکنوں اور ماہرین لسانیات کے مابین تحریری نظام کو بہتر بنانے اور ان زبانوں میں رسمی ہدایات کو متعارف کروانے کے لئے تخلیقی معاونت کی بھی ضرورت ہے۔

mother-languages-literature-festival-2017-at-lok-virsa-islamabad-4

“لوک ورثہ”، مادری زبانوں کے حوالے سے اپنا ایک منفرد اور واضح مؤقف رکھتا ہے اور پاکستان میں بولی جانے والی تمام ہی زبانوں کو قومی زبان کا درجہ دیتا ہے۔ گزشتہ 2 برسوں سے “لوک ورثہ” انتہائی تندہی سے مختلف ثقافتوں اور مادری زبانوں کے فروغ کے لئے کام کر رہا ہے۔ اقوام متحدہ کی جانب سے مادری زبانوں کے عالمی دن کے موقع کی مناسبت سے رواں برس فروری میں اسلام آباد میں “ہماری زبانیں، ہماری شناخت” کے عنوان سے ایک میلے کا انعقاد کیا گیا تھا جس میں 150 سے زائد ادیبوں، شاعروں اور ثقافتی کارکنوں نے پاکستان میں بولی جانے والی مادری زبانوں کو پیش کیا تھا۔ میلے میں جہاں عوام کو پاکستان کی کثیر اللثانی اور ثقافتی تہذیبوں کو جاننے کا ایک نادر موقع ملا وہیں نوجوانوں اور طلبہ و طالبات کو میلے میں موسیقی کے علاوہ مختلف زبانوں میں مشاعرے سننے اور شعرائے کرام کے ساتھ گفتگو کا بھی موقع میسر آیا۔

اس طرح کے ثقافتی اور لثانی میلوں کے انعقاد کا مقصد نہ صرف پاکستان کی لسانی اور ثقافتی اقدار کو فروغ دینا، ملک میں سماجی ہم آہنگی اور امن و برداشت کو پروان چڑھانا ہے بلکہ نئی نسل کو ان زبانوں میں ہونے والے ادبی کاموں سے بھی روشناس کروانا ہے۔ ہمیں بچوں کو علاقائی زبانوں سے روشناس کروانے کے ساتھ ساتھ اپنی اس کثیر الثقافتی دنیا میں موجود منفرد اور اقلیتی زبانوں سے بھی واقف کرانا چاہئے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام علاقائی زبانوں کو قومی زبانوں کا درجہ دے کر ان کے بولنے والوں کو قومی دھارے میں شامل کیا جائے۔ اگر ہم اپنی عوام کو بااختیار بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کو مادری زبان میں گفتگو کے مواقع فراہم کرنے چاہیں تاکہ ان کا احساس محرومی دور کیا جا سکے۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.