میاں صاحب نے عمران خان کو پھر ہرا دیا

47,716

میاں صاحب کا سیاسی کیریئر گلی محلے کی سیاست یا ٹانگہ پارٹی کی سطح سے شروع نہیں ہوا تھا۔ دیوتاؤں کی مہربانی سے وہ کھیل کے میدان سے براہ راست پنجاب کے وزیر خزانہ بن کر آئے تھے۔ لہٰذا ان کا سیاسی تجربہ جو اب چوتھی دہائی میں داخل ہو چکا ہے، عمران خان کے مین سٹریم پالیٹکس کے تجربے سے کہیں زیادہ ہے۔ میاں صاحب دو بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہے اور اب تیسری بار وزیر اعظم پاکستان ہیں، یعنی پاکستان کی عملی سیاسی تاریخ کے سب سے کامیاب اور سب سے زیادہ دیر تک حکومت کرنے والے فرد ہیں۔ وہ اپنی آنکھیں اور کان اور ان کی ٹیم کے ارکان اپنی زبانیں کھلی رکھتے ہیں۔ ہر درپیش آنے والے معاملے سے پہلے نہیں تو کم از کم فوراً بعد سہی، میاں صاحب کا رسپانس بریگیڈ فائر کھول دیتا ہے اور پھر کبھی نچلا نہیں بیٹھتا۔ پوری مشنری سپرٹ کے ساتھ صبح دوپہر شام اپنے مؤقف کو درست اور مخالف کے مؤقف کو غلط ثابت کرنے میں جتا رہتا ہے۔ پاکستان کی آدھی سے زائد آبادی غیرتعلیم یافتہ یا نہایت کم تعلیم یافتہ ہے۔ انہیں باتوں کے دام میں پھنسانا، اپنا مؤقف ان سے منوانا اور یہ باور کرانا کہ ہم صحیح ہیں اور ہمارا مخالف غلط، کچھ زیادہ مشکل کام نہیں اور میاں صاحب اور ان کی ٹیم اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے۔

عمران خان نے گزشتہ چار سال میں قوم کو صرف دو باتیں بتائی ہیں۔ ایک یہ کہ نون لیگ نے دھاندلی کی اور دوسرا یہ کہ اس کی قیادت کرپشن زدہ ہے۔ جواباً پی ایم ایل این بریگیڈ نے ملکی ترقی، لوڈ شیڈنگ کے خاتمے کیلئے کوششوں، ملک کی معاشی بہبود، ذرائع نقل و حمل کی بہتری اور اپنی دیگر مفقود یا موجود کاوشوں کا پوری قوت سے ڈھنڈورا پیٹنے کے ساتھ ساتھ نہایت شدومد کے ساتھ قوم کو یہ باور کرانا جاری رکھا ہے کہ ان کے مخالفین انتخابات میں ان سے مقابلہ کرنے کی اہلیت سے محروم ہیں اس لئے ان پر خالی الزامات لگا رہے ہیں اور یہ کہ وہ اور ان کے ساتھی جمہوریت جبکہ عمران خان آمریت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ عمران تو معلوم نہیں کہ میاں صاحب پر کرپشن یا دھاندلی کا داغ لگا پائیں گے یا نہیں، مگر جواباً ن لیگ والے عمران پر جمہوریت دشمنی، ناپختگی اور کے پی میں ناکامی سمیت کئی داغ کسی نہ کسی حد تک لگا چکے ہیں اور اب انہیں عدالتوں میں بھی ٹف ٹائم دے رہے ہیں۔

اب ذرا جے آئی ٹی کے معاملے کو دیکھیں۔ عدالت کہتی ہے کہ اگر شیخ جاسم پاکستان نہیں آتے تو قطری خط کو کھڑکی سے باہر پھینک دیں گے۔ ایسی صورت میں نون لیگ کی منی ٹریل دینے میں ناکامی اظہر من الشمس ہے۔ مگر انہوں نے قبل از وقت جے آئی ٹی پر اعتراض لگا کر اور اس کے ارکان کی سیاسی وابستگیوں اور جانبداری اور بدسلوکی کا ڈھنڈورا پیٹ کر کم از کم اپنے ووٹر کے سامنے خود کو مظلوم ثابت کر لیا ہے۔ اگلے روز سعد رفیق نے تو یومِ تکبیر کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یہ تک کہہ دیا کہ بھٹو کے خلاف عدالتی فیصلے کو تاریخ میں جو مقام ملا اس کے بعد کسی کو عدالت سے خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔

چنانچہ خان صاحب سے التماس ہے کہ خاطر جمع رکھیں جس طرح آپ ان دنوں باہر سے پیسہ پاکستان بھیجنے کے ‘جرم’ میں پیشیاں بھگت رہے ہیں اور ممکن ہے کہ عدالت آپ کو سرپرائز یا لاجواب کر بھی دے، اس کے برعکس میاں صاحب پیسہ ملک سے باہر بھیجنے کو نہ صرف اپنی ‘معصومیت’ ثابت کر لیں گے بلکہ عین ممکن ہے کہ ان کی جماعت عدالت کے ممکنہ مخالف فیصلے کے بعد نہایت کامیابی سے ہمدردی کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو جائے اور اگر جے آئی ٹی نے ان کے خلاف فیصلہ نہ دیا تو پھر ان کے ووٹ بینک میں زبردست اضافہ ہو گا۔ لوگ کہیں گے، ‘دیکھو! جے آئی ٹی والے نون لیگ کے مخالف ہونے کے باوجود نواز شریف کو جھوٹا ثابت نہیں کر سکے’، یعنی چت بھی نواز شریف کی اور پٹ بھی نواز شریف کی۔۔۔۔۔۔! عدالت کا فیصلہ تو نجانے کب آئے گا مگر قرائن سے لگتا ہے کہ میاں صاحب نے عمران خان کو پھر ہرا دیا ہے۔

سلمان نثار شیخ لکھاری، صحافی اور محقق ہیں۔ وہ اردو اور اقبالیات کی متعدد کتابوں کے مصنف ہیں۔

شاید آپ یہ بھی پسند کریں مصنف سے زیادہ

تبصرے بند ہیں.